عذرا

عذرا کا روز مرہ کا معمول تھا کہ وہ صبح اٹھ کر بچوں کے بستر سمیٹتی، صفائیاں کرتی، پانی گرم کر کے غسل خانے میں رکھتی، ناشتا تیار کرتی، بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرتی، بچیوں کی چوٹیاں بناتی اور پھر انھیں باہر تک چھوڑ آتی۔ اس کے بعد برتن، کپڑے دھونا اور بچوں کے لیے دوپہر کا کھانا تیار کرنا۔ بچے اسکول سے واپس آتے، تو ان کی ڈریس، بستے، جوتے سنبھالنا، بچوں کو سمجھانا بجھانا، ٹیوشن پر تیار کرکے بھیجنا اور پھر شام کا کھانا تیار کرنے میں جٹ جانا۔ جب شام ہونے لگتی تو وہ بستر بچھا دیتی اور بچوں کا انتظار کرنے لگتی۔ وہ ٹیوشن سے آتے تو گھر کو کباڑ خانہ بنانے میں چند منٹ لگاتے۔ ادھر وہ چیزیں ایک جگہ رکھتی ادھر سبھی بکھری ملتیں۔ تنگ آکر وہ بلند آواز سے بولنے لگتی۔ جب کبھی اس کی چیخ پکار فیضان سنتا، تو لیکچر دینا شروع کر دیتا۔

’’اللہ نے سب سے بری آواز گدھے کی کہا ہے۔ آہستہ بولا کرو تم نرمی سے بات کروگی تو یہ بھی تمیز سے بات کریں گے۔‘‘

وہ ایک لمحہ ٹھہر کے پھر کہتا۔

’’جیسی کو ویسے بچے ہوتے ہیں۔‘‘

اس کی یہ کڑوی کسیلی باتیں اور لیکچر زندگی کو مزید بدمزہ کردیتے۔ کبھی کبھی وہ سوچتی کہ کیا سب کی زندگی ایسے ہی گزرتی ہے؟ وہ اپنے ارد گرد دوسرے گھروں کو دیکھتی، ان کی عورتوں کو دیکھتی جو شان سے زندگی گزار رہی تھیں تو اسے اپنے نصیب پر رونا آجاتا۔

گزشتہ ایک ہفتے سے وہ کہہ رہی تھی:

’’گیس ختم ہوچکی ہے، گیلی لکڑیاں ہیں، تین وقت کھانا تیار کرنا مشکل ہے۔ پھونکیں مار مار کر لگتا ہے میرا دماغ خالی ہوگیا ہے۔‘‘

فیضان وہ دلائل جو مسلسل کئی روز سے دے رہا تھا، ایک مرتبہ پھر وہی دہرانے لگا۔

’’تم ٹھیک کہتے ہو… مگر سات سو روپے!‘‘

بچے مسکراتے رہے، فیضان دوسرے کمرے میں کپڑے بدلنے چلا گیا ار وہ پیچ و تاب کھاتی رہی۔

’’بھلی مانس! کیا میں تیری ضرورتوں سے بے خبر ہوں۔ ان تمام چیزوں کا مجھے تجھ سے زیادہ احساس ہے۔ لیکن اچھے دن اآلینے دے۔‘‘

’’اچھے دن میرے نصیب میں کہاں۔ برسوں سے اچھے دنوں کا انتظار کر رہی ہوں۔ اب تک نہیں آئے تو کب آئیں گے۔

’’میں کام پر جاتا ہوں تو تم کون سا مصلے پر بیٹھ جاتی ہو۔ ہر وقت اللہ کا شکر کرتی ہو، جس دن تم بدل گئیں۔ دن بدل جائیں گے۔‘‘

وہ کہتی۔’’مرد کو شادی تب کرنی چاہیے جب مالی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے۔ تم روز کام بدلتے رہتے ہو۔ ہنر کوئی آتا نہیں۔ چھوٹے موٹے کام کو تم توہین سمجھتے ہو۔ میرے بھائی نے کہا کہ سبزی کی ریڑھی لگالو۔ اس میں کافی بچت ہو جاتی ہے لیکن اس سے تمہاری شان میں فرق پڑتا ہے۔‘‘

’’ہمارا اپنا گھر تھا، میں پرائیویٹ کالج میں ایڈمن تھا، اپنی موٹر سائیکل تھی، ایک دو جگہ ٹیوشن بھی پڑھا رہا تھا، معاشرے میں میری عزت تھی، سب کچھ تیری وجہ سے برباد ہوا۔ اپنا گھر، کام، ماں باپ چھوڑ کر تمہاری ضد کی وجہ سے میں یہاں ذلیل ہو رہا ہوں۔‘‘

جملے کے اختتام تک اس کی آواز بلند ہوجاتی۔

دس سال وہ ماں باپ کے ساتھ رہے تھے۔ پھر اپنے ہی گھر میں الگ ہوگئے، تین سال ایسے گزارے۔ لیکن چوں کہ گھر ایک ہی تھا۔ ساس، نندیں، دیورانی وغیرہ سب وہاں ہوتی تھیں۔ ایک دو چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے بعد عذرا بچوں کو فیضان کے پاس چھوڑ کر میکے چلی گئی۔ اس نے صلح کے لیے والدین سے الگ ہونے کی شرط رکھی۔ اس کا مطالبہ یہ تھا کہ اسے اسی شہر میں آنا ہوگا جس میں عذرا کے ماں باپ رہتے ہیں۔ بچوں کی زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی ماں نے سمجھایا۔

’’تم ویسا ہی کرو جیسا عذرا کہہ رہی ہے۔ بچوں سے ان کی ماں دور نہ کرو۔ ہمارا کیا ہے زندگی گزر گئی ہے۔ میرے باقی چار بیٹے ہیں وہ خیال رکھ لیں گے۔‘‘

بچوں کی وجہ سے ہی میاں بیوی کی لڑائی ہوئی تھی۔ فیضان نے اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھایا تھا، جس کا انجام ان کی جدائی کی صورت میں نکلا۔ بچوں کے لیے ہی اب فیضان سسرال کے شہر آگیا۔ کرائے کے مکان میں رہائش اور ایک پرائیویٹ اسکول میں جاب ملی۔ اس سے پہلے کوئی مالی تنگی نہیں تھی۔ برے دنوں کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔ بچوں کا دودھ بند ہوگیا تھا۔ اس کا اسے بہت صدمہ پہنچا تھا۔ وہ مجبور تھا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اسکول سے اتنی قلیل آمدنی تھی کہ بجلی کا بل اور گھر کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے تھے۔ بچے پرائیویٹ اسکول میں پڑھ رہے تھے۔ فیضان نے دل پر جبر کر کے انھیں ایک سال بعد سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا۔ پھر اس نے اسکول کی نوکری چھوڑ دی۔ ایک اشٹام فروش کے ساتھ کام کرنے لگا۔ وہاں سے تین ہزار روپے مل جاتے۔ ایک سال ایسے ہی گزر گیا۔ اس دوران اس پر قرض چڑھتا گیا۔

فیضان کا ایک ماموں مسلسل اس کے مکان کا کرایہ دے رہا تھا اور یہ قرض بڑھتا جا رہا تھا۔ عذرا کا چھوٹا بھائی کبھی کبھی راشن لے کر دے دیتا۔ فیضان کا تایا زاد بھائی خلیل احمد اس کی خاموشی سے مدد کرنے لگا، ہزار دو ہزار بھیج دیتا۔ وہ مسلسل کسی اچھے کام کی تلاش میں رہا۔ اس نے اپنے سب جاننے والوں سے کام کی تلاش کو کہا تھا۔ لیکن کوئی اچھا کام مل نہیں رہا تھا۔ اسی کشمکش میں وہ ذہنی مریض بنتا جا رہا تھا، اس کی خود اعتمادی ختم ہونے لگی۔ وہ زندگی بھر سر اٹھا کر جیا تھا لیکن اب حالات نے اس کا سر جھکا دیا تھا۔ ماہِ رمضان میں مسجد نماز پڑھنے جانے لگا۔ مولوی عبد العزیز سلفی سے تعلق قائم ہوا۔ ایک دن اپنے حالات کے بارے میں انھیں بتایا۔ مولوی عبد العزیز سلفی ہر سال عید پر فنڈ اکٹھا کر کے غربا میں عام گھریلو ضرورت کی اشیا بانٹا کرتے تھے۔ اس سال اس کے گھر میں آٹا، چینی، گھی، دالیں وغیرہ دوسروں سے زیادہ بھیج دیں۔ فیضان کو اس کا علم ہوا تو آنکھیں بھر آئیں۔ بچوں کے کپڑے نہیں تھے اس نے اپنے بچپن کے دوست غلام مصطفی کو، جو کہ فوج میں ملازم تھا، فون کیا اس نے پانچ ہزار بھیج دیے جس سے یہ پہاڑ سر ہوا۔

