مستحکم شخصیت کی تشکیل اور والدین

ہمارے سامنے ایک زبردست چیلنج ہے۔ آج کے معلومات پر مبنی عالمی اقتصادی نظام میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے بچے بے حد مضبوط علمی صلاحیتوں کے مالک ہوں۔ انہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ پڑھنے، لکھنے،بولنے اور سننے کی بنیادی صلاحیتوں کو پختہ کریں تاکہ وہ دقیقہ شناس دانشور بن سکیںاور معلومات کو بصیرت کے ساتھ استعمال کر سکیں۔یہ ضروری ہے کہ ہمارے بچے مختلف قسموں کے مطالعہ کے مواد کو سمجھنے پرقادر ہوں اور صاف صاف اور مؤثر طریقے سے لکھ سکیں۔ فیصلے کرنے اور نئے علوم تخلیق کرنے کے سلسلے میں انہیں معلومات اکٹھا کرنے اور اسے استعمال کرنے کے قابل ہونا ضروری ہے۔

پیچیدہ معاملات پر انہیں تنقیدی غور و فکر کی ضرورت پڑے گی۔ یہی وہ علمی صلاحیتیں ہیں جو ہمارے بچے کو اس لائق بناسکتی ہیں کہ وہ دنیا دریافت کریں اور زمانے کے ساتھ قدم بڑھائیں، سوالات کریں اور جوابات کا پتہ لگائیں، اور اپنے اندر استقلال پیدا کریں۔ خواندگی ان کے علم اور ان کے مستقبل کا دروازہ ہے۔خواندگی صرف اسکول تک محدود نہیں؛ بلکہ یہ ہر جگہ سے حاصل کی جاسکتی ہے،اسکا دائرہ سب وے کے سائن پڑھنے،اناج کے ڈبوں کو پڑھنے سے لے کر خاندانی زبان میں خاندانی کہانیاں سننے اور انٹرنیٹ کا استعمال کرنے تک ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔

بچے کی بات سنیں

آپ کا بچہ جن چیزوں کو دیکھ رہا ہے یا جو کام کررہا ہے، ان کے بارے میں سوال کریں۔اپنے بچے کی بنائی ہوئی لکیروں اور تصویروں کے بارے میں سوال کریں۔اپنے بچے کو کہانی سنانے پر آمادہ کریں۔صبر کے ساتھ سوالوں کو سنیں اور جواب دیں۔

پڑھ کر سنائیں

اپنے بچے کے سامنے روزانہ پڑھنے کے لئے ایک مستقل وقت اور جگہ متعین کریں۔لائبریری کی کتابیں استعمال کریں۔اپنے بچے کو ان کا انتخاب کرنے دیں۔آپ اپنی زبان میں پسندیدہ کتابوں کو بار بار پڑھیں۔رسالوں اور فہرستوں سے تصویریں کاٹ کر ساتھ ساتھ پڑھنے کے لئے کتابیں مرتب کریں۔اگر آپ کی گھریلو زبان انگریزی نہیں ہے، تو اپنے بچے کو پبلک لائبریری لے جائیں،جہاں لائبریرین آپ کے بچے کے سامنے انگریزی میں پڑھے گا۔گر آپ ان سے اپنے معصوم نونہال کے لیے کہیں گے تو کوئی بھی ہمدرد لائبریرین انکار نہیں کرسکے گا۔حروف کی آواز سکھانے کے لئے حروف تہجی کی کتابوں کا استعمال کریں۔

چند کام

ڈرائنگ کا سامان مہیا کریں اور تصویریں سجائیں۔ اپنے بچے کو کسی پسندیدہ کہانی سے کوئی تصویر بنانے کو کہیں۔آپ کے بچے نے جو تصویریں بنائی ہیں ان پر چیزوں کے نام لکھیں تاکہ آپ کا بچہ لکھے ہوئے الفاظ کے ساتھ خیالات کو جوڑنا سیکھنے لگے۔اپنے بچے کو کوئی کہانی سنانے کو کہیں؛ اسے لکھوائیں؛ اور اسے دوبارہ پڑھنے کوکہیں۔اپنے بچے کو دکھائیں کہ آپ کس طرح لکھتے ہیں۔جب تحفہ دینے کا کوئی موقع ہو تو، کتابوں، رنگدار چاکوں، مخصوص کاغذات،میگزین کی خریداری، یا دیگر ایسی چیزوں پر غور کریں جو آپ کے گھر کو تعلیمی ماحول کے اعتبار سے ایک بہتر ماحول میں تبدیل کرسکیں۔ اس ضمن میں اپنے بچے کے کمرے کو رنگین کتابوں اور لغات سے سجائیں اور انہیں کمرے میں خوب صورت شیلف لگوا کر گھر بیٹھے من پسند کتابوں کا انتخاب مہیا کریں اور انہیں کتاب خریدنے کی طرف مائل کریں۔ان کے لیے رول ماڈل آپ کی کتاب دوستی ہوسکتی ہے۔اپنے بچے کے سامنے خود بھی پڑھیں اور لکھیں۔ وہ سمجھے گا کہ یہ ’’بالغوں‘‘ کی اہم صلاحیتیں ہیں جنہیں ہم سب ہر روز استعمال کرتے ہیں۔

بات کریں

اپنے بچے سے روزمرہ کی چیزوں پر بات کریں۔ آپ کا بچہ جن چیزوں کو دیکھتا ہے انکا نام بتائیں۔الفاظ کا سہارا لے کر انہیں علامتوں اور لیبل کے بارے میں بتائیں۔کتاب میں موجود تصویروں کے بارے میں گفتگو کریں۔آپ کا بچہ ٹی وی اور ویڈیو کے جن پروگراموں کو دیکھتا ہے، ان کے متعلق گفتگوکریں۔اپنے خاندان کی کہانیاں، پسندیدہ یادیں اور ماضی کے تجربات بیان کریں۔ نعتیں، نغمے اور غزلیں گائیں اوربچوں کو بھی سکھائیں۔حروف تہجی کے گیت سکھائیں۔جھوٹ موٹ کا کھیل کھیلیں۔آپ جو بھی کررہے ہیں اسے ان الفاظ میں بیان کریں جو آپکا بچہ استعمال کرسکے۔

حاصلِ گفتگو

آج اکیسویں صدی میں ہم ایک ساتھ کئی انقلابات سے روشناس ہیں جس میں انٹرنیٹ کے ساتھ روبوٹکس میں مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی نے ہماری دنیا کو بہت تبدیل کر دیا ہے۔کتابوں اور مشاہدات و اختراعات کے ذریعے علم و آگہی تک ہماری رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگئی ہے اور آج ہم تخلیقیت کے اس دور میں جی رہے ہی جہاں منفرد خیالات ہی ہمارے بچوں کو اختراع ساز اور جدت نواز بنا سکتے ہیں۔ایسے میں والدین کے لیے یہ اشد ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھجنے سے پہلے اور بعد میں تمام مراحل پر ان کے ساتھ اپنے تخلیقی جوہروں کا مظاہرہ کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ابوفارس شیخ

Leave a Reply