صنفی تفریق

’’صنفی تفریق‘‘ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ

ایسے دور میں بھی جب مرد و عورت کی مساوات کے نعرے بلند ہو رہے ہیں اور خواتین کو مردوں کے برابر حقوق کی نہ صرف وکالت ہو رہی ہے بلکہ عالمی طاقتیں اس نعرے کے ذریعے باقی دنیا کے معاشرتی و سماجی تانے بانے نئے سرے سے بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اگر صنفی تفریق خود انہی کے معاشروں میں رائج ہو تو آپ کیا کہیں گے۔ یہی نہیں بلکہ اگر وہاں پر خود نسلی بنیادوں پر بھی انسانوں کے درمیان تفریق جاری ہو تو حیرت بھی ہوگی اور افسوس بھی ہوگا۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ چند سال پہلے جب امریکی صدارتی انتخابات کا شور تھا اور ایک سیاہ فام امریکی بھی صدارت کی دوڑ میں مضبوط دعوے دار تھا اس وقت سیاہ فام امریکیوں کو یقین نہیں تھا کہ ان کے رنگ کا آدمی بھی امریکہ کا صدر بن سکتا ہے۔ پھر یہ ہوا کہ اوباما صدر منتخب ہوگئے۔ اس وقت سیاہ فام امریکیوں کی خوشی قابل دید تھی۔ سیاہ فام لوگ بے حد خوش تھے او ربعض کی آنکھیں بے اختیار ابل رہی تھیں اور وہ کہہ رہے تھے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک سیاہ فام شخص بھی امریکہ کا صدر بن سکتا ہے۔

اوباما کے دو میقات ختم کرلینے کے بعد نئے انتخابات میں ہیلری ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار بنائی گئیں اور صدارتی انتخابات نے دلچسپ موڑ لے لیا۔ جس طرح گزشتہ انتخاب سیاہ فام اور سفید فام کے درمیان تھا۔ اسی طرح اب کی بار انتخاب کا رخ ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان مقابلہ جیسا ہوگیا۔ پھر کیا ہوا آپ کو اچھی طرح معلوم ہے۔

’’مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ہم نے روایتی بندھنوں کو توڑنے کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اگر آج لڑکیوں میں کوئی رات دیر تک یہ دیکھنے کے لیے جاگ رہی ہے کہ میں اگلی خاتون صدر بن سکتی ہوں تو یقین کریں، میرے بعد آنے والی صدر آپ میں سے کوئی ایک ہو گی۔‘‘ یہ ہیلری کلنٹن کے وہ الفاظ ہیں، جو انھوں نے جولائی 2016 میں امریکی صدر بننے کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے بعد کہے تھے۔ہیلری کلنٹن یہ انتخاب نہ جیت پائیں اور امریکا نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا صدر منتخب کرلیا۔ہیلری کی شکست کے باوجود، ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ امریکی لڑکیاں اور خواتین، جنھوں نے ہیلری کی بات پر یقین کرتے ہوئے مستقبل میں امریکا کی صدر بننے کے خواب بْننا شروع کردیے تھے، ان کے خواب آج بھی باقی ہوں گے، کیوں کہ ایک نہ ایک دن ، امریکا میں بھی صنفی تفریق ختم ہوکر رہے گی۔ان کا یہ قول اس بات کی دلیل بن سکتا ہے کہ ان کے معاشرے میں ابھی تک صنفی تفریق کی دیواریں مستحکم ہیں ملاحظہ ہوں اعداد و شمار جو صنفی تفریق کے ساتھ نسلی تفریق کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی نئی تحقیق کے مطابق، موجودہ رفتار کے حساب سے، دنیا میں خواتین کو مردوں کے برابر تنخواہیں حاصل کرنے اور دفاتر میں برابر کی نمائندگی کے حصول کے لیے 217 برس تک انتظار کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے 144 ممالک میں سے آئس لینڈ، ناروے، فن لینڈ، روانڈا اور سویڈن نے تعلیم، صحت، بقاء ، معاشی مواقع اور سیاسی طاقت کے شعبوں میں سب سے بہتر کارکردگی دکھائی جبکہ یمن، پاکستان، شام، چاڈ اور ایران سب سے نچلے درجوں پر رہے۔ تعلیم کے مختلف شعبوں میں خواتین نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تحقیق کے مطابق اگلے 13 برسوں میں وہ اس شعبے سے صنفی تفریق کا خاتمہ کر سکتی ہیں، جبکہ سیاسی طاقت کے حصول میں برابری کے لیے انھیں 99 سال درکار ہوں گے۔

