پیاس بجھاتے چلو! (قسط-15)

حیدر مرتضیٰ فضا آپو کی طرف دیکھ کر بولے : ’’مجھے ان دنوں راتوں کو نیند نہیں آتی تھی کہ اگر رفیق چچا یا دواؤد چچا نے ابا کو میری اس حرکت کے بارے میں بتا دیا تو کیا ہوگا۔ اور تب میں صرف اور صرف رفیق چچا کو دکھانے کے لیے پابندی سے مسجد میں نماز کے لیے حاضری دیتا۔ اسی وقت سے مجھے نماز کی عادت پڑی۔ میں رفیق چچا کا یہ احسان کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ وہ تو محلے کے ایک معمولی سے رکشا چلانے والے تھے۔ وہ رکشا بھی ان کا اپنا نہ تھا بلکہ کرایے کا ہوتا تھا۔ انھوںنے تو میری تربیت کرتے وقت نہیں سوچا تھا اماں کہ حیدر دوسرے کا بچہ ہے۔ چور بنتا ہے تو بنے مجھے کیا۔ اور نہ ہی انھوں نے مجھ پر سختی کرتے وقت اور مجھ سے وعدہ لیتے وقت یہ خیال کیا کہ اس کے والدین کو اعتراض ہوسکتا ہے۔ رفیق چچا اور اکبر دادا نے اپنا اپنا رول بخوبی نبھایا۔ اسی لیے ہم لوگ ذمہ دار شہری اور اچھے مسلمان بن سکے… لیکن افسوس ان کے بعد کی نسل نے یعنی ہم نے اپنا کردار ادا کرنے میں سخت کوتاہی برتی۔ پہلے معاشرہ کا ہر بچہ ہمارا بچہ ہوا کرتا تھا مگر آج وہ دوسرے کا بچہ ہے… جس کا بھلا برا چاہنے کا حق صرف اس کے ماں باپ کو ہے… جسے غلط باتوں پر صرف اس کے والدین ٹوک سکتے ہیں جیسے صحیح راستہ صرف اس کے والدین دکھا سکتے ہیں اور جسے درست بات اور درست عمل کی طرف رہنمائی صرف اس کے ماں باپ کرسکتے ہیں۔

حیدر مرتضیٰ کے لہجے میں معاشرے کی بے حسی کا درد بول رہا تھا۔

’’اماں بھی ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں۔‘‘ آمنہ نے جھجکتے ہوئے ساس کی تائید کی اور دبے لہجے میں بولیں… ’’اگر اس کے والدین اعتراض کر یں گے تو…‘‘

’’تو کیا…؟‘‘ اگر ان کو اپنے بچے کو کسی کا صحیح بات سکھانا برا لگتا ہے تو یہ ان کی کم عقلی ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری اولاد کو کوئی اچھی سیکھ دے رہا ہو تو ہمیں تو خوش ہونا چاہیے۔بہرحال مجھے واقعی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میری کس بات پر کس کو اعتراض ہے… مجھے جو درست لگتا ہے وہ میں کر کے رہوں گا۔ چاہے کوئی مخالفت کرے یا تائید، اعتراض کرے یا اتفاق۔‘‘

حیدر مرتضیٰ مضبوط لہجے میں کہہ کر انہیں کی طرف دیکھنے لگے جو نیچے کار پیٹ پر بیٹھا تھا اور بڑوں کی باتوں سے بے نیاز مختلف قسم کے اشاروں سے یاسر کو ہنسانے کی کامیاب کوشش کر رہا تھا۔ انس کے دیدے گھمانے اور اور ہاتھوں کی انگلیوں کو نچانے پر یاسر کھلکھلا رہا تھا۔ اس کی کلکاریاں سب کے کانوں کوبھلی لگ رہی تھیں۔ حیدر مرتضیٰ کو ادھر دیکھنے پر باقی سب بھی یاسر کی طرف متوجہ ہوگئے تھے، جس کی ہنسی کی آواز سارے کمرے میں گونجنے لگی تھی…

