علومِ اسلامیہ میں خواتین کی خدمات (آخری قسط)

گزشتہ صدی کے اوائل سے لڑکیوں کی تعلیم کا رجحان بڑھا ہے، ان کے لیے مخصوص تعلیمی ادارے قائم ہوئے اور عصری جامعات میں بھی انھیں داخلہ کے مواقع ملے تو ان کی علمی صلاحیتوں کو جلا ملی اور انھوں نے اسلامیات کے مختلف میدانوں میں ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات تحریر کیے ۔ یہ مقالات علوم اسلامیہ کے تمام موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان سے خواتین کے تخلیقی کمالات کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان میں قدیم و جدید مفسرین کے مناہج ِتفسیر کا تعارف کرایا گیا اور ان کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ کیا ہے، سماجی، معاشی اور سیاسی موضوعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے،سیرت ِ نبوی کے مختلف پہلوؤں پر عصر حاضر کے تناظر میں تحقیق کی گئی ہے ، نئے پیش آمدہ سماجی اور فقہی مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔

عصری جامعات کا قیام عرب اور مسلم ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ ان میں سے بعض مخلوط تعلیم فراہم کرتی ہیں اور بعض تعلیم ِ نسواں کے لیے خاص ہیں۔ ان اداروں میں طالبات کے ذریعے اسلامیات پر خاصا کام ہوا ہے اور بڑی تعداد میںایم اے اور پی ایچ ڈی کے مقالے تیار ہوئے ہیں۔ بر صغیر ہند وپاک میں بھی طالبات میں اعلیٰ تعلیم کے تحصیل کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور وہ عصری جامعات میں داخلہ لے کر ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں جگہوں پر عصری جامعات میںدینیات (Theology) اور اسلامیات (Islamic Studies) کی فیکلٹیز قائم ہوئی ہیں اور ان کے تحت قرآن ، حدیث ، سیرت ، اسلامی تاریخ اور دیگر مضامین کے الگ الگ شعبے قائم ہوئے ہیں اور ان کے تحت طالبات نے تحقیقی مقالات لکھے ہیں۔ خاص طور سے پاکستان کی عصری جامعات میں طالبات کے ذریعہ علوم اسلامیہ پر خاصا کام ہوا ہے۔[ جناب محمد عاصم شہبازنے پاکستان کی بیس(۲۰) جامعات میں اسلامیات میں کی گئی پی ایچ ڈیز کی فہرست تیار کی ہے۔ اس کے مطابق کل ۸۶۷ میں سے ۱۱۳مقالات خواتین کے ہیں۔] کسی قدر کام ہندوستان میں بھی ہو رہا ہے ۔ لیکن افسوس کہ ان تحقیقی مقالات میں سے صرف چند ہی زیور ِطبع سے آراستہ ہو سکے ہیں۔ اس بنا پر عصری جامعات میں خواتین کے ذریعہ انجام پانے والے علمی کاموں کا نہ کما حقّہ تعارف ہو سکا ہے اور نہ ان سے استفادہ کی کوئی سبیل نکل سکی ہے۔

مستقبل کا منظر نامہ

علوم ِ اسلامیہ کے میدان میں خواتین کی موجودہ پیش رفت کو اطمینان بخش کہا جاسکتا ہے ، لیکن ان سے مزید کی توقع رکھنا بے جا نہ ہوگا۔ جس طرح ان کا ماضی درخشاں اور تاب ناک رہا ہے اسی طرح مستقبل میں بھی امید ہے کہ ان کے ذریعہ علوم اسلامیہ کے مختلف میدانوں میں قابل ِ قدر اور معیاری کام سامنے آئے گا۔ اس تعلق سے چند پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

۱۔ عربی زبان کی اچھی صلاحیت:

