خود کو مفلسی سے بچائیے!

چھوٹی اور بڑی معمولی سی چیز بھی بغیر کسی مقصد کے نہیںبنائی جاتی۔ شاندار اور مضبوط عمارتیں بنائی جاتی ہیں تاکہ اس میں رہا جاسکے، لباس بنائے جاتے ہیں تاکہ پہننے اوڑھنے کے ساتھ گرمی سردی سے بچاؤ کے کام آسکیں، برتن بنائے جاتے ہیں تاکہ کھانے پینے کے لیے استعمال ہوں، پیٹ بھرنے کے لیے کھانا بنایا جاتا ہے، اشیائے خورد و نوش کے لیے کاشت کاری کی جاتی ہے۔ ہر شے اور عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی ضرورت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی طرح اربوں کھریوں مخلوقات بھی بے مقصد پیدا نہیں کی گئیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہے اسے پیدا کرنے کے بعد دنیا میں بھیجنے کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ ہے اللہ کی عبادت۔ قرآن کریم میں فرمان باری تعالیٰ کا مفہوم ہے کہ میں نے جن و انس کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہمارا مقصد حیات یہی ہے کہ ہم اپنے رب کو پہچانیں، اس کی اطاعت کریں، اس کی رضا کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور اسی کی عبادت کریں۔

عبادت صرف نماز روزہ کا نام نہیں بلکہ عبادت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک میں حقوق اللہ داخل ہیں اور دوسری قسم میں حقوق العباد کو شامل کیا گیا ہے۔ اصل کامیابی ان دونوں کی ادائیگی میں ہے۔ کسی ایک پر چلنا اور دوسرے سے غفلت برتنا فلاح کا راستہ نہیں۔ ایک شخص اگر نماز روزے کا پابند ہے، ہر وقت ذکر الٰہی میں لگا رہتا ہے مگر اس کے پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہیں اور وہ بد زبان و بداخلاق ہو تو محض ان نماز روزوں سے اس کی نجات ممکن نہیں۔ اسی طرح کوئی شخص صدقے خیرات دیتا ہو مگر احسان بھی جتلاتا ہو تو اس کی یہ نیکی رائیگاں جائے گی بلکہ قیامت کے دن الٹا اس کے لیے وبال بھی ثابت ہوسکتی ہے جیسا کہ ایک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بہت بڑے خرچ کرنے والے کو بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکے جانے کا ذکر ہے۔ والدین و اساتذہ کی نافرمانی، ان سے زبان دراوزی کرنا، صلہ رحمی سے غفلت، بھائی سے قطع تعلقی رکھنا، کسی کو تکلیف پہنچانا یہ ساری باتیں قیامت کے روز نماز روزہ کے قبول ہونے کا راستہ روک دیں گی۔ قیامت کے روز ہر چھوٹی بڑی بات اور عمل کا حساب ہوگا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’جو کوئی ذرہ بھر بھی برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور ذرہ بھر نیکی کا صلہ بھی دیا جائے گا۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا مفلس کون ہے؟ انھوں نے جواب دیا جس کے پاس مال و دولت نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز ایک شخص اس حالت میں آئے گا کہ اس کے اچھے اعمال کا پہاڑ ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی کچھ لوگ کھڑے ہوں گے اور اللہ کی عدالت میں اس سے اپنا بدلہ مانگیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن میں سے کسی کا اس نے دل دکھایا ہوگا، کسی کا مال ہڑپ کر لیا ہوگا۔ کسی کو ناجائز تکلیف پہنچائی ہوگی۔ اب ان لوگوں کو اس کی نیکیوں میں سے بہ قدر انصاف دے دیا جائے گا۔ ایسے لوگ آتے جائیں گے اور ان کے حق کے بہ قدر ان کو دیا جاتا رہے گا،یہاں تک کہ اس کے تمام نیک اعمال ختم ہوجائیں گے مگر حق دار باقی ہوں گے۔ پھر ان تمام حق داروں پر ہوئے ظلم کے بہ قدر ان کے گناہ ان سے لے کر اس شخص کے پلڑے میں ڈال دیے جائیں گے یہاں تک کہ اس کی بد اعمالیوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اصل مفلس یہ شخص ہے، جس کی تمام کمائی اس دن اکارت چلی جائے گی جب مزید کمانے کی مہلت بھی نہ ہوگی اور بچانے کا کوئی راستہ بھی نہ ہوگا۔

لہٰذا اپنی نیکیاں ایسی تھیلی میں جمع نہ کریں جس میں سوراخ ہو۔ کسی بھی گناہ کو چھوٹا نہ سمجھیں۔ اپنی زبان اور اپنے تمام اعضا کی حفاظت کریں، کسی کو آپ سے کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے، کسی کی حق تلفی نہ ہو، ناپ تول میں کمی نہ کریں، جھوٹ، دھوکا، لوٹ مار، والدین کی نافرمانی، غیبت، بہتان، بغض، حسد، کینہ، لعن طعن، منافقت ان سب عیوب و گناہوں سے خود کو بچاتے ہوئے نماز روزے و دیگر عبادات کا اہتمام کریں تاکہ نیکیاں بہ روز قیامت بھی محفوظ رہیں۔ ان پر صرف آپ کا حق ہو اور حق دار نہ نکل آئیں جو آپ کا نیکیوں کا پہاڑ اڑالے جائیں، آپ کی نیکیوں کو کھا جائیں اور اپنے گناہ آپ کے حصہ میں نہ ڈال جائیں۔

ابھی بھی وقت ہے کہ زندگی کی ڈور ابھی ٹوٹی نہیں۔ خود کو مفلس ہونے سے بچا لیجیے اور اللہ کے بندوں کو ان کا حق دیجئے، بندوں پر زیادتی سے بچنے اور ان تمام اعمال اور حرکات کو ترک کر دیجیے جن سے دوسروں کو تکلیف پہنچے یا ان کا حق مارا جائے۔ اگر ایسا ہے تو قیامت کے دن یہ سب سے خطرناک بات ثابت ہوگی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بنت عطاء

Leave a Reply