اپنا سرمایہ محفوظ کیجیے!

[میں اپنے قارئین کو عامر خان کی بنائی گئی فلم ’’تارے زمین پر‘‘ دیکھنے کی پرزور شفارش کرتی ہوں]۔

بعض اوقات زندگی کی تیز تر دوڑ میں ہم اولاد کی تربیت کی طرف سے کوتاہی کر جاتے ہیں اور غفلت کا شکار ہوکر بہت سارے مسائل پیدا کرلیتے ہیں جو کہ والدین اور اولاد دونوں کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔

اپنے بچوں کو نماز اور قراآن سے جوڑیں، اللہ کا احساس دل میں ڈالیں، اس کی محبت اور اس کی پکڑ کی سمجھ ہو۔ مسائل میں سب سے پہلے اللہ کی طرف مڑنے والا بنائیں۔ ان سے صحابہ کرام کی سیرت کو ڈسکس کریں، ان کے کردار اور رسول اللہؐ سے اُن کی محبت کا ذکر کریں اور حق کے لیے ان کی جدوجہد ذہن نشین کریں۔

حیا اور ایمان آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ حیا دار آدمی ہی بہت ساری چیزوں کو محسوس کرسکتا ہے اور اپنے صاحب ایمان ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ہماری بیٹیاں ہماری آئندہ نسلوں کی محافظ ہیں۔ آج ان کی صحیح سوچ کی تشکیل آئندہ نسلوں میں نظر آئے گی۔ ان کی حیا کی حفاظت میں سب سے پہلے ان کو سمجھ دیں کہ اچھی بیٹیاں کیسے اٹھتی بیٹھتی ہیں اور کیسے پہنتی اوڑھتی ہیں۔

عموماً کہا جاتا ہے کہ تین سال کی عمر تک کردار کی بنیاد بن جاتی ہے جب کہ اس عمر میں ’’چھوٹی بچی ہے‘‘ کہہ کر انتہائی نامناسب اور غیر ساتر لباس پہنایا جاتا ہے۔ بغیر بازوؤں کی قمیص اور ننگی ٹانگیں عام رواج ہے۔ عموماً بچوں کو بھی پینٹ شرٹ پہنا دی جاتی ہے لیکن بچیاں نیم برہنہ ہوتی ہیں۔ یہ چیز بچپن ہی میں احساس حیا کو کچل دیتی ہے یا پھر رواج کے مطابق ٹائٹس اور چھوٹی شرٹس تمام خدوخال واضح کردیتی ہیں۔ اس پر اور یہ کہ اگر بچیاں آٹھ سے دس سال کی ہو جاتی ہیں تو انھیں دکانوں پر بھی بھیجا جاتا ہے۔ اسی لباس میں اس عمر کی بچی بہت سوں کی توجہ حاصل کرتی ہے، جس کا اس معصوم کو اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ پھر بڑے بڑے واقعات ہوجاتے ہیں اور ہم سوچتے رہ جاتے ہیں۔ شروع سے ہی ساتر لباس انہیں پہنائیے۔ اٹھنے، بیٹھنے کے آداب سکھائیے۔ کس سے گھلنا ملنا ہے اور کس سے فاصلہ رکھنا ہے، کیا ادب و آداب ہیں یہ ہم انہیں بتائیں گے تو انہیں پتا چلے گا اور ان سب میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہماری اولاد ہمارا عکس ہوتی ہے، ہم کیا پہنتے اوڑھتے ہیں، کیسے بات چیت کرتے ہیں اور پردے کی کتنی حفاظت کرتے ہیں، یہ دیکھ کر کچھ کردار تشکیل پا رہے ہوتے ہیں۔

آج کا دور غیر معمولی آزادی کا دور ہوگیا ہے۔ بچوں کو وہ کچھ معلوم ہو رہا ہے جو معصوم ذہنوں کے لیے ضرر رساں ہے۔ ان سے بچپن کی معصومیت چھنتی جا رہی ہے اور مزید جاننے کی سہولت انہیں موبائل کی صورت میں ملی ہوئی ہے۔ والدین کے ذہنوں میں ایک بات یہ پیدا ہوگئی ہے کہ بہت زیادہ روکنے سے ان کے اندر شاید تجسس کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے، جب کہ اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ نے انہیں مکمل آزادی دے دی تو سمجھیں کہ آپ نے ان کے ہاتھ تیز چھرا دے دیا ہے۔ مگر یہ تو سوچیں کہ یہ چھرایا تو اس کے جگر کے آر پار ہوجائے گا یا کوئی عضو کاٹ دے گا تو کیا ہم تجربہ کرنے دیں گے؟ ہرگز نہیں۔ ہم انہیں سمجھائیں گے، اس کے نقصانات مناسب الفاظ میں بتائیں گے اور پھر اس کا متبادل دیں گے۔ ہر بچے کو علیحدہ موبائل بغیر نگرانی کے دینا ناقابل فہم ہے۔ ہر بچے کا الگ موبائل اس کے ہاتھ میں صبح سے شام ہو، بس ایک کلک سے وہ بہت آگے نکل جائے گا اور آپ کی ساری تربیت غارت ہوجائے گی۔ ہمیں اپنی اولاد کی حفاظت کرنی ہے، وہ ہماری رعیت ہے اور ’’ہم سے بازپرس ہوگی‘‘ کا احساس انہیں ہماری اولین ترجیح بنا دے گا۔ کمپیوٹر او رموبائل کا استعمال ایک مقررہ اوقات میں اپے زیر نگرانی کرائیں۔ نیٹ اور سرچنگ پر نظر رکھیں۔ ہر جگہ گھومنے اور سرچنگ کو روکیں۔ اصلاحی اور مثبت سائٹس معلوم کریں اور اس سے تربیت میں مدد لیں اور بہت ساری چیزیں سوچی جاسکتی ہیں۔