اس تحقیق کے مطابق، خواتین کام کی جگہوں پر مردوں کے مقابلے میں آدھی تنخواہ حاصل کرپاتی ہیں اور ڈبلیو ای ایف کی تحقیق میں کہا گیاہے کہ مردوں اور عورتوں میں اقتصادی فرق 58 فیصد تک ہے، جو کہ گذشتہ 10برسوں میں سب سے بڑا فرق ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی سینیئر اہلکار سعدیہ زاہدی کا کہنا ہے کہ: ’’ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان یہ فرق بڑھتا جائے۔ صنفی برابری قائم ہونا معاشی اور اخلاقی ضرورت ہے۔ یہ بات چند ممالک میں سمجھی جا چکی ہے اور ہم اس وجہ سے وہاں دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح صنفی تفریق کم کی جا رہی ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے باوجود خواتین کو نوکریاں ملنے اور نوکریوں میں ترقی پانے کے مواقع نہیں مل رہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دونوں جنسوں میں تنخواہوں میں فرق ختم کرنے سے برطانیہ کی مجموعی قومی پیداوار میں 250 ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ امریکا میں 1750 ارب ڈالر اور چین کی مجموعی قومی پیداوار میں ڈھائی کھرب ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

درجہ بندیوں کا طریقہ کار

صنفی تفریق کی درجہ بندی مرتب کرنے کے لیے ورلڈ اکنامک فورم نے ایک درجن سے زیادہ پہلوؤں پر ملی معلومات کا تجزیہ کیا، جن میں اقتصادی طور پر نمائندگی اور اس شعبے میں ملنے والے مواقع، تعلیم کا حصول، صحت اور بقاء اور سیاسی طور پر بااختیار ہونا شامل ہے۔ درجہ بندیاں ہر ملک میں صنف کی بنیاد پر وسائل تک رسائی اور مواقع کی فراہمی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی گئیں۔ اس کی بنیاد پر غریب اور امیر ممالک کا برابری کی سطح پر جائزہ لینا ممکن ہوتا ہے۔ یہ اس فورم کی 11ویں رپورٹ ہے جس میں 145 ممالک میں صنفی تفریق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ صنف کی بنیاد پر معاوضے میں پائے جانے والے فرق کی معلومات آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کی جانب سے دی گئی ہیں۔ اس میں ہر ملک کی دستیاب تازہ ترین معلومات شامل ہیں۔

