محبت

کالا شارٹ ٹراؤزر، سرخ رنگ کی شرٹ اور اونچی ایڑی پہنے وہ قدرت کا حسین شاہکار لگ رہی تھی۔ اس کے سیاہ لمبے بال پشت پر لہرا رہے تھے۔ بالوں کی چند لٹیں اس کے چہرے پر آگری تھیں، جو اس کو اور بھی نکھار رہی تھیں۔ وہ اپنے آپ میں مگن سڑک پر چلی آرہی تھی۔ لوگ قدرت کے اس شاہکار کو مڑمڑ کے دیکھ رہے تھے۔ چند ایک نے سیٹیاں بجائیں اور چند نے فقرے کسے۔ کچھ نے اپنی نگاہوں کو اس کے حسین سراپے سے سیراب کیا اور کچھ نے آہ بھری۔ مگر قصور ان کا نہیں تھا بلکہ قصور تو اس حسینہ کا تھا جو اپنے جلوے بکھیر رہی تھی۔

آلو اے، مٹر اے، گوبھی اے، پالک اے، گا… گا… گا… وہ گاجر کہتے کہتے رک گیا۔ اس سے کوئی لفظ ادا نہ ہو سکا۔ وہ جو زور زور سے لوگوں کو اپنی سبزی کی ریڑھی کی طرف متوجہ کر رہا تھا اس دل ربا کو دیکھ کے اپنے تمام الفاظ بھول گیا۔ اس لڑکی نے فیکے کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر دیا تھا۔ وہ ایک بے خودی کے عالم میں اُسے دیکھے جا رہا تھا۔ اسے ارد گرد کا ہوش نہ تھا۔ اس کی نگاہیں لڑکی کا پیچھا کر رہی تھیں۔

’’کیوں بے فیکے ہوگئی تیری سیٹی گم؟‘‘ ساتھ والی ریڑھی پر امرود بیچتے جیرے نے ایک دھپ اس کی کمرپر لگائی۔ فیکا ہڑبڑا گیا اور شرمندگی سے بولا۔ ’’چل بے، بک بک نہ کر میری سیٹی کا ہے کو گم ہوگی۔‘‘

’’یار فیکے ہے ویسے بڑی چیز، آفت ہے قیامت ہے۔‘‘ جیرے نے ایک آنکھ بند کرتے ہوئے اور تیل اور میل سے بھرے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فیکے کی طرف دیکھا۔ مگر فیکے کو جیرے کی یہ باتیں زہر لگ رہی تھیں۔ اس کو جیرے کی بولیاں بھی اچھی نہیں لگ رہی تھیں جو وہ لڑکی کے بارے میں بول رہا تھا۔

٭٭

رات آدھی سے زیادہ گزر گئی ہے۔ نیند فیکے کی آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ وہ کروٹیں لے رہا ہے کسی پل سکون نہیں آ رہا۔ ساتھ کی چارپائی پر بیوی نیند میں مدہوش لیٹی ہے۔ تمام دن کے کاموں سے تھک کے چور وہ گہری نیند میں ہے اور اس کے خراٹے بھی عجیب و غریب آوازیں نکال رہے ہیں۔ آج سے پہلے اسے اپنی بیوی کے خراٹے کبھی برے نہیں لگے تھے مگر آج خراٹے تو کیا وہ پوری کی پوری بری لگ رہی تھی۔ جانے کئی دنوں سے اس نے کنگھی نہیں کی تھی۔ پھٹی ایڑیاں، زرد چہرہ اور موٹی موٹی آنکھوں کے گرد بنے سیاہ حلقے۔ اس کے بدن سے ہمیشہ لہسن اور پسینے کی بدبو آتی تھی۔

