عورت کا معاشرتی و سیاسی کردار (۱)

جس معاشرے میں عدل نہ ہو، وہاں افراد کا استحصال ہوتا ہے۔ عورتیں ہو ں یا مرد سب کے حقوق ماپال ہوتے ہیں اور یہ ظلم صنفی تخصیص کے بغیر ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی اگر عورت مظلوم ہے، تو مرد بھی اس ظالمانہ نظام کی چکّی میں اسی طرح پس رہا ہے۔ ایسے میں اگر ہم یہ واویلا کریں کہ چوںکہ عورتوں کو اپنے حقوق کا علم نہیں ہے اس لیے مرد ان پر زیادتیاں کرتے ہیں، یا عورتوں کو معاشی خود مختاری دی جائے تو ان کو ظلم سے نجات مل سکتی ہے۔سچی بات یہ ہے کہ یہ سب مفروضات ہی ہوں گے، حقیقت کی دنیا میں ایسا نہیں ہے۔ جو معاشرے سو فی صد خواندگی کا تناسب رکھتے ہیں اور جہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں، وہاں کی عورت تو اور بھی زیادہ مظلوم ہے۔ مسلم ممالک کے مقابلے میں مغربی ملکوں کی عورت زیادہ غیرمحفوظ ہے اور مشقت کی چکّی میں زیادہ بْری طرح پس رہی ہے۔پھر یہ کیسے تہمت لگائی جاسکتی ہے کہ ’’اسلام عورتوں سے امتیازی سلوک کرتا ہے اور اقوام متحدہ کا چارٹر عورتوں کے حقوق کا ضامن ہے۔‘‘

اوّل تو اسلامی نظام عملاً دنیا میں کہیں نافذ ہی نہیں ہے، لیکن مسلم ممالک میں جہاں بھی جس درجے میں اسلامی روایات کی پاس داری موجود ہے، وہاں کی عورت نہ صرف محفوظ ہے بلکہ مغربی عورت کی طرح جبری طور پر معاشی جدوجہد پہ مجبور بھی نہیں ہے۔

اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ اسلام عورت کو کیا سیاسی حقوق عطا کرتا ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ: ’’اسلام دین اور سیاست کو علیحدہ نہیں سمجھتا۔ وہ ہر شعبۂ زندگی کو، خواہ سیاست ہو یا معاشرت، معیشت ہو یا تمدن، الٰہی تعلیمات کے تابع کرتا ہے۔ قرآن نے ہر شعبۂ زندگی کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں، وہ صنفی تخصیص کے بغیر تمام انسانوں کے لیے ہیں۔

عام طور پر سیاست سے مراد قانون سازی کا عمل اور قانون کے عملی نفاذ کے لیے اختیارات کا حاصل ہونا ہے۔ قانون ساز اداروں میں شمولیت اور اس کے لیے کوششیں اور معاشرتی فلاحی امور میں شرکت کر کے ووٹر یا رائے دہندہ کا اعتماد حاصل کرنا، یہ سب سیاسی سرگرمیاں شمار کی جاتی ہیں۔ اس طرح اسلامی شریعت کی رْو سے ہر سیاسی سرگرمی بھی خالصتاً دینی سرگرمی ہی ہے ، کیوں کہ اس کا مقصد عوام کی مدد کرنا اور معاشرے کو ظلم ،ناانصافی اور منکرات سے پاک رکھنا ہے۔

معاشرے میں فرد کی سرگرمیاں جس دائرے میں بھی ہوں، اگر وہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہیں تو وہ مثبت بھی ہوں گی اور صحت مند بھی، کیوں کہ اسلام ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ حدود اللہ کے دائرے کو ملحوظ رکھتے ہوئے خواتین کے اوپر کسی بھی طