مشورہ حاضر ہے!

پتلے اور کمزور بال

سوال: میری عمر ۱۸ سال ہے، مجھے ایک سال پہلے ملیریا ہوا تھا، اس کے بعد جسم میں خون کی کمی بھی رہی، جو کہ دواؤں کے استعمال سے بہتر ہوگئی، لیکن اس دوران میرے بال بہت اترتے رہے اور اب میرے بال بہت پتلے ہوگئے ہیں۔ حالاں کہ پہلے میرے بال بہت گھنے تھے۔ بال اب بڑھتے تو ہیں لیکن گھنے نہیں رہے۔ میں اپنے بالوں کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔

جواب: آپ نے ہمیں فیس بک میں اپنا مسئلہ میسج کیا اس کے لیے شکریہ۔ آپ بالکل پریشان نہ ہوں، جیسا کہ آپ نے بتایا کہ پہلے آپ کے بال قدرتی طور پر گھنے تھے اور بیماری کے بعد ہلکے ہونے شروع ہوگئے۔ آپ شکر کریں کہ بال بڑھ رہے ہیں، ورنہ عام طور پر بخار ملیریا کے بعد زیادہ تر لوگوں کے بال بڑھنے کا عمل بھی یا تو رک جاتا ہے یا بہت سست ہو جاتا ہے۔ جہاں تک بال گرنے کا مسئلہ ہے تو یہ نہ صرف وقتی ہے بلکہ قابل علاج بھی ہے اور وہ بھی بہت آسان۔ بس آپ کو مستقل مزاجی سے مشورے پر عمل کرنا ہے اور گھبرانا نہیں۔ زیادہ فکر کرنے یا ٹینشن لینے سے بھی بالوں پر اثر پڑتا ہے۔ اپنے دماغ کو ہر ممکن سکون میں رکھنے کی کوشش کریں اور سب سے پہلے تو اپنی خوراک کا جائزہ لیں۔ آپ کی خوراک اگر متوازن ہوگی تو اس کا اثر بھی آپ کے بالوں پر پڑے گا۔ صرف اچھے تیل، شیمپو لگا لینا ہی کافی نہیں ہوتا یا صرف دوا کھا لینا ہی حل نہیں ہوتا، سب سے پہلے خوراک کا خیال رکھیں۔ آئرن اور خون بنانے والی اشیا اپنی خوراک میں شامل کریں۔ سردیوں کا موسم ہے روزانہ ایک مالٹا اور ایک سیب ناشتے میں کھائیں، کوشش کریں کہ دونوں کو ملا کر کھائیں۔ اس سے بہترین آئرن ملتا ہے۔ جو سیدھا خون میں جاکر شامل ہوتا ہے اور خون بڑھانے کا باعث بھی بنتا ہے۔ رات کو تھوڑا سا آملہ اور ریٹھا (کٹا ہوا) پانی میں بھگو دیں اور صبح شیمپو کی جگہ اس سے بال دھوئیں۔ آپ کو یہ پسا ہوا پاؤڈر بازاور سے بھی مل سکتا ہے۔ ہفتے میں ایک دفعہ یہ پسا ہوا آملے اور ریٹھے کا پاؤڈر ایک پیالی دہی میں دو بڑے کھانے کے چمچ ملائیں اور اس پیسٹ کو آدھ گھنٹہ کے لیے بالوں میں اچھی طرح لگالیں۔ چاہیں تو ایک انڈا پھینٹ کر، اس آمیزے سے ملالیں۔ انڈا دہی کو بہنے نہیں دے گا اور بالوں کے لیے بھی بہت مفید ہوتا ہے۔ کوشش کریں کہ ٹھنڈی اور کھٹی چیزوں سے پرہیز کریں، کیوں کہ ان چیزوں سے نزلہ زکام کا خطرہ ہوتا ہے اور نزلہ زکام، بالوں کا دشمن ہوتا ہے۔ جن افراد کو نزلہ زکام کی اکثر شکایت رہتی ہو، ان کے بال بھی کمزور، بے جان اور وقت سے پہلے گرنے کا عمل یا سفیدی آجانا وغیرہ شامل ہے۔ صبح شام لوہے کے دندانوں والے ہیئر برش سے اپنے سر کی جلد میں برش پھیریں، یوں دوران خون تیز ہوتا ہے اور بالوں کی افزائش اچھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک آزمودہ نسخہ یہ بھی ہے کہ آپ روزانہ سات بادام اور سات دانے کشمش کے پانی میں بھگو دیں اور صبح ناشتے میں کھائیں اور ساتھ نیم گرم دودھ۔ یاد رکھیں کہ جتنی بہتر آپ کی خوراک ہوگی اتنا ہی اچھا اثر آپ کے بالوں پرپڑے گا۔ ساتھ ہی بہترین سے ملٹی وٹامن روز کی ایک گولی ناشتے یا کھانے کے دوران کھانا اپنا معمول بنالیں۔ اللہ کے صفاتی نام یا باری یا کبیر ہر وقت پڑھیں اور تصور میں اپنے بالوں پر پھونک ماریں۔ ان شاء اللہ فائدہ محسوس ہوگا۔ کوشش کریں کہ ہر نماز کے بعد لازمی پڑھیں جتنا پڑھ سکیں۔ کوئی خاص تعداد یا وظیفہ نہیں صرف زبان پر ورد جاری رکھیں اور نیت رکھیں کہ یہ آپ بالوں کی صحت کے لیے پڑھ رہی ہیں۔ اللہ مددگار ہے۔

