مشورہ حاضر ہے!

ہاتھوں پیروں کی سوجن

میرے ہاتھ پیر رات کو اکثر سوج جاتے ہیں۔ پہلے ہاتھ اور پاؤں کی ہڈیوں میں ہلکا ہلکا درد شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ سنسناہٹ کے ساتھ سوجن بڑھنے لگتی ہے۔ میں اس سے بہت پریشان ہوتی ہوں کیوں کہ پھر نہ تو کوئی کام کیا جاتا ہے اور نہ ہی مجھ سے چلا جاتا ہے۔ حتی کہ زمین پر پاؤں رکھنے سے بھی ٹیس اٹھتی اور تکلیف ہوتی ہے۔ براہ کرام مجھے مشورہ دیں کہ اس حالت میں کیا کیا جائے؟ (مسز عابدہ)

٭ سردیوں میں عموماً ہاتھ پاؤں سوج جاتے ہیں۔ یہ زیادہ تکان کے باعث بھی ہوتا ہے اور اگر کمزور ہڈیاں ہوں یا جسم میں وٹامن اور کیلشیم کی کمی ہو یا جسم کو کام کے دوران مناسب آرام نہ مل رہا ہو، تو ایسی صورت میں ہاتھ پاؤں میں سوجن ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث بھی ہاتھ پاؤں سن ہونے یا سوج جانے کی شکایت ہوجاتی ہے۔ آپ اپنا یورک ایسڈ چیک کروائیں۔ گھر میں آرام آنے کے آسان طریقے آپ کو بتائے جا رہے ہیں۔ تھوڑسا سا خیال رکھنے سے آپ اپنی یہ تکلیف ختم کرسکتی ہیں۔ رات کو لیٹنے سے پہلے نیم گرم پانی میں تھوڑا سا نمک اور زیتون کا تیل ڈال کر اس میں پاؤں ڈبوکر بیٹھ جائیں۔ یاد رہے کہ پانی نہ تو بہت زیادہ گرم ہو اور نہ ہی بہت ہلکا۔ اتنا گرم ہو کہ آپ کے پاؤں کی مناسب ٹکور ہوجائے اور قابل برداشت بھی ہو۔ ساتھ ساتھ آپ ہاتھوں کو بھی پانی میں ڈبو سکتی ہیں۔ اس سے سکون ملے گا اور تھکن بھی دور ہوگی۔ جب آپ کو لگے کہ پانی دوبارہ نارمل یا ٹھنڈا ہو رہا ہے تو آپ ساتھ ساتھ اس میں تھوڑا سا گرم پانی مزید ملادیں۔ مگر دھیان رہے کہ پاؤںپر براہ راست گرم پانی نہ گرے۔ اچھی طرح ٹکور کرنے کے بعد پاؤں کسی صاف نرم تولیے سے خشک کرلیں اور زیتون کا تیل یا اچھے سے لوشن سے ہاتھوں، پیروں کا مساج کریں اور سوتی جرابیں پہن کر کمبل اوڑھ کر لیٹ جائیں۔ آپ کو محسوس ہوگا کہ ٹانگوں کی تھکن کم ہو گئی ہے اور آرام بھی آئے گا۔ صبح جب آپ جاگیں گی تو سوجن نہیں ہوگی، بلکہ ٹیسیں بھی واضح طور پر کم یا ختم محسوس ہوں گی۔

یہ وہ طریقہ ہے کہ اگر پاؤں کی سوجن یا تکلیف کا مسئلہ نہ بھی ہو، اسے بھی سردیوں کے موسم میں یہ احتیاط کرنی چاہیے۔ اس سے پاؤں نرم ملائم رہتے اور ایڑیاں بھی محفوظ رہتی ہیں۔ نیز ہر طرح کے درد اور سوجن سے راحت ملتی ہے۔

دانتوں کا پیلا پن اور دھبے

میرے دانتوں میں کچھ عرصے سے عجیب سا پیلاپن نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے میرے دانت بالکل صاف اور سفید ہوا کرتے تھے۔ کچھ عرصے سے ان میں پیلاہٹ آرہی ہے اور کبھی کبھی سفید دھبے نظر آتے ہیں۔ میں کیا کرں کہ میرے دانت پہلے جیسے صاف اور سفید نظر آئیں۔ (سمیر اندیم)

