4

نصیحت

’’تیز تیز سانسیں لو!‘‘ استعمال شدہ انٹروینس اور بوتل کے ڈھکنوں سے بنے اسٹیتھو اسکوپ کو عامر نے ہادیہ کی چھاتی پر لگاتے ہوئے کہا، تو ہادیہ تیز تیز سانسیں لینے لگی۔ اس نے اسٹیتھو اسکوپ کو ٹیبل پر رکھا اور غبارے اور ریگزین سے بنے بی پی آپریٹس سے ہادیہ کا بلڈ پریشر چیک کرنے لگا۔

’’زبان اوپر کرو۔‘‘ اس نے بی پی چیک کر کے پنسل سے بنا تھرما میٹر ہادیہ کے منہ میںدیتے ہوئے کہا، تو ہادیہ نے زبان اوپر اٹھالی۔ وہ گھڑی سے محروم کلائی کو ایسے انداز میں دیکھنے لگا جیسے ٹائم نوٹ کر رہا ہو… ہادیہ منہ میں تھرما میٹر لیے اسے دیکھے جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے ہادیہ کے منہ سے تھرما میٹر نکال لیا اور کسی ماہر ڈاکٹر کے سے انداز میں تھرما میٹر دیکھنے لگا۔

’’تمہیں بخار تو بہت تیز ہے۔ کب سے ہو رہا ہے یہ بخار۔‘‘ اس نے ہادیہ سے پوچھا۔

’’ڈاکٹر صاحب! کل رات سے جسم دکھنے لگا تھا، میں سمجھی تھکاوٹ کی وجہ ہوگی۔ ایک ڈسپرین بھی لی رات کو مگر آج صبح تو اٹھا ہی نہ جا رہا تھا مجھ سے۔‘‘ ہادیہ نے بخار کے مریض کی طرح نڈھال آواز میں کہا۔

’’ہوں… کھانسی بھی ہے… زبان نکالنا ذرا۔‘‘ اس نے ہادیہ سے کہا۔

’’جی ڈاکٹر صاحب! تھوڑی تھوڑی کھانسی بھی ہے۔‘‘ ہادیہ نے زبان باہر نکالتے ہوئے جواب دیا، تو اس نے ہادیہ کی زبان اور آنکھوں کاجائزہ لیا۔

’’پریشانی والی کوئی بات نہیں۔ بہرحال غفلت مت برتا کرو۔‘‘ اس نے کسی ماہر ڈاکٹر کی طرح کہا۔

’’تمہیں انجکشن لگانا پڑے گا۔‘‘ ایک ثابت سرنج جو اس نے گلی میں پڑے کوڑے کرکٹ سے تلاش کی تھی کو ہادیہ کے بازو پر رکھ کر خالی سرنج کا ہینڈل دبا دیا۔

’’کچھ میڈیسن لکھ رہا ہوں۔ یہ میڈیکل اسٹور سے لے لینا اور صبح دوپہر شام بلا ناغہ استعمال کرنا اور کھانے میں نمکو، پاپڑ، آئس کریم سے پرہیز کرنا، اس نے کاغذ پر چند الٹے پلٹے الفاظ لکھتے ہوئے کہا۔

’’چاکلیٹ تو منع نہیں نا، ڈاکٹر صاحب!‘‘ ہادیہ نے پوچھا۔

’’نہیں! چاکلیٹ تو ویسے بھی دل کے لیے مفید ہے۔‘‘ اس نے پیڈ سے ورق پھاڑ کر دیتے ہوئے کہا۔ ’’ایک بار پھر بھی چیک اپ کرالینا۔‘‘

یہ ان بہن بھائی کا فقط کھیل ہی نہیں بلکہ اس کے اندر سر ابھارتی ایک خواہش تھی۔ ایک خواب تھا کہ وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے گااور خدمت خلق کرے گا۔ لیکن فی الوقت اپنی تسکین کے لیے اس خواہش کو اس نے کھیل بنا لیا تھا۔ وہ ہادیہ کے ساتھ ڈاکٹر اور مریض کا کھیل رچا کر خود کو مطمئن پاتا۔ کبھی کبھی کھیلتے ہوئے جب وہ ہادیہ کا چیک اپ کرتے وقت کہتا کہ ’’زبان نکالو۔‘‘ تو جواباً ہادیہ اسے چڑانا شروع کردیتی اور پھر ان میں لڑائی شروع ہوجاتی اور ہادیہ تتر ہوجاتی او روہ اسے پکڑنے کو پیچھے بھاگتا۔ نوبت امی کو شکایت لگانے تک جا پہنچتی۔