فیکے نے ناگواری سے بیوی کو دیکھا اور دوسری طرف رخ موڑ کے دوبارہ اسی حسینہ کے خوابوں میں کھو گیا۔ ’’کاش کہ اس کی جگہ وہی قاتل حسینہ ہوتی۔‘‘ اس نے جل کے بیوی کو دیکھا۔ وہ کروٹ پہ کروٹ بدل رہا تھا۔ تھک ہار کے وہ اپنی چارپائی سے اٹھا اور باہر کی طرف قد بڑھا دیے مگر یہ سوچ کے دوبارہ کمرے میں واپس آگیا کہ باہر برآمدے میں ابا لیٹے ہوئے تھے اور ابا بہت کم سوتے تھے۔ وہ اگر اسی طرح بے سکونی سے ٹہلتا رہا تو ابا ضرور وجہ پوچھیں گا اور وہ تو دل کی بات فوراً جانچ جاتے ہیں۔ من میں کوئی بات ہو فوراً ابا پوچھ لیتے ہیں۔ ’’کیوں بھئی فیکے کیا ہوا؟‘‘

فیکے کو یاد آیا جب وہ چودہ پندرہ سال کا تھا۔ نئی نئی جوانی آئی تھی تب آوارہ لڑکوں کے کہنے میں آکے وہ لڑکیوں کے اسکول ان کے پیچھے آوازیں کستا اور سیٹیاں بجاتا آرہا تھا۔ جانے ابا کو کیسے پتا چلا۔ اس دن ابا نے اپنی طاقت سے بڑھ کر فیکے کو مارا تھا۔ ابا روتے جاتے اور کہتے جا رہے تھے، ارے بدبخت گریب کے پاس سوائے عجت کے ہوتا ہی کیا ہے؟ اور تو آوارہ لڑکوں کے ساتھ مل کر میری اِجّب بھرے باجار میں اچھال رہا ہے۔ ابا مار مار کے تھک کر زمین پر بیٹھے رو رہے تھے۔ اگلے دن ابا اسے مولوی صاحب کے پاس لے کر گئے۔ ’’مولوی صاحب اس کی جرا اچھی طرح کھبر لیں۔‘‘

’’حیریت ہے کیا ہوا؟‘‘ مولوی صاحب کے پوچھنے پر ابا نے ساری بات بتا دی۔

تب مولوی صاحب اسے سمجھانے لگے ’’فیکے بیٹے ہم نے اپنے نفس کو بے قابو کر رکھا ہے۔

ہماری عقل نفس کی تابع ہے بیٹا۔ تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے، اپنی شرم و حیا کی حفاظت کروگے تو شیطانی راستے سے ہٹ جاؤگے۔ نظر ابلیسی تیروں میں سے ایک تیر ہے جو شخص خوف الٰہی سے اپنی نگاہ روک رکھے گا، اللہ اس کے دل میں نورِ ایمان پیدا کرے گا۔

میرے بچے میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ ابن آدم کے ذمے اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ لامحالہ پالے گا۔ میرے بچے دل تمنا کرتا ہے، آرزو کرتا ہے۔ ہماری حیا یا تو ہمیں سچ ثابت کر دیتی ہے یا جھوٹا بنا دیتی ہے۔

فیکے بیٹے ہم نے گندی نگاہ سے کسی کو دیکھا تو آنکھوں کا زنا کیا۔ ہم برائی کی طرف چل کے گئے ہمارے پیروں کا زنا ہوگیا۔ ہمارے کانوں نے غلط سنا، تو کانوں کا زنا ہوگیا۔ پتر غیر عورت کو نظر بھر کے دیکھنا بھی آنکھ کا زنا ہے۔ عورت کی طرح مرد کو بھی اپنی عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔ بیٹے عورت بہت بڑا فتنہ ہے۔ ایک عورت چار مردوں کے جہنم اور جنت کا باعث ہے۔ باپ، بھائی، بیٹا اور شوہر۔ ان مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زیر کفالت عورتوں کی تربیت کا خیال رکھیں۔ ہمیں اپنی عزت اور اپنے نفس کا خود خیال رکھنا ہوگا بیٹا۔ ہمیں اپنی اپنی قبر میں جانا ہے اور اپنا اپنا حساب دینا ہے۔ شیطان بندے کی راہ کھوٹی کرتا ہے۔ اگر عورتوں نے اپنے بدن کی سر بازار نمائش لگا دی ہے توہم کیوں نمائش میں شامل ہوتے ہیں؟ سمجھ گئے ہونا رفیق بیٹے! چل جا آئندہ خیال رکھنا۔ تمہارے باپ کو تم سے کوئی شکایت نہ ہو۔ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے آج تم کسی کی عزتوں کا خیال رکھوگے تو کل خدا تمہاری عزتوں کا رکھوالا ہوگا۔

اور پھر رفیق عرف فیکے نے واقعی اپنی عزت کا خیال رکھا۔ اس نے مولوی صاحب کی بات گرہ میں باندھ لی تھی۔ دو سال بعد ابا نے سولہ سال کی عمر میں شادی کردی اور اب رفیق صرف ستائیس سال کا تھا مگر اس دوران وہ سات بچوں کو باپ بن چکا تھا۔

غربت نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ کسی بچے کا جوتا نہیں تو کسی کا کپڑا نہیں۔ دہاڑی اچھی لگی تو کھانے کو مل گیا نہیں تو روکھی سوکھی کھا کے گزارا کر لیا۔ زندگی اسی طرح بے رنگ و بے کیف گزر رہی تھی۔

٭٭

آج پندرہ دن ہوچکے تھے۔ وہ حسینہ اسی راستے سے روزانہ گزرتی۔ فیکے نے اسے میم صاحبہ کا نام دے رکھا تھا۔ وہ بے تابی سے روزانہ اس کا انتظار کرتا تھا۔ وہ میم صاحبہ کے خیالوں میں کھویا رہتا۔ اس کی بے رنگ زندگی میں میم صاحبہ نے رنگ بکھیر دیے تھے۔ وہ اپنے لباس کا خیال رکھنے لگا تھا۔ بالوں میں تیل لگا کے اچھی طرح کنگھی کر کے جاتا۔ اب اس کی قمیص کے کالر پر میل کی تہ دکھائی نہ دیتی۔

جیرا اسے دیکھتا اور مذاق اڑاتا۔ ’’اوئے فیکے اپنے خواب دیکھ اور اپنی اوقات دیکھ۔‘‘

’’عورت جتنی بھی بے وقوف اور ان پڑھ ہو اپنے مرد کی بدلتی نگاہ کو فورا پہچان لیتی ہے۔‘‘ بانو نے بھی کئی بار فیکے سے شکوہ کیا تھا۔ فیکے نے یا تو کوئی جواب نہیںدیا یا پھر بانو کو بری طرح ڈانٹ دیا تھا۔

٭٭

گھر کے صحن میں بانو کھانا تیار کر رہی تھی۔ فیکا بے دلی سے اور دماغی طور پر غیر حاضر ایک چارپائی پر بیٹھا کھانے کا انتظار کر رہا تھا۔ ہمیشہ ایسا ہوتا تھا فیکا گھر آتا جہاں جہاں بانو ہوتی وہاں وہاں فیکا ہوتا۔ فیکا آگ جلاتا، دونوں ایک دوسرے کو دن بھر کی روداد سناتے اور بانو کھانا بناتی، مگر شاید کسی کی نظر لگ گئی۔ کئی دن ہوگئے تھے فیکا بانو سے دور دور تھا۔ تبھی اس کا چھوٹا بیٹا باہر سے بھاگتا ہوا آیا۔ ابا تجھے چاچا جیرا بلا رہا ہے باہر۔ فیکا باہر چل دیا۔ خیر ہے جیرے؟ فیکے نے پوچھا۔

جیرے نے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے فیکے کو دیکھا اور بولا۔

’’کیوں بے فیکے اپنی میم کے گھر نوکری کرے گا؟‘‘

’’کیا…؟ فیکا گرتے گرتے بچا۔

’’ہاں رے۔‘‘ جیرا بولا۔

’’بول جلدی، کیا ہے نوکری؟‘‘ فیکا بے تابی سے بولا۔

’’کوئی لاٹ صاحب تو لگنے سے رہا تو۔ بول میم صاحب کے کتے نہلائے گا۔‘‘

’’میم صاحبہ کو جرورت ہے ملا جم کی۔ ان کا مالی ہے ناں مودا اپنا یار ہے۔ اس نے مجھے کہا ہے کوئی بندہ ہو تو بتا۔ میں نے سوچا فیکے سے پوچھتا ہوں۔ نوکری بھی ملے گی اور موجاں ای موجاں۔‘‘ جیرے نے خباثت سے ایک آنکھ بند کر کے فیکے کی طرف دیکھا اور یوں فیکے نے ریڑھی کو خیرباد کہا اور میم صاحبہ کے گھر کتوں کی رکھوالی کی ملازمت حاصل کرلی۔ ملازمت کیا ملی اس نے اپنے گھر کا رستہ ہی بھلا دیا۔ ماں باپ بچے اور بانو اس کی راہ تکتے مگر وہ تھوڑی دیر کے لیے جاتا اور نوکری کا بہانہ کر کے فوری واپس آجاتا۔ وہ جی جان سے اپنی میم صاحبہ کے کتوں کی سیوا کرتا۔ میم صاحبہ نے نہ صرف اس کو پکی نوکری دے دی بلکہ تنخواہ بھی بڑھا دی۔

شام ہوتی تومیم صاحب اپنے وسیع و عریض لان میں کبھی جوگنگ کرتی پھرتی تو کبھی کسی نہ کسی ورزش میں مصروف ہوتی اور کبھی اپنے سوئمنگ پول میں کسی جل پری کی طرح تیرتی دکھائی دیتی۔ فیکا بہانے بہانے سے لان کے چکر لگاتا۔ وہ بھی ایسا ہی دن تھا جب وہ سارے ملازم جمع تھے۔ سامنے میم صاحب اپنے پیرا کی کے لباس میں سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھی تھی۔ تبھی مودا میم صاحب کی طرف نگاہیں جمائے بولا: ’’یاران جیسی پریوں کو ہم حاصل تو نہیں کرسکتے مگر دور دور سے دیکھ کر اپنی نظریں تو ٹھنڈی کرہی سکتے ہیں۔‘‘

تب سب ملازموں نے زبردست قہقہہ لگایا تھا۔ فیکے کو بہت برا لگا مگر بولا کچھ نہیں۔ دن اسی طرح گزر رہے تھے۔ این دن فیکا موسم کی خرابی کا شکار ہوگیا۔ اس نے کتوں کو کھانا کھلایا اور اپنی بیماری کو کوستا سرکاری اسپتال چل دیا۔ بدقسمتی سے واپسی پر کوئی گاڑی والا اس سے ٹکرایا۔ فیکا سڑک پر گر گیا۔ اسے کافی چوٹیں آئی تھیں۔ گھر سے نکلے اسے کافی دیر ہوگئی تھی۔ وہ تیزی سے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ لان ہی میں اس کا سامنا میم صاحب سے ہوگیا۔ میم صاحب نے غصہ سے فیکے کی طرف دیکھا اور بولی ’’کہاں تھے تم اتنی دیر سے، تمہیں ذرا بھی اپنی ڈیوٹی کا خیال نہیں ہے۔‘‘ فیکا گڑبڑا گیا۔

’’میم صاحبہ میں کتوں کو کھانا کھلا کے گیا تھا۔‘‘ فیکے نے نظریں جھکاتے ہوئے جواب دیا۔

’’مجھے معلوم ہے تم اپنے باپوں کو کھلا پلا کے گئے تھے مگر نہلا کے نہیں گئے تھے۔ کس بات کے روپے لیتے ہو تم ہڈ حرام کہیں گے۔‘‘ میم صاحبہ غصے سے پھنکار رہی تھی۔

’’میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جی اسی لیے دیر ہوگئی۔‘‘ فیکے نے منمناتے ہوئے جواب دیا۔

’’ایکسیڈنٹ ہوا تھا ناں مرا تو نہیں تھا۔ چل دفع ہو اور جا کے ان کو نہلااور ٹہلا۔‘‘ فیکا مرے مرے قدموں سے چل پڑا۔

