ڈینگی سے کیا ڈرنا!

ڈینگی بخار اتنا خطرناک ہے نہ خوف ناک جتنا عام لوگوں کا خیال ہے۔ بس ذرا سی احتیاط سے اس مرض کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو یہ موذی بھی ہے اور جان لیوا بھی۔ دنیا کی کل آبادی کا چالیس سے پینتالیس فیصد حصہ اس بیماری کی زد میں ہے اور اس کا وائرس لگ بھگ سو ممالک میں پھیل چکا ہے۔ لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ بروقت علاج کرنے سے اس مرض سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے اور دنیا میں ننانوے فیصد مریض اس بیماری سے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ آئیے اب ذرا ڈینگی بخار کی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں۔

’’ڈینگی فیور‘‘ کا سب سے پہلا تذکرہ ۲۶۵ قبل مسیح میں چائنیز میڈیکل انسائیکلو پیڈیا ریکارڈ میں ملا۔ جہاں اس بیماری کو "Water Poison” یعنی پانی کا زہر کہا گیا اور مفصل بیان کیا گیا کہ یہ بیماری اڑنے والے کیڑوں سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر پہلی بار یہ بیماری بیک وقت ایشیا، افریقا اور شمالی امریکہ میں ۱۷۸۰ میں ظاہر ہوئی۔ اس بیماری کا پہلا تشخیص شدہ کیس بینجمن ارش کے ذریعے ۱۷۸۹ میں منظر عام پر آیا۔ بینجمن نے اس مرض کو ’’بون بریک فیور‘‘ ’یعنی ہڈی توڑ بخار‘ کا نام دیا جس کی وجہ ہی تھی کہ اس مرض میں ہڈیوں اور جوڑوں میں شدید ترین درد اٹھتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ بیماری تیزی سے پھیلی۔ جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اس بخار پر کافی تحقیق ہوئی اور اس مرض کے ائرس اور اس کے پھیلنے کی وجوہات پر معلومات اکٹھی کی گئیں۔ دور جدید کی ریسرچ کے مطابق ڈینگی وائرس کے ’’کیرئر‘‘ انسان اور مچھر دونوں ہی ہیں۔ یعنی یہ وائرس انسانوں ارو مچھروں دونوں میں ہی پایا جاتا ہے۔ مگر تمام اقسام کے نہیں بلکہ صرف خاص قسم کے مچھر ہی یہ بیماری پھیلا سکتے ہیں۔ ایسے مچھروں کا نام "Aedes”ہے۔ اس Aedesنامی مچھروں کی بھی کئی اقسام ہیں، جن میں سرفہرست Aedes aegypti ہے اس مچھرکی صرف مادہ ہی ڈینگی پھیلاتی ہے۔ یہ ایک خاص قسم کا مچھر ہے جس پر کالے او رسفید رنگ کی دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ مچھر جب کسی ڈینگی میں مبتلا آدمی کو کاٹتا ہے تو اس کے خون کے ساتھ ہی یہ وائرس بھی مچھر کے معدے اور انتڑیوں میں چلا جاتا ہے۔ آٹھ سے بارہ دنوں میں یہ وائرس مچھر کے لعاب میں چلا جاتا ہے، جس کے بعد یہ مچھر جس کسی کو بھی کاٹے گا، اس میں یہ وائرس منتقل ہوجائے گا۔

یہاں ایک عمومی غلط فہمی دور کرنا بہت ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مچھر صرف صاف علاقوں میں رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مچھر کی یہ مخصوص قسم گندے اور غلیظ علاقوں میں بھی رہ سکتی ہے۔ البتہ مادہ مچھر انڈے عموماً صاف پانی ہی میں دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر کیڑے گروپ کی شکل میں انڈے دیتے ہیں لیکن ڈینگی کے مچھر کا ہر انڈا الگ الگ ہوتا ہے۔ اس لیے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ مادہ مچھر اپنے انڈوں کو محفوظ رکھنے کے لیے صاف اور ساکن پانی میں انڈے دیتی ہے کیوں کہ صاف، شفاف پانی میں دوسرے کیڑے ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں اور دوسرے کیڑے مچھر کے انڈوں یا ان سے نکلنے والے بچوں کو نقصان نہیں پہنچا پاتے۔

مادہ مچھر اپنی زندگی میں صرف تین بار انڈے دیتی ہے او رایک باری میں انڈوں کی تعداد تقریباً ۱۰۰ ہوتی ہے۔ اس مچھر کی پرواز ۴۰۰ میٹر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بیماری انسانوں ہی کے ذریعے دیگر ممالک میں پھیلی۔ کیوں کہ یہ تو ناممکن ہے کہ کوئی مچھر اڑ کر کسی دوسرے ملک پہنچنے کی سکت رکھتا ہو۔ یہ مچھر دن کے کسی بھی حصے میں کاٹ سکتا ہے لیکن طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے اوقات میں اس کے کاٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

