مظلوم کی بد دعا

کہتے ہیں کہ بیوہ کی بد دعا ساتویں آسمان تک جاتی اور عرش الٰہی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اس سچی کہانی میں ایک بیوہ ماں کی دعائیں مستجاب ہوئیں اور ایک مغرور و متکبر شخص کے ظلم کا انجام لوگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا۔ یہ واقعہ تقریباً ۵۵ برس پہلے ۱۹۶۰ کا ہے۔ شیر پور نا کے ایک خوب صورت گاؤں میں ایک گھرانہ جمال دین مرحوم کا بھی تھا۔ جمال دین کے تین بیٹے تھے اس کا منجھلا نوجوان بیٹا سعد گاؤں میں اپنی گائے بھینسوں کی رکھوالی کیا کرتا تھا۔ عید قرباں نزدیک تھی جب گاؤں کے کچھ شرارتی لڑکوں نے عید کو دھوم دھڑکے سے منانے کا پروگرام بنایا اور نوجوان سعد کو بھی ساتھ ملا لیا۔ پروگرام کے مطابق انھوں نے گاؤں کے سر پنچ کی بکری چرالی اور اسے منڈی میں بیچ دیا تاکہ ان پیسوں سے عید منائیں گے۔

بد قسمتی سے ان کا راز فاش ہوگیا اور گاؤں کے سرپنچ کو پتا چل گیا کہ بکری گاؤں کے لفنگے نوجوانوں نے چرائی ہے، جس میں سعد پیش پیش تھا۔ اس کے منشیوں او نوکروں نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے اسے مزید بھڑکایا کہ آج بکری چوری ہوئی ہے کل کچھ اور غائب کر دیا جائے گا جیسے ہی مغرب کے وقت سعد تھکا ہارا گاؤں پہنچا، سرپنچ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ سعد کو مسجد کے قریب گرا لیا اور لاتوں لاٹھیوں سے ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ سعد وہیں ڈھیر ہوگیا۔

سعد کی بیوہ ماں کو جب کچھ عورتوں نے اطلاع دی کہ اس کا لخت جگراب دنیا میں نہیں رہا، تو وہ سکتے میں آگئی۔ وہ ننگے سر، ننگے پاؤں بین کرتی مسجد کے قریب پہنچی تو بیٹے کو مردہ پایا۔ وہ بھی پٹھان قبیلے کی عورت تھی مگر تھی غریب۔ وہ فوراً لاش لے کر تھانے پہنچ گئی۔ پولیس نے میڈیکل رپورٹ مانگی تو وہ سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر کے پاس گئی اور روز جزا کا واسطہ دے کر تھانے اور ڈاکٹر سے انصاف مانگا۔ تھانے میں ایف آئی آر تو درج ہوگئی مگر سرپنچ نے سعد کے بڑے بھائی کو ڈرا دھمکا کر راضی نامہ حاصل کرلیا اور کیس رفع دفع ہوگیا۔

بیوہ ماں کے پاس خدا کے دروازے کے سوا کوئی در نہ تھا۔ گاؤں میں جہاں کہیں کوئی میت ہوتی، تو کشمیرا فوراً وہاں پہنچتی، افسوس کرتی پھر اپنے بیٹے کے لیے روتی اور آخر میں سب کے سامنے اپنے بیٹے کے مقابل کے خاندان کو بد دعائیں دیتے ہوئے کہتی ’’خدا کرے کہ اس کے تین بیٹوں میں سے ایک بھی نہ رہے اور وہ بے اولاد ہوکر مرے۔‘‘

سر پنچ کے خاندان کی کوئی عورت وہاں ہوتی، تو وہ شرم سے منہ چھپاتی کیوں کہ لوگ کہتے تھے کہ مائی بہت دکھی ہے، اس کا جواں سال بیٹا قتل کر دیا گیا ہے۔ سارے علاقے میں مشہور ہوگیا کہ سرپنچ نے ایک بکری کے بدلے نوجوان کی جان لے لی ہے۔

جیسے ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آتا بیوہ رونا شروع کر دیتی اور عید قربان تک سرپنچ اور اس کی آل اولاد کو کوستی رہتی۔

کچھ عرصہ بعد سرپنچ کی بیوی فوت ہوگئی۔ چار سال بعد خان کا سب سے بڑا جواں سال بیٹا شراب نوشی کی کثرت کی وجہ سے فوت ہوگیا۔ گاؤں کے لوگ سمجھ گئے کہ بڑھیا کی بد دعاؤں کے مستجاب ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔

سرپنچ کے خاندان کی عورتوں نے فوراً دوسرے بیٹے کی شادی کی تیاری شروع کردی کہ اس کی زندگی ہی میں اس کے بیٹے کی شادی ہوجائے۔ شادی کی تاریخ طے ہوئی لیکن مہندی کی رات اس کا دوسرا بیٹا بھی اچانک فوت ہوگیا۔ اب وہ پریشان رہنے لگا اور پچھتانے لگا۔

اب خاندان والوں نے چھ ماہ بعد دوسرے بیٹے کی منگیتر کو چھوٹے اور آخری بیٹے سے منسوب کر کے شادی کی تیاری شروع کردی اور دھوم دھام سے جلد ہی شادی کردی گئی۔ مگر شادی کے چھ ماہ بعد اس کا تیسرا بیٹا بھی اچانک خون کی قے آنے سے دنیا سے رخصت ہوگیا۔ البتہ ایک بات خان کی خوشی کا باعث بنی کہ ان کی بہو امید سے تھی۔ ہر ہفتے بیٹے کی پیدائش کے لیے منتیں مانی گئیں او غریبوں کو کھانا کھلایا گیا مگر پیدائش ہوئی بھی تو ایک مری ہوئی بچی کی۔ اس کے بعد خان بالکل مایوس ہوگیا۔ وہ ہر وقت خلاؤں میں تکتا رہتا اور آخری وقت میں اُنیس دن زبان بند رہنے کے بعد فوت ہوگیا جب کہ بوڑھی بیوہ اس کے بیس سال بعد نوے سال کی عمر میں فوت ہوئی۔ سرپنچ کی وفات کے بعد اس کے خاندان کے لوگ باقاعدہ سے معافی مانگنے آئے۔ سرپنچ کے تیسرے اور آخری بیٹے کی وفات کے بعد کسی نے بڑھیا کو نہ تو چاند دیکھتے ہوئے دیکھا نہ ہی کبھی اس نے کسی کو بد دعا دی۔ اسے تو انصاف مل چکا تھا۔lll

(اردو ڈائجسٹ، لاہور سے ماخوذ)

مرسلہ: اقبال احمد ریاض، وانم باڑی

شیئر کیجیے
Default image
فرزانہ خان

Leave a Reply