گھر کے بزرگوں کا خیال کیسے رکھیں؟

ابا جی آپ کو آج کے زمانے کا کیا پتا؟ آپ بیچ میں نہ بولا کریں اماں! آپ کو کیا پتا؟ اس قدر ظالم اور سفاک جملے بولتے ہوئے ہمیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ ہم اپنے تجربہ کار والدین کے لیے یہ الفاظ بول رہے ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں قرآن نے اف تک نہ کرنے کی ہدایت دی ہے اور ہمارے حضور نے انہیں جنت کمانے کا زریعہ قرار دیا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب ہم بھی عمر کے اس دور میں ہوں گے اور ہماری آنے والی نسل ہمیں کہہ رہی ہوگی ’’چپ رہیں آپ کو کیا پتا؟‘‘

ہمارے پاس تعلیم ہے بلکہ جدید تعلیم ہے مگر ہمارے پاس ابھی وہ تجربات و مشاہدات نہیں ہیں جو تعلیم سے نہیں بلکہ عمرسے آتے ہیں۔ تعلیم ہنر سکھاتی ہے مگر اس ہنر کو کس طرح استعمال کیا جائے یہ زندگی کے تجربات سکھاتے ہیں۔ اپنے آپ کو عقل کامل سمجھنے والے نادان نوجوان یہ بھول جاتے ہیں کہ صرف اعلیٰ اور جدید تعلیم سیکھنا ہی کامیابی نہیں جب تک آپ کے پاس اس تعلیم کو استعمال کرنے کا شعور نہ ہو اور شعور، تجربہ، کامیابی تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے بزرگوں سے ان کے تجربات و مشاہدات سنیں، سیکھیں اور پھر ان کی روشنی میں اپنی تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کے فیصلے کریں۔

لیکن بزرگوں سے کچھ سیکھنا تو درکنا رہم نے تو انہیں اپنی زندگی سے الگ تھلگ کرنے کی جیسے قسم کھا رکھی ہے۔ وہ بوڑھے ہیں، بزرگ ہیں، تو کیا وہ ایک اچھی نارمل اور بھرپور زندگی جینے کے حق دار نہیں رہے؟ آپ ذرا سوچیں، آپ کی ذرا سی محبت، ذرا سی توجہ نہ صرف ان کو اس عمر میں جینے کی نئی راہ دے سکتی ہے بلکہ آپ کی زندگیاں بھی خوب صورت بنا سکتی ہے اور ثواب الگ۔ ہمارا دین تو اس قدر خوب صورت اور آسان ہے کہ جس میں صرف بوڑھے ماں باپ کو ایک محبت بھری نگاہ سے دیکھ لینے سے ہی ہمارے حصے میں کتنا ثواب لکھ دیا جاتا ہے تو سوچیں، اگر ان کی خدمت اور دیکھ بھال کی جائے تو کیوں نہ ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی ملے اور آپ یقین کریں کہ یہ بوڑھے وجود آج بھی اپنے اندر اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ ان کی ایک آہ ہماری زندگی کو الٹ سکتی ہے اور ایک دعا ہماری زندگی کو پلٹ سکتی ہے۔ تو پھر جس ہستی کا وجود اتنا طاقتور ہو تو کیا ہمیں ان سے پہلو تہی کرنی چاہیے؟ کیا انھیں بوجھ سمجھنا چاہیے؟ چلئے اپنی ہی غرض کے لیے سہی، کیا ان کی خدمت اور دیکھ بھال ہم نہیں کرسکتے؟