چہرے کا داغ

٭ میرے چہرے پر کافی زیادہ داغ دھبے ہیں۔ یہ موروثی نہیں ہیں۔ اکثر دانے یا مہاسے جب نکلتے ہیں تو بعد میں چہرے پر کالے بدنما داغ پڑ جاتے ہیں، جن سے پورا چہرہ بدنما اور کالا لگتا ہے۔ یہ داغ آسانی سے نہیں جاتے۔ بہت زیادہ پریشان ہوں۔ برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ میں اپنا چہرہ صاف اور جلد چمک دار اور شفاف کیسے رکھوں۔

آپ مایوس اور پریشان نہ ہوں۔ آپ نے اپنے خط میں لکھا کہ آپ کی عمر بائیس سال ہے۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں اس عمر میں چہرہ کبھی تو بہت زیادہ صاف شفاف ہو جاتا ہے اور کبھی اچانک دانے، کیل مہاسے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ اتار چڑھاؤ آتے جاتے رہتے ہیں۔ آپ کی ذرا سی توجہ اور احتیاط آپ کو اس مسئلے سے نجات دلا سکتی ہے۔ سب سے پہلے تو آپ دانوں کے نکلنے کا عمل روکنے کے لیے چکنی، کھٹی اور مسالے دار چیزیں کھانا بالکل چھوڑ دیں۔ کولڈ ڈرنگ اور مرغن غذاؤں کا استعمال ترک کردیں۔ اچھی اور پرکشش صحت اور جلد کے لیے ایسی قربانیاں دینی ہی پڑتی ہیں، ورنہ نتائج آپ کے سامنے ہی ہیں۔ دوسرا علاج آپ یہ کریں کہ دانوں کو کبھی پھوڑیں مت، نہ ہی انہیں چھیڑیں۔ کچھ لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ دانہ نکلتے ہی اسے دبا کر پھوڑ دیتے ہیں ایسا کرنے سے اس کے اندر کا زہریلا گندا مواد تو باہر نکل جاتا ہے مگر جراثیم اور گرد کی وجہ سے نشان رہ جاتا ہے۔ ایسے نشانات بہت دیر سے اور مشکل سے جاتے ہیں۔ آپ کے لیے آسان اور آزمودہ مشورہ یہ ہے کہ آپ لیموں کے چھلکے سکھا کر پیس لیں اور تھوڑے سے دودھ میں ملا کر پیسٹ بنالیں۔ یہ پیسٹ آپ روزانہ رات کو سونے سے پہلے چہرے پر لگائیں اور تھوڑی دیر بعد تازی پانی سے چہرہ دھولیں۔ چہرے کو تولیے سے رگڑیں نہیں بلکہ ٹشو سے تھپتھپا کر خشک کریں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دن میں تازہ دودھ میں چند قطرے گلیسرین کے ملا کر روئی کی مدد سے چہرے پر لگائیں۔ اور کچھ دیر لگا رہنے دیں، اس سے نہ صرف داغ دھبے ختم ہوں گے بلکہ رنگت بھی نکھر جائے گی۔ تیسر اطریقہ یہ ہے کہ تھوڑی سی بالائی میں چند قطرے لیموں کا رس شامل کریں اور چہرے پر لگالیں۔ تھوڑی دیر بعد تازہ پانی سے چہرہ دھولیں۔

