فور وھیل گیئر

مبارک ہو بنو! تاریخ مقر رہوگئی ہے ۔ اب تو ہم شادی کی تیاریاں کریں گے اور آپ آرام۔ ابھی سے چھٹیوں کے لیے درخواست دے دو تاکہ چہرے کا رنگ روپ کچھ نکھر سکے۔ اتنے عرصے بعد ہمارے گھر میں شادی ہوگی کتنا مزہ آئے گا۔ اپیا سحر کو پیار کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔

’’اپیا! ابھی سے چھٹیوں کا کیا ذکر… آپ کی تان تو بس چھٹیوں پر ہی ٹوٹتی ہے۔‘‘ سحر شرما کر بولی۔

’’دیکھا۔ شادی کی تاریوں میں پتا بھی نہیں چلے گا… جہیز تو تقریباً مکمل ہے۔ مگر ہم سب گھر والوں کی تیاریاں اور تمہارے سسرال والوں کی پہناؤنی دولہا میاں کی تیاری… سب کام کرنے ہیں…‘‘ اپیا نے مسکراتے ہوئے امی جان کو بھی ساتھ شامل کرلیا…

’’بیٹا یہ پہناؤنی بھی جہیز جتنا ہی کام ہے۔ سارے سسرال کے جوڑے، سوئیٹر، شالیں اور اس کی ساس اور نندوں کے لیے بھی ہلکا پھلکا زیور… بہت خریداری کرنی پڑے گی۔‘‘ امی اپیا سے بولیں…

’’امی اس کے سسرال کے ساتھ ساتھ میرے میاں اور بچوں کی تیاری بھی تو آپ ہی کریں گی۔ یہی رواج ہے نا۔‘‘ اپیا فوراً بولیں۔

’’تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں؟ سب یاد ہے، تم اپنی شاپنگ اپنی پسند سے کرنا بلکہ آج بھی سسرال جاتے ہوئے مٹھائی لیکر جانا۔ ہماری سحر کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔‘‘ اس خوشی میں امی اپنی بڑی بیٹی کی طرف دیکھ کر مسکرائیں۔

’’یہ ڈاکٹر صاحبہ کے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟ خوشی کا موقع ہے اور ان کا منہ سوجا ہوا ہے۔ خیر تو ہے…‘‘ اپیا کی نگاہ سحر پر پڑی تو وہ چونکیں…

’’یہ تمام رواج ہم لڑکی والوں ہی کے لیے کیوں ہیں؟ بیٹی کو پڑھایا، ڈاکٹر بنایا اور اچھا مسلمان بنایا، اب والدین لڑکی کو اس کے پورے گھر کا سامان دیں۔ سوئی سے لے کر فریج، ٹی وی، کار تک پھر اس کے سارے گھر والوں کو قیمتی جوڑے اور سونے کے زیورات۔ کیا ان رسموں کی کہیں کوئی حد بھی ہے۔‘‘

’’میں تو اپنے بچپن سے یہی دیکھتی آرہی ہوں۔ آپ اور ابو ہمیشہ ہم دونوں بہنوں کے جہیز کے لیے فکر مند رہے ہیں۔ ہماری پڑھائی، ڈگری، تربیت سب پر ہمیشہ آپ نے ہمارے جہیز کو مقدم رکھا، اپیا کی شادی کے بعد اب تک ہر تہوار، موقع کی مناسبت سے ان کے پورے گھر کا سارا خرچہ۔ ان رسموں رواجوں کو کیوں آپ لوگوں نے اپنے گلے کا پھندا بنا لیا ہے۔ بے شمار لڑکیوں کی شادی آپ لوگوں کی بنائی ہوئی رسموں کی وجہ سے نہیں ہوپاتی۔‘‘ سحر ہمیشہ کی طرح اس موضوع پر جذباتی انداز میں بولی۔

’’بیٹا! یہ تو ہمارے پیارے نبی پاکؐ کی مبارک سنت ہے۔ ہم بھی اس سنت ہی کو پور اکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ امی اپنا موقف جھٹ سامنے لے آئیں۔

امی آپ کو بس ہمارے نبی پاک کی یہی سنت یاد ہے۔ سادگی، توکل اور قناعت ان سب کے بارے میں کبھی کچھ جاننے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ والدین یہ سب کر کے پریشان اور زیر بار ہوتے ہیں۔ابا نے اپیا کی شادی پر کتنا قرض لیا تھا پھر میری اور بھائیوں کی تعلیم مکمل کروا کر انھیں سیٹ ہونے میں مدد دی۔ ابھی ان کے پرانے قرض ادا نہیں ہوئے اور میرے لیے اتنے بڑے خرچے سوچ رہی ہیں۔ امی یہ فرض سادگی سے بھی تو ادا ہوسکتا ہے۔‘‘ سحر نے امی کو سمجھانے کی کوشش کی۔