٭٭

اپنے سارے کاموں سے نپٹ کے وہ اپنے کوارٹر میں لیٹا ہوا تھا۔ آج جو کچھ اس کے ساتھ ہوا وہ بھلا نہ پا رہا تھا۔ واقعی دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ آج اس کی عزت دو کوڑی کی نہ رہی تھی۔ آج اسے اپنی اوقات پتا چل گئی تھی۔ اس کی منافقت اس کی جان کا روگ بن گئی تھی۔ بظاہر وہ ایک شریف اور نظریں جھکا کے رہنے والا معمولی ملازم تھا۔ مگر اسے اپنے دل، نظر اور گندے ذہن پر کنٹرول نہ تھا۔ اس کی شرافت کا لبادہ ایک بھیڑیے نے اوڑھ رکھا تھا۔ جو میم صاحب کو دیکھتے ہی آپے سے باہر ہوجاتا۔ اگر کوئی اس کی سوچ کی گندگی کو پڑھ لیتا تو شاید سنگسار کر دیا جاتا۔ اس کی نگاہیں دیوانہ وار میم صاحبہ کا طواف کرتیں مگر اس میں قصور کس کا تھا۔ اگر شیطان فیکے پر حاوی ہوگیا تھا تو قصور وار میم صاحبہ بھی تھیں۔ شیطان تو انسان کی ٹوہ میں لگا رہتا ہے۔ جہاں اس کا وار چلتا ہے وہ اپنا کام کر دکھاتا ہے۔ آج وہ گم صم سوچوں میں مگن ہے۔ وہ سوچ رہا ہے کہ میں جانتا ہوں میں زمین کا ذرہ ہوں اور میم صاحب آسمان کا ستارہ۔ میں نے اک ایسی خواہش کی تھی جو ناممکن تھی۔ یہ تو میرے اندر کا گند تھا۔

آنسو اس کے گالوںپر بہہ رہے تھے۔ اس نے تو اپنا بہت کچھ کھو دیا تھا مگر تب اسے کوئی احساس نہ ہوا اور آج وہ سوچتا جا رہا تھا اور اس کا دل اندر سے کٹتا جا رہا تھا۔ آج بانو ایک لمحے کو بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو رہی تھی۔ آج بانو اسے بہت یاد آرہی تھی۔ اس کی سوال کرتی نگاہیں وہ بھلا نہیں پا رہا تھا۔ آج فیکا سوچ رہا تھا۔ بانو بھی شاید میم صاحبہ سے بڑھ کے خوبصورت ہوتی اگروہ کسی بڑی حویلی یا کوٹھی کی مالک ہوتی۔ مگر بانو تو اس گھر کی ملکہ تھی جس کا مہاراجہ ایک ریڑھی فروش تھا۔ وہ اپنے ٹوٹے پھوٹے گھر کا بادشاہ تھا تو بانو ملکہ تھی۔ اس کے گھر میں اس کی رعایا پر اس کا رعب تھا، دبدبہ تھا، محبت تھی، خوشیاں تھی، بے شک غربت تھی۔ اگر بانو کو میم صاحبہ جیسی زندگی ملتی تو شاید وہ سب سے بڑھ کے ہوتی مگر یہاں غربت نے اپنا رنگ دکھایا تھا۔ میم صاحبہ خوشبوؤں میں بسی رہتی تھی۔ تو بانو بھی تو پھولوں اور خوشبو کی دیوانی تھی۔

ٹین کے چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں مٹی بھر کے اس نے اپنے آنگن کو پھولوں سے مہکا رکھا تھا۔ وہ کلیوں کو توڑتی اپنے کانوں میں موتیا پہنتی تو کبھی گلاب اپنے بالوں میں سجا لیتی۔ جب وہ اس کی زندگی میں داخل ہوئی تو لگا پورے گھر میں بہار آگئی ہے۔ اس نے جلد ہی پورے گھر کی ذمے داریاں سنبھال لی تھیں۔ شادی کے شروع دنوں میں وہ کبھی کبھی فرمائش کرتی۔ ’’رفیق احمد آج میرے لیے پھولوں کے گجرے لاؤگے ناں؟‘‘