علوم اسلامیہ میں کام کرنے کے لیے عربی زبان میں مہارت ضروری ہے۔ اس لیے کہ تمام مصادر و مراجع اسی زبان میں ہیں۔ اگر چہ بہت سی قدیم کتابوں کا دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو گیا ہے ، لیکن اب بھی خاصا بڑا سرمایہ عربی زبان میں ہی ہے ۔ پھر یہ کہ جن کتابوں کا ترجمہ ہو گیا تھا ، ان سے کام چلانے کے بجائے محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ براہ راست اصل کتابوں سے رجوع کرے اور ان کے حوالے دے۔ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو عربی زبان سے واقفیت نہیں رکھتے ، پھر بھی بڑی جرأت کے ساتھ علوم اسلامیہ میں تحریر و تصنیف کا کام انجام دیتے ہیں اور خود کو محقق کہلانا پسند کرتے ہیں۔

اس موقع پر ایک لطیفہ بیان کر دینا بے موقع نہ ہوگا۔ ڈاکٹر عائشہ عبد الرحمن بنت الشاطی عربی زبان و ادب کی ایک عظیم اسکالر ہیں۔وہ ایک سمینار میںہندوستان تشریف لائیں ۔ واپس جانے کے بعد انھوں نے ایک مجلس میں اپنے تأثرات بیان کیے تو یہ بھی کہا کہ میں نے دنیا میں بہت سے عجائبات دیکھے ہیں۔ ایک عجوبہ یہ بھی ہے کہ مجھے ہندوستان میں یہ معلوم ہوا کہ وہاں کے بعض ایسے لوگوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے جنھیں عربی زبان نہیں آتی۔

عربی زبان سے ناواقفیت کے نتیجے میں محققین سے بڑی دل چسپ غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ اس وقت صرف ایک مثال کافی ہوگی۔ پاکستان کی ایک یونی ورسٹی سے میرے پاس ایک طالبہ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ Evaluation کے لیے بھیجا گیا، جس میں قرآن اور سائنس کی روشنی میں’ نظریۂ ارتقاء‘ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میری نظر سے ان کا یہ جملہ گزرا:’’ ارتقاء عربی لفظ ’رقی‘ سے بنا ہے۔ قرآن پاک کی کسی بھی آیت میں لفظ ’ارتقاء‘ یا ’رقی‘ استعمال نہیں ہوا، جب کہ احادیث ِ مبارکہ میں ’رقی‘ کا لفظ موجود ہے‘‘اس لیے کہ قرآن مجید میں مجرّد اور مزید (رقی اور ارتقاء) دونوں صیغوں میں یہ لفظ موجود ہے ۔ [ملاحظہ کیجیے سورۂ ص، آیت۱۰، سورۂ الاسراء، آیت ۹۳]

ہندوستان میں طالبات کے لیے مخصوص تعلیم کے ادارے قائم ہیں ۔ ان کا نصاب عموماً ہلکا رکھا گیا ہے ۔ اس کے پیچھے غالباً یہی منطق کارفرما ہے کہ عورتیں ’ناقص العقل‘ ہوتی ہیں ، اس لیے ان پر زیادہ بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ، حالاں کہ اگر ان کا نصاب وہی رکھا جائے جو طلبہ کے لیے ہے اور ان کی تعلیم و تدریس کے لیے طلبہ کے مثل سہولتیں فراہم کی جائیں تو طلبہ کے مثل ان کی قابلیتوں میں بھی نکھار آ سکتا ہے۔

۲۔ جملہ مواد کا ستحضار

محقق کے لیے ضروری ہے کہ جس موضوع پر وہ کام کرنا چاہتا ہے، اس پر اب تک جتنا کام ہو چکا ہے، اس سے واقف ہو جائے۔ جدید اصطلاح میں اسے ’لٹریچر سروے‘ کہا جاتا ہے۔ بعض حضرات اسے بالکل اہمیت نہیں دیتے۔ وہ دوسروں کی تحریریںدیکھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میری تحریر بالکل طبع زاد ہے ، میں نے کسی سے استفادہ نہیں کیا ہے ، حالاں کہ علمی دنیا میں یہ رویّہ پسندیدہ نہیں ہے ۔ سابقہ کاموں کو دیکھنا اس لیے ضروری ہے کہ مباحث کی تکرار نہ ہو ۔ جو کام پہلے ہو چکا ہے اسے دوبارہ کرنا تحصیل ِ حاصل ہے۔ لٹریچر سروے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ محقق کا ذہن موضوع کے نئے پہلوؤں کی طرف منتقل ہوتا ہے اور بسا اوقات وہ ایسے مباحث اٹھانے یا ان کے دلائل فراہم کرنے میں کام یاب ہوجاتا ہے جو اس سے پہلے کے محققین کے حاشیۂ خیال میں نہیں آئے تھے۔ چوں کہ تمام دست یاب لٹریچر تک رسائی اور فراہمی زحمت طلب ہوتی ہے ، اس کے لیے کتب خانوں میں آمد و رفت کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لیے اس معاملے میں بسا اوقات محقق خواتین تن آسانی کا شکار ہو جاتی ہیں اور وہ بہ آسانی مل جانے والے لٹریچر پر اکتفا کر لیتی ہیں۔

۳۔ تحقیقی معیار

بعض محقق سمجھتے ہیں کہ اپنی بحثوں میں قدماء یا متاخرین کے زیادہ سے زیادہ حوالے دینا تحقیق کا ا علیٰ معیار ہے ۔ چنانچہ ان کی تحریروں میں حوالوں کی بھر مار ہوتی ہے ۔مقالہ یا بحث کا آغاز کرتے ہی وہ حوالہ دینا شروع کر دیتے ہیں اور اختتام تک کچھ کچھ وقفے سے حوالے دیتے چلے جاتے ہیں۔ وہ ذرا رک یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں کہ اس جگہ کسی سابق مصنف کا حوالہ دینے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ کوئی عام سی بات، جو ہر شخص کہہ سکتا ہے ، یا وہ بہ آسانی ہر کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے ، اس کا حوالہ دینے کی ضرورت کیا ہے؟ حوالہ دینے کے جوش میں انھیں یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ وہ جس کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں اس کا معیار کیا ہے؟ چنانچہ وہ بے تکلّف ثانوی بلکہ ثالثی درجے کی کتابوں کو بھی اپنے مراجع میں شامل کر دیتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ جتنی کتابوں کا مطالعہ کیا گیا ہے ، سب کا کسی نہ کسی طرح حوالہ دے دیا جائے، بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ صرف بہ قدرِ ضرورت حوالے دیے جائیں اور ان باتوں کے حوالے دیے جائیں جن کی واقعی ضرورت ہو اور جن سے کوئی استدلال کیا جا رہا ہو۔

۴۔ اسلام کی صحیح ترجمانی

آج اسلام پر چہار جانب سے فکری یلغار ہے۔ پہلے شمشیر و سناں اور توپ و تفنگ سے حملے کیے جاتے تھے اور طاقت کے زور سے علاقوں پر قبضہ کیا جاتا اور انسانوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ آج باطل افکار کے ذریعہ عقلوں پر قبضہ کیا جا تا اور ذہنوں کو غلام بنایا جاتا ہے۔آج اسلام پر طرح طرح کے اعتراضات کیے جا رہے ہیں ۔ اس پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس کا نظام ِخاندان زد پر ہے اور اس میں عورتوں کے حقوق کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے نظام ِ سیاست کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ غرض مختلف پہلوؤں سے اسلام کو مطعون کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ باطل کا مقابلہ اسی کے ہتھیاروں سے کیا جائے اور اس کے اعتراضات کا جواب اسی کے اسلوب و انداز اور معیار کے مطابق دیا جائے۔ صدرِ اسلام میں خواتین نے اسلام اور رسولِ اسلام کے دفاع میں اہم خدمات انجام دی ہیں اور غیر معمولی قربانیاں پیش کی ہیں۔ آج بھی وہ علم و تحقیق کے میدان میں اپنی خدمات پیش کر سکتی ہیں اور دفاع ِ اسلام کا فریضہ بہ حسن و خوبی انجام دے سکتی ہیں۔