اور یہ تو وہ معصوم، شفیق ہستیاں ہیں جن کو بہلانا، پیار دینا، خیا رکھنا بے حد آسان ہے۔ بالکل ایسے جیسے ایک بچے کو آپ بہلا لیتے ہیں، اسے خوش کردیتے ہیں، اس کو کسی بڑی چیز کی تمنا یا خواہش نہیں ہوتی۔ وہ تو ایک ذرا سے کھلونے یا آپ کے محبت بھرے لمس سے، آپ کی ایک میٹھی نظر سے ہی پرسکون اور مطمئن ہو جاتا ہے۔ ہاں بعض بچے ضدی اور چڑچڑے ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی آپ اپنے ماتھے پر ایک بھی شکن لائے بغیر، اس کی ہر ضد پوری کرتے ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ دوسروں کو بھی بہت فخرسے بتاتے ہیں کہ میرا بچہ تو بہت ضدی ہے، اپنی بات منوا کر ہی چھوڑتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے آپ کے لہجے میں ایک احساسِ تفاخر نمایاں ہوتا ہے۔ آپ اپنے ملنے جلنے والوں کو بہت فخرسے بتاتے ہیں، جتاتے ہیں کہ آپ اس قابل ہیں ہ آپ اپنے بچے کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ لیکن یہی ضد کا عنصر یا چڑچڑا پن اگر اپنے بوڑھے والدین یا دادا دادی، نانا نانی میں دیکھیں تو آپ بے زاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کو کہتے ہیں کہ بھئی انھوں نے تو زندگی عذاب کردی ہے۔ نہ خود چین سے رہتے ہیں نہ ہمیں رہنے دیتے ہیں۔ ایک پل کو سوچئے، وہ بچہ جس نے ابھی آپ کے لیے کچھ نہیں کیا، آپ کو کچھ نہیں دیا، اس کی خواہشیں اور ضد آپ کو کتنی عزیز ہیں، اور وہ بوڑھے ’بچے‘ جنھوں نے تمام عمر آپ کو دیا ہی دیا ہے، ان کی ضدآپ کو بوجھ لگنے لگیں؟

بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کو مدنظر رکھنے سے آپ اپنے بزرگوں کو نہ صرف ان کی من چاہی زندگی واپس لوٹا سکتے ہیں، بلکہ دعائیں سمیٹ کر اپنی زندگی کو بھی خوشیوں، کامیابیوں اور طمانیت سے بھرپو ربنا سکتے ہیں۔

بزرگوں سے مشورہ

اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں اپنے بزرگوں کو نظر انداز نہ کریں۔ اس طرح آپ خود وجہ بن رہے ہیں ان کی ضد اور چڑچڑے پن کی۔ آپ کا یہ رویہ ہی انہیں ضدی بننے پر اکساتا ہے۔ گھر کے چھوٹے چھوٹے مسائل پر ان سے مشورہ لیں، ان کو شامل کریں، ان کو احساس دلائیں کہ زمانہ جتنا بھی بدل چکا ہو یا جدید دور ہو، ان کی باتیں اور مشورے اب بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنا کہ ان کی جوانی کے دور میں ہوا کرتے تھے۔

اہمیت کا احساس دلائیں

اپنی باتوں سے انہیں احساس دلائیں کہ آپ زندگی کی جس بھی سیڑھی پر کھڑے ہیں، یہاں تک پہنچنے میں آپ کے بزرگ آپ کے معاون رہے ہیں، ان کے بغیر آپ کچھ نہیں بن سکتے تھے۔ آپ کی موجودہ کامیابی صرف انہی کی مرہون منت ہے۔ جس طرح اپنے بچپن میں آپ ان سے ضد کیا کرتے تھے کہ وہ آپ پر اعتماد کریں کیوں کہ آپ ’بڑے‘ ہوچکے ہیں، اسی طرح اب آپ کی باری ہے کہ آپ ان پر اعتماد کریں کیوں کہ بہرحال آپ کے بڑے وہی ہیں۔

اپنے بچپن کی باتیں کریں

بزرگوں کے پاس یادوں کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو اپنے والدین یا گھر کے کسی بھی بزرگ کے پاس بٹھا کر، بزرگوں سے اپنے بچپن کی باتیں سنانے کو کہیں۔ زمانہ جدید ہو یا قدیم، بچپن سب کا ہی دلچسپ اور بھرپور ہوتا ہے۔ آپ کے بچے نہ صرف لطف اندوز ہوں گے بلکہ ان کے اور بزرگوں کے درمیان ایک لطیف سا رشتہ بنے گا۔ بزرگوں کو بھی احساس ہوگا کہ ان کی یادیں اور باتیں سننے والے آج بھی ہیں اور بچے بوڑھے سے دوستی کا رشتہ استوار کرلیں گے۔ یوں بزرگوں اور نوجوانوں کے بیچ دوری اور فاصلہ کم ہوگا۔