قبض کی شکایت

٭ قبض کے بارے میں کافی لوگوں کے خطوط اور فون موصول ہوئے، فیس بک پر بھی اس کا علاج پوچھا گیا، لہٰذا سب کو ایک ہی جواب دیا جا رہا ہے جو کہ آزمودہ بھی ہے، آسان بھی اور بہترین بھی۔

قبض کے مختلف اسباب ہیں، مثلاً بخار باربار ہونا، دیر ہضم اور کثیف غذاؤں کا استعمال، ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی، فکر یا ٹینشن، ایسی دواؤں کا استعمال جو گرم ہوں، یا معدے پر بوجھ کا باعث بنتی ہوں، کثرت سے ادویہ کا استعمال۔ اس کے علاوہ آنتوں کا ورم، چوٹ یا خون کی کمی یا خوراک کے صحیح طرح ہضم نہ ہونے کی وجہ سے بھی قبض کی شکاہت ہوجاتی ہے۔ اکثر حاملہ خواتین کو بھی قبض کی شکایت رہتی ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو اپنے آپ کو پرسکون ماحول دینے کی کوشش کریں۔ اعصاب جتنے ہی پرسکون ہوں گے آپ کی خوراک اتنی ہی جلد اور اچھی طرح سے آپ کو ہضم ہوگی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کھانا ہمیشہ پرسکون ہوکر آرام دہ حالت میں آرام آرام سے کھانا چاہیے۔ کھانے کو اچھی طرح چبا کر نگلیں۔ جلد بازی میں بڑے بڑے لقمے لے کر مت کھائیں۔ روز رات کو نیم گرم دودھ میں چند قطرے کیسٹرائل یا بادام روغن ڈال کر پئیں۔ نیم گرم دودھ میں آپ شہد بھی ڈال کر پی سکتی ہیں۔ تازہ اور کچی سبزیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ آئرن والی ہری سبزیاں جیسے ساگ، پالک، میتھی کا استعمال کریں۔ سلاد کے طور پ گاجر اور مولی کا استعمال زیادہ کریں۔ روزانہ تھوڑا سا پپیتا بھی کھا سکتی ہیں مگر یاد رہے کہ پپیتا گرم تاثیر رکھتا ہے۔ لہٰذا حاملہ خواتین ڈاکٹر کے مشورے سے ہی اس کا استعمال کریں۔ پانی زیادہ مقدار میں پئیں۔ رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی اپنا معمول بنالیں۔

ہمیشہ رات کا کھانا جلدی کھائیں یعنی اپنے سونے کے اوقات سے کم سے کم دو گھنٹے پہلے۔ ہلکی پھلکی ورزش کریں۔ ثقیل اور مرغن کھانے نہ کھائیں۔ اپنے معدہ پر بوجھ نہ ڈالیں۔ سادہ اور ہلکی پھلکی غذا کا استعمال کریں۔ بھوک رکھ کر کھائیں اور ہمیشہ بھوک لگنے پر ہی کھائیں۔ بے وقت کا کھانا پینا بند کردیں اور صرف اتنا کھائیں جس سے آپ کی بھوک بھی ختم ہوجائے اور معدہ بھاری بھاری بھی محسوس نہ ہو۔ اعتدال میں رہ کر متوازن غذا کا استعمال کریں۔ ناشتہ لازمی کریں۔ خالی پیٹ رہنے سے بھی قبض کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اپنی روز مرہ کی خوراک کو اعتدال میں رکھیں اور یاد رکھیں کہ کھانے کو ضرورتاً کھائیں عادتاً نہیں۔

