خوش گوار ازدواجی زندگی

ارشتۂ زدواج کو اللہ تعالی نے اپنی ایک نشانی قرار دیا ہے۔ یہ خوبصورت رشتہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس رشتہ کے ذریعہ اجنبی مرد اور عورت، ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے لئے زندگی کی بہت سی مسرتوں کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے باعث سکون ہیں۔وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً (اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرواور تمہارے درمیان محبت و الفت پیدا کردی)۔

وہ ایک دوسرے کا لباس بن جاتے ہیں۔ بے تکلف اور انتہائی قابل اعتماد دوست، بلکہ شریک ِزندگی اور سفر حیات میں ایک دوسرے کے رفیق بن جاتے ہیں۔ایک دوسرے کے ہم راز، دکھ سکھ کے ساتھ، غم گسار اورساجھے دارہوجاتے ہیں۔ایک دوسرے کا وجود ان کے لئے زندگی کی بے شمار مسرتوں کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔ ان کی زندگیاں بڑی گہرائی سے ایک دوسرے سے وابستہ ہوجاتی ہیں۔ اس حد تک کہ وہ ایک دوسرے کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ شریک حیات ان کے لئے ’نصف بہترBetter Half‘ بن جاتا ہے۔ایک دوسرے کی خوشی ان کے لئے زندگی کی بہت بڑی دلچسپی بن جاتی ہے اور یہی دلچسپی انہیں کاروبار حیات میں سرگرم اور مستعد رکھنے کا باعث بھی بنتی ہے۔ایک دوسرے کے لئے قربانیاں دینے اور تکلیف اٹھانے میں انہیں مزہ آنے لگتا ہے۔پھر اللہ تعالی اسی رشتہ سے دونوں کو اولا د کرتا ہے۔ ان کا خاندان وجود میں آتا ہے۔ جو اِن کے لئے مسرتوں کا گہوارہ ہوتا ہے۔ ننھے منے معصوم بچوں کے ہنگامے، دونوں کو اور مضبوطی سے جوڑدیتے ہیں۔ ایک دوسرے پر محبت لٹانے کے ساتھ ساتھ اب دونوں مل کر بچوں پر محبت لٹانے لگتے ہیں۔

یہ سلسلہ صدیوں سے چل رہا ہے اور خالق کائنات کی قدرت کا شاہکار اور نہایت خوبصورت نمونہ ہے، اسی لئے قرآن نے اسے نشانی قرار دیا ہے۔ یہ رشتہ انسان کی ایک فطری ضرورت ہے۔یہ فطری ضرورت ، صرف قانونی رشتہ سے پوری نہیں ہوتی اور نہ ہی صرف اس کے جنسی پہلو سے۔ اس رشتہ کے تمام جذباتی، نفسیاتی، اخلاقی، معاشرتی اور تہذیبی ابعاد Dimensions انسان کی فطری ضرورت ہیں۔ یعنی یہ انسان کی فطری ضرورت ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرنے والے ہوں۔ یہ فطری ضرورت ہے کہ دونوں کا ایک دوسرے پر بھر پور اعتماد ہو۔ یہ فطری ضرورت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے باعث سکون ہوں۔

ایک انسان کو ازدواجی زندگی میں مسرت اور سکون حاصل ہو تو یہ اس کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے دنیا کی عظیم ترین نعمت قرار دیا ہے۔(و خیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ : دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے۔ صحیح مسلم روایت عبد اللہ بن عمرو) یہ نعمت انسان کو جذباتی آسودگی سے مالا مال کرتی ہے۔جس مرد یا عورت کو یہ نعمت حاصل ہو ، اس کی شخصیت میں اعتماد، حوصلہ، امنگ، زندگی کی حرارت، ولولہ اور حسن آجاتا ہے۔ وہ آگے بڑھنے، ترقی کرنے اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے مثبت جذبات سے اور ان کے لئے درکار توانائی سے مالا مال ہوجاتا ہے۔زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔ شوہر اور بیوی میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور ہم آہنگی ہو تو گھر بھی سکون کا گہوارہ بنتا ہے اور بچوں کو بھی خوشگوار ماحول میسر آتا ہے۔ ایسے ماں باپ کے بچے نفسیاتی لحاظ سے مضبوط اور اچھی جذباتی ذہانت کے مالک ہوتے ہیں۔