Aedes aegypti کے علاوہ ایڈیز البوپکٹس Aedes albopictus ایڈیز پولی نیسینسز "Aedes polynesiensis” او رایڈیز سکوٹیلارس "Aedes Scutellaris” مچھر بھی یہ مرض پھیلا سکتے ہیں۔ ایڈیز البوپکٹس ویسے تو جنگلی مچھر ہے مگر شہروں اور دیہات میں بھی پایا جاتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں یہ ایشیا سے افریقا، امریکا اور یورپ میں بھی پھیل گیا۔ اس کی وجہ ٹائروں کی تجارت مانی جاتی ہے۔ اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ممکن ہے کہ ٹائروں کے اندر کھڑے پانی میں اس مچھر کے انڈے موجود ہوں۔ اگر یہ انڈے پانی ہی میں رہیں تو ان سے بچے نکل آتے ہیں لیکن اگر وہ پانی خشک بھی ہوجائے تو انڈے مہینوں تک پانی کے بغیر بھی صحیح سالم حالت میں رہ سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ انڈے ۹ ماہ تک پانی کے بغیر رہ سکتے ہیں۔ پھر جونہی پانی میسر آتا ہے، ان انڈوں میں سے بچے نکل آتے ہیں۔

ڈینگی وائرس کی اقسام

ان کی چار اقسام ہیں: DEN1, DEN2, DEN3, DEN4۔ اور یہ تمام وائرس Dengue fever کرسکتے ہیں۔ ان چاروں اقسام میں جس وائرس سے بھی یہ مرض ہو اسی وائرس سے دوبارہ نہیں ہو سکتا لیکن اگر دوسری بار کسی دوسری قسم کے وائرس سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے تو بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اسے Dengue hemorrhagic fever کہتے ہیں۔

ڈینگی کی علامات

٭ ایک دم تیز بخار ہونا

٭ سر میں شدید درد ہونا

٭ آنکھوں کے پچھلے حصے میں درد ہونا

٭ جوڑوں میں درد ہونا

٭ پٹھوں میں درد ہونا

٭ تکان

٭قے آنا

٭ جلد پر Rash یعنی سرخ دھبے پڑ جانا۔

٭ مسوڑوں، ناک اور جسم کے دوسرے حصوں سے خون آنا۔

٭ پیٹ اور آنتوں میں عجیب قسم کی مروڑ اور اینٹھن۔

ان علامات کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

Dengue hemorrhagec fover (DHF)

جب ڈینگی کا مرض بڑھ جاتا ہے تو یہ زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جسے DHF کہتے ہیں۔ ہیمرج جسم کے کسی حصے سے نکسیر یا کسی بھی غیرمعمولی طور پر خون کے نکلنے کو کہتے ہیں۔ DHF میں خون کے بہنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں اور Platelet count بھی کم ہوجاتا ہے۔ پلیٹ لیٹ خون میں پائے جانے والے Cell (خلیے) ہوتے ہیں جو خون کو جمنے میں مدد دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے کم ہونے سے خون میں جمنے کی طاقت بھی کم ہوجاتی ہے اور معمولی چوٹ یا زخم سے بھی زیادہ کون بہنے لگتا ہے۔ پلیٹ لیٹ کی تندرست جسم میں مقدار 150,000-450,000 ہوتی ہے۔

جب کہ پلیٹ لیٹ 100,000 سے گر جائیں تو خدشہ ہوتا رہے کہ ڈینگی بھی ہوسکتا ہے۔ مگر اس بات کی تصدیق لیبارٹری ٹیسٹ ہی سے ہوسکتی ہے کہ پلیٹ لیٹ کاؤنٹ ڈینگی کی وجہ سے گرے یا کسی اور بیماری سے کیوں کہ پلیٹ لیٹس بہت سی دیگر بیماریوں میں سے کسی میں مبتلا ہونے سے بھی گر سکتے ہیں۔

ڈینگی میں مشروبات کا استعمال

اس مرض میں انسانی جسم میں پانی اور غذائی اجزا کم ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں زیادہ سے زیادہ مشروبات استعمال کرنے سے صحت زیادہ جلدی ٹھیک ہوسکتی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ بیماری کا علاج ہے اور دوسری ادویات چھوڑ دینی چاہئیں۔

پپیتے کے پتوں کا استعمال

پپیتے کے پتوں، پھل اور بیج کا استعمال بہت سال پہلے سے مختلف امراض کے لیے ہوتا چلا آرہا ہے۔ اس کے پھل اور بیجوں میں بیکٹیریا مارنے کی بھی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کینسر اور ذیابیطس پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ سب دیکھتے ہوئے مختلف سائنس دانوں اور ڈاکٹرں نے اس پر تحقیق بھی کی ہ پپیتے کے ڈینگی بخار پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟ جب یہ تحقیق کچھ چوہوں پر کی گئی اور پپیتے کے پتوں کا رس نچوڑ کر چوہوں کو دیا گیا تو ان میں خون جلدی جمنے لگا۔ اس کے علاوہ انسانوں میں ڈینگی کے مریضوں اور تندرست لوگوں پر بھی یہ تحقیق کی گئی اور ان میں سے بھی زیادہ تر لوگوں کے Platelets بڑھتے ہوئے دکھائی دیے۔ یہ ریسرچ پاکستان، سری لنکا، ملیشیا اور ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی کی گئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یقینا پپیتا جسم میں وہ غذائی اجزا بڑھاتا ہے جو کہ ڈینگی وائرس کم کردیتا ہے اور اس طرح وہ جسم کی قوت مدافعت بڑھا کر ڈینگی سے جلدی نجات میں مدد دیتا ہے۔ مگر یہ ساری تحقیق ابھی اتنی مصدقہ نہیں کہ پورے اعتماد کے ساتھ پپیتے کو علاج کا حصہ بنایا جاسکے۔ نہ ہی پپیتے کے استعمال کے ساتھ دوسری دوائیں چھوڑنا درست ہے کیوں کہ دوسری دوائیں پپیتے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ ڈینگی ایک وائرس سے ہونے ولای بیماری ہے اور وائرس کو مارنا ممکن نہیں، نہ ہی یہ ادویات وائرس کو ختم کرنے کے لیے دی جاتی ہیں۔ وائرس اپنا دورانیہ پورا کر کے خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سارا علاج اس وائرس سے پیدا ہونے والی علامات کو ختم کرنے کے لیے کرتے ہیں تاکہ جتنے عرصے میں یہ وائرس اپنا دورانیہ پورا کرکے ختم ہو اتنے عرصے تک وائرس سے سے پیدا ہونے والی علامات پر قابو پایا جاسکے۔

بچاؤ اور احتیاطی تدابیر

اس سے بچاؤ کے لیے Vaccines تیار کی جاچکی ہیں مگر وہ اب تک مارکیٹ میں نہیں آئیں کیوں کہ ان کے انسانی جسم پر اچھے یا برے اثرات ہوسکتے ہیں اس پر ابھی تحقیق مکمل نہیں ہوئی۔ مگر کہا جارہا ہے کہ ویکسین اتنی تیز نہیں ہوں گی جتنی عموماً دوسری ہوتی ہیں کیوں کہ ان کے استعمال کے بعد بھی ڈینگی بخار ہوسکتا ہے مگر اتنا خطرناک نہیں جتنا ان ادویات کے بغیر۔

ڈینگی سے بچنے کا یہی حل ہے کہ ڈینگی کے مچھر سے بچا جائے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل کام ضرور کریں۔

۱- گھر میں صاف اور کھڑا پانی ڈھانپ کر رکھیں یا کوشش کریں کہ رکھیں ہی نہ۔

۲- مچھر سے بچاؤ والے لوشن اور مچھر دانیاستعمال کریںـ۔

۳- گھر کے دروازے، کھڑکیاں اور روشن والوں پر مچھر سے بچاؤ کرنے والی جالی استعمال کریں۔

۴- جب بھی گھر سے باہر جائیں تو کپڑوں سے جسم کو ڈھانپ کر رکھیں تاکہ مچھر کاٹ نہ پائے۔ خصوصی طور پر صبح سویرے اور شام کو اپنا جسم ڈھانپ کر رکھیں۔

۵- گھر میں مچھر مار اسپرے کا متواتر استعمال کریں۔

۶- اگر گھر میں کوئی Dengue کا مریض ہو تو یہ تدابیر اور بھی زیادہ کریں۔

۷- اگر گھر کے کسی فرد میں ڈینگی کی علامات ظاہر ہوں تو مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

۸- مریض کو دوا لگی مچھر دانی کے اندر رکھیں۔

۹- گھروں میں رکھے گملوں کے پانی کو روانہ تبدیل کریں۔

۰۱- گاڑیوں کے خراب ٹائروں کو مناسب طریقے سے تلف کریں۔

ان حفاظتی تدابیر کے بعد بھول جائیں کہ کبھی ڈینگی بخار بھی آپ کو نقصان پہنچا سکے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سحر مظہر

Leave a Reply