۵۔ نسائی مباحث و مسائل

آج عالمی سطح پر خود نام نہاد مسلم خواتین کا ایک ایسا گروپ تیار ہو گیا ہے جو اسلامی مسلّمات و اقدار پر حملے کرنے میں پیش پیش ہے۔ وہ مردوں اور عورتوں کے درمیان ہر سطح پر ہر اعتبار سے مساوات چاہتا ہے۔ یہ خواتین کہتی ہیں کہ قرآن سماج میں ’رجالی تسلّط‘ کا علم بردار ہے۔ اسلام کے نظام ِ خاندان پر ان کا اعتراض یہ ہے کہ اس میں خواتین کو دبا کر رکھا گیا ہے اور انہیںبہت سے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس صورت ِ حال میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ علم و تحقیق سے لیس ایسی مسلم خواتین سامنے آئیں جو نسائی مباحث و مسائل کی درست تشریح کریں۔ وہ واضح کریں کہ عمل اور اس کے اجر میں اسلام نے مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات رکھی ہے ، لیکن نظام ِ خاندان میں اس نے دونوں کا دائرہ کار الگ الگ رکھا ہے۔ اسلام میں حقوق ِنسواں کی درست تعبیر و تشریح وقت کی ضرورت ہے ۔ اس ضرورت کو مسلم خواتین بہ حسن و خوبی پورا کر سکتی ہیں۔

نئے موضوعات

تحقیق کی دو صورتیں عام طور پر رائج ہیں : ایک یہ کہ کسی مخطوطے کے چند نسخے حاصل کر لیے جائیں اور ان کا موازنہ کرتے ہوئے اس مخطوطے کو ایڈٹ کر دیا جائے۔ کسی نسخے میں کون سا لفظ چھوٹ گیا ہے؟ کس نسخے کی عبارت میں تھوڑا سا فرق ہے؟ اور داخلی شہادتوں کی روشنی میں کون سا نسخہ سب سے زیادہ معبتر ہے؟ ان چیزوں کی وضاحت کر دی جائے۔ عالم ِ عرب میں اس طرز کا کام بڑے پیمانے پر ہوا ہے ۔ اس طرح قدیم مصادر و مراجع کے نئے تحقیق اڈیشن منظرِ عام پر آئے ہیں۔ تحقیق کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی شخصیت کو لے کر اس کے حالات ِ زندگی بیان کر دیے جائیںاور اس کی علمی ، دینی یا رفاہی خدمات کا تعارف کرا دیا جائے ، یا کسی مصنف کی کتابوں کا تعارف کراتے ہوئے اس کے منہج ِ تالیف سے بحث کی جائے ، یا کسی دور کو متعین کر کے اس میں ہونے والے کاموں کا تجزیہ کیا جائے اور اس دور کی اہم شخصیات کا تذکرہ کر دیا جائے۔تحقیق کی یہ دونوں صورتیں افادیت رکھتی ہیں اور ان کے مطابق بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے اور ہو رہا ہے، لیکن میرے استاذ گرامی مولانا سید جلال الدین عمری صدر ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ اور امیر جماعت اسلامی ہند کہتے ہیں کہ تحقیق کی اعلیٰ صورت یہ ہے کہ فکری موضوعات پر کام کیا جائے اور ایسے مباحث اٹھائے جائیں جن میں سماج کو درپیش نت نئے مسائل کا حل پیش کیا گیا ہو۔