مگر آج تو کیا میں کبھی بھی اس کے لیے گجرے نہ لاسکا۔ میری آمدنی اجازت ہی نہ دیتی تھی۔ میں ہر بار صرف سوچ کے رہ جاتا اور غریبی ہر بار خالی جیب میرا منہ چڑاتی۔ صبر و شکر کا پیکر بانو سب کو کھلا کے آخر میں بانڈی صاف کرتی۔ وہ میری دیوانی تھی مجھے دیکھ کے جیتی تھی۔ آخر میں اس کا فکر، مان اور سب کچھ تھا۔ شرم و حیا کا نمونہ کسی غیر کے آنے پر بڑی سی چادر میں سمٹ جانے والی۔ مگر میں نے بدلے میں اسے کیا دیا۔ غربت، بھوک اور افلاس۔ یکے بعد دیگرے ڈھیر سارے بچوں کی پیدائش۔ خوراک کی کمی نے اس کو پیلا اور کمزور کر دیا تھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے تھے۔ سارا دن کام کے پھیلاوے نے اسے اپنی طرف سے بیگانہ کر دیا تھا۔ میم صاحبہ کی ملازمت کے دوران گھر سے پیغام آیا کہ بانو کی طبیعت خراب ہے اور وہ اسپتال میں ہے۔ میں مارے بندھے گیا تھا۔ زمانے کا ڈر تھا ناں ورنہ شاید جاتا ہی نا۔ خیراتی اسپتال کے بستر پر لاچار پڑی بانو نے بڑی حسرت سے مجھے دیکھا تھا۔ اس کی نگاہیں کئی سوال کر رہی تھیں۔ وہ مسلسل مجھے دیکھ رہی تھی۔ مگر بانو کے پاس رکنے کا میرے پا س کوئی وقت نہ تھا۔ مجھے میم صاحبہ کے پاس جانے کی جلدی تھی۔ اچھا اماں میں چلتا ہوں نوکری کا معاملہ ہے نا، اماں نے سر ہلایا اور میں بانو کو دیکھے بغیر باہر نکل گیا اور پھر اس کے مرنے کی اطلاع آئی۔ میں گیا اور جنازہ بھی پڑھا، میرے اندر کا شیطان سب سے بھاری تھا جو میں اسے دفنائے بغیر آگیا۔ ابا نوکری کا معاملہ ہے۔ بڑی سخت نوکری ہے میں نے مکارانہ انداز سے باپ کو مطمئن کیا اور مجھے محسوس ہوا کہ آج بانو جب اس دنیا سے جاچکی ہے تو مجھے کوئی درد کوئی دکھ کیوں نہ ہوا؟

کیوں کہ میم صاحبہ نے میری زندگی بدل دی تھی اور آج بانو ایک پل کے لیے بھی میری نگاہوں سے نہیں ہٹ رہی۔ کاش وہ ایک بار دنیا میں لوٹ آئے مگر جانے والے کب لوٹ کے آتے ہیں۔ پوری رات ڈھل گئی تھی۔ صبح ہوتے ہی اس نے چابیاں منشی کے حوالے کیں اور بولا منشی جی اب میں مزید نوکری نہیں کر سکتا۔ میم صاحبہ سے کہہ دینا کوئی اور بندوبست کرلیں۔

٭٭

احمد گل فروش نے پھولوں سے بھرا شاپر اس بوڑھے شخص کے ہاتھ میں پکڑایا۔ بوڑھا آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا قبرستان کے اندر داخل ہوگیا اور احمد گل فروش سوچ رہا تھا کہ برسوں گزر گئے ہیں۔ طوفاں ہو یا آندھی گرمی ہو یا سردی اس شخص نے کبھی ناغہ نہیں کیا۔ وہ باقاعدگی سے آتا ہے پھول خریدتا ہے اور اپنی بیوی کی قبر پر چڑھاتا ہے۔ واہ ری محبت ایک شہنشاہ نے محبت میں تاج محل بنا دیا اور یہ غریب تاج محل تو نہ بنا سکا مگر اپنی محبت کو نہی خوب صورت پھولوں سے امر کر رہا ہے۔

مگر یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ محبت تھی، پچھتاوا تھا یا اپنے فرض کی کوتاہی پر رب کا خوف تھا۔ کوئی احساس جرم تھا جو فیکے کو بے چین کیے رکھتا تھا۔ یہ اس معاشرے کا المناک حادثہ ہے کہ جہاں زندہ کی بجائے مردہ لوگوں سے محبت کی جاتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نائلہ بلیغ الرحمن

Leave a Reply