٭سمیرا! مجھے احساس ہے کہ اگر دانت بھدے گندے یا پیلاہٹ مائل ہوں تو ان کا اثر انسان کی شخصیت پر براہِ راست پڑتا ہے کیوں کہ جب ہم کسی سے ملتے، بات کرتے یا ہنستے بولتے ہیں تو دانت ہمارے چہرے کے بعد، سب سے زیادہ نظروں میں آتے ہیں۔ اگر کوئی انسان بے انتہا پرکشش ہو، چہرے کے خدوخال بھی خوب صورت ہوں، بات چیت میں بھی مثالی ہو لیکن اگر وہ آپ سے ہنس کر بات کرے اور اس کے دانت پیلے یا داغ دھبوں والے ہوں تو ایک سیکنڈ میں آپ اسے پرکشش کی فہرست نکال دیتے ہیں۔ لہٰذا دانتوں پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ ایک چیز اور قابل ذکر یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے دانت قدرتی طو رپر پیلے ہوتے ہیں۔ ایسے دانتوں کو سفید نہیں بنایا جاسکتا، صرف انھیں صاف ستھرا رکھنا ہی کافی ہوتا ہے۔

لیکن جیساکہ آپ نے بتایا کہ دانت پہلے سفید تھے۔ پہلے تو آپ یہ جائزہ لیں کہ کہیں چائے یا کافی کا بہت زیادہ استعمال تو نہیں کر رہی ہیں۔ جن کے اثرات آپ کے دانتوں پر پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ دن میں کم از کم تین دفعہ دانت صاف کرنے کی عادت ڈالیے۔ ضروری نہیں کہ آپ ٹوتھ پیسٹ ہی استعمال کریں۔ آپ تینوں اوقات میں مختلف چیزیں استعمال کرسکتی ہیں۔ صبح آپ ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں، شام کو اچھا سا منجن یا کھانے کا سوڈا انگلی پر لگا کر اس سے دانت صاف کریں اور رات کو تھوڑے سے ناریل کے تیل میں ذرا سی ہلدی چھڑک کر ایک پیسٹ سی بنالیں۔ اس آمیزے کو دانتوں پر ہلکا ہلکا ملیں، چاہیں تو انگلی یا پھر برش استعمال کریں۔ پانچ سات منٹ یونہی ہلکا ہلکا ملنے کے بعد کلی کرلیں۔ ناریل اور ہلدی کا یہ پیسٹ دانتوں میں چمک پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ کے دانت حساس نہیں ہیں تو آپ لیموں کا چھلکا بھی ہفتے میں ایک دفعہ دانتوں پر مل سکتی ہیں۔ کیلشیم کی روزانہ ایک گولی کھائیے۔ دودھ رات یا صبح کی غذا میں شامل کرلیں۔ نیز جب بھی چائے یا کافی پئیں، تو دو منٹ بعد سادے پانی کی کلی ضرور کرلیں۔ کھانے کا سوڈا بھی دانتوں پر منجن کی طرح لگا کر برش کرنے سے داغ دھبے اور پیلاپن ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ صبر آزما ٹوٹکا ہے۔ مستقل مزاجی سے کچھ ہفتے جاری رکھنے سے ہی مطلوبہ نتائج سامنے آتے ہیں۔ ایک نہایت مجرب ٹوٹکا یہ بھی ہے کہ برابر مقدار میں نمک، میٹھا سوڈا اور بورک ایسڈ ملا کر منجن بنا کر اس سے دانت صاف کریں۔ چند ہی دنوں میں دانت چمکدار ہوجائیں گے۔