گھر کے بچوں کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر دل میں کتنا سکون اتر آتا ہے۔ حیدر مرتضیٰ کے چہرے پر اس وقت ایک نرمی بھرا نور پھیلا تھا۔ فضا آپو ان کی ساری باتوں سے اتفاق رکھتی تھیں۔ یونہی تو نہیں وہ اپنے چاچو کی مداح تھیں۔ چاچو ان لوگوں میں سے نہیں تھے جن پر کسی نے تنقید کردی یا مخالفت کی تو وہ بڑوں کے احترام میں اپنے صحیح عمل سے رک گئے بلکہ وہ مضبوط قوت ارادی کے حامل اپنے فیصلوں پر ڈٹے اور جمے رہنے والے انسان تھے۔ فضا آپو نے اپنے چاچو سے بہت کچھ سیکھا تھا اور شاید ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی تھا۔

فضا کو اچھی طرح پتہ تھا کہ امی (تائی جان) کو ان کا انس پر توجہ دینا اور ساتھ لانا برا لگتا ہے لیکن فضا بھی انس میں اسی طرح انویسٹ کرنا چاہتی تھیں جس طرح بقول چاچو اکبر دادا اور رفیق چچا نے حیدر مرتضیٰ میں کیا تھا اور حیدر مرتضیٰ نے فضا میں کیا تھا۔ تاکہ انس بڑا ہوکر ان کے لیے صدقہ جاریہ بن سکے کہ جو بھی اچھی باتیں وہ انس کو سکھائیں ان پر عمل کر کے انس ان کے لیے صدقہ جاریہ بن سکے۔

حالاں کہ تائی جان انس کی وجہ سے فضا کو ڈانٹتی رہتی تھیں کہ اب تمہارا بھی بچہ ہے کیوں دو دو کو ساتھ لیے پھرتی ہو۔ لیکن چاچو نے انہیں اسی بات پر بارہا شاباشی دی تھی۔ فضا، حیدر مرتضیٰ کو کبھی کبھار ویڈیو کال کرلیتی تھیں اور حیدر مرتضیٰ ہمیشہ انس کو ان کے آس پاس پاتے۔ فضا آپو اکثر اوقات انس کی بھی چاچو سے بات کراتی تھیں۔ اس لیے انس کو ’’حیدر نانو‘‘ سے اچھی جان پہچان ہوگئی تھی۔ اور انسیت بھی۔

’’مجھے اتفاق ہے حید ربھائی سے۔‘‘ نانی جان اس ساری گفتگو میں پہلی بار شامل ہوئی تھیں۔ ’’اماں بچوں کو تھوڑا بہت بہادر ہونا ہی چاہیے، اب کل رات کی ہی بات لے لیں۔‘‘ پھر وہ فائزہ کے ڈر کر چیخنے کا واقعہ پوری تفصیل سے سنانے لگیں۔ جس میں اپنی نیند خراب ہونے کا اور صبا کی بے آرامی کا خاص طور پر ذکر تھا۔

’’فائزہ کے چلانے سے تو ہم گھبراہی گئے تھے۔ بے چاری بچی چھپکلی سے ڈر گئی تھی۔‘‘ تائی جان کے لہجے میں افسوس اور ترحم تھا۔

’’اچھا تو یہ بات ہے رات کو اس کی نیند پوری نہیں ہوئی اسی لیے وہ گھر آکر دوبارہ سوگئی تھی۔‘‘

