جال

وہ عزت سے پیسے کمانا چاہتی تھی۔۔ گھر میں مسائل تھے۔۔ اس کی نہ تو کوئی عزت تھی اور نہ ہی کوئی احترام تھا۔۔ ہر وقت بس سب ہی اسے ڈانٹتے رہتے۔۔ کچھ چاہیے ہوتا تو منتوں سماجتوں سے ملتا وہ بھی ڈانٹ کر واپس لے لیا جاتا تھا۔۔۔ کئی بار اس کے دل میں خیال آیا کہ اس سے اچھا تو یہ کہ وہ کوئی کام کیوں نہ کر لے اور اپنے لیے ڈھیر سارے پیسے کما لے۔ اس نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک دوست سے بات کی۔ اس نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ تم آن لائن کچھ کام کرنا شروع کردو۔ اسے اپنی دوست کا یہ مشورہ بہت پسند آیا۔ مگر کام کیسے ملے گا۔۔ اس کا بھی اس کی دوست نے بندوبست کردیا۔ اس نے اپنے ایک جاننے والے لڑکے سے اس کا رابطہ بھی کرادیا۔ کچھ ہی روز میں اس لڑکے نے کام بھی دے دیا۔ اس کام کے اسے ایڈوانس پیسے بھی مل گئے۔

وہ بہت خوش تھی کہ ایک دن اسے گھر سے باہر بلایا گیا۔ کہا گیا کہ کام کے سلسلے میں ایک تربیتی ورکشاپ ہے۔ وہ گھر میں کسی کام کا بول کر پہلی بار دہلیز پار کر گئی۔

وہاں بہت سی لڑکیاں تھیں۔ کام کے سلسلے میں بہت سی باتیں سکھائی گئیں۔ اسے یہ سب ایک خواب لگ رہا تھا۔ ایک بجے تک انہیں چھٹی دے دی گئی۔ وہ سب لڑکیوں کی طرح خوش خوش گھر لوٹ آئی۔ کچھ روز بعد کہا گیا کہ اب انہیں آفس میں کام کرنا ہوگا۔ اس لیے سب کو آنا ہے۔ وہ با اعتماد طریقے سے ان کے پاس چلی گئی۔ وہاں پہلے والی تمام لڑکیاں موجود تھیں۔ سب ہی آفس میں کام کے لیے رضامند تھیں۔

وہاں سے گاڑی کے ذریعے ان سب لڑکیوں کو ایک بڑے سے ہوٹل میں منتقل کیا گیا۔ وہاں سب کچھ نفیس تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اتنی عزت مل رہی تھی اسے۔ دو ماہ ایسے گزرے تھے جیسے وہ چاہتی تھی۔ کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ بہت عمدہ کھانا تھا۔ کھانے کے بعد انہیں جیسے نیند سی آنے لگی تھی۔ آرام کے لیے الگ جگہ متعین تھی۔

اس کی زندگی کا وہ آخری دن تھا۔ اس کے بعد اس کا ہر دن ذلت و رسوائی کی الگ داستان لیے کھڑا تھا۔ نہ جانے کیسے بچ بچا کر وہ وہاں سے نکل آئی تھی۔ آج وہ پریس کلب کے باہر کھڑی تھی۔ ہاتھ میں ایک پلے کارڈ پکڑ رکھا تھا۔ جس پر ’’مجھے انصاف دلادو۔۔۔ خدا کے لیے مجھے انصاف دلا دو۔۔۔‘‘ جیسے الفاظ تحریر تھے۔ وہاں سے لوگ گزرتے جارہے تھے۔ پریس کلب کے باہر کھڑے سیکورٹی گارڈ نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا ’’صیب اس کی بات سنیں۔۔۔ اس کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے۔‘‘ میں نے اس سے سرسری پوچھا مگر بتانے سے قبل اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ میں وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ اس کا ہر لفظ تلخ تھا۔۔۔ میری آنکھیں نم تھیں۔ میں منہ نیچے کیے چپ چاپ اس کی باتیں سنتا رہا۔ اگلے روز اخبار میں تین کالم کی سرخی کے ساتھ میری بھی ایک عدد تصویر تھی۔

میرے ارد گرد ایسے کئی واقعات ہیں۔۔۔ جن کو بیان کرنا مشکل ہے مگر پریس کلب کی بیرونی دیوار کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بنائی گئی جگہ ان سے خوب واقف ہے۔ ایک ماہ قبل اسی جگہ ایک لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ اسی طرح ہاتھ میں انصاف دلاؤ کا بینر پکڑے کھڑی تھی۔ چلتے قدم رک گئے۔ پوچھ لیا کیا ہوا۔۔۔ کہانی شروع ہوگئی۔ لڑکا آگے بڑھا۔ کہا یہ میری بیوی ہے۔ میرے بھائی نے کہا اسے بیرون ملک بھیج دیتے ہیں وہاں گھروں میں کام کرنے کے لیے لڑکیوں کی ضرورت ہوتی ہے… میں نے بھائی پر بھروسہ کیا۔ بڑی مشکل سے دو لاکھ جمع کیے اور بھائی کو دے کر بیوی کو روانہ کردیا۔۔۔ اس کے بعد نہ ناجانے کیا کچھ بولتا رہا مگر میری سماعت جواب دے چکی تھی۔۔۔ بھائی نے بھابھی کے ساتھ ایسا کیا۔۔۔ سوچنا مشکل تھا۔۔ مگر ہوچکا تھا۔۔۔

یہ سب کیوں ہوا اور ہورہا ہے، جواب آپ خود ڈھونڈ لیں۔۔۔ شاید اس لیے کہ انہیں اپنی خواہشات کے سوا کچھ نہیں دیکھائی دے رہا ہوتا۔۔ یہ پھر وہ مجبور ہوتی ہیں اور اس مجبوری کے حل کے لیے اپنی زندگی ختم کر بیٹھتی ہیں۔

ہاں ایک بار اس لڑکی کا فون آیا تھا۔ وہ بتا رہی تھی کہ اس کی شادی ہوچکی ہے۔۔ اب اس کی کوئی خواہش نہیں بس جو ہے جتنا ہے وہ اسی میں خوش ہے۔۔ اس نے کہا ’’سر! میرا ایک پیغام اپنے کالم کے ذریعے سب کو دے دیجیے گا۔ ہر اس لڑکی کو جسے لگتا کہ وہ غریب ہے اور اس کی گھر میں عزت نہیں ہوتی۔۔ باہر کی دنیا بہت ظالم ہے۔۔ روز جینا اور روز مرنا پڑتا ہے۔۔ عزت کیا چیز ہے یہ باہر جا کر پتا چلتا ہے۔۔۔ اس لیے جتنا ہے جو ہے اور جیسا ہے اسی کے ساتھ خوش ہوجائیں۔۔ میرے لحاظ سے بھوک سے بڑھ کر آپ کی عزت ہے اور وہ محفوظ ہے تو گویا سب کچھ ہی تو آپ کے پاس ہے۔ اچھا سر! اب رکھتی ہوں۔ اللہ حافظ۔ وہ کب کی فون بند کر کے چلی گئی تھی۔ میں ابھی تک وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔۔۔ شاید ابھی تک وہیں ہوں اور کبھی لوٹ کر نہ آ پاؤں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عارف رمضان

Leave a Reply