کالی گردن

٭ میرا رنگ صاف ہے۔ چہرہ، ہاتھ پاؤں بھی صاف رنگت کے ہیں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری گردن، خاص طور پر گردن کا پچھلا حصہ چہرے کی نسبت سانولا اور کالا ہے، جس کی وجہ سے چہرہ بھی عجیب لگتا ہے۔ میں اسی وجہ سے بالوں کی اونچی پونی یا جوڑا بھی نہیں بناتی کیوں کہ گردن کی کالی رنگت اور نمایاں ہوجاتی ہے، جس سے مجھے شدید احساس کمتری اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ میں کیا کروں کہ میری گردن کا رنگ بھی میرے چہرے جیسا ہموار ہوجائے۔

غزالہ، فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ اگر آپ کا رنگ قدرتی طور پر صاف ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی گردن کی صفائی پر اتنی توجہ نہیں دیتیں جتنی کہ آپ چہرے یا ہاتھوں پر دیتی ہیں۔ بہت سے لوگ صرف چہرے کو ہی دھیان میں رکھتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پارلر میں بھی غیر تربیت یافتہ لڑکیاں، صرف چہرے اور ہاتھوں پر مساج کرتی ہیں اور گردن کے پچھلے حصے کو بالکل نظر انداز کر دیاجاتا ہے۔ نتیجتاً چہرہ تو فیشل، بلیچ اور مساج پالش کے باعث چمک اٹھتا ہے جب کہ گردن گندی میلی اور کالی ہی رہ جاتی ہے۔ یہ نہایت جاہلانہ کام ہے اور پھر ہوتا یہ ہے کہ آہستہ آہستہ گردن کا کالا رنگ پکا ہوجاتا ہے۔ یہ سراسر لاپروائی ہے اور کچھ نہیں کیوں کہ اگر آپ کی جلد کو کوئی مسئلہ ہوتا تو پورے چہرے یا ہاتھوں پر بھی اس کا اثر پڑتا۔ آپ منہ دھونے کے ساتھ ساتھ دن میں دو دفعہ گردن کی صفائی کا بھی خیال رکھیں۔ اگر پانچ دفعہ دن میں نماز کے لیے وضو کرتے وقت مسح ہی کرلیا جائے، تو گردن کبھی کالی یا بدنما نہ رہے۔ کیوں کہ پانی لگنے سے تولیے سے صاف کرنے سے اس پر پڑی میل یا گرد مٹی صاف ہوتی رہتی ہے۔ بہرحال، ایک آسان آزمودہ نسخہ یہ ہے کہ ایک انڈے کی سفیدی میں تین یا چار قطرے لیموں کا رس کافی ہوگا۔ اس آمیزے کو گردن پر آگے اور پیچھے اچھی طرح لیپ کر لیں اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد ٹھنڈے یا تازہ پانی سے دھو لیں۔ اس سے نہ صرف گردن کا میل کچیل صاف ہوگا بلکہ دھوپ لگنے کی وجہ سے جو رنگت جل جاتی ہے، وہ سیاہی بھی ختم ہوجائے گی۔ جب بھی چہرے پر پالش، مساج یا بلیچ لگائیں، تو گردن کو فراموش ہرگز نہ کریں۔ گردن بھی چہرے ہی کا حصہ ہوتی ہے اور آپ کو اس کی اہمیت اب سمجھ آہی گئی ہوگی کیوں کہ آپ کو خود احساس ہے کہ اس طرح صاف چہرہ اور کالی گردن کس قدر عجیب اور بری لگتی ہے۔ لہٰذا جب چہرے کا خیال رکھا جاسکتا ہے، تو گردن کو کیوں فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اتنی سی بات ہے دھیان دیں گی تو بہت جلد فائدہ اور نمایاں فرق محسوس کرنے لگیں گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زیست جہاں

Leave a Reply