اپنے بچوں کے دوستوں پر نظر رکھیں۔ اچھے دوست اچھا اور برے دوست برا بنا دیتے ہیں۔ نبی پاکؐ کی حدیث ہے کہ ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہے۔‘‘ اچھے بھلے گھر کا بچہ محض دوستی سے بہت کچھ غلط کر جاتا ہے۔ کن کے درمیان رہتا ہے اور کیا کچھ باتیں ہوتی ہیں، ان دوستوں کے کیا مشاغل ہیں، یہ دیکھنا ہماری ذمے داری ہے۔ یہ بات بارہا دیکھنے میں آتی ہے کہ محض والدین کی بے توجہی اور غلط صحبت کے سبب اچھے بھلے اور شریف و دین دار گھروں کے بچے عملی زندگی میں کیسی کیسی راہوں پر نکل گئے اور جب والدین کو پتہ چلا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔

بچوں کو مختلف دعائیں یاد کرائیں۔ کھانے، پہننے، سونے جاگنے اور گھر سے نکلنے کی دعائیں۔ یہ یاد رہے کہ یہ نہ صرف سنت ہے بلکہ دو جہاں کے لے نفع بخش بھی۔ مثلاً واش روم جانے کی دعا اسے شیاطین اور ان کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے اور نکلنے کی دعا اس میں رب سے شکر گزاری کے احساس کا خیال ڈالتی ہے کہ مجھے اس تکلیف سے نکالنے والا کوئی نہیں مگر میرا رب ہے، اگر وہ مجھے اس تکلیف سے نجات نہ دیتا تو میرے بس میں نہ تھا۔ اور بتائیں کہ جن لوگوں کو اس قسم کی بیماریاں ہوجاتی ہیں وہ ان کی جان تک لے لیتی ہیں۔

اپنے بچوں سے دوستی کریں۔ انہیں صرف احکامات صادر کرنے والے نہ بنیں۔ ان سے بے تکلف ہوں، ان کے لیے غصے والی ماں نہ بنیں بلکہ ہمدرد اور ساتھی بنیں کہ وہ اپنی پریشانیاں اور مسائل شیئر کریں اور حل پوچھیں۔ یعنی آپ اپنے بچوں کی بہترین دوست ہوں، اپنے بچوں کو غلط دلچسپیوں سے محفوظ رکھنے اور معاشرے میں رائج نامناسب مشاغل سے بچانے کے لیے انہیں مثبت سرگرمیاں دیں، جسمانی کھیل کود کی چیزیں فرہم کریں، کھلے پارکوں اور کھلی جگہوں پر لے جائیں، دیگر تفریحی مقامات پر لے جائیں، تیراکی وغیرہ سکھائیں، کتب کے مطالعے کا شوق پیدا کریں۔ اچھی اور دلچسپ کتب فراہم کریں۔ وقتاً فوقتاً کتابیں لائیں، اپنے ساتھ بک اسٹال لے جائیں، لائبریری لے جائیں، بک فیئر لے جائیں، اچھی کتابیں دلائیں، گھروں پر رسائل لگوائیں۔

اخلاقیات ان کی بنیادوں میں ڈالیں۔ گھر کا ماحول بنائیں اور اچھے لوگوں میں لے جائیں۔ اپنے ہاتھ سے لوگوں کو دینا سکھائیں، صلۂ رحمی کا جذبہ پیدا کریں، رشتے داروں کے پاس لے جائیں، ان سے حسن سلوک سکھائیں، نرم خوئی کی عادت ڈالیں، حسن سلوک کا جذبہ پیدا کریں۔

گھر میں ہنسی خوشی والا ماحول پیدا کریں تاکہ بچے کا دل چاہے کہ وہ بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارے۔ والدین اپنے جھگڑے، مسائل اور ناراضیاں بچوں کے سامنے ڈسکس نہ کریں۔ بچے کو محسوس ہو کہ میرے والدین مجھ پر بھرپور توجہ دیتے ہیں۔

بچوں کی پرورش اور ضرویات کو صرف رزق حلال سے پورا کریں۔ حلال رزق سے پلی ہوئی اولاد حق کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے، اس کے خون میں پاکیزگی ہوتی ہے اور یہی اولاد نافع بھی ہے۔

اللہ سے دعائیں ضرور مانگیں، اس سے مدد طلب کریں، اپنے بچوں کے نام لے لے کر دعائیں مانگیں۔ آخری بات یہ کہ انسان صرف ذریعہ ہے، یعنی ہم صرف وہ لوگ ہیں جن کے حوالے اللہ نے اپنے کچھ بندے کیے ہیں اور ذمے داری لگا دی ہے کہ ہم جی جان سے اپنی تمام صلاحیتوں کے ذریعے ان کی دنیا اور آخرت اور اپنے دو جہاں سنوار لیں۔ کبھی پریشان نہ ہوں۔ مومن کے لیے پریشانی اور غم کا موقع نہیں۔ رب سے مضبوط تعلق بنائیں، وہی دلوں کو پھیرنے والا اور راہِ حق پر جمانے والا ہے، وہی ہدایت بھی دیتا ہے، استقامت بھی دیتا ہے، جو آج بھی ہمارے بچوں کی حفاظت کرے گا اور کل بھی انہیں اپنے دین کا سپاہی بنائے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مدیجہ صدیقی

Leave a Reply