شبنمی رات دھیرے دھیرے اڑ رہی تھی۔ وہ دونوں لیٹے ہوئے تھے۔ عذرا نے رخ پھیر کر اس کی طرف دیکھا۔

’’آج بارہ فروری ہے، دو دن قبل ہماری شادی کو اٹھارہ سال ہوگئے تھے۔‘‘

’’مجھے خیال ہی نہیں رہا، سالگرہ کے دن کا۔ اب میرے لیے صبح و شام، دن رات ایک جیسے ہوچکے ہیں، سب دن ایک جیسے، سب راتیں ایک جیسی۔ تاریخ بدلنے سے کیا ہوتا ہے۔ زندگی بدلے تو…‘‘ وہ ایک لمحے کو رکا پھر کہا؛ ’’تم ہی یاد ددلا دیتیں۔‘‘

عذرا نے پہلو بدلا۔ کہنے لگی۔’’کیا فرق پڑتا؟‘‘

فیضان نے اس کی جانب دیکھا، اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔ آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ گئے تھے۔

اس نے آہستہ سے کہا۔

’’ہر جاندار کے لیے ایک مخصوص دائرہ ہے۔ سب اپنے اپنے دائرے کے پابند ہیں۔ کوئی توڑ نہیں سکتا اس دائرے کو۔ زمین بھی اپنے دائرے ہی میں گھوم رہی ہے۔

فیضان کے لہجے میں حزن کی آمیزش نمایاں تھی۔ وہ عذرا کو دھیرے دھیرے سمجھاتا۔

’’پرائے گھر میں دم گھٹتا ہے۔ کسی وقت بھی خالی کرنا پڑ سکتا ہے۔ نوکری بھی ایسی کہ کسی وقت بھی چھٹی ہوسکتی ہے۔ اب باس کا رویہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ باس نے جتنے وعدے کیے تھے سب بے کار۔ بار بار مجھے کہا تھا ’’میرے پاس آجاؤ کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔‘‘ اب کبھی اس نے پوچھا تک نہیں کہ ’’کیسی گزر رہی ہے‘‘ سلام دعا، اپنے اپنے کام کو روبوٹ کی طرح کرنا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر موڈ بگڑ جانا، بلا ضرورت بات تک نہ کرنا، میں اس کا وفادار ہوں۔ چاہے پانچ سال اور ایسے صبح شام کردوں۔ کون سا اس نے اپنا کام کروا دینا ہے، حالاں کہ اشٹام فروش کا کام کروانے کا بھی اس نے وعدہ کیا تھا۔‘‘

’’آپ تو بہت سے کام کرسکتے ہیں۔ سبزی کی ریڑھی لگا لیں۔‘‘ عذرا نے ایک دفعہ پھر پرانا مطالبہ دہرایا۔‘‘

وہ سوچتا۔’’نیا کام سیکھا نہیں جاسکتا۔ پچیس سال سے لکھنا پڑھنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے۔ اپنا گھرہو وہاں کوئی چھوٹا موٹا کام کروں گا۔‘‘ دیکھو صرف اپنے گھر، اپنے بچوں اور اپنے خاوند کی سوچو۔‘‘

عذرا کا صبر اس تقریر سے لبریز ہوگیا اور وہ بولی۔

’’یہ تو اس وقت سوچنا تھا جب مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا۔‘‘

