دوہرا رویہ

اماں! میں نے سارا کام ختم کرلیا ہے، رات کا سالن گرم کر کے کھانا کھا لیجئے گا۔ مجھے پتا نہیں کتنی دیر ہوجائے۔‘‘ حمیدہ نے کھونٹی سے برقعہ اتار کر جھاڑتے ہوئے ساس کو مخاطب کیا جو تکیے کے نیچے کچھ تلاش کرنے میں مصروف تھی۔

’’یہ لے حمیدہ کچھ پیسے رکھ لے۔‘‘ تھوڑی دیر کے بعد انھوں نے چند مڑے تڑے نوٹ اس کے سامنے رکھے تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔

’’رہنے دیں اماں! مجھے معلوم ہے یہ پیسے آپ نے اپنی دواؤں کے لیے رکھے ہیں۔ میں نے صبح منی کے ابا سے پچاس روپے لے لیے تھے۔ سرکاری اسپتال ہے پانچ روپے تو فیس ہوگی باقی پیسوں سے دوائیں اور کرائے کا خرچ نکل ہی آئے گا۔‘‘ اس نے بستر کے نیچے سے پرانی گھسی ہوئی چپل نکالی جسے وہ باہر جانے کے لیے ہی استعمال کرتی تھی۔ چپل میں پیر ڈالتے ہوئے نڈھال پڑی دو سالہ منی کو اٹھایا اور باہر نکل گئی۔

’’صغرا! صاحب کا ناشتا لاؤ، جلدی کرو۔‘‘ بیگم حنا وجاہت قاضی نے ڈرائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچتے ہوئے ملازمہ کو آواز دی۔ اتنی دیر میں وجاہت قاضی بھی سامنے کرسی پر بیٹھ چکے تھے۔

’’میرب کا کیا حال ہے اب؟‘‘ انھوں نے اخبار اپنے سامنے کھولتے ہوئے بیگم سے پوچھا۔

’’بخار تو نہیں ہے ابھی لیکن کمزور کمزور سی لگ رہی ہے۔ ابھی اسے دلیا کھلا کر آئی ہوں ان کے اندر کی مامتا کوک اٹھی۔

’’آج ضرورت سے ڈاکٹر وسیم احمد کے پاس لے جانا۔‘‘ وجاہت قاضی نے حنا کو تاکید کہ اور ناشتے کی طرف متوجہ ہوگئے۔

گندگی، ہجوم، افراتفری سب کچھ ہی تھا اس بڑے سرکاری اسپتال میں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے جبر و قہر کے دیوتا نے ان مجبوروں، مہقوروں کو زبردستی اندر دھکیل دیا ہو۔ حمیدہ دو گھنٹے سے پرچی ہاتھ میں لیے اپنی باری کی منتظر تھی۔ یہاں سارے ہی لوگ تقریباً اسی کے جیسے تھے۔ مفلوک الحال،پریشان، الجھے ہوئے۔ نشستوں کی کمی کے باعث کئی افراد بچوں کو گود میں لیے کھڑے اور کئی فرش پر ہی براجمان تھے۔ یوں تو ڈاکٹر کے پاس جانے والا ہر مریض پانچ منٹ سے پہلے ہی باہر آجاتا تھا، لیکن ہجوم اس قدر تھا کہ لوگ گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور تھے۔

’’ہاں بی بی بولو کیا ہوا ہے بچی کو!‘‘ ڈاکٹر وسیم احمد نے حمیدہ کو یوں گھورا جیسے بیمار بچی کو اسپتال لانا گناہ کبیرہ ہو۔ حمیدہ نے جلدی جلدی تفصیل بتانی شروع کی۔

’’ڈاکٹر صاحب! اسے دو دن سے تیز بخار ہے اور شاید پیٹ میں درد بھی ہے۔ ساری رات روتی رہی ہے۔‘‘

’’کیوں تمہیں اس نے خود بتایا کہ پیٹ میں درد ہے؟‘‘ ڈاکٹر کے انداز میں عجلت سے زیادہ درشتی تھی۔

’’جی نہیں جی وہ۔‘‘ اس سے کوئی جملہ نہ بن پڑا تو ہکلاکر رہ گئی۔

’’اپنی طرف سے اندازے مت لگایا کرو بی بی!‘‘ انھوں نے ناگواری سے کہا اور تھرما میٹر دیکھنے لگے۔ یہ بخار کی دوا لکھ دی ہے میں نے صبح شام پلاؤ۔

انھوں نے پرچی اسے پکڑائی اور اگلے مریض کو بھیجنے کا اشارہ کرنے لگے اور حمیدہ دل میں کئی سوال دبائے کمرے سے نکل آئی۔ پتا تو اسے پہلے بھی تھا لیکن آج تو اسے یقین ہوگیا کہ مفلسی سے بڑا جرم کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

’’جی جی وجاہت، میں ڈاکٹر وسیم احمد کے پرائیویٹ کلینک پر ہنچ گئی ہوں۔‘‘ حنا نے موبائل پرس میں رکھا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئیں۔ دو سالہ میرب ان کی گود میں سکون سے سو رہی تھی۔ انھیں ڈاکٹر وسیم کے پی اے نے نو بجے کا وقت دیا تھا اور وہ ٹھیک وقت پر وہاں موجود تھی۔

’’ارے بھئی کیا ہوگیا اس چھوٹی سی گڑیا کو!‘‘ ڈاکٹر وسیم نے پیار سے میرب کو دیکھا۔

’’ڈاکٹر صاحب بخار تھا رات بھر اور شاید پیٹ میں درد تھا۔ پوری رات روتی رہی۔ آج بھی سارا دن نڈھال پڑی رہی۔ پاس کھڑی نرس کے اشارے پر انھوں نے میرب کو وزن کرنے کی مشین پر کھڑا کرتے ہوئے تفصیل بتائی۔‘‘

’’اوہ ہو! ابھی چیک کیے لیتے ہیں جناب!‘‘ ڈاکٹر نے مصنوعی تشویش لہجے میں سموئی اور اسٹیتھواسکوپ اٹھا کر کان سے لگا لیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نیر کاشف

Leave a Reply