ایک شمع جلانی ہے! (قسط ــ 17)

دوسرے دن ظہر کے وقت تک اس نے سارا کام نپٹا دیا۔ ابتسام سے وہ پہلے ہی اجازت لے چکی تھی سو جلدی سے ماویہ کو تیار کیا اور گھر لاک کر کے وہ زینب آپا کے بتائے گئے پتہ پر پہنچ گئی۔ ہوسٹل سے قریب ہی ایک مسجد تھی، جہاں مسجد سے لگ کر ہی ایک کشادہ کمرہ تھا اور کمرہ کیا بلکہ وہ تو ایک اچھا خاصا ہال ہی تھا… بڑے بڑے روشن دان ہونے کی وجہ سے خوب روشنی تھی، وقت سے پہلے ہی ہال تقریباً بھر سا گیا تھا جب کہ سامنے رکھی ایک کرسی پر پرنٹیڈ کاٹن کے ڈریس پر ہم رنگ اسکارف پہنے زینب آپا بڑے پروقار انداز میں بیٹھی تھیں۔ آس پاس کی خواتین ان سے باتیں کر رہی تھیں۔ چند ہی منٹ بعد سارا ہال بھر گیا۔ زینب آپا نے گھڑی پر نظر ڈالی جو تین بجنے کا اعلان کر رہی تھی۔ انھوں نے سلیقے سے تمام خواتین سے معذرت کی اور درس کے بعد مزید بات کرنے کا وعدہ کیا۔

اور پھر انکا درس شروع ہوا: یوں جیسے ایک سنہرا الفاظ کا بہتا دریا، قرآن کی ایسی باتیں کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ قرآن میں یہ سب رہ نمائی بھی ہے اور ایسا اس وجہ سے تھا کہ کبھی قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ ایک مقدس خاموشی تھی اور غافرہ کا دل تھا۔

’’قرآن دعا سے شروع ہونے والی کتاب ہے اور اسی سے دعا کی فضیلت سمجھ میں آجانی چاہیے۔ قرآن میں مختلف جگہوںپر اللہ رب العزت نے انبیاء علیہم السلام کے دعائیہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ ابراہیم، یونس، یعقوب،زکریا علیہم السلام۔ ایک نبی کی دعا کو قرآن میں محفوظ کر کے قیامت تک کے لیے امر کر دیا گیا ہے… وہ ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا۔

وہ دعا جو انھوں نے اس وقت مانگی جب انھیں پیغمبرانہ مشن عطا کیا گیا تھا۔

’’کہا (موسیٰ نے) رب کھول دے میرا سینہ، او رآسان کردے میرے لیے میرا کام، اور کھول دے گرہ میری زبان کی، تاکہ وہ سمجھ لیں میری بات۔‘‘

یہ ایک دعا ہے جو مانگی تھی موسیٰ نے،

جب ملی تھی انھیں نبوت…

اور اب ہم سوچیں کہ ضرورت کیا ہے اس دعا کی؟ یہاں ہم سب میں سے اکثر خواتین بچوں والی ہیں، جن کا دائرہ گھر ہی ہے، دعوت میں ابھی ہمارا کوئی رول نہیں تو پھر یہ دعا تو دعوتی پہلو لیے ہے اس میں موسیٰ علیہ السلام کی داعیانہ تڑپ کا اظہار ہے۔

ہاں یہ سچ ہے اور اِسے میں نے یوں سمجھا ہے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام کی تڑپ کو بتاتی ہے، تبدیلی کی تڑپ، بہتری کی تڑپ…‘‘

زینب آپا دھیمے دھیمے انداز میں خوب صورتی سے اپنی بات کہہ رہی تھیں جب کہ غافرہ دم سادھے انہیں دیکھ اور سن رہی تھی… ہاں یہ تبدیلی اور بہتری کی ہی تڑپ تو تھی جو اسے یہاں تک لے آئی تھی…!!