وہ طیش اور بے بسی کے ملے جلے جذباب میں آکر کہنے لگا:’’اچھا! تو تم بدلہ لے رہی ہو۔‘‘ ایک لمحہ توقف کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوا۔ ’’خاندان میں دیکھو سب کی زندگی اسی ضد اور بدلے نے تباہ کردی ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ بدلہ لینے کا نہیں ہوتا۔ اس بدلے کی آگ سے اگر اپنے بچوں کو بچانا ہے تو یہ ضد اور بدلہ چھوڑنا ہوگا۔ اچھی بیوی مل جائے تو زندگی جنت نظیر بن جاتی ہے۔‘‘

عذرا کو محسوس ہوا جیسے وہ اسے بری بیوی کہہ رہا ہے۔ پھر وہ میاں بیوی کے فرائض بتانے لگا۔

’’اللہ نے بیوی کے کچھ فرائض رکھے جو میاں کے حقوق ہیں اور کچھ بیوی کے حقوق رکھے جو میاں کے فرائض ہیں۔ اپنے اپنے فرائض ادا کرنے کے بعد ہی حقوق کا مطالبہ کرنا چاہیے۔‘‘

’’تمہیں ساری احادیث اور قرآن کی آیات وہی یاد ہیں جو عورت کے خلاف ہیں۔ میں اگر اتنی ہی بری ہوں تو مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ وہ اکتا کر کہتی۔

’’اپنے چین و سکون کی خاطر تم میری زندگی کا سکون غارت کرنے پر تلی ہوئی ہو۔ حالاں کہ تم بھی سکون سے نہیں ہو۔ میں تمہارے اور بچوں کے بغیر چین سے تو کیا، بے چینی کے ساتھ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ جب میں سکون سے نہیں تو تم کیسے ہوسکتی ہو۔ ہمارا تو دکھ سکھ سانجھا ہے۔ اسی لیے میں مقدور بھر تمہیں سمجھا رہا ہوں۔ چھوڑ دینا کون سا مشکل کام ہے۔ مشکل کام تو اصلاح کرنا ہے۔ پھر میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ بچے ماں سے دور ہوجائیں۔‘‘

’’یہ جو تم مجھے قرآن و حدیث سناتے ہو۔ مجھے ان سب کا علم ہے۔‘‘

’’علم کا کوئی فائدہ نہیں جب تک اس پر عمل نہ ہو۔‘‘

فیضان کا حقوق العباد پر لیکچر شروع ہو جاتا اور وہ بات بدل دیتی۔

’’جتنا پیار تم بچوں سے کرتے ہو، اس سے زیادہ پیار میں کرتی ہوں۔‘‘

’’جب تم اپنی ضد کے لیے بچوں کو چھوڑ کر میکے آگئیں تب پیار کہاں تھا؟‘‘ فیضان طنزیہ لہجے میں کہتا۔

’’تمہاری ان باتوں نے زندگی عذاب بنا دی ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں جھنجھلاہٹ اور بے زاری ہوتی۔

’’ان باتوں میں سچائی ہے۔ اب بھی اگر ایک طرف تمہاری ضد ہو اور دوسری طرف بچے۔ تو تم بچوں کو چھوڑ دوگی ضد قربان نہیں کروگی۔ میں جانتا ہوں پہاڑ تو اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے لیکن تم اپنی ضد…‘‘

اس بات پر وہ لاجواب ہوجاتی۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے وہ غصے میں آجاتی۔ کچھ اور نہ سوجھتا تو رونے لگتی۔ فیضان ایک نظر بچوں پر ڈالتا۔ اور پھر ہار مانتے ہوئے کہتا۔

’’ایک وقت آئے گا تمہارے پاس صرف پچھتاوے رہ جائیں گے۔ تمہاری ضد رہ جائے گی۔ یہ سامان رہ جائے گا۔‘‘ اس کے بعد دونوں کے درمیان طویل خاموشی حائل ہوجاتی۔

وہ بھی کیا دن تھے۔ وہ اس قدر خوش ہوتی تھی کہ خوشی ان کے اَنگ اَنگ سے چھلک رہی ہوتی۔ ہنستے ہنستے آنکھوں سے آنسو آجاتے۔ بدن ہلکورے کھانے لگتا تھا۔ وہ اپنی ساس کے ساتھ، دیورانی اور نندوں کے ساتھ بیٹھ کر چوکا کھیلا کرتی۔ معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنس ہنس کر دہرے ہوجانا، اسے سب یاد تھا۔ پھر یوں ہوا کہ شیطان سے یہ خوشی دیکھی نہ گئی۔ اس کے امتحان کے دن آگئے۔ معمولی معمولی باتوں پر دوریاں بڑھ گئیں۔ روز کی لڑائی معمول بن گئی۔ وہ دن خواب و خیال ہوگئے۔ عذرا کی زندگی کبھی دوسروں سے، کبھی خاوند سے، کبھی دل ہی دل میں اپنے ماں باپ سے اور کبھی اپنے آپ سے گلے شکوے کرتے ہوئے صرف ہوتی چلی گئی۔ اس نے اپنے بیٹے کی شرارتوں کی وجہ سے پٹائی کی تو وہ اپنی دادی کے پاس شکایت لے کر چلا گیا۔ فیضان کی ماں نے اسے برا بھلا کہا اور خوب سنائیں۔ ’’معصوم کو مارتے ہوئے ترس نہیں آیا تم کو‘‘ عذرا کی ساس نے کہا۔ عذرا نے ترکی بہ ترکی جواب دیا؛ ’’میرا بیٹا ہے جو مرضی کروں۔ آپ کون ہوتی ہیں ہمارے معاملے میں بولنے والی‘‘ ساس نے الٹا ہاتھ مارنا چاہا جسے عذرا نے روک لیا۔ یوں دونوں ساس اور بہو گتھم گتھا ہوگئیں۔ فیضان کو علم ہوا تو اس نے عذرا کی پٹائی کردی ایک طرف عذرا کی زبان اور دوسری طرف فیضان کے ہاتھ چلتے رہے۔ اس لڑائی کے بعد عذرا اپنے ماں باپ کے گھر آگئی تھی۔ بات ختم ہوسکتی تھی لیکن خاندان میں کم ہی افراد اسے ختم کرنا چاہتے تھے۔ ان میں ایک عذرا کا ماموں بھی تھا جو عذرا کو اپنے شہر لے گیا۔

فیضان نے بیوی کے سامنے ہتھیار تو ڈال دیے لیکن اب وہ عذرا کا نہیں رہا تھا۔ بے شک وہ اسے اس کے ماں باپ سے دور لے آئی لیکن وہ پاس ہوکر بھی دور تھا۔

ایک شام اس نے فیضان سے کہا۔

’’ہفتے کے چھ دن کام پر گزار لینے کے بعد ساتواں دن اپنے لیے ہونا چاہیے۔ ہفتے میں ایک چھٹی ہونی چاہیے جو زندگی کا احاس دلادے۔ دائرے میں گھومتے گھومتے تھم کر ذرا بیٹھ سکیں۔‘‘

عذرا کا لہجہ انتہائی ٹوٹا ہوا اور آواز بے حد دھیمی تھی۔

’’میرا دل بھی کرتا ہے کہ ایک دن تمہارے ساتھ گزاروں۔ ہفتے عشرے بعد ماں باپ کے پاس جایا کروں لیکن چھٹی کروں تو تنخواہ سے پیسے کٹ جاتے ہیں۔

یہ کہہ کر وہ سرد اور طویل سانس لے کر رہ گیا۔ اپنے شوہر سے عذرا کے دلی یا جذباتی مراسم کبھی استوار نہیں ہوسکے تھے۔ وہ شوہر پرست بیوی نہ بن سکی تھی۔ فیضان اکثر سوچتا رہتا کہ زندگی میں والدین کی خدمت نہ کرسکا، اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ بنا سکا۔ اپنا کام، اپنا گھر نہیں تھا۔ کوئی راستہ نہیں تھا۔ مستقبل اندھیرا تھا۔ لیکن وہ کرتا بھی تو کیا کرتا۔

اس کی اپنی ماں اور بچوں سے شدید محبت، اپنی بیوی کی شدید ضد، اپنی بے بسی، بے یار و مددگار ہونا اور مالی حیثیت کا روز روز گرتے چلے جانا اس کے اندر محرومی کا احساس بڑھاتا چلا گیا۔ وہ اپنے آپ کو شکست خوردہ محسوس کرنے لگا تھا۔ غیروں کے ہاتھوں ملنے والی ہار یقینی طور پر انسان کو غم زدہ کر دیتی ہے اور انسان کسی طرح اسے برداشت بھی کرلیتا ہے لیکن اپنی بیوی کے ہاتھوں ملنے والی شکست مستقل عذاب کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اس وجہ سے گھر میں خوشیوں کا وجود ناپید ہوتا چلا گیا۔ پھر فیضان نے مالی مشکلات سے مقابلہ کرنے کے لیے کہانیاں لکھنی شروع کردیں۔

رات دو بجے فیضان بیدار ہوا اور کمپیوٹر پر جا بیٹھا تھا۔ دو گھنٹے وہاں بیٹھا لکھتا رہا۔ اس دوران عذرا کو چار پانچ بار اس نے آواز دی۔ سارا دن کی تھکی ہوئی وہ بڑی مشکل سے اٹھی اور اپنے خاوند کے لیے قہوہ تیار کر کے دیا۔ اس دوران وہ بڑبڑائی۔

’’اتنا پڑھنے کا کیا فائدہ۔ گھر میں تو تنگی ہی رہی۔ کبھی مالی آسودگی نہ دیکھی۔ نہ دن کو سکون نہ رات کو سکون۔‘‘

فیضان نے سنی ان سنی کردی اور اپنی کہانی کے کرداروں میں کھو گیا۔ کہانی میں ایک خاص موڑ آچکا تھا۔

چار پانچ راتوں کو جاگ کر فیضان نے ایک کہانی لکھی تھی۔ ادارے والوں نے ۸۵۰ روپے بھیجے تھے اس پر ہی وہ بہت خوش تھا۔ اس قدر ذہنی محنت کا اتنا کم معاوضہ ملنے کے باوجود اس کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نظر نہیں آئے۔ بلکہ آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گئی تھی۔ وہ تھکا ہارا کام سے واپس آتا تھا۔ حالاں کہ وہاں کرنے کا کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ صبح صبح دکان کھولنا، صفائی کرنا، اس کے بعد سارا دن بیٹھ کر گاہکوں کا انتظار کرنا بس۔ وہ الیکٹرونکس کی دکان پر ملازم تھا۔ پانچ سال سے وہاں کام کر رہا تھا۔ اس کا مالک دو چار اخبارات کا نمائندہ تھا۔ فیضان اپنے باس کی اخبار کی خبریں اور آرٹیکل کمپوز کرتا اور اخبارات کو بھیجتا۔ جب کوئی گاہک آتا تو اسے ڈیل کرتا۔ یہ کام ایسا نہیں تھا کہ تھکاوٹ ہوجائے۔ اسی وجہ سے جب عذرا اسے کہتی۔

’’آپ کا کام تو بہت آسان ہے مزے سے ہو۔ تھک کیسے جاتے ہو؟‘‘

وہ کہتا۔’’تھکاوٹ صرف سفر کرنے سے نہیں ہوتی ذہنی مسافت بھی تھکا دیتی ہے۔‘‘ کبھی کہتا۔ ’’ایک گھنٹہ ذہنی کام انسان کو اتنا تھکا دیتا ہے جتنی تھکاوٹ چھ گھنٹے جسمانی مشقت سے ہوتی ہے۔‘‘

دوسری طرف اس نے رات کو دو گھنٹے کمپوزنگ و گرافکس کا کام سیکھنا شروع کردیا یوں اپنی زندگی بدلنے کی جدوجہد جاری رکھی۔ وہ آسانی سے ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا۔ اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔ وہ چاہتا تھا عذرا دین کو سمجھ جائے، اپنے حقوق سے واقف ہو اور فرائض کو جان لے۔ وہ اس بات کو سمجھ جائے کہ درخت جڑ سے اکھڑ کر سوکھ جاتا ہے، انسان اصل سے دور ہوکر خوش نہیں رہ سکتا۔

صبح گھر سے باہر نکل کر جلدی جلدی دکان کی طرف دوڑتا، جیسے کسی کو پکڑنا ہو۔ کام سے لوٹ کر آتا تو سارا بدن اس طرح درد کر رہا ہوتا، جیسے بری طرح سے پیٹا گیا ہو۔ حالات کی مار ایسے ہی مارتی ہے۔ وقت تیز دھار آری لیے اپنے کام میں لگا تھا۔

آخر زندگی کی دوپہر ڈھل گئی۔ حالات سے لڑتے لڑتے وہ زندگی ہار گیا۔ ایک رات وہ اپنے کمرے میں بیٹھا ایک کہانی لکھ رہا تھا۔ بچے اور عذرا سوچکے تھے کہ اس کے دل میں درد اٹھا۔ وہ بار بار عذرا کو پکارتا رہا۔ درد بڑھتا چلا گیا۔ درد اتنا شدید اٹھا تھا کہ وہ دنیا سے اٹھ گیا۔ فیضان ایک ایسے دیس سدھار گیا جہاں سے کوئی لوٹ کر واپس نہیں آتا۔

جب صبح کا سورج طلوع ہوا تو عذرا کی زندگی میں کالی سیاہ رات اتر آئی تھی۔ فیضان اپنے بچوں کو، کتابوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا چکا تھا۔ اس کا سر گھومنے لگا۔ اندر ہی اندر پچھتاوے کا دکھ ابل کر آنکھوں سے بہنے کو بے تاب تھا۔ اس نے ضبط کی ڈور کو مضبوطی سے تھاما۔ نہ جانے کیوں کسی اپنے کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی۔ ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں تنہائی کا احساس ہوا۔ کوئی اپنا نہیں رہا تھا۔ جو اس کا اپنا تھا اسے اس نے زندگی بھر اپنا نہیں سمجھا تھا۔ اب وہ بھی نہیں رہا تھا۔ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا تھا۔ وہ تیزی سے کمرے سے باہر کی جانب بھاگی جیسے اس حقیقت سے دور بھاگ جانا چاہتی ہو۔

’’نہیں۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ کہتی ہوئی وہ چکرا کر گری۔ اگلے لمحے وہ سسک رہی تھی۔ اس کی آنکھیں ابل پڑی تھیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ روتے روتے وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔

گھر میں سارا خاندان جمع تھا۔ فیضان کو منوں مٹی کے نیچے دفن کیے تین دن گزر چکے تھے۔ اب رہ رہ کر عذرا کو اس کی ایک ایک بات یاد آرہی تھی۔ گھر میں بیٹھی خواتین کے درمیان وہ بیٹھی تھی۔ ایک عورت کہہ رہی تھی۔

’’مرحوم بڑا نیک انسان تھا۔‘‘

دوسری نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔

’’اس میں کیا شک ہے؟‘‘

تیسری نے کہا؛

’’ہم اس جانکاہ صدمے میں آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘

ایک اور آواز آئی۔

’’ہم تو یہ جانتے ہیں خوشی میں بھلے شریک نہ ہو غم میں ضرور شامل ہوجاؤ۔ آج تیری کل میری باری ہے۔‘‘

عذرا سے وہاں بیٹھا نہ گیا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ آہستہ آہستہ چلتی گھر سے باہر نکل آئی۔ گھر جو اپنا نہیں تھا۔ دروازے کے سامنے سے گزرنے والی سڑک پر لوگ پیدل، کار، موٹر سائیکل پرآجا رہے تھے۔ دور مغرب میں سورج غروب ہو رہا تھا۔ اس کے سامنے زندگی کی لمبی مسافت پڑی تھی جس پر اب تنہا سفر کرنا تھا۔ ایک ہاتھ سے اس نے چہرے پر دھار کے مانند بہتے اشک صاف کیے۔ اس وقت اس کے چاروں بچے ایک ایک کر کے اس کے پاس آکھڑے ہوئے۔ چھوٹی بیٹی اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ اس نے ڈوبتے سورج کو دیکھا۔ اس کے کانوں میں فیضان کی آواز آرہی تھی۔

’’ایک وقت آئے گا تمہارے پاس صرف پچھتاوے رہ جائیں گے۔ تمہاری ضد رہ جائے گی۔ یہ سامان رہ جائے گا۔ تم سوچو دنیا میں بھی خوش نہیں ہو اور آخرت میں کیسے خوش رہ سکوگی۔ تمہارا مجازی خدا اگر تم سے خوش نہیں ہے تو خدا کیسے خوش ہوگا۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
یاسین صدیق

Leave a Reply