معدے میں تیزابیت

میرے معدے میںہر وقت جلن اور تیزابیت رہتی ہے۔ چاہے میں خالی پیٹ رہوں یا پیٹ بھر کر کھاؤں۔ دونوں صورتوں میں میرے سینے میں عجیب سی جلن، بھاری پن اور بے زاری والی کیفیت رہتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا واپس حلق میں آرہی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا کیوں کہ کھانے کے تین چار گھنٹے بعد بھی یوں محسوس ہوتا رہتا ہے جیسے ابھی ابھی کھانا کھایا ہو۔ میں اپنی اس حالت سے بہت بے زار رہتی ہوں۔ برائے مہربانی مجھے کوئی آسان گھریلو حل بتائیے کیوں کہ دوائیاں مجھے پسند نہیں۔ (عائشہ)

٭گھبرانے کی بات نہیں۔ معدے میں تیزابیت اور سینے کی جلن کا مسئلہ تب ہوتا ہے جب معدے کے گیئرک گلینڈ بہت زیادہ مقدار میں ہائیڈروکلورک ایسڈ خارج کرنے لگتے ہیں۔ اس سے معدے کی تیزابیت میں ضافہ ہوتا ہے اور سینے میں جلن اور درد ہونے لگتا ہے۔ گھریلو قدرتی اشیا کا باقاعدہ استعمال تیزابیت کے خاتمے کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ جس سے انسانی صحت پرکسی بھی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ ایک چوتھائی لیموں کا ٹکڑا ایک گلاس پانی میں رات بھر بھگو کر رکھ دیں۔ اگلی صبح اس پانی میں تھوڑا اور پانی شامل کر کے پئیں اور شدید تیزابیت ہونے کی صورت میں اس عمل کو روزانہ دہرائیں تقریباً سات دن تک۔ واضح افاقہ محسوس کریں گی۔ اس کے علاوہ ایک گلاس پانی میں ایک چمچ لیموں کا رس اور چٹکی بھر سوڈا بائی کاربونیٹ ملا کر دن میں دو مرتبہ ضرور استعمال کریں۔ سنگترے کا موسم ہو تو آپ ایک سنگترے کا رس نکال کر اس میں ایک چھوٹا چائے کا چمچ بھنا ہوا زیرہ اور چٹکی بھر کالا نمک شامل کر کے دن میں کم از کم دو مرتبہ ضرور استعمال کریں۔ نیز ہر کھانے کے بعد اسپغول کا چھلکا دودھ میں ملا کر پینے سے بھی تیزابیت اور جلن کو آرام ملتا ہے۔

مستقل نزلہ زکام او رکھانسی

سردیاں شروع ہوتے ہی مجھے نزلہ زکام اور ہلکی ہلکی گلے کی خراش کامسئلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کھانسی نہ تو کھل کر ہوتی ہے نہ ہی ٹھیک ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے گلے میں درد رہتا ہے اور زکام کی وجہ سے سر درد کی شکایت اور سربھاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں کے موسم میں کہیں آنے جانے سے پرہیز کرنا پڑتا ہے۔ اس مسلسل نزلہ زکام کی وجہ سے عجیب سی سستی اور بے زاری چھائی رہتی ہے۔ بہت دوائیاں آزما لیں اتنی دوائیاں کھانا اب میرے بس میں نہیں۔ برائے مہربانی سادہ گھریلو نسخہ بتا دیں۔(صائمہ ظفر)

٭نزلہ زکام او رکھانسی ایسی بیماریاں ہیں جو کہ موسم کی آمد کے ساتھ ہی آن وارد ہوتی ہیں اور اگر مناسب نگہ داشت یا دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہ نہ صرف زور پکڑ لیتی ہیں بلکہ پورا سیزن جان نہیں چھوڑتیں۔ ایک آسان گھریلو نسخہ یہ ہے کہ ادرک کے رس میں تھوڑا سا شہد ملا کر کھانے سے نزلہ زکام کو آرام ملتا ہے۔ شہد کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں اور شہد میں جراثیم کشی کی صلاحیت ہوتی ہے۔ او رلیموں میں شامل حیاتین ج (وٹامنC) جسم کی قوت مدافعت کو مستحکم کرتا ہے۔ اس مرکب کو دھیرے دھیرے نگلنے سے منہ میں خوب لعاب بنتا اور گلے کو آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک آسان حل یہ بھی ہے کہ چائے کی پتی میں تھوڑے سے پودینے کے پتے جوش دیں اور یہ قہوہ پینے سے بھی کھانسی کو افاقہ ہوتا ہے۔ نزلہ سے آرام و بچاؤ کا نہایت آسان گھریلو علاج یہ ہے کہ ایک تولہ سونف میں پانچ سے آٹھ دانے لونگ دو کلو پانی میں ڈال کر چولھے پر جوش دے لیں اور جب پانی آدھا رہ جائے تو اس میں مصری (حسب ذائقہ) ڈال کر چائے کی طرح گرم گرم نوش کیجیے۔ اس سے نزلہ زکام دور ہو جاتا ہے۔