بہنا کل جب تمہارے سسرال والے تم سے جہیز کے بارے میں سوال کریں گے تو پھر میں پوچھوں گی کہ تمہاری کتنی عزت ہوئی ہے؟ اپیا چمک کر بولیں۔

’’ہاں بیٹا! ماں باپ یہ سب بیٹیوں کے محفوظ مستقبل کے لیے کرتے ہیں۔‘‘ امی پیار سے بولیں۔

میرا مستقبل اسطرح سے محفوظ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ نے مجھے اچھی تعلیم دی ہے اچھی تربیت کی ہے بس یہی کافی ہے۔ اگر یہ ڈھیروں چیزیں ہی خوشی کی ضمانت ہیں تو اپیا کیوں خوش نہیں ہیں؟ ہر دو ماہ بعد زاہد بھائی کسی نہ کسی وجہ سے انہیں یہاں ہمارے پاس بھیج دیتے ہیں۔ کبھی کاروبار کے لیے پیسے تو کبھی نند کی شادی، کبھی پلاٹ کی قسط تو کبھی گاڑی کا ماڈل بدلنے کے لیے پیسے۔ امی یہ محفوظ مستقبل تو نہ ہوا ایک مستقل بلیک میلنگ ہوگئی۔‘‘ سحر بولتی ہی چلی گئی۔

’’مجھے بیچ میں مت گھسیٹو، زاہد اور میں بہت خوش ہیں یہ کبھی کبھار کے جھگڑے تو ہر گھر میں ہوجاتے ہیں۔‘‘ اپیا فوراً بولیں۔’’جی ہاں! یہ کبھی کبھا رکے جھگڑے، وہ آپ کو خالی ہاتھ گھر سے نکال دیتے ہیں اور پھر ہر مرتبہ ابو کو بھاری تاوان ادا کرنا پڑتا ہے۔ اور اس دوران میں آپ کے منہ سے اپنے سسرال کے بارے میں کیسے کیسے پھول جھڑتے ہیں۔ اللہ نے تو میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے۔ لباس کامقصد جسم کے عیب چھپا کر خوب صورتی پیدا کرنا ہوتا ہے بھلا آپ دونوں کیسے لباس ہیں کہ جب باہمی چپقلش ہوئی آپ یہاں اپنے میکے آکر ہمارے سامنے کس طرح ان کی عزت افزائی کرتی ہیں اور اب آپ کہہ رہی ہیں کہ اس کے ساتھ بہت خو ش ہوں۔‘‘ سحر چمک کر بولی۔

اچھا میں بھی دیکھتی ہوں کس طرح یہ تمام خیالات، فلسفے، اصول اور کہاوتیں قائم رہتی ہیں۔ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ یہ شادی شدہ زندگی بیماری کے علاج کی طرح نہیںکہ یہ گولی، کیپسول کھالو، سیرپ پی لو یا ڈرپ لگوا لو تو ٹھیک ہوجاؤگے۔ یہ تو بغیر کسی اصول، فلسفے اور نسخے کے سرپٹ دوڑنے کا نام ہے۔ آپ شوہر کو لباس سمجھتی ہیں اور شوہر سسرال اور آپ کو پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے۔ زندگی کے امتحان اور سسرال والے پرچے میں تمہاری ایم بی بی ایس کی ڈگری بھی اعلیٰ مقام نہیں دلوائے گی۔‘‘ اپیا بولتی گئیں۔

میرا دل جلتا ہے، تو زاہد کے خلاف بولتی ہوں۔ مجھے بھی روز روز یہاں ہاتھ پھیلانا پسند نہیں ہے مگر یہ پورے معاشرے کی ملامتیں، پھٹکاریں اور رسوائیاں عورتوں ہی کے حصے میں آتی ہیں۔ اپیا ٹھیک ٹھاک برا مان چکی تھیں۔ سحر ایک افسوس بھری نگاہ والدہ اور بڑی بہن پر ڈال کر اپنے کمرے میں چل دی۔