’’یہ دعائیں کیا سکھاتی ہیں؟ یہ دعائیں کس کے لیے ہیں…؟؟ مجھے تو لگتا ہے اللہ نے یہ دعائیں ماؤں کے لیے قرآن میں محفوظ کی ہیں۔ ایک عورت کی گود میں جب ’بچہ‘ آتا ہے تو اس پر نبیوں جیسی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ایک ایسا فرض جس میں غفلت کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تو اسے ہر وقت ثابت قدمی کی دعائیں مانگنی چاہئیں۔‘‘

الفاظ کا بہاؤ دلوں کے تار چھیڑ رہا تھا۔ غافرہ کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے بس وہ اکیلی بیٹھی ہے لفظ لفظ موتی تھا۔ اللہ کی رسی تھی جو اسے تھامنی تھی۔ کشتی نوح تھی جس پر سوار ہونا تھا یا عصائے موسیٰ تھا ہر سحر کے خلاف۔

’’اس دعا کو دل سے اور اسی تڑپ سے ہم کب مانگیں گے، جس تڑپ اور اسپرٹ سے موسیٰ علیہ السلام نے مانگی تھی۔ اس وقت جب ہمیں یہ احساس ہوگا کہ کسی عظیم ذمہ داری ہے جو ایک ماں پر ڈالی گئی ہے، اپنی قوم کو بہترین انسان دینے کی ذمہ داری اور آج کے اس پرفتن دور میں تو یہ ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے اور مشکل ہوجاتی ہے اور جب اس ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے تو بندہ خود ہی پکار اٹھتا ہے کہ

رب اشرح لی صدری

رب کھول دے کشادہ کردے میرے لیے میرا سینہ۔ شرح کا مطلب ہے کھولنا۔

سینہ کھولنا کیا ہوتا ہے کہ دل میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہوجائے کہ جب دل مطمئن رہے گا تو ہی کام پر فوکس رہے گا۔ اور یہ کہ میرے اندر اعتماد پیدا کردے، میرا دل اس کام پر جم جائے۔

اور دل مطمئن کس بات پر ہوتا ہے…؟ اس بات پر کہ جو علم میں اپنی اولاد کو دے رہی ہوں، جو تربیت میں اس کی کر رہی ہوں وہ بھلے ہی آج کے دور میں، لوگوں کے حساب سے غیر مانوس ہو، انہیں چاہے یہ لگے کہ میں ایک دقیانوسی ماں ہوں لیکن چوں کہ وہ عین اسلام اور قرآن و حدیث کے مطابق ہے تو صحیح ہے کہ کبھی میری اولاد کو خسارہ میں نہیں ڈالے گی…

دل کے اندر اطمینان ہو کہ اگر آپ اپنی بیٹی کو چھوٹی عمر سے اسکارف پہنا رہی ہیں، اپنے بیٹے کو مسجد بھیج رہی ہیں تو لوگ چاہے کچھ بھی کہیں، کہیں کہ بچی کو اتنی سی عمر میں بوڑھا کر دیا… بچے کو اتنی سردی میں صبح صبح اٹھا دیا ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے، لیکن ہمارا دل مطمئن رہے کہ ہم بچپن سے اپنی اولاد کی گھٹی میں ایمان ڈال رہی ہیں کہ جب دل مطمئن رہے گا، لوگوں کی بات کا خوف نہ ہوگا تو ہم اپنی فکر کو تھامے رہیں گے۔اور شرح صدر میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ وسعت دے دے، دل بڑا کردے کہ بڑے کام کے لیے بڑا دل درکا رہے۔

خیال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماں کا دل بڑا ہی ہوتا ہے، جی ہاں ماں کا دل بہت بڑا بہت وسعت والا ہوتا ہے، بہت محبت کرنے والا، اور ہر غلطی معاف کردینے والا لیکن وسعت یہ بھی ہے کہ بچوں کو ہونے والی چھوٹی موٹی تکلیفوں پر بھی، جو ہماری نظر میں بہت بڑی ہوتی ہیں، دل بڑا رکھیں۔

دل کو وسعت کب دینی ہے…؟ بچے کو اسکول بھیجنے کے لیے صبح اٹھاتے ہیں۔ زبردستی کرتے ہیں لیکن اسی بچے کو روزہ رکھنے کے لیے سحر میں نہیں اٹھاتے کہ اتنی صبح کیے اٹھے گا؟ اتنا بڑا روزہ کیسے رکھے گا؟ فجر میں نہیں اٹھاتے کہ صبح صبح بہت ٹھنڈ ہے مسجد کیسے جائے گا؟ اگر جھوٹ بول رہا ہے… جھگڑا کر کے آرہا ہے تو بجائے اس کی طرف داری کرنے کے اسے سزا دیں… یہاں دل کو بڑا کرنا ہے۔ ماؤں کی محبتیں کبھی کبھی بچوں کے لیے وبال بن جاتی ہے۔ دین میں بھی اور دنیا میں بھی۔ محبت محبت میں زندگی برباد ہوجاتی ہیں گھر اجڑ جاتے ہیں۔