’’امی… اس ہادیہ کی بچی نے بدتمیزی کی ہے۔‘‘ وہ دانت پیستے ہوئے شکایت لگاتا۔

’’امی اس نے خود کہا… زبان نکالو۔‘‘ ہادیہ اپنا دفاع کرتے ہوئے کہتی اور امی ہنستے ہوئے معاملہ رفع دفع کرا دیتیں۔ یوں وہ پھر سے ڈاکٹر اور مریض کا کھیل رچانے لگتے۔ اسی ڈاکٹر اور مریض کے کھیل کی وجہ سے اس کے ماں باپ بھی اسے ’’ڈاکٹر‘‘ پکارتے تھے اور اس کا بڑا بھائی ناصر اسے ’’ڈاک ٹور‘‘ پکار کر چڑاتا رہتا۔

ابھی اس کی عمر گیارہ بارہ برس رہی ہوگی اور ہادیہ اس سے غالباً ایک برس کم تھی۔ وہ پانچویں کلاس میں ہادیہ تیسری میں تھی۔ جب کوئی اسے ’’ڈاکٹر‘‘ کہہ کر پکارتا، تو وہ خوشی سے نہال ہوجاتا مگر اس کے ہم عمر لڑکے اور کلاس فیلوز جب ڈاکٹر کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے تو بہت برا لگتا۔

آج سبق یاد نہ ہونے پر ہمیشہ کی طرح استاد سے خوب ڈانٹ پڑی اور ساتھ والے لڑکوں کے ہاتھ اس کا مذاق اڑانے کا موقع آگیا۔

’’ڈاکٹر صاحب مجھے بہت تیز بخار ہے۔‘‘ ایک لڑکے نے کہا۔

’’میرے بھی سر میں درد ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب!‘‘ دوسرے لڑنے کے کہا۔

’’ارے بھائیو! تم اس بچارے کو کیوں تنگ کرتے ہو؟ ایک تیسرے لڑکے نے جلتی پر تیل چھڑکا۔‘‘ یہ انسانوں کا تھوڑی ہے… یہ تو ڈنگروں کا ڈاکٹر ہے۔‘‘

سب لڑکے ہنس پڑے اور وہ طیش میں آکر ان سے الجھ پڑا اور کسی نے استاد کو اس کی شکایت لگا دی۔

’’عامر… تم نے آج پھر جھگڑا کیا۔‘‘ استاد نے اس کے کان کھینچے۔

’’سر! انھوںنے میرا مذاق اڑایا۔‘‘ وہ سسکتے ہوئے بولا۔

’’میں نے تمہیں کہا تھا کہ جھگڑا نہیں کرنا‘‘ استاد نے ڈانٹا۔

’’سوری سر!‘‘ وہ بولا۔

’’آئندہ خیال رہے، تمہاری شکایت نہیں آنی چاہیے۔‘‘ استاد نے اسے سمجھایا۔

’’سر آپ ان لڑکوں کو بھی سمجھا دیں۔ آپ کو شکایت لگاتا ہوں، تو یہ آپ کے سامنے بھولے بن جاتے ہیں مگر باز نہیں آتے۔‘‘ وہ بولا۔

’’تو کیا یوں براہ راست الجھنے پر باز آجاتے ہیں؟‘‘ استاد مسکرایا۔

’’جی سر! پھر کچھ دنوں تک نہیں چھیڑتے مجھے۔‘‘ وہ جواباً بولا۔

’’تمہیں کیا کہہ کر چھیڑتے ہیں؟‘‘ استاد نے دلچسپی لی۔

’’یہی کہ میں انسانوں کا نہیں ڈنگروں کا ڈاکٹر ہوں۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولا۔

’’پھر بھی… تمہیں ڈاکٹر تو مانتے ہیں نا!‘‘ استاد نے مسکرا کر کہا۔

’’جی سر، مانتے ہیں۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’اچھا جاؤ… آئندہ خود الجھنے کے بجائے مجھے شکایت لگانا۔ جاؤ سبق یاد کرو۔‘‘ استاد نے کہا، تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