میاں بیوی کی محبت ان کے پورے خاندان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پورے خاندان میں وہ مثبت توانائی پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ایسے جوڑوں کی کثرت پورے معاشرہ کو صحت مند بناتی ہے۔ بے شمار مطالعات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پر مسرت خاندانوں کے بغیر معاشرہ اور تہذیب کی ترقی بھی ممکن نہیں ہے۔ خاندانی مسرت و سکون انسانوں کے منفی جذبات جیسے رنج و غم، غیض و غضب، مایوسی ونا امیدی اور بے حوصلگی و کم ہمتی وغیرہ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی جذبات سماج میں انتشارو افتراق، فتنہ و فساد اور مظالم وجرائم کو فروغ دینے کا باعث ہوتے ہیں۔ ان منفی جذبات پر کنٹرول ہو تو انسانوں کی توانائی مثبت و نفع بخش کاموں میں لگتی ہے اور اس طرح سماج خوشحال بنتا ہے۔

خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے شادی کے ابتدائی چند سال بہت اہم ہوتے ہیں۔ مرد اور عورت دونوں کے لئے شادی ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ لڑکی اپنا گھر والدین، بہن بھائی سب کو چھوڑ کر ایک نئے گھر میں آبستی ہے تو وہ بہت ساری ذہنی تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔ دوسری طرف لڑکا جو اب تک ایک آزاد لا ابالی اور بے فکر زندگی گزار رہا ہوتا ہے، اچانک ایک تبدیلی سے گزرتا ہے۔ وہ اچانک بہت ساری نئی بندشوں اور ذمہ داریوں میں جکڑ جاتا ہے۔والدین اورگھر کے دیگر افراد کی اس پر کڑی نظریں ہوتی ہیں وہ اسکی پہلی اور بعد کی زندگی کا موازنہ کرتے ہیں۔

اس مرحلہ میں دولہا اور دلہن دونوں کو نہایت سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کے اندر یہ سمجھداری ہو تو ان کی زندگی مسرتوں کا گہوارہ بن جاتی ہے اور وہ ساری خوشیاں اور فائدے انہیں حاصل ہوتے ہیں، جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو پھر تنازعات شروع ہوجاتے ہیں اور زندگی جہنم بن جاتی ہے۔اس لئے ہم نے اس سے قبل کے مضامین میں، شادی سے قبل کی جانے والی کونسلنگ پر گفتگو کی تھی ۔ اور ان باتوں پر بھی توجہ دلانے کی کوشش تھی جن کی اس پروگرام میں شمولیت ضروری ہے۔ (دیکھئے حجاب کے خصوصی شمارہ میں ہمارا مضمون ’’شادی سے قبل کونسلنگ‘‘) ۔ اسی طرح اس شمارہ میں ہم نے ازدواجی تنازعات اور ان کے حل کی تدابیر پر بھی گفتگو کی تھی۔