خاندانی تقریبات میں شمولیت

اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی شادی پر جانا ہو تو گھر کے افراد اپنے بزرگ چاچا، دادا، نانی اور تو اور ماں یا باپ کو بھی گھر چھوڑ جاتے ہیں اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ آپ تھک جائیں گے، بور ہوجائیں گے۔ بہ ظاہر آپ کے بزرگ منہ سے کچھ نہ کہیں، یا آپ کا دل رکھنے کو کہہ دیں کہ ہم وہاں جاکر کیا کریں گے بیٹا آپ لوگ جاؤ اور آپ مطمئن ہوکر چلے بھی جاتے ہیں۔ لیکن رکیے! سوچئے ذرا اس جملے کی گہرائی اور دردناک حقیقت۔ ’’ہم وہاں جاکر کیا کریں گے۔‘‘ ایسا کیوں؟ یہ نوبت کیوں آگئی کہ ہمارے عزیز بزرگ، ایسا کہنے پر مجبور ہوگئے۔ کیا اب ان کے کرنے کو کچھ نہیں رہا؟ کیا وہ اتنے بے کار اور غیر ضروری ہوچکے کہ ان کا کسی تقریب سے میں جانا تک ضروری نہیں۔ جن اولادوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کی پیدائش پر ان کی خوشی دیدنی تھی، کیا ان کی شادیوں میں شامل ہونے کے بھی وہ حق دار نہیں رہے؟ صرف اس لیے کہ وہاں آپ سب لوگ اپنے ہنگاموں میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ ان کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ یا اگر ساتھ لے بھی جائیں تو کسی خالی کونے میں بٹھا کر اپنے بچے ان کے حوالے کردیے جاتے ہیں تاکہ آپ خود آرام سے تقریب میں گھومیں پھریں، اور وہ آپ کے بچوں کے بچوں یا سامان کی حفاظت کے لیے ایک چوکیدار کی طرح بیٹھے رہیں۔ آپ انہیں ساتھ لے کر جائیں، انہیں سب سے آرام دہ اور نمایاں جگہ پر بٹھائیں تاکہ وہ سب طرف دیکھ سکیں۔ اپنے آپ کو ماحول سے الگ نہ سمجھیں، بزرگوں کے لیے اہتمام سے کھانا لگوائیں اور تمام لوگوں سے انھیں ملوائیں اور سب کو احساس دلائیں کہ اس تقریب میں آپ اپنے بزرگوں کے ساتھ آئے ہیں نا کہ بزرگ آپ کے ساتھ۔

انھیں مصروف رکھیں

مصروفیت سے کئی لوگ یہ مطلب نہ لیں کہ ان سے گھر کے کام کروانا ہے،بلکہ ایسے تفریحی اور دلچسپ کاموں میں ان کو مصروف رکھیں کہ وہ اپنے آپ کو ناکاری یا آپ پر بوجھ نہ سمجھیں۔ خواتین گھریلو امور پر ان سے چھوٹے چھوٹے مشورے لے سکتی ہیں۔ پرانے زمانے میں پکائے جانے والے سادہ مگر لذت سے بھرپور کھانوں کی تراکیب پوچھ کر پکا سکی ہیں تاکہ منہ کا ذائقہ بھی تبدیل ہو اور پرانی روایات بھی زندہ رہیں اور کم خرچ بالا نشیں والا معاملہ بھی ہوجائے۔ کیوں کہ پرانے وقتوں میں نہایت سادہ غذا کھائی جاتی تھی جو نہ صرف لذیذ بلکہ حفظانِ صحت کے تقاضے بھی پورا کرتی اور کم خرچ بھی ہوتی۔ یوں آپ کو بھی سہولت ہوگی اور بزرگوں کی رائے کو اہمیت دے کر آپ ان کا کھویا ہوا اعتماد بھی بحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ نہ ہی انھیں یہ شکوہ رہے گا کہ اب باورچی خانے میں ان کی ضرورت نہیں رہی۔ مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کی خواتین کو باور کرائیں کہ مہینے میں دو چار دفعہ کھانا بزرگوں کی پسند اور مرضی کا ہی پکے گا۔ یوں بوڑھی خواتین بھی راضی اور آپ کے اہل خانہ بھی آسان اور سستے کھانے پکا کر اور کھا کر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ اگر بزرگ حضرات آپ کے من پسند چٹ پٹے مرغن کھانے کھاکر اپنا گزارا کرسکتے ہیں ، حالاں کہ ان کا کمزور معدہ اور نظامِ ہضم اس کی اجازت نہیں دیتا، پھر بھی وہ یہ سب کرتے ہیں صرف آپ کے لیے، تو کیا آپ مہینے میں چند ایک دفعہ ان کی بتائی ہوئی من پسند غذا نہیں کھاسکتے؟