یہ کیسی بات تھی کہ غافرہ کے سب زخم کھل گئے تھے۔ ماں کی بے جا محبت اور محبت میں ہو جانے والی تنگ نظری نے ہی تو اس کے گھر کو ٹوٹنے کی ڈگر پر پہنچا دیا تھا۔

’’تو یہاں دل میں وسعت ہونی چاہیے اور اطمینان بھی اور دل کا اطمینان انسان کے ساتھ ساتھ خناس بھی خراب کرتا ہے وہ جو وسوسہ ڈالنے والا ہے جو اولاد کی محبت میں دل کو تنگ کر دیتا ہے اور یکسوئی کو ہٹا دیتا ہے، وہ دنیا کا لالچ دے کر آخرت سے نظر ہٹا دیتا ہے، Syllabusکو سمجھ کر یاد کرنا اور اس کے لیے بے شمار ٹیوشن لگانا یاد رہ جاتا ہے اور قرآن بھول جاتا ہے، تو اسی لیے شرح صدر مانگا گیا ہے اور مانگا جانا چاہیے کہ یہ بہت ضروری ہے۔

اور پھر ہے و یسرلی امری…آسان کر میرے لیے میرے کام کو… یہ دعا ہر ماں کو کرنی چاہیے… اگر مائیں یہ جانیں گی کہ انھیں دنیا کو عمرؓ، ابو بکرؓ، صحابہ و صحابیات کی خوبیاں رکھنے والی اور سیرت کو مشعل راہ بنا کر چلنے والی نسل کو پروان چڑھانا ہے تو وہ جان جائیں گی کہ یہ کیسا مشکل کام ہے اور یہ اللہ کی قدرت سے آسان ہوسکتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ بچے پالنا بڑا کام ہوتا ہے، نہیں! بچے پالنا بڑا کام نہیں بلکہ ان کی تربیت بڑا کام ہے۔ دو تین سال کی عمر تک جب تک بچے چلنے لگتے ہیں سب کچھ اللہ کی جانب سے ان کے سسٹم میں ڈالا جاتا ہے، ہم انہیں رینگنا، بیٹھنا، کھڑے ہونا، چلنا پھرنا نہیں سکھاتے ہمیں ان کے کھانے پینے اور صاف صفائی کا خیال رکھنا ہوتا ہے ہم صرف ان کے کیئرٹیکر ہوتے ہیں، ہم انہیں بولنا بھی نہیں سکھاتے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہے۔ ہاں لیکن وہ کیا بولے گا یہ اب ہم پر منحصر ہے، وہ ڈھائی تین سال کے بعد اپنے بڑوں سے سیکھتا ہے سب، اور یہ کام مشکل ہو جاتا ہے… اب ہمیں خود پر اور گھر کے ماحول پر توجہ دینی پڑتی ہے اور ساتھ ہی بچے کی تربیت کرنی پڑتی ہے۔

میں نے کل ہی اپنی ایک پیاری دوست سے کہا کہ ’’اگر تمہیں چاہیے اولاد اسمٰعیل کی طرح تو خود بنو ابراہیم کی طرح کہ محنت تو ابراہیم بننے کے لیے کرنی پڑتی ہے پھر اسمٰعیل تو انعام ہوا کرتے ہیں۔ ‘‘ زینب آپا نے غافرہ کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا اور زیر لب مسکرائی تو غافرہ نہ نے بھی ایک جوابی مسکراہٹ دی جب کہ حقیقت میں تو وہ مکمل طور پر ان لفظوں کے دریا میں بہہ رہی تھی… حیران ہو رہی تھی کہ قرآن کے لفظوں میں کیسا جادو ہے جو دلوں کے زنگ کو غائب کرنے کی طاقت رکھتا ہے…!

’’اور جب ہم اللہ سے کام کو آسان کرنے کی دعا مانگ رہے ہیں تو آسانی یہ نہیں ہے کہ ہمار ابچہ سلیم الفطرت، خاموش مزاج، نہایت ہی فرماں بردار اور ایک مثالی بچہ ہو کہ بس جو کہہ دیا وہ مان لیا… نہیں!! بچے تو ہر طرح کے ہوتے ہیں خاموش فطرت، شرارتی، چلبلے، اپنی من مانی کرنے والے، بہت تنوع ہوتا ہے بچوں کے مزاج میں تو۔ یہاں آسانی یہ مانگی جا رہی ہے کہ ہمارے لیے ان کی تربیت کرنا آسان بنا دے، سہولت دے، بہتر سے بہتر طریقے سمجھا، جب ساری دنیا ایک تباہی کے گڑھے کی طرف جا رہی ہو تو ایسے میں اپنی نسل کو اس میں گرنے سے بچانے کے کام کو آسان بنا۔