اس مضمون میں ہمارے پیش نظر وہ جوڑے ہیں جن کے درمیان سیریس تنازعات تو نہیں ہیں لیکن ازدواجی زندگی کی بھرپور مسرتیں بھی نہیں ہیں۔ اکثریہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سارے جوڑے شادی کے بعد ایک یا دو سال ہی پر جوش اور نہایت پر مسرت زندگی گزارپاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا ازدواجی رشتہ کسی تنائویا تنازعہ کا شکار تو نہیں ہوتا لیکن اس میں گرمجوشی اور حرارت بھی باقی نہیں رہتی۔ زندگی کے جھمیلوں میں وہ ایسا اُلجھ جاتے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے میں کوئی دلچسپی نظر ہی نہیں آتی ۔ بس وہ ساتھ رہتے ہیں اور زندگی کا بوجھ اتارتے اور ذمہ داریاں ادا کرتے رہتے ہیں۔ ایسے تعلیم یافتہ ، خوشحال اور مہذب جوڑے بھی مجھے ملتے ہیں جو شادی کے چند سالوں بعد ہی عین نوجوانی میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ’’ اب زندگی میں کوئی مزہ ہی نہیں رہا بس بچوں کے لیے جینا ہے‘‘ ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے ایسی باتیں سن کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ ازدواجی رشتہ کی گرمجوشی کی ضرورت انسان کو ہر عمر میں ہوتی ہے۔اگریہ لوگ سمجھداری سے زندگی گزاریں ، اسلامی شر یعت کی پابندی کریں، نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی کے اسوہ کو پیش نظر رکھیں ، اور ایک دوسرے کی نفسیات کا لحاظ رکھیں تو ان شاء اللہ، عمر کے ساتھ ساتھ انکا رشتہ اور مضبوط اور محبت و زندگی سے بھرپوربن سکتا ہے اور بڑھاپے کی آخری عمر تک وہ ازدواجی زندگی کی جذباتی مسرتوں سے فیضیاب ہوسکتے ہیں۔چنانچہ ایسے جوڑے بھی موجود ہیں جن کی شادی کو پچاس ساٹھ سال ہوچکے ہیں اورجن کے پوتے پوتیاں بھی ماشاء اللہ شادی شدہ اور بال بچوں والے ہیں لیکن وہ عمر کے اس آخری پہر میںبھی بھرپور رومانٹک زندگی گزاررہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اُس رازکو پالیتے ہیں جو خوشگوار زندگی کے لئے ضروری ہے۔اس مضمون میں ہم پائیدار ازدواجی مسرتوں کے کچھ اہم اصول زیر بحث لائیں گے۔

ایک دوسروں کو سنیں

ایک دوسرے میں بھرپوردلچسپی لیں، خوب بات کریں اور خوب ایک دوسرے کو سنیں۔ شادی کے ابتدائی سالوں میں چونکہ وقت دستیاب ہوتا ہے، ذمہ داریاںبھی کم ہوتی ہیں، اور نئی نویلی ازدواجی زندگی کا رومانس اور تجسس شباب پر ہوتا ہے، اس لئے دولہا اور دلہن مکمل طور پر ایک دوسرے پر مرکوز ہوتے ہیں۔دھیرے دھیرے یہ ارتکاز کم ہونے لگتا ہے اور وہ وقت بھی آتا ہے کہ دونوں کے پاس اپنے دل کی باتیں کرنے کے لئے وقت ہی نہیں ہوتا۔کل چھوٹے بچے کو ٹفن میں کیا دیا جائے؟ بڑے کو امتحان کی تیاری کیسے کرائی جائے؟ شریر پڑوسی سے کیسے نبٹا جائے؟ انہی باتوں میں اُن کا وقت بلکہ ان کی راتیں بھی گذرجاتی ہیں۔اس طرح وہ محض روم میٹ بن جاتے ہیں۔ازدواجی زندگی، ایک دوسرے کی شخصیتوں میں بھرپور دلچسپی اور ’دل سے دل ‘کی باتوں کے ذریعہ مستحکم ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی صحت کے بارے میں، خوبصورتی کے بارے میں ، صلاحیتوں کے بارے میں، خوبیوں کے بارے میں، مشترک خوابوں کے بارے میں خوب باتیں کیجئے۔ اس کے لئے وقت نکالئے۔مصروف اوقات میں بھی، ایک مختصر فون کال کے ذریعہ یاٹیکسٹ میسیج کے ذریعہ، رومانس کے شعلہ کو گرم رکھئے، اسے ٹھنڈا ہونے نہ دیجئے۔نبی کریم ﷺ نے حضرت جابر کی شادی پر ان سے جو گفتگو کی اس میں مطلوب ازدواجی رشتہ کی نوعیت معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا تھاتلاعبھا و تلاعبک او تضاحکھا و تضاحکک (تم اس سے کھیلو، وہ تم سے کھیلے۔تم اس کو ہنساو، وہ تم کو ہنسائے۔ بخاری و مسلم، جابر بن عبد اللہؓ)۔ رسول اللہ کی خانگی زندگی کی جو تفصیلات ہم کو حدیث کی کتابوں میں ملتی ہیںاس میں بھی بے حد گرمجوشی اور بھرپور کمیونکیشن نظر آتا ہے۔مثلا یہ آپ ﷺ حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کرتے تھے۔جیت ہار پر دلچسپ تبصرہ کرتے تھے۔ اپنی پشت پر بٹھا کر انہیں حبشیوں کا کھیل دکھاتے تھے۔

محبت کا اظہار اور تعریف کریں

ایک حدیث کے مطابق اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر آپ کو اپنے بھائی سے محبت ہو تو اسے کہہ دو کہ آپ کو اس سے محبت ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ کتنا ضروری ہو جاتا ہے کہ زوجین بھی ایک دوسرے سے اظہار محبت کریں۔اظہار محبت کی یہ ضرورت ہمیشہ ہوتی ہے۔ اور ہر طریقہ سے ہوتی ہے۔ بار بار یہ کہنا کہ مجھے تم سے بے حد محبت ہے، باڈی لینگویج سے اس کا اظہار، خوبیوں کی دل کھول کر تعریف کرنا، احسانات پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا، کامیابیوں کو سیلبریٹ کرنا، یہ سب اظہار جذبات کے ذرائع ہیں اور خوشگوار زندگی کے لئے ضروری ہے کہ یہ سب بھرپور طور پراختیار کئے جائیں۔

ایک بار تعریف کافی نہیں، بار بار اور مستقل اس کی ضرورت ہوتی ہے۔اچھے جوڑے چھوٹی چھوٹی خوبیوں اور کامیابیوں پر بھی مسرتوں کا اودھم مچانے کا فن جانتے ہیں۔ریسرچ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے سلیبریشن ازدواجی رشتہ کے استحکام میں بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔اسی طرح ریسرچ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی خوشیوں پر بھرپور طریقہ سے خوش ہونا بھی ازدواجی مسرتوںکا اہم راز ہے۔شوہر کو آفس میں کوئی کامیابی ملی اور اس پر بیوی نے میٹھا اور دیگر خصوصی ڈشیں تیار کرکے گھر پر پارٹی کردی۔ً بیوی نے عربی کا کورس مکمل کیا، اس پر شوہر میٹھائی لے آیا۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی مسرتیں تعلقات کو نہایت پختہ کردیتی ہیں۔عورت کی یہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ شوہر اس کے حسن کوسراہے ،اس کی طرف توجہ سے دیکھے اور اسکی تعریف کرے۔ اسی طرح یہ شوہر کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی شخصیت کے اچھے پہلووں کی اس کی بیوی ستائش کرے۔

اہمیت کا احساس دلائیں

رشتہ کے استحکام کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بیوی کو یہ احساس ہو کہ اس کا وجود شوہر کے لئے سب سے اہم ہے، اسی طرح یہی احساس شوہر کو بھی ہو۔ ایک دوسرے سے کسی سفر وغیرہ کی وجہ سے جدا ہوں تو جدائی کی تکلیف کا اور جلد سے جلد ملنے کی بے چینی کا اظہار ہو۔ ایک دوسرے کے امور و معاملات میں مشورہ کیا جائے اور اس مشورہ کو اہمیت دی جائے۔ خاندان کی محفلوں وغیرہ میں ایک دوسرے کو بھر پور اہمیت دی جائے۔ ساتھ گذرنے والے اوقات کی اہمیت اور ان کی مسرت ایک دوسرے کو محسوس ہو۔

نبی کریم ﷺ غزوات میں اپنی بیویوں کو ساتھ لے جاتے تھے۔ حدی خوان کو حکم فرماتے کہ آہستہ چلو، اندر آبگینے ہیں۔ اپنی بیویوں سے مشورہ کرتے۔ صلح حدیبیہ کے بعد آپ ﷺ نے ایک بڑا پیچیدہ مسئلہ حضرت ام سلمہ ؓکے مشورہ کو قبول کرکے حل فرمایا۔ نبی کریم ﷺ گھر کے کام کاج میں امہات المومنین کا ہاتھ بٹاتے۔آٹا تک گوندھ دیتے۔

اہمیت کا احساس ایک دوسرے پر توجہ دینے سے بھی ہوتا ہے۔ شوہر آفس سے گھر آتا ہے اور بیوی سارے کام کاج چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔ اس کا بیگ، موزے وغیرہ اس کے ہاتھ سے لے لیتی ہے، اسے پانی یا چائے پیش کرتی ہے، وہ کسی مشکل کام میں لگا ہو تو بڑھ کر تعاون پیش کرتی۔ اسی طرح بیوی پر گھر کے کام کا دبائو ہے اور شوہر آگے بڑھ کر اس کا تعاون کرتا ہے، وہ میکہ سے واپس آرہی ہوتی ہے تو آفس سے وقت نکال کر اس کے استقبال کے لئے موجود رہتا ہے تو یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں ان کی محبت کو بڑھاتی ہیں۔

اہمیت کا احساس اس سے بھی ہوتا ہے کہ جس چیز یا شخصیت کو آپ کی شریک حیات اہمیت دیتی ہے اس کو آپ بھی اہمیت دیں۔ اس کے رشتہ داروں کو اہمیت دیں، دوستوں کو اہمیت دیں، اس کی پسندیدہ ڈش کو اہمیت دیں، کلر کو اہمیت دیں، اس کے مشغلوں اور شوق سے آپ کو بھی پیار ہو۔حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بھی ان کی سہلیوں سے حسن سلوک فرماتے اور ان کو تحائف بھجاتے اور قربانی کا گوشت بھجاتے۔(سنن الترمذی، روایت حضرت عائشہ ؓ)

اپنی توقعات صاف صاف بتائیں

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مزاج ایک جیسے نہیں بنائے۔ شوہر، بیوی میں اختلاف کا ایک پہلو تو جنس کا اختلاف ہے۔ مرد اور عورت صرف حیاتیاتی لحاظ سے الگ الگ نہیں ہیں، جذباتی اور نفسیاتی لحاظ سے بھی ان میں بڑا فرق ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں مرد مریخ سے ہیں تو عورتیں زہرہ سے۔ men are from mars women are from venus)) مطلب یہ کہ دونوں کے مزاجوں میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔پھر، انسانوں میں اور بھی بہت سے فرق ہوتے ہیں جو ان کی موروثی خصوصیات، ماحول وغیرہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ میاں بیوی کو اس فرق کا لحاظ کرنا چاہیے۔ اور اس کی قدر کرنی چاہیے۔ بہت سے معاملات میں شوہر کی پسند الگ ہوسکتی ہے, بیوی کی الگ۔ دونوں کی سوچ، ترجیحات، کام کے طریقے وغیرہ میں بھی فرق ہوسکتا ہے۔ ان کی شخصیتوں میں بعض فطری کمزوریاں بھی ہوسکتی ہیں۔شوہر کو بھوک برداشت نہیں ہوتی تو بیوی نیند پر قابو نہیں رکھ پاتی۔بیوی ملنسار ہے تو شوہر تنہائی پسند۔ خوش و خرم جوڑے ایسے اختلافات کو صرف برداشت نہیں کرتے بلکہ ان کو سلیبریٹ celebrate کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہیں۔ غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اسلام بھی ہم کو یہی حکم دیتا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ بیوی کی کوئی بات تم کو پسند نہ ہو تو ہوسکتا ہے اللہ نے اس میں تمہارے لئے بھلائی رکھی ہو۔ فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا (اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو)۔

ایک دوسرے کی کوئی بات یا کوئی رویہ بہت زیادہ ناپسند ہو تو اس کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے۔ ماہرین کہتے ہیںکہ خوشگوار ازدواجی زندگی میں چھوٹی موٹی لڑائیوں کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس سے بھی محبت بڑھتی ہے۔ اس سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے شریک حیات کو ہماری کیا چیز پسند نہیں آتی اور ہمارا کونسا رویہ اس کو تکلیف پہنچاتا ہے۔خوش و خرم جوڑے ان لڑائیوں میں ایک دوسرے کو اپنی توقعات جتادیتے ہیں۔ شریک حیات کی جو بات سخت ناپسند ہے یا جس رویہ سے تکلیف پہنچی ہو اُسے صاف صاف بتادیتے ہیں۔ یہ مطلو ب رویہ ہے۔ نامطلوب رویہ یہ ہے کہ لڑائی ہو تو اصل شکایت معلوم ہی نہ ہو اور غیر متعلق باتوں پر تکرار ہوتی رہے۔ غیر متعلق طعنوں، طنز، ماضی کے غیر متعلق واقعات، ایک دوسرے کے رشتہ داروں پر چوٹ و غیرہ وغیرہ پر گھنٹوں تکرار ہوتی رہے اور اصل شکایت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ایسے جوڑوں کے دلوں میں شکایتوں کے ناسور پلتے رہتے ہیں اور جب یہ پھٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کی وجہ صرف یہ ہے کہ شوہر ٹوتھ پیسٹ کے ٹیوب کو کہیں سے بھی دبادیتا تھا جبکہ بیوی چاہتی تھی کہ وہ ترتیب سے پیچھے سے دباتے آئے۔ (یہ حقیقی واقعہ ہے)

غلطیاں قبول کریں، معافی چاہیں اور خود کو بدلیں۔

آدمی سے کوئی خطا نہ ہو یہ ممکن ہی نہیںہے ۔ خطا کا احساس ہو جائے یا دوسرے فریق کی جانب سے احساس دلادیا جائے تو اپنی غلطی قبول کر کے معافی بھی مانگ لیں۔ معافی صرف معافی کے بول کانام نہیں ہے بلکہ یہ ایک طریقہ ہے جس کے ذریعہ آپ مخاطب کے ذہن اور جذبات کو اس غلطی کے اثرات سے پاک کرتے ہیں جو آپ سے سرزد ہوئی ہے۔ سنجیدہ معذرت کے درج ذیل ارکان ہوتے ہیں۔

٭ جو غلطی آپ نے کی ہے اس کا واضح تذکرہ کرتے ہوئے واضح الفاظ میں معافی مانگیے۔ کہیے کہ فلاں فلاں غلطی کے لئے میں شرمندہ ہوں اور معافی چاہتا ہوں۔

٭اس غلطی کا دوسرے پر کیا اثر ہوا ہے یا ہوسکتا ہے؟ اسکو بھی تسلیم کیجئے۔

٭ اس غلطی کو دوبارہ نہ کرنے یا رویہ میں اصلاح کی یقین دہانی کرایئے۔

اس طرح کی معذرت ہمارے رشتہ کو اور مضبوط کرتی ہے اور محبت بڑھاتی ہے۔ اسی طرح محبت اس سے بھی بڑھتی ہے کہ آپ اپنے رفیق حیات کی مرضی کے مطابق خود کو بدلیں۔ جو رویہ اس کو پسند نہیں ، اس کو ترک کردیں۔

رویہ کے علاوہ تبدیلی کا ایک محاذ رفیق حیات کی دوسری چھوٹی موٹی پسند یا ناپسند بھی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی مخصوص کلر جو آپ پہنتی ہوں وہ آپکے شوہر کو پسند نہ ہو اور آپ اسے فوراً ترک کردیں یا کوئی پکوان کا طریقہ جو اسے ناپسند ہو،وہ آپ بدل دیں ۔یا بیوی کو شوہر کی پان کھانے کی عادت پسند نہ ہو، اُس کے کسی خاص پرفیوم سے چڑ ہویا چپل پہن کر اس کا بازار میں جانا پسند نہ ہو اور وہ اسے ترک کردے تو اس عمل سے آپ کا مقام اسکی نظروںمیں اور آپ کی محبت اس کے دل میں بہت بڑھ جائے گی اور آپکے رشتے کو تقویت ملے گی۔

غصہ اور بد زبانی

لہجہ اور زبان کا تیکھا پن رشتوں میں زہر گھول دیتا ہے۔میرے پاس جو کیس آتے ہیں ان میں کئی دفعہ مسئلہ کچھ نہیں ہوتا۔ بس ناقص کمیونکیشن تعلقات کو بگاڑ دیتا ہے۔ اسی لئے اسلام میں زبان پر کنٹرول کی خصوصی تعلیم ملتی ہے۔ یہ کنٹرول ہر رشتہ میں ضروری ہے لیکن ازدواجی رشتہ میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ہمارے ذہن کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مخاطب کے الفاظ ، لب و لہجہ ، آواز کے اتار چڑھائو، چہرہ کے تاثرات ، ان سب کا اثر قبول کرتا ہے۔ اور یہ اثر ذہن میں نقش ہوتا جاتا ہے اور رویوں کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ہم بے خیالی میں کچھ کہہ دیتے ہیں اور وہ تیر بن کر ہمارے شریک زندگی کے دل پر کاری زخم لگادیتا ہے۔ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم نے اس کے دل کا خون کردیا ہے۔ بعد میں بولنے والا اور سننے والا دونوں اسے بھول جاتے ہیں لیکن اس وقعہ نے جو دراڑ پیدا کی ہے وہ باقی رہتی ہے اور ایسی دراڑیں دھیرے دھیرے تعلقات اور جذبات کو سرد مہری کا شکار بناتی رہتی ہیں۔ غصہ میں ہم اکثر بچوںکے سامنے آپس میں غلط کلمات اداکردیتے ہیں جسکا اثر بچوں پر بھی ہوتا ہے۔ اکثر جوڑے بعد میںیہ کہتے پھرتے ہیںکہ ہم نے تو غصہ میں ایسا کہہ دیا اور ہمارا مقصد یہ نہیں تھا۔ازدواجی تعلقات کے استحکا م کے لئے ضروری ہے کہ ہم غصہ پر قابو پانا سیکھیں۔ غصہ آئے تو اٹھ کھڑے ہوں۔ ٹھنڈا پانی پیئیں۔ استغفار اور تعوذ پڑھیں۔ غصہ اور زبان پر کنٹرول کا ازدواجی زندگی کی مسرتوں اور اسے سرد مہری سے بچانے میں بڑا اہم رول ہوتا ہے۔

مشترک دلچسپیاں اور مشاغل

تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ازدواجی زندگی میں مشترک دلچسپیوں اور مشاغل کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ان سے تعلق گہرا ہوتا ہے۔ شوہر اور بیوی کو اپنی اپنی علٰحدہ دلچسپیوں اور مشاغل کی بھی قدر کرنی چاہیے اور اس کے لئے ایک دوسرے کو موقع دینا چاہیے اور ساتھ ہی کچھ مشترک دلچسپیوں اور مشاغل کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ دونوں مل کر گارڈننگ کرسکتے ہیں۔ کبھی مل کر ساتھ میں کوئی چیز پکاسکتے ہیں۔ بیڈ مینٹن یا ٹینس کھیل سکتے ہیں۔ سہولت ہو تو تیراکی کرسکتے ہیں۔کچھ نہ ہو تو کم از کم مل کر پارک میں واکنگ کا معمول بناسکتے ہیں۔شعر و ادب کا ذوق ہو تو بیت بازی کرسکتے ہیں۔ مل کر مطالعہ کرسکتے ہیں۔ ساتھ میں کوئی ویڈیو پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔کبھی ساتھ میں کوئی لمبی ڈرائیو، پکنک یا ایڈونچر پر جاسکتے ہیں۔ مل کو کوئی نئی زبان یا کوئی نیا فن سیکھ سکتے ہیں۔جو لوگ دینی سرگرمیوں میں متحرک ہیں ان کے لئے دعوت و تحریک کا کام بھی مشترک دلچسپی کا بہت اہم میدان ہوسکتا ہے۔ اگر زندگی میں ایسی کو ئی مشترک سرگرمی یا دلچسپی نہ ہو تو کوشش کرنی چاہیے کہ ایسی کوئی چیز تلاش کی جائے اور اسے اختیار کیا جائے۔

ایک دوسرے کے لئے د عا کریں

خوش گوار ازدواجی زندگی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لئے دعا کریں۔ ایک دوسرے کے لئے دعا محبت بڑھاتی ہے اور تلخیوں کو مٹادیتی ہے۔یہ مشہور دعا تو خود اللہ نے ہم کو سکھائی ہے۔رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (اے ہمارے رب، ہمیں اپنی ازواج اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔ )سونے سے پہلے آیت الکرسی، سورہ اخلاص، معوذتین اور البقرہ کی دو آیتیں مل کر پڑھیں اور ایک دوسرے پر دم کریں ۔ کبھی کبھی مل کر دعا کریں۔ جب بھی کوئی مشکل ہو، کوئی تنازعہ ہو یا رشتہ کسی مشکل سے دوچار ہو تو سب سے پہلے خدا سے مدد مانگی جائے۔ ایک مسلمان کی سب سے بڑی قوت ، دعا ، خدا پر ایمان اور اس سے تعلق کی قوت ہی ہے۔یہ قوت ازدواجی رشتہ میں بھی پوری طرح استعمال ہونی چاہیے۔ شوہر اپنے کیریر یا بزنس کے کسی اہم مرحلہ کا آغاز کررہا ہو تو بیوی رات میں اٹھ کر اس کے لئے دعا کرے۔بیوی کے حمل اور ولادت تک کے مراحل میں شوہر خصوصی دعا کرتا رہے۔ایک دوسرے کے لئے صدقات کریں۔ منتیں مانگیں۔ ان سے بھی محبت بڑھتی ہے اور ہمارے ازدواجی رشتہ پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور اس کی خصوصی مدد ملتی ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کی ایک ریسرچ سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشگوار ازدواجی تعلقات کے لئے، مثبت اور منفی تعاملاتinteractions کا تناسب کم از کم پانچ اور ایک کا درکار ہوتا ہے۔ مطلب اگرمہینہ میں دس دفعہ ناراضگیاں، چھوٹی موٹی لڑائیاں، شکایتیں، دوسرے فریق کو ناپسند حرکت و غیرہ کا صدور ہو تو کم سے کم پچاس دفعہ مثبت تعاملات یعنی محبت کا اظہار، دوسرے کی خوشی کو سلیبریٹ کرنا، تعریف کرنا، پیار و محبت کا گرمجوش اظہار، وغیرہ ہونا چاہیے۔ یہ تناسب گھٹتا ہے تو تعلقات خراب ہونے لگتے ہیں یا ان میں سرد مہری آنے لگتی ہے۔اس مضمون میں نکات ایک دو تین، سات اور آٹھ مثبت تعاملات کی مثالیں ہیں۔ ان کے علاوہ مثبت تعاملات کی اور بھی دسیوں مثالیں ہوسکتی ہیں۔ جسمانی لمس یعنی معانقہ، بوسہ، ہاتھ میں ہاتھ دینا وغیرہ بھی مثبت تعاملات کی مثالیںہیں۔ان کی تعداد اور فریکواینسی ہم بڑھادیں تو چھوٹے موٹے منفی امور کے نقصانات سے اس خوبصورت لیکن نہایت حساس اور نازک رشتہ کو کمزور ہونے سے بچاسکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نازنین سعادت

Leave a Reply