چھٹی کے بعد راستے میں لڑکوں نے اس سے چھیڑ خانی شروع کردی۔

’’ڈاکٹر صاحب میرے جوتے کے گردے فیل ہوگئے ہیں۔ آپ آپریشن کردیجیے پلیز۔‘‘ لڑکے ہنسنے لگے۔ تو وہ پہلے ہی دل میں بیر لیے ہوئے تھا اس لیے الجھ پڑا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ راجو موچی کا بیٹا ہوکر بھی اپنی آنکھوں میں ڈاکٹر بننے کا خواب سجائے ہوئے تھا۔

باقی لڑکے تو بھاگ گئے البتہ دو جو اس کے نرغے میں آگئے ان کی خوب ٹھکائی کی۔ اسے بھی کچھ چوٹیں آئیں، جس پر امی نے خوب گاز پرس کی، ایک جھانپڑ بھی رسید کیا۔

’’تو روز مار کٹائی کر کے آتا ہے۔ کیوں کرتا ہے ایسا؟‘‘ مزاج ٹھنڈا ہونے پر امی اسے سمجھانے لگیں۔

’’وہ باتیں ہی ایسی کرتے ہیں۔‘‘ وہ بولا۔

’’تو تو برداشت کرلیا کر… دیکھ صبر وتحمل میں بڑائی ہوتی ہے۔‘‘ امی نے سمجھایا۔

’’خاموش رہوں تو اور بھی سر چڑھ جاتے ہیں وہ… ان کی ٹھکائی ہو تو پھر کچھ دن سکون سے گزرتے ہیں۔‘‘ وہ کہہ گیا۔

’’مار کٹائی سے بھلا وہ سمجھ جائیں گے؟ جتنا صبر کرے گا، بہتر ہوگا۔‘‘ امی نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔‘‘ وہ اپنی بات پر اڑا رہا۔

’’تو دنیا کو سلجھائے گا، تو خود الجھ کر رہ جائے گا۔ دوسروں کو سلجھانے کے بجائے خود ہی سنور پھر سب خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ بگڑے کے ساتھ بگڑ مت، بلکہ بنا کر رکھ، بگڑے ہوئے کو اس کے حال پہ چھوڑ دے پہلے اپنا آپ سنوار۔‘‘ امی نے بڑے پیار سے اس کے ذہن میں یہ بات ڈالتے ہوئے کہا: ’’دنیا کی پرو ا مت کر… جا اپنا ہوم ورک کرو ورنہ کل پھر استاد سے ڈانٹ پڑنے پر لڑکوں کو تمہارا مذاق اڑانے کا موقع مل جائے گا۔

صبح استاد کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے وہ سبق یاد کرنے لگا، مگر اس سے سبق یاد نہیں ہو پا رہا تھا۔ باہر گلی میں کھڑے ریڑھی بان کی آواز ا سکے یاد کیے سبق کو مرتعش کر دیتی ’’میٹھے آم، رس بھرے آم! اس نے سر جھٹک کر سماعتوں پر پڑے ریڑھی بان کی آواز کو دفعان کیا اور کتاب پر متوجہ ہوا… مگر ’’پھلوں کا بادشاہ آم، لنگڑہ ۶۰ کا کلو، چونسہ ۸۰ کا کلو‘‘ اس کی ساری توجہ پھر سے بگڑ گئی۔

اب کوئی ریڑھی بان سے پوچھے ’’اللہ کے بندے تم بہروں کے شہر میں جو آم بیچ رہے ہو یوں گلا پھاڑ پھاڑ کر دوسروں کا سکون برباد کر رہے ہو اور اپنی قوت گویائی کو بھی… بھلے آدمی جس کسی نے آم لینے ہوں گے وہ دیکھ کر خود ہی چلا آئے گا۔‘‘ اور ویسے بھی آم کون سے تازہ اور ستھرے تھے جو گاہک دیکھ کر چلا آتا۔ وہاں کوئی اندھا ہی یہ گلے سڑے آم لے تو لے… شاید ریڑھی بان بھی کسی نابینا گاہک کے لیے آواز لگا رہا تھا۔ شاید کوئی نابینا گاہک آن پھنستا۔