یہ گھرانا ایک روایتی مگر پڑھا لکھا خاندان تھا۔ شکیل صاحب کی دو بیٹیاں دو بیٹے تھے۔ وہ اپنی بڑی بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کر چکے تھے۔ دونوں بیٹے تعلیم مکمل کرکے اپنی زندگیوں کا آغاز کرچکے تھے۔ اب سحر کی تعلیم مکمل ہونے اور نوکری میں سیٹ ہونے کے بعد عدیل سے اس کی شادی طے ہوئی تھی۔ جو سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ شام میں کلینک بھی چلاتے تھے۔ ان کی برادری میں بے تحاشا جہیز دینے کا رواج تھا۔

اسی طرح بحث و مباحثے کے ساتھ ساتھ ڈھیروں خریداری کے بعد سحر کی شادی بے حد دھوم دھام سے ہوئی اور وہ بیاہ کر عدیل رضا کے ساتھ ایک نئے گھر آن پہنچیں۔ یہ گھر چند ہفتے پہلے ہی کرائے پر لیا گیا تھا۔ پورا گھر ڈاکٹر صاحبہ کے جہیز سے سجا تھا۔ ڈرائنگ روم، ڈائننگ روم، گیسٹ روم، ٹی وی لاؤنج، بیڈ روم اور یہاں تک کہ باورچی خانے کی بھی ہر ایک شے اس جہیز کا حصہ تھی۔ گیراج میں کھڑی نئی چمکتی کار، ڈاکٹرعدیل رضا کے ہاتھ پر بندھی قیمتی گھڑی، جدید آئی فون، ان کے کپڑے، جوتے، غرض ہر چیز قیمتی اور نئی ہونے کا اعلان کر رہی تھی۔ شادی کے بعد ہر طرف سے دعوتوں کا سلسلہ شرو ع ہوگیا۔ ایک ماہ کی چھٹی جیسے پل بھر میں ختم ہوگئی۔ عدیل کے ساتھ ساتھ سحر بھی اپنے اسپتال روانہ ہوئی۔ گو اس کا خیال تھا کہ عدیل ایک دفعہ مروتاً ہی اسے گھر بیٹھنے اور کچھ عرصہ نئے ماحول میں ڈھلنے کے لیے گھر میں وقت گزارنے کا کہیں گے۔ مگر یہاں تو جیسے ہر ایک کو اس کی نوکری کی اس سے زیادہ فکر تھی۔ یہ گھر اس کے سسرال کے قریب ہی کرائے پر حاصل کیا گیا تھا۔ سحر کی ساس خاصے تواتر سے وہاں چکر لگاتی اور اس کے سلیقے اور سگھڑ پن کا جائزہ باریک بینی سے لیتی رہتی۔

سحر کے لیے گھر کے کام سیکھنا ایک نیا تجربہ تھا۔ رفیق حیات اگر ہر قدم پر حوصلہ افزائی کرے، تو کام بہ آسانی سیکھا جا سکتا تھا۔ مگر زندگی کے ساتھی ہی سب سے بڑے نقاد بن جائیں، تو یہ سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ وہ کچن کے کاموں میں سرخ رو ہوتی تو صفائی کے معیار میں کمی رہ جاتی او رصفائی پر توجہ دیتی تو وقت اور توانائیاں دونوں ہی ہاتھ میں نہ رہتے۔ گھر بھی ایک مکمل اور مسلسل کام ہے اور توجہ مانگتا ہے۔ اسے یہ عملی زندگی کا پہلا تجربہ ہوا مگر وہ سسرال سے الگ رہتے ہوئے بھی ان کے تبصروں کی زد میں تھی۔ عدیل رضا کے ساتھ اب ہلکی پھلکی جھڑپیں بڑھنے لگیں اور وجہ نوکری اور گھر میں توازن رکھنے میں ناکامی ہی تھی۔ اس کی معمولی شکل،سانولی رنگت اور فربہی مائل سراپے کی بدصورتی کا احساس صبح شام دلایا جانے لگا۔ عزت نفس کو روز کچلا جاتا وہ خود کو بہلا کر نئے امتحان کے لیے تیا رکرتی اور وہاں ایک نیا وار سامنے آجاتا۔ پڑھے لکھے، سمجھ دار شوہر یقینا بدزباں اور بداخلاق نہیں ہوتے مگر ان کی خاموش ہر جذبے کا کھلم کھلا اظہار کر دیا کرتی کہ وہ ایک ناکام بیوی ہے۔

’’بیگم تم بھی میرے ساتھ کلینک پر بیٹھنا شروع کردو۔ عورتیں لیڈی ڈاکٹر ہی سے علاج کرانا چاہتی ہیں۔ ہمارے کلینک کی آمدنی بہت بڑھ جائے گی۔‘‘ شادی کے ایک سال بعد ہی یہ فرمائش کی گئی۔ ’’لیکن میرے خیال میں سارا دن اسپتال ہی میں اس قدر کام ہوتا ہے کہ پوری شام کلینک پر لگانا میرے لیے ممکن نہیں۔ اس طرح گھر تو پوری طرح نظر انداز ہوجائے گا اور گھر والوں کی غیر موجودگی میں پورا گھر کسی نوکر کے سر پر چھوڑا بھی نہیں جاسکتا۔ سحر نے خاصا معقول جواب دیا۔‘‘

’’گھر کا کام تمہارے بس کا ہے ہی نہیں۔ کھانا تم سے نہیں بنتا، صفائی، برتن، ترتیب سلیقہ کچھ تم میں ہے نہیں، کلینک بیٹھنے سے کم از کم آمدنی میں تو اضافہ ہوجائے گا، میں تو اب نئی اور ماڈرن مشینیں بھی لینے کا سوچ رہا ہوں بلکہ تم ایسا کرو کہ جدید الٹرا ساؤنڈ مشین کے لیے اپنے ابو سے کہہ دو بس ایک مشین ہی ہمارے قدم جمادے گی۔‘‘ عدیل رضا کی منصوبہ بندی مکمل تھی…

سحر حیران رہ گئی۔ کم از کم پچاس لاکھ کی مشین تھی جس کا نام ڈاکٹر عدیل لے رہے تھے۔

دو ہم پیشہ افراد کی باہمی شادی میں بہت سی آسانیاں ہوتی ہیں۔ مگر سب سے بڑا المیہ باہمی تعلق، دوستی اور رشتہ کو استوار کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔ اسی وقت کی کمی نے ان دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کردیے تھے۔ ڈاکٹر سحر کی مضبوط شخصیت اس کا ضبط، حوصلہ اور صبر ڈاکٹر عدیل کو الجھا دیتا۔ الجھاؤ غصے کی صورت میں باہر آتا۔

’’یہ درمیان میں میرے ابا کہاں سے آگئے؟ کلینک آپ کا، آمدنی میں اضافہ آپ کو، ترقی آپ کی اور مشین وہ خرید کر دیں۔ حد ہوتی ہے لالچ کی۔ آئندہ ایسی بات مت کیجیے گا۔‘‘ وہ سختی سے بولی ’’وہ زاہد بھائی جو اپنے پلاٹ کی ہر قسط انکل سے لیتے ہیں وہ…؟ میں تو صرف ایک مشین مانگ رہا ہوں۔‘‘ عدیل اس کے خاندان کو خاصی حد تک جان چکا تھا۔

’’نہ وہ صحیح ہیں نہ آپ۔ جب آپ کے پاس پیسے ہوں، تو اپنا کلینک بڑھا لیجیے گا۔ نہ تو میں وہاں آپ کے ساتھ بیٹھوں گی اور نہ ہی اپنے ابا سے کوئی بھی فرمائش کروں گی۔‘‘

اور پھر اس رات زبردست معرکہ ہوا۔ عدیل نے پہلے خوب زبانی اپناغصہ نکالا اور پھر اسے خوب مارا۔ آخر مین صبح ہوتے ہی اسے گھر سے دفع ہوجانے کا حکم دے دیا۔

ڈاکٹر سحر کو اپنے حواسوں میں آنے میں خاصا وقت لگا۔۔۔ تکلیف اس کے جسم کو بھی تھی مگر روح پہ لگے گھاؤ زیادہ تکلیف دہ تھے۔ وہ وضو کر کے اپنے رب کے سامنے جھک گئی۔۔۔ بھلا اس سے بہتر سننے والا، جاننے والا، رحم والا، کرم والا کون تھا۔۔۔ اور صبر اور نماز سے کام لینے کا اس سے بہتر موقع اور کب آتا۔ ظالم کے ظلم کو برداشت کرنا در حقیقت اس کا ساتھ دیناہوتا ہے۔ سحر نے اس رات صدیوں کا فاصلہ طے کرلیا اور پھر فیصلہ کر کے اپنے رب سے مدد مانگ کر وہ کمر سیدھی کرنے کو لیٹ گئی۔

اگلی صبح طلوع سحر اپنے اسپتال جانے کے لیے حسب معمول تیار ہوئی۔ آج اس نے بڑے شوخ رنگ کی لپ اسٹک لگائی اور آنکھوں میں خاصی فرصت سے مسکارا او رآئی لائنر لگائے تھے تاکہ اس کے چہرے پہ موجود نشانات کسی نہ کسی حد تک چھپائے جاسکیں۔ وہ ایک چھوٹا سا سوٹ کیس لیے باہر آئی، اپنے لیے ناشتا بنایا اسی دوران عدیل بھی تیار ہوکر آن پہنچا۔ ناراضگی کے اظہار کے طور پر انھوں نے میز پر بیٹھنا بھی گوارا نہ کیا اور اسے گھر سے دفع ہونے کا پھر سے حکم دیا۔ وہ آرام سے فارغ ہوکر اٹھی۔ میز سے اپنی کار کی چاپی اٹھائی اور گھر کو لگانے کے لیے تالا بھی عدیل سے لے لیا۔ آج پورے ایک سال بعد سحر ڈاکٹر عدیل کے سامنے مضبوطی سے کھڑی تھی۔

’’ڈاکٹر صاحب! یہ بیگ اٹھائیں کیوں کہ اس گھر سے میں نہیں آپ جا رہے ہیں۔ اس گھر کی ایک ایک چیز میری ہے۔ اس گھر کا کرایہ خرچہ سب میں ادا کرتی ہوں۔ میں آپ کو اپنے گھر سے نکال رہی ہوں۔ اگر آپ نے یہ شادی اتنی ہی احسان سمجھ کر کی تھی تو شکریہ مگر میں وہ کمزور، مظلوم اور مجبور لڑکی نہیں جسے آپ برا بھلا کہیں، ماریں پیٹیں، گھر سے نکال دیں اور وہ روتی دھوتی اپنے ماں باپ کے در پر چلی جائے۔ یہ شادی میری زندگی کا اختتام نہیں ہے جس کے لیے اپنی ذات، انا اور خودداری کو داؤ پر لگا دیا جائے، مجھے دیر ہو رہی ہے۔ آپ یہ بیگ اٹھائیں اور جائیں۔‘‘

اب حیرت کا جھٹکا ڈاکٹر عدیل کو لگا تھا۔ عرش سے فرش پر گرنا، خود داری اور انا کی تذلیل کیا ہوتی ہے۔ اسے اب اندازہ ہوچکا تھا۔ اس کے جانے کے بعد سحر نے تالا لگایا اور اسپتال اپنی گاڑی لیے روانہ ہوگئی۔

جس طرح کچھ گاڑیوں میں فور وہیل گیئر ہوتا ہے جو گاڑی کو مشکل راستوں اور گڑھوں سے نکالنے میں مددگار ہوتا ہے، تعلیم، دین کا علم اور اعتماد اس کا چوتھا گیئر بنا تھا۔ اس کے پاؤں مضبوط اور نیچے کی مٹی نہ چھوڑنے والے تھے۔ آگے پیچھے دیکھنے کی تیز نگاہ، آنکھوں میں فاضل پانی کی ٹنکیاں، اللہ کے خوف کا ایندھن، اور ازل و ابد کی جانب سے رجوع کے اسپیشل گیئر نے اسے صبر و جبر کے دشت، تحمل، بربادی کے صحراؤں، حق و حقانیت کے اونچے پہاڑوں اور غم و اندوہ مصائب و آلام، طعنے و تشنیع کی دلدل سے سرخ روئی کے ساتھ گزرنے کی ہمت عطا کی گئی تھی۔

ڈاکٹر عدیل اپنا بیگ اٹھائے پیدل سڑک پر رواں دواں تھا۔ روایتی مردانگی کا دبدبہ سر جھکائے اپنے سود و زیاں کے حساب کتاب میں مصروف وہ سوچ رہا تھا کہ کس طرح اس رشتے کو دوبارہ سے بحال کیا جاسکے… شاید … اسے اپنی لالچ، خود غرضی اور ظلم کا احساس ہوچکا تھا… سحر کی گاڑی کب کی وہاں سے جاچکی تھی… گاڑی کا غبار رفتہ رفتہ بیٹھ رہا تھا… شاید دونوں کے درمیان موجود اس رنجش کا ملال بھی بیٹھ جاتے… ع

ممکنہ فیصلوں میں ایک، ہجر کا فیصلہ بھی تھا

ہم نے تو ایک بات کی، اس نے کمال کر دیاlll

شیئر کیجیے
Default image
صالحہ محبوب

Leave a Reply