نائپا وائرس

ہندوستانی ریاست کیرلا کے ساحلی شہر کوچی میں ان دنوں نائپا وائرس نے خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے۔ اس نایاب مگر مہلک وائرس کی وجہ سے اب تک کوچی میں سترہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں، جب کہ اس سے متاثرہ دو درجن سے زائد افراد اسپتالوں میں داخل ہیں۔ عالمی اداروں سے وابستہ ماہرین صحت نے نائپا سے ہلاکتوں کے واقعات کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں یہ وائرس زیکا اور ایبولا کے مانند خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے نائپا کو اول الذکر دونوں وائرسوں کے ساتھ جراثیم کی اس فہرست میں شامل کر رکھا ہے جو عالمی وبا کا باعث بن سکتے ہیں۔

نائپا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس وائرس سے متاثر غذا کھانے اور انسان سے انسان کو بھی اس کی منتقلی عمل میں آسکتی ہے۔ انسانوں کے علاوہ یہ وائرس جانوروں میں بھی امراض پیدا کر سکتا ہے۔ اس کی موجودگی کا پہلا انکشاف ۱۹۹۹ میں ملیشیا میں ہوا تھا جب اس وائرس سے سور پالنے والے کسان متاثر ہوئے۔ پھر ۲۰۰۱ یں بنگلا دیش میں اس کی وبا پھوٹی تھی۔ وقفے وقفے سے ہندوستان کے مختلف حصوں میں یہ وائرس ظاہر ہوتا رہا ہے۔

نائپا کیسے پھیلتا ہے؟

بنیادی طور پر یہ وائرس پھل اور درختوں میں بسیرا کرنے والی چمگادڑوں کی مختلف اقسام میں پایا جاتا ہے۔ چمگادڑوں سے یہ وائرس سوروں اور دوسرے مویشیوں میں منتقل ہوتا ہے اور پھر ان سے انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک انسان سے دوسرے انسان تک یہ وائرس لعاب اور جسم سے خارج ہونے والے دوسرے سیال مادوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔ وائرس جسم میں منتقل ہونے کے چار سے چودہ دن کے اندر متاثرہ انفکشن کا شکار ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات اس کی علامات ڈیڑھ مہینے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔

علامات

یہ وائرس نظام تنفس کو نشانہ بنانے کے علاوہ دماغ اور خون کی نالیوں کی سوزش کا بھی سبب بنتا ہے۔ متاثرہ فرد میں شروع میں انفلوائنزا کی علامات؛ جیسے بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، قے اور گلے میں تکلیف، ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کے بعد سر چکرانا، غنودگی اور بے ہوشی کے دورے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو نمونیے اور تنفس کی دیگرپریشانیاں ہوجاتی ہیں۔ دورے پڑنے لگیں تو پھر مریض چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں کے درمیان کوما میں چلا جاتا ہے۔

تشخیص

نائپا کی فوری تشخیص ممکن نہیں ہوتی کیوں کہ اس کی ابتدائی علامات انفلوئنزا کی علامت سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ تشخیص میں کئی روز لگ جاتے ہیں، اس دوران انفیکشن کی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ نائپا کی تشخیص کے لیے مختلف لیبارٹری ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جن کی رپورٹیں کئی دن کے بعد تیار ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ٹیسٹ کی رپورٹیں موصول ہونے تک مریض زندگی کی بازی ہار چکا ہوتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

ابھی تک نائپا وائرس سے بچاؤ کے لیے کوئی ویکسین نہیں بنائی جاسکی۔ ملیشیا میں پھیلنے والی وبا کے تجربے کی بنیاد پر ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے سوروں کے فارم کی باقاعدگی سے صفائی ستھرائی کی جاتی رہے اور ان جانوروں کی صحت پر نگاہ رکھی جائے، جن جانوروں پر وائرس کے حملے کا شبہ ہو پھر انھیں ماہرین کی نگرانی میں ہلاک کر دیا جائے۔ ان فارموں میں کام کرنے والے افراد خصوصی احتیاط برتیں اور دستانے وغیرہ استعمال کریں۔

بنگلہ دیش میں نائپا وائرس سے متاثر ہونے والے تمام افراد نے کھجور کے درختوں سے حاصل کیا جانے والا رس پیا تھا۔ یقینی طور پر ان سے پہلے چمگادڑوں نے رس کا ذائقہ چکھا تھا اور اسی دوران یہ وائرس دودھ نما رس میں منتقل ہوگیا ہوگا۔ لہٰذا چمگادڑوں کو رس نکالتے ہوئے دور رکھا جائے۔ اس مقصد کے لے مخصوص برتنوں کو اچھی طرح ڈھک کر رکھا جائے۔ حاصل کردہ رس کو استعمال سے پہلے ابال لینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھجوریں اچھی طرح دھوکر استعمال کی جائیں۔ جن کھجوروں پر چمگادڑ کے کاٹنے کے نشانات پائے جائیں انھیں پھینک دیا جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حکیم ابو البشر قاسمی

Leave a Reply