الحمد للہ اسلامیات کے میدان میں بحث و تحقیق کا کام بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے اور خواتین بھی اس میں سرگرمی سے حصہ لے رہی ہیں۔ لیکن زیادہ تر کام روایتی انداز کا ہے۔ تیزی سے بدلتی دنیا میں ضرورت ہے کہ جو بہت سے نئے موضوعات سامنے آرہے ہیں ان پر اعلیٰ تحقیقی کام انجام دیا جائے۔ یہ موضوعات بہت سے ہیں اور ان کا دائرہ عقائد و الٰہیات ، تہذیب و معاشرت ، سیاست و معیشت ، بین الاقوامی امور و مسائل اور دیگر میدانوں کو محیط ہے۔ مثال کے طور پر وجود باری تعالیٰ ، اس کی صفات اور شان ِ الوہیت کی تفہیم جدید ، اسلام کا تصوّرِ توحید اور منکرین ِ خدا، متشککین اورملحدین کے اعتراضات و شبہات کا تنقیدی جائزہ ، حاکمیتِ الٰہ کا تصوّر ، وحدۃ الوجود اور اسلامی تصور ِ توحید ، وحی و رسالت کا قرآنی تصور اور عقل انسانی کی نارسائی ، ایمان بالغیب کی تفہیم جدید ، قرآن مجید اور سائنسی حقائق کے درمیان تطبیق اور موافقت یا مخالفت کے پہلوؤں کی تحقیق ، نئے دستوری ، سیاسی اور سماجی مسائل میں سنت ِنبویؐ سے استفادہ کے حدود ، نئے حالات میں اسلامی زندگی کی تشکیل میں اجتہاد کے امکانات، نئے احکام کے استنباط میں مقاصدِشریعت کی رعایت ، بدلتے ہوئے حالات میں نئے علم کلام اور فقہ کی تدوین ، اسلامی حدود و تعزیرات کی معقولیت کا اثبات، ارتداد اور آزادیٔ ضمیر کا مسئلہ ، نفاذ ِ حدود میں جدید وسائل و ذرائع سے استفادہ کے حدود ،مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت اور اس کے حدود ، اسلامی فلسفۂ تاریخ کی تدوین ِ نو، نئے تناظر میں معاشرہ میں عورت کا مقام اور اس کے سیاسی و سماجی حقوق، وراثت، شہادت اور طلاق وغیرہ میں عورت کے ساتھ مرد سے مختلف سلوک کی حکمتیں ، عائلی قوانین کی اصلاح: تعدّدِ ازواج کے حق کی تحدید ، طلاق کے اختیار کو بعض آداب کا پابند بنانا ، حق ِ خلع کی تجدید ، مطلقہ کے حقوق ،ایک ساتھ تین طلاق کا مسئلہ ، اسلامی ریاست میں قانون سازی اور انتظامِ مملکت میں غیر مسلموں سے اشتراک کے حدود ، مسلمان اقلیتوں کا سیاسی موقف ، بین الاقوامی تعلقات ، مشترکہ عالمی مسائل کے حل میں غیر مسلموں کے ساتھ اشتراک کی بنیادیں ، معاشی ترقی کے اسلامی حدود ، گلوبلائزیشن کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ ، حرمت ِ سود کی حکمتیں ، سود کا جواز فراہم کرنے والے نظریات کا علمی و تنقیدی جائزہ ، غیر سودی معیشت کا تنقیدی جائزہ ،اسلامی بینکنگ اور فنانس کے مختلف پہلو ، اسلامی بنیادوں پر انشورنس کی تنظیم جدید، وغیرہ۔[ پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی نے اپنے کتابچے میں ان موضوعات کی نشان دہی کی ہے جن پر موجودہ حالات میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ملاحظہ کیجیے: معاصر اسلامی فکر : چند توجہ طلب مسائل ، ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس، نئی دہلی،۲۰۱۶]

یہ چند موضوعات ہیں جن کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس طرح کے دیگر بہت سے موضوعات کی فہرست تیار کی جاسکتی ہے جو محققین کی نظرِ کرم کے منتظر ہیں۔ ان موضوعات پر خواتین بھی دادِ تحقیق دے سکتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

Leave a Reply