سردیوں کی آمد اور جاتی سردیوں کے موسم میں اپنا اور بچوں کا بہت خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ موسم کی تبدیلی آپ کی صحت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ لہٰذا موسم کی مناسبت کو دھیان میں رکھتے ہوئے اپنے لباس اور غذا پر مکمل توجہ دیں۔ مارچ کے مہینے میں ہمیں دہرے موسم کا مزا اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ دن میں لطیف ہوائیں موسم بہار کے پھولوں سے مہکی ہوئی، ہمیں خوش گوار یت کا احساس دلاتی ہیں۔ سردیوں کی شدت میں نمایاں کمی ہو جاتی ہے اور ہم سوئیٹر، شال سے بے نیاز ہونے لگتے ہیں، جب کہ رات کو موسم خنک ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی اکتوبر نومبر کے دنوں میں ہوتا ہے جب گرمی رخصت ہو رہی ہوتی ہے اور سردی کی آمد ہوتی ہے۔ در اصل ایسا موسم ہماری طبیعت کو بہت جلد اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے۔ لہٰذا ایسے موسم میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور غذا بھی متوازن ہونی چاہیے۔ آج آپ کو ایک ایسا متوازن، غذائیت اور ذائقے سے بھرپور سادہ سوپ بتا رہی ہوں جو کہ بدلتے موسم میں نہ صرف آپ کو مزیدار لگے گا بلکہ جسم کو تمام ضروری توانائی بھی مہیا کرے گا۔ بچے بوڑھے اور جوان سبھی کو نہایت مزے کا لگتا ہے اور تیاری میں بھی آسان ہے۔

ایک ساس پین میں تقریباً آدھی پیالی مکھن گرم کر کے اس میں کٹی ہوئی ایک کلو پالک او رآدھا کلو مٹر ڈال کر تھوڑی دیر فرائی کریں۔ پھر اتنا پانی ڈالیں جس میں سبزی ڈوب جائے اور مٹر گلنے تک پانی ابالیں۔ اس کے بعد پالک اور مٹر کے اس مکسچر کو گرائینڈر میں بلینڈ کرلیں۔ اب اسے ساس پین میں ڈالیں اور اس میں ایک پیالی دودھ، وائٹ پیپر پاؤڈر، جائفل پاؤڈر اور نمک تینوں اجزا حسب ذائقہ ملا کر تھوڑی دیر پکنے دیں۔ پانچ تا سات منٹ بعد ایک برتن میں ڈیڑھ پیالی کارن فلور ٹھنڈے پانی میں گھولیں اور سوپ میں ملا دیں۔ اب دو یا تین انڈے پھینٹ کر سوپ میں آہستہ آہستہ شامل کریں ساتھ ہی تھوڑی سی سویا ساس تقریباً ایک چمچہ ملا دیں۔ لیجیے مزیدار پالک مٹر سوپ تیار ہے۔ گرم گرم پئیں اور بچوں بڑوں سب کو پلائیں۔ یہ طاقت میں بھی بے مثال ہے اور ذائقے میں بھی لاجواب ہے۔

سادہ، بھرپور اور صحت افزا غذا نہ صرف آپ کو چست و توانا رکھتی ہے، بلکہ بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ بچوں کو باہر کی الا بلا چیزیں دینے کے بجائے انھیں گھر پر سادہ اور مزیدار ہلکی پھلکی غذا تیار کر کے دیں تاکہ انھیں مزا بھی آئے اور صحت بھی برقرار رہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زیست جہاں

Leave a Reply