ماں کا مرتبہ

یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے کائنات کو جو حسین ترین اور نایاب تحفہ عنایت فرمایا ہے وہ ’’ماں‘‘ ہے۔ ماں ایک ایسی پاکیزہ ہستی ہے جس کے بغیر بھرا ہوا گھر بھی خالی لگتا ہے۔ اگر گھر میں کوئی بھی موجود نہ ہو مگر ماں گھر میں موجود ہو تو خالی گھر بھی بھرا بھرا لگتا ہے۔ ماں کے بغیر گھر کا آنگن وحشت زدہ لگتا ہے۔ ماں کے چہرے پر ایسے نور کا ہالہ، حیا کی سرخی اور تقدس کا عکس جھلکتا ہے جس سے گھر کا کونہ کونہ منور ہو جاتا ہے۔ ماں کے چہرے کو دیکھنے سے دل کو راحت اور آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنی ماں کے پاؤں کو بوسے دیے اور اس کے بدلے دنیا و آخرت کی فلاح پائی۔ ماں اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

وہ ماں ہی ہے جس نے پیغمبروں کو جنم دیا، ولیوں کو گود میں کھلایا۔ وہ ماں ہی ہے جس نے یخ بستہ راتوں میں خود بھیگے بستر پر لیٹ کر اپنے جگر گوشے کو سینے پر سلایا۔

ہر ماں ایک عورت تو ہوتی ہے لیکن ہر عورت ماں کے مقدس مرتبہ پر فائز نہیں ہوتی۔ ماں باپ کے چہرے شفقت اور پیار سے دیکھنے کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت قرار دیا ہے۔

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں جہاں انسان کو اپنے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے منع فرمایا وہاں ساتھ ہی والدین کے حقوق کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔

’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرو۔‘‘ (النساء؛۳۶)

سورۃ الانعام میں اس طرح ارشاد فرمایا:

’’تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔‘‘ (الانعام: ۱۵۱)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ نے جہاں انسان کو اپنے ساتھ شریک کرنے سے منع فرمایا وہاں ساتھ ہی اولاد کے لیے ماں باپ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ میری بھلائی اور حسن معاملہ کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیری ماں۔‘‘ اس نے عرض کیا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیری ماں۔‘‘ اس نے عرض کیا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پھر تمہارا باپ۔‘‘ (بخاری، ترمذی، مسلم، ابوداؤد)

حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن جاہمہ فرماتے ہیں کہ میرے والد جاہمہؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے کا طالب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’کیا تمہاری ماں موجود ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: ہاں، وہ زندہ ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’پھر تم ان کی خدمت میں لگے رہو ، تمہاری جنت ان کے قدموں میں ہے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ ان کی ماں زندہ ہے اور ضعیف ہوچکی ہے۔ بیٹے کی خدمت کی محتاج ہے، بیٹے کو جہاد کی تمنا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے جہاد کا میدان تو تمہارے گھر میں ہے، جاؤ اور ماں کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔‘‘ (نسائی)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے واضح انداز میں اپنی امت کو والدہ کی اہمیت، مرتبے اور حقوق کے بارے میں بتلا دیا۔ ماں کا مرتبہ اس بات سے عیاں ہوتا ہے کہ بچہ خواہ کتنا ہی رو رہا ہو اور چیخ چیخ کر اس نے گھر کو سر پر اٹھا رکھا ہو، اس وقت آپ بچے کو اگر ہزاروں ماؤں کی گود میں لٹا دیں وہ چپ نہیں ہوگا، اسے سکون آئے گا نہ وہ آپ کو سکون سے بیٹھنے دے گا جب تک آپ اس کو اس کی حقیقی ماں کی گود میں نہ دے دیں۔ اللہ نے ماں کی گود اور ہاتھوں میں کیا عجیب خوشبو اور جذبہ پیدا فرمایا ہے کہ بچہ اپنی ماں کی گود میں جاتے ہی سکون اور راحت محسوس کرے گا۔ بچہ اپنی ماں کی گود میں ایک طرح کا تحفظ محسوس کرے گا۔ ماں کی گود میں جاتے ہی ایک انجانا سا سرور اس کے جسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ بچے کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی ماں کالی کلوٹی ہے، گورے رنگ کی ہے یا گندمی، گونگی ہے یا بہری اسے تو بس اپنی ماں کی گود چاہیے۔ ماں کی گود ہی اس کے لیے ریشم و کم خواب کی سیج ہے۔

علامہ ابن جوزی علی الرحمہ نے ’’کتاب المنظم فی تواریخ الامم‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ ایک دن حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا: ’’جنت میں میرا ساتھی کون ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: ’’ایک قصائی۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے اس قصائی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اللہ نے راہ نمائی فرمائی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اس قصائی سے ملنے اس کی دکان پرپہنچ گئے۔ شام کو قصائی نے اپنی دکان بند کرنے سے پہلے کچھ گوشت لیا اور گھر کی راہ لی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قصائی کے ساتھ چلنے کی خواہش کا اظہار فرمایا، قصائی کہنے لگا: ’’آجاؤ۔‘‘ قصائی کو یہ علم نہیں تھا کہ آپ اللہ کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ قصائی نے اپنے گھر پہنچ کر خود سالن تیار کیا اور پھر روٹی تیار کی۔ اس کے بعد گھر میں ایک نحیف و نزار بڑھیا جو لیٹی ہوئی تھی، کو اٹھایا اس کے ہاتھ دھلائے اور نوالے بنا بنا کر اس کے منہ میں ڈالنے لگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میری ماں ہے۔ مین ہر روز اس کو کھانا ایسے ہی تیار کر کے کھلاتا ہوں اور بعد میں منہ صاف کرتا ہوں۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا ’’تمہاری بیوی یہ خدمت سر انجام نہیں دیتی؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’یہ ذمے داری میری ہے، بیوی کی نہیں۔ یہ میری ماں ہے اس نے مجھے جنا ہے اس لیے روزانہ میں خود سارا کام کرتا ہوں اور اس کی خدمت کرتا ہوں۔‘‘

کھانا کھانے کے بعد وہ نحیف و نزار خاتون کچھ الفاظ بول رہی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: ’’یہ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ قصاب نے کہا: ’’یہ ایسے ہی الٹے سیدھے الفاظ کہتی رہتی ہیں، کہتی ہیں ’’اللہ تمہیں جنت میں موسیٰ علیہ السلام کا ساتھی بنائے، بھلا میں کہاں اور موسیٰ علیہ السلام اللہ کا پیغمبر کہاں! میری اوقات ہی کیا ہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا جنت میں ساتھی بنوں۔‘‘

اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا:

’’میں نے اس ماں کی دعا اس کے بیٹے کے حق میں قبول کرلی ہے۔‘‘

ایک دن اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ ایک شخص قرب المرگ ہے اور اس کی زبان پر کلمہ جاری نہیں ہو رہا ہے۔ آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، دریافت کیا کہ اس کے والدین میں سے کوئی ناراض تو نہیں؟‘‘ پتا چلا کہ ماں ناراض ہے۔ آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ماں کو بلایا اور پوچھا کہ تم اس بیٹے سے ناراض ہو؟ اس نے کہا: ’’ہاں‘‘! دریافت کیا ’کیوں؟‘ تو اس نے جواب دیا: ’’یہ نماز، روزہ، تلاوت سب کچھ کرتا ہے لیکن مجھ سے ہمیشہ سخت اور درشت لہجے میں بات کرتا ہے۔‘‘ آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے معاف کردو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں اسے معاف نہیں کروں گی۔ آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’آگ جلاؤ، میں اس کے بیٹے کو اس میں ڈال دوں۔‘‘ وہ کہنے لگی ’’نہیں ایسا نہ کرو۔‘‘ پھر آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اسے معاف کردو۔ ورنہ یہ جہنم کی آگ میں جلے گا، تو پھر اس شخص کی ماں نے اپنے بیٹے کو معاف کر دیا۔ اس شخص نے کلمہ پڑھا اور اپنی جان اللہ کے سپرد کردی۔‘‘ (طبرانی، مسند احمد)

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا: ’’ماں باپ میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کرنا نہ انھیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ بات کرنے کا حکم دیا۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
فقیر اللہ خان

Leave a Reply