آمنہ تو نارمل انداز میں کہہ کر فضا سے گفتگو میں مشغول ہوگئی لیکن تائی جان کی بات پر حیدر مرتضیٰ قدرے ٹھٹھک گئے تھے۔ یقینا بات کچھ اور تھی۔ وہ اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتے تھے۔ فائزہ چھپکلی سے نہیں ڈرتی تھی۔ اسے چڑیے اور چوہے کا فوبیا تھا جسے باوجود کوشش کے وہ اب تک ختم نہیں کرپائی تھی۔ چھپکلی کو تو وہ خود ہی جھاڑو سے مار کر ختم کردیتی اور اس کو خود ہی پھینک بھی آتی تھی۔ پھر کل رات ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ ڈر کر چیخ پڑی اور وہ بھی ایسے چلائی کہ سارا گھر جاگ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گئے۔

تبھی فائزہ سب کو سلام کرتی اندر آئی۔ فضا آپو نے خیر مقدمی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی۔

’’گھر کا دروازہ ٹھیک سے بند کر دیا تھا نا کیوں کہ سب لوگ ادھر ہی ہیں۔‘‘

آمنہ نے اپنی تشفی چاہی۔

’’جی امی! مین گیٹ تو لاک ہے میں درمیانی دروازے سے ہی آئی ہوں اور اسے بھی اچھی طرح بند کیا ہے۔‘‘

آمنہ کو مطمئن کر کے وہ یاسر اور انس کے ساتھ کار پیٹ پر ہی بیٹھ گئی۔ لیکن خلاف معمول آج والہانہ انداز میں یاسر کو گود میں اٹھا کر پیار نہیں کیا تھا۔ دیر تک سونے کی وجہ سے چہرے اور آنکھوں پرہلکی سی سوجن تھی۔

تایا جان شاید غسل کر کے فارغ ہوچکے تھے۔ ان کی پکار پر تائی جان انہیں ناشتہ دینے اٹھ گئیں۔

’’تم چائے پیوگی فائزہ بیٹا؟‘‘ تائی جان نے شہد آگیں لہجے میں اس سے پوچھا۔ حید رمرتضیٰ کے سامنے فائزہ کے ساتھ ان کا لہجہ یونہی مٹھاس والا ہو جایا کرتا تھا۔

’’بیٹھو تم میں تمہارے لیے چائے لے آتی ہوں۔‘‘ اس کے منع کرنے سے پہلے ہی وہ آگے چل دی تھیں۔

حیدر مرتضیٰ متفکر نظروں سے فائزہ کو دیکھ رہے تھے جس کی رنگت نچڑ کر رہ گئی تھی اور دس بجے تک سونے کے بعد بھی وہ فریش نہیں لگ رہی تھی بلکہ بجھی بجھی اور اَپ سیٹ سی تھی۔

’’پھر کل رات تو دونوں بہنوں پلس سہیلیوں نے خوب باتیں کی ہوں گی۔ مزے کیے ہوں گے۔‘‘

انھوںنے شگفتگی سے فائزہ سے پوچھا۔

’’صبا تو کل بہت جلدی سوگئی تھی۔‘‘ فائزہ کی بجائے آمنہ نے شوہر کو جواب دیا۔ ’’اوہ پھر تو تم بہت بور ہوئی ہوؤگی۔ کیا کیا تم نے تب؟؟‘‘

وہ بغور اس کی صورت جانچ رہے تھے۔ جہاں اس کے چہرے کے رنگ تبدیل ہو رہے تھے۔

’’بس ایسے ہی میگزین دیکھ رہی تھی… پھر مطالعہ کرتے کرتے آنکھ لگ گئی…‘‘ اس نے مختصر لفظوں میں جواب دیا۔

’’میں جب سے آیا ہوں کوئی کتاب دیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ ذرا لانا تو بیٹے کیا پڑھ رہی تھیں…‘‘ میں بھی تھوڑا مطالعہ کرلوں۔‘‘

فائزہ کے چہرے پر سایہ لہرایا پھر وہ تیزی سے اٹھ کر وہاں سے میگزین لینے صبا کے کمرے میں چلی گئی۔ اس کی بے چینی حیدر مرتضیٰ سے پوشیدہ نہیں تھی۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ

Leave a Reply