اپنے بچوں کے لیے بھی تو مائیں سارا سارا دن باورچی خانے میں گھسی، نت نئی ڈشیں تیار کرتی رہتی ہیں تو بوڑھوں کی فرمائش پوری کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ آخر عمر کے اس دور میں وہ کس سے فرمائش کریں۔ ان کا تو سب کچھ اب آپ ہی ہیں۔ ان کے اپنے والدین تو اب رہے نہیں، وہ آپ سے ہی اپنی تمام امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ جیسے اپنے بچپن میں آپ ان سے کرتے تھے۔

ذہنی اور جسمانی صحت

سب اپنی اپنی زندگیوں کی بھاگ دوڑ میں مصروف ہیں، اس ترقی یافتہ دور میں ہر کام جلدی جلدی انجام دیا جانے لگا ہے، وقت کسی کے پاس نہیں، عجب افراتفری کا دور ہے۔ لیکن زمانہ کوئی بھی ہو، اپنے پیاروں کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے۔ جیسے آپ، جتنے بھی تھکے کیوں نہ ہوں ، اپنے بچوں کو سیر پر لے جانے کا وقت نکال ہی لیتے ہیں۔ لیکن اپنے بزرگوں کے لیے آپ کے پاس وقت ہی نہیں حالاں کہ ضروری نہیں کہ آپ سارا دن ہی ان کے ساتھ بیٹھے رہیں۔ آپ اپنے آفس کا کوئی کام کر رہے ہیں تو آپ اپنی فائلیں اور کاغذات لے کر الگ تھلگ یا اپنے کمرہ میں بیٹھنے کے بجائے ان کے پاس آکر بیٹھ جائیں۔ یقین جانیں، وہ جانتے ہیں کہ کام آپ کے لیے کس قدر ضروری ہے، وہ کبھی آپ کو ڈسٹرب نہیں کریں گے، ان کے لیے تو یہی خوشی بہت ہے کہ آپ آکر ان کے پاس بیٹھے ہیں۔ یاد کریں، جب آپ اپنے بچپن میں اپنے اسکول کے کام یا پرچوں کے لیے جاگا کرتے تھے، تو آپ کے والد یا ماں، آپ کے پاس آکر بیٹھ جاتے تھے تاکہ آپ کو اکیلا پن محسوس نہ ہو اور آپ زیادہ مستعدی اور دل لگا کر پڑھائی کرسکیں۔ آپ کا ان کے پاس بیٹھنا ہی کافی ہوگا، آپ ان سے کہیں کہ وہ آرام سے لیٹ جائیں یا آپ انھیں کوئی اخبار یا رسالہ تھما دیں، یوں ماحول میں خوب صورتی، تسلسل اور یکسوئی پیدا ہوجائے گی۔

ٹیکنالوجی سکھائیں

آپ کے بزرگوں نے تمام عمر زندگی کا سفر سمجھ بوجھ اور ذہانت و محنت کے ساتھ طے کیا ہے۔ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آج کل کے جدید نظام کو وہ نہیں سمجھ پائیں گے تو یہ آپ کی بھول بھی ہوسکتی ہے۔ انہیں کمپیوٹر یا موبائل فون کا استعمال آسان طریقے سے سمجھائیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا تنہائی کی اچھی ساتھی ثابت ہوتی ہے اور اب تو اردو زبان کے بھی سافٹ ویئر اور ویب سائٹس موجود ہیں جہاں ہر طرح کا تفریحی اور معلوماتی مواد موجود ہوتا ہے۔ یہ یقینا ان کے لیے دلچسپ اور بھرپور وقت گزاری کا سبب بن سکتا ہے۔

ضروری سہولیات

کوشش کریں کہ بزرگوں کو ایسا کمرہ رہائش کے لیے دیں جہاں کا فرش برابر سطح کا ہوتا کہ ان کو ٹھوکر لگنے یا گرنے کا خدشہ نہ ہو۔ جتنا ممکن ہو ان کے آرام کا خیال رکھیں۔ بیت الخلا میں اگر کموڈ نہیں بھی ہے اور آپ زیادہ خرچے کے متحمل نہیں ہوسکتے تو بازار میں بنی بنائی کرسیاں نہایت مناسب نرخ پر مل جاتی ہیں جو بالکل کموڈ کا ہی کام دیتی ہیں اور صفائی کرنے میں بھی آسان ہوتی ہیں وہ لاکر رکھ دیں اور بیت الخلا میں انھیں تنہا نہ چھوڑیں۔ بلکہ خاص تاکید کردیں کہ آپ دروازے کے باہر ہی موجود ہیں وہ اندر سے کنڈی نہ لگائیں اور جہاں کموڈ یا کرسی رکھنے کی جگہ ہو اس دیوار پر ایک لوہے کا اسٹینڈ ضرور لگوا دیں تاکہ اٹھتے بیٹھتے وقت وہ بہ آسانی اس کا سہارا لے سکیں اور گرنے کا احتمال نہ رہے۔

طبی سہولیات

آپ جہاں اپنا فون رکھتے ہیں یا سائیڈ ٹیبل پر جو جگہ آپ کے اور ان کے قریب ترین ہو، وہاں ڈاکٹر کا نمبر لکھ کر لازمی رکھیں یا ان کے کمرے، بستر کے ساتھ والی دیوار پر چسپاں کردیں تاکہ خدانخواستہ ایمرجنسی کی صورت میں آپ یا وہ خود فوراً قریبی ڈاکٹر کو فون کرسکیں۔ گھر میں بھی ایک میڈیکل بالکس (فرسٹ ایڈ) بنا کر رکھیں اور دھیان رکھیں کہ طبی امداد کا ڈبہ آپ کی پہنچ کے قریب ترین اور بچوں کی پہنچ سے دور رہے۔

اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے عوامل آپ کے ان معصوم بوڑھوں کو زندگی کی نئی حرارت دے سکتے ہیں۔ اخبارات و رسائل کے کوئز، پزل، مختلف قسم کے کھیل جیسے لوڈو، کیرم، ریڈیو سننا، خبریں دیکھنا وغیرہ جیسی سہولتیں فراہم کریں اور انہیں احساس دلائیں کہ بڑھاپا زندگی کا اختتام نہیں بلکہ پوری زندگی کی تھکا دینے والی بھاگ دوڑ کے بعد، سکون سے بیٹھ کر زندگی سے لطف اندوز ہونے کا وقت ہے۔ تمام عمر انھوں نے آپ کو اپنا وقت، پیسا اورمحبت دی ہے اور بدلے میں آپ سے نہ پیسا مانگا ہے نہ عیش و آرام۔ صرف تھوڑی سی محبت اور توجہ، جس کے وہ حقدار ہیں۔ تھوڑا سا وقت بالکل اتنا ہی جتنا آپ موبائل پر ادھر ادھر فضول پیغامات بھیجنے پڑھنے پر لگا دیتے ہیں، اس سے بھی کم وقت آپ اپنے ان ننھے منّے پیارے بوڑھے بچوں کو دیں، تو یقین کریں آپ کی زندگی بھی خوشیوں اور کامیابیوں سے ہمکنار ہوگی اور آخرت کی کامیابیوں کا نہ تو شمار نہیں کہ یہی بچے آپ کو جنت میں لے جائیں گے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عافیہ جہانگیر

Leave a Reply