اور اب سب سے دلچسپ اور amazingحصہ۔

واحلل عقدۃ من لسانی یفقہولی قولی

واحلل یعنی کھولنا اور عقدہ… گرہ، رکاوٹ، بندش اور کھول دے گرہ میری زبان کی۔

کیوں؟ تاکہ وہ سمجھ لیں میری بات۔

اور ماؤں کا سب سے بڑا مسئلہ تو یہی ہے کہ بچوں کو ان کی بات سمجھ نہیں آتی…‘‘ یہ کہتے ہوئے زینب آپا دھیمے سے ہنس دیں۔ قریب رکھی بوتل سے چند گھونٹ پانی پینے کے بعد وہ پھر سے اپنی بات وہیں سے شروع کرنے لگیں۔

سب سے پہلے تو ایک غلط فہمی دور کر دیں کہ یہاں موسیٰ نے زبان کی گرہ کھول دینے کی جو دعا کی تھی وہ اس لیے کی تھی کیوں کہ ان کی زبان میں لکنت تھی۔ ہرگز نہیں۔ اللہ کے انبیا ہمیشہ نہ صرف اخلاقی اعتبار سے بلکہ شخصی و ظاہری اعتبار سے بھی بہترین ہوتے ہیں، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ رسولِ وقت کی زبان میں لکنت ہو جسے ہم عام زبان میں توتلا پن یا زبان موٹی ہونا کہتے ہیں۔

تو یہاں مسئلہ لکنت کا نہیں بلکہ فصیح زبان کا تھا، اپنی بات کو بہترین انداز میں پیش کرنا، یہاں لکنت ایک رکاوٹ ہے، ایک بندش ہے جسے دور کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔اور آج کے دور میں ہمارے لیے ٹیکنا لوجی، علم کی کمی لکنت کا کام کر رہی ہے، بچے ہم سے کہتے ہیں کہ امی آپ کو نہیں پتا؟ آپ نہیں سمجھ سکتی ہیں، آپ کے بس کی بات نہیں۔‘‘

ہم وہ مائیں بن گئی ہیں جو کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل اور انٹرنیٹ چلانا اپنے بچوں سے سیکھ رہی ہیں اور یوں ہم یہ نہیں سمجھ پاتے کہ انھیں ہر وقت اس 3G,4G کے سیلات میں ڈوبنے سے کیسے بچایا جائے۔

ہم مائیں موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا کرنے میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ یہ بہت بڑا خلا ہے جو ہمارے لیے رکاوٹ بن گیا ہے اور اس نے گرہ ڈال رکھی ہے ہماری زبانوں میں کہ ہم صحیح ہوتے ہوئے بھی اپنی اولاد سے دلیل میں ہار جاتے ہیں۔نئے زمانے کی بندش میں ہم بندھ جاتے ہیں، ’نیا ٹرینڈ ہے‘، ’نیا فیشن ہے‘ جیسی باتوں نے ہمیں باندھ رکھا ہے۔ تو اے اللہ اس گرہ کو کھول دے، اس بندش کو توڑ دے، یہ ہمارے لیے مشکل ہے مگر تو اسے ہمارے لیے آسان کر دے، ہمارا سینہ ان نئے علوم کے لیے کھول دے۔

ہم اپنے بچوں کو تاکید یا تنبیہ کرتے وقت یا سمجھاتے یا ڈانٹتے وقت یہ الفاظ اکثر استعمال کرتے ہیں کہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کیا؟ کون سی زبان میں سمجھاؤں تمہیں؟ محبت کی زبان سمجھ نہیں آتی شاید۔‘‘ ایسی صورت میں ہم اپنے بچوں پر اپنا حکم تھوپ دیتے ہیں بغیر انہیں مطمئن کرے او راس طرح وہ ہماری بات نہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی سنتے ہیں، تو یہ طلب ہے کہ اللہ وہ زبان وہ انداز عطا کرے جو بات سمجھا بھی دے اور پہنچا بھی دے۔بچوں کے معاملے میں یہ بہت اہم ہوتا ہے۔ بچے باتوں کے بھوت ہوتے ہیں لاتوں کے نہیں؟ وہ سزا سے بگڑنے لگتے ہیں، یاد رکھیں بے جا، بے وقت اور ہر وقت کی سزائیں بچوں کو ڈھیٹ بنا دیتی ہیں۔ یہ باتوں کے بھوت ہیں انہیں باتوں سے ہی ہینڈل کرنا سیکھیں۔ ان کے سوالوں، شبہات کا جواب انہیں ایسی زبان میں دیں کہ وہ سمجھ بھی جائیں، قائل بھی ہوجائیں اور بات ان کے دل و دماغ میں بھی اتر جائے۔ کیوں کہ جس بات کی لاجک بچوں کو سمجھ آجاتی ہے وہ پھر اس کام کو ویسے ہی کرتے ہیں جیسے ہم نے بتایا ہے۔