عین اسی وقت بجلی چلی گئی، پیڈسٹل فین جو پہلے بھی کھڑکھڑاتا ہوا برائے نام ہوا دے رہا تھا، زور زور کھڑکھڑا کر خاموش ہوگیا۔ اوپر سے بلا کی گرمی تھی، وہ کتابیں اٹھائے، ڈھلتے سورج کی وجہ سے کمروں کے بڑھتے سائے میں آن بیٹھا۔ کمرے میں تو پیڈسٹل کی کھڑکھڑاہٹ میں ریڑھی بان کی آواز کچھ دب جاتی، لیکن باہر آتے ہی زیادہ سنائی دینے لگی۔ عین اسی وقت کچھ منچلے موٹر سائیکلوں پر گلی میں سے گزرے اور ان کی موٹر سائیکلوں کے کھلے سائیلنسروں نے اس کی سماعتوں کا کام تمام کر دیا، دور تک آوازیں سنائی دیتی رہیں پھر اس کے کان بجنے لگے… اس کی سماعتوں میں گونجتی ’’پوں پوں‘‘ سی آوازیں انہی شوخ مزاج لڑکوں کے کھلے سائیلنسر والی موٹر سائیکلوںکی مہربانی تھی۔ اس نے آستین سے پیشانی کا پسینہ پونچھا۔

’’چوڑیاں چڑھالو چوڑیاں… رنگ برنگی چوڑیاں‘‘ لو جی۔ رہی سہی کسر چوڑیاں بیچنے والی ماسی نے پوری کردی۔ روزانہ سورج ٹھنڈا پڑتے ہی وہ آن دھمکتی تھی، ماسی کو چوڑیاں بیچنے سے زیادہ گھومنے پھرنے کا چسکا تھا۔ ورنہ روز روز کون چوڑیاں چڑھاتا ہے… ’’چوڑیاں… ہری ہری چوڑیاں۔‘‘

وہ پسینے میں شرابور ہو رہا تھا کہ اچانک پیڈسٹل فین کی کھڑکھڑ سنائی دی۔ وہ کتابیں اٹھائے کمرے میں بھاگا۔ باہر کی نسبت کمرے میں گرمی کچھ کم تھی۔ چلو اور نہ سہی کم از کم پیڈسٹل فین پسینے کو سکھاتا رہتا ہے۔

وہ پسینہ سکھا رہا تھا کہ اسی اثنا میں ساتھ والے کمرے سے آڈیوڈیک چلنے کی آواز سنائی دی۔ یہ حرکت بڑے بھائی ناصر کی تھی جو مرض عشق میں مبتلا تھا۔ اسے بھی شاید بجلی کے آجانے کا انتظار تھا۔ بجلی آتے ہی ڈیک چلا دیا۔

ڈیک کا والیم اتنا زیادہ تھا گویا دوسروں کو سنانا مقصود ہو ’’اتنی جلدی کیا نہیں کرتے، دل کسی کو دیا نہیں۔‘‘ باہر سے بھی آوازیں آرہی تھیں ’’چوڑیاں چڑھالو چوڑیاں‘‘ سب آوازیں گڈمڈ ہو رہی تھیں ’’چونسہ ۸۰ کا کلو … رنگ برنگی چوڑیاں… کھڑکھڑکھڑ… اتنی جلدی کیا نہیں کرتے… لنگڑا ۶۰ روپے کا کلو… سب رنگی چوڑیاں … دل کسی کو دیا نہیں کرتے… کھڑکھڑکھڑ… پھلوں کا بادشام آم…‘‘ بصارت پر سماعتیں حاوی ہونے لگیں، تو اس نے غصے میں کتاب پھینک دی۔ اس کا جی چاہا جاکر ان سب کو کھری کھری سنا دے جو اس شور و غل کے موجب ہیں۔

وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ کانوں میں امی کی آواز میں سرگوشی سنائی دی ’’ دنیا کو سلجھائے گا تو خود الجھ جائے گا…‘‘ دوسروں کو سدھارنے کے بجائے خود سنوار پہلے اپنا آپ بدل پر سب کچھ خود بخود بدل جائے گا۔‘‘

اس نے سوچا اور اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے چارپائی پر پڑے تکیہ کو چاک کیا اور ڈھیر ساری روئی نکال کر اپنے کانوں میں ٹھونس دی۔ اب اسے آوازیں بہت مدھم سی سنائی دے رہی تھیں۔ وہ یکسانیت سے سبق یاد کرنے لگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ منور

تبصرہ کیجیے