’او ای سی ڈی‘ نے صنف کی بنیاد پر اجرت میں فرق کا حساب مردوں اور خواتین کی اوسط آمدنی اور صرف اور مردوں کی اوسط آمدنی میں پائے جانے والے فرق کی بنیاد پر لگایا ہے اور اس میں صرف کل وقتی ملازمت کرنے والے افراد کو شامل کیا ہے۔ یونیورسٹی سے گریجویٹ خواتین کی تعداد کے اعداد و شمار یونیسکو انسٹی ٹیوٹ آف اسٹیٹکس کے ہیں۔اس معاملے میں سب سے آگے سوئٹزر لینڈ ہے اور پھر بالترتیب کنیڈا، جرمنی، یوکے اور جاپان ہیں، جہاں صنفی تفریق کم سے کم ہے۔ مسلم ممالک میں عرب ملکوں کا اتحاد یو اے ای ہے۔جہاں عرب امارات نے خواتین اور مردوں کی تنخواہ کے اسکیل برابر کر د یے۔ یو اے ای کابینہ نے مساوی تنخواہ کا قانون منظور کر لیا ہے۔ صنفی مساوات سے متعلق عالمی اقتصادی فورم کی سال 2017ء کی درجہ بندی کی فہرست میں متحدہ عرب امارات 144 ممالک میں 120 ویں نمبر پر تھا۔ دبئی کے شیخ محمد بن راشد المکتوم نے سماجی رابطہ ویب سائٹ پر جاری پیغام میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ خواتین اور مردوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے میں کوئی تفریق کی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ملک کا آئین دونوں صنفوں میں برابرکے حقوق اور فرائض کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ اس نئے قانونی کے ذریعے آئین کو وسیع بنیادوں پر نافذ کرنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو دنیا تحسین کی نگاہوں سے دیکھتی ہے اور 144 ممالک میں سے 120 ویں مقام پر ہونے کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ یو اے ای مسلم دنیا میں سب سے بہتر کارکردگی ظاہر کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں مختلف میدانوں میں جاری صنفی تفریق کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔ البتہ پورا زور معاشی مساوات پر ہے او راس کی بنیادی وجہ ہماری نظر میں یہ ہے کہ مغربی معاشرہ عورت کو GDP کی ترقی میں معاون ورک فورس کے طور پر دیکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ معاشرہ کی ہر عورت نوکری کرے۔ چنانچہ صنفی تفریق کا بڑا مظہر ان کے نزدیک مردوں اور عورتوں کے درمیان تنخواہوں کی تفریق ہے۔ جب کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کو محض عورت ہونے کے سبب تعلیم و تربیت یا بنیادی انسانی حقوق سے محض عورت ہونے کے سبب محروم نہیں کیا جانا چاہیے اور اسے شخصی ارتقا کے ساتھ ساتھ سماج و معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے پورے مواقع ملنے چاہئیں۔

ہمارا ہندوستان بھی ان ممالک میں سے ہے جو مغربی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے وہ ضروری قانون سازی بھی کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس وقت تو صورتِ حال نہایت سنگین معلوم ہوتی ہے جب کہ ہندوستان خواتین کے لیے غیر محفوظ ممالک میں اول نمبر پر ’براجمان‘ قرار دیا گیا ہے۔ اہل وطن کو اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہ اپنے سر کی آنکھوں سے خود دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح معصوم بچیوں اور خواتین کے ساتھ گینگ ریپ اور قتل کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔

موجودہ صورتِ حال کے علاوہ مرد و عورت کے درمیان تفریق کی سوچ تو ہندوستانی معاشرے کے جیسے خون میں ہی گردش کرتی ہے۔ پیدائش سے لے کر ہی لڑکی اور لڑکے کے درمیان تفریق شروع ہوجاتی ہے اور لڑکی کی پیدائش کا ’’استقبال نہیں‘‘ سے شروع ہوکر پھر زندگی کے ہر شعبہ میں وہ اسی کا نشانہ بنتی رہتی ہے۔ اس کے لیے خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کی رپورٹ کافی ہے بلکہ رپورٹ سے پہلے اخبارات میں چھپنے والے واقعات ہی صورتِ حال کا پتہ دیتے ہیں۔ صنفی تفریق کے موضوع پر ملنے والے اعداد و شمار کا ایک پہلو ملاحظہ ہو۔

ہندوستان خواتین کے معاشی شراکت اور مواقع کی فراہمی کے گراف میں 142 ممالک میں 134 ویں نمبر پر، تعلیم کے میدان میں مواقع اور حصولیابی کے زمرے میں 126 ویں نمبر پر، صحت و اوسط عمر کے میدان میں 141 ویں نمبر پر اور گلوبل جینڈر گیپ میں 114 ویں نمبر پر ہے۔ جب کہ باوقار تصور کی جانے والی نوکریوں میں تعلیم یافتہ و تربیت یافتہ ہونے کے باوجود پے گیپ 27 فیصد ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زینب الغزالی

Leave a Reply