بچوں کی تربیت ابتدائی مرحلے میں بہت مشکل ہوتی ہے، شروع میں مشکل لگتی ہے لیکن ایک مخصوص وقت گزرنے تک۔۔۔ اگر ہم اپنے کام میں مخلص ہوکر جمے رہیں تو پھر ہم کامیاب ہوجاتے ہیں ان کے اندر وہ کسوٹی لگانے میں جو انہیں صحیح غلط، نیکی و برائی کی پہچان کرائے۔

تو ہر وقت دعا کرتے رہیں کہ …‘‘

زینب آپا آخری الفاظ کہہ رہی تھیں اور یہ اختتام بہت سوں کے لیے ایک آغاز بننے والا تھا شاید، اب سب کا تو نہیں پتہ لیکن غافرہ کے لیے تو بس یہ ایک نیا دور بننے والا تھا۔ وہ لفظ لفظ جذب کر رہی تھی، ماویہ تو نہ جانے کب اس کی گود میں سر رکھے سوچکی تھی۔ دعا کرتے رہیں کہ اللہ ہمارا سینہ کھول دے ہر نئے علم کے لیے، وسعت دے ہمارے دل میں، محبت کے ساتھ ساتھ سختی کے لیے بھی جو ہماری اولاد کے لیے بہتر ہو۔ لوگوں کی ہر بات سے اوپر ہوکر ہم مطمئن اور یکسو رہیں۔ یہ کام ہے تو مشکل لیکن اللہ تو اسے آسان کردے میرے لیے ایک ماں کے لیے اور کھول دے میرے لیے میرے زبان کی گرہ اور ہر بندش تاکہ میں اپنی بات سمجھا سکوں، بتا سکوں اس نسل کو جو اب میری قوم، میری امت کا سرمایہ ہے۔‘‘

’’یہ تو میں نے کچھ وضاحت کی ہے۔ جتنا سوچیں آپ کو احساس ہوگا کہ قرآن انسانوں کے لیے تو ہے ہی لیکن ماؤں کے ساتھ اس کا ایک عجب کنکشن ہے کیوں کہ یہ اس کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرنے والا ہے۔‘‘

زینب آپا نے مسکراتے ہوئے اپنی بات ختم کی اور بوتل میں بچا پانی گھونٹ گھونٹ پینے لگیں۔ ہال میں خاموشی چھائی رہی غافرہ اور سبھی خواتین کچھ لمحے بت بنی بیٹھی رہی تھیں۔

وہاں بیٹھی ہر ماں شاید یہی سوچ رہی تھی کہ ابھی تک تو یہی سنا تھا کہ قرآن ہر انسان کے لیے ہے لیکن آج دل عجب انداز میں اللہ کے کلام کی طرف ہمکا تھا یہ کلام تو ماؤں کے لیے بھی ایک پیمانہ ہے… یہ ماؤں کو سکھاتا ہے کہ تربیت کے اصول کیا ہوں؟ رکاوٹیں کیا ہیں اور سکھاتا ہے دعائیں۔ اس ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والے نے یہ کلام اتارا تھا تاکہ وہ اپنے بندوں کو بھٹکنے اور ناکام ہونے سے بچائے اور ان زمینی ماؤں کو یہی تو کرنا تھا کہ اس تعلیم کو اپنی اولاد میں یوں اتارنا تھا کہ وہ بھٹکنے اور ناکام ہونے سے بچ جائے اور انہیں دین اور دنیا کی بہتری عطا کی جائے اور جہنم کی آگ سے بچایا جائے۔

بالآخر غافرہ کی الجھن تمام ہوئی تھی…

اب ایک سفر تھا جو طے کرنا تھا…lll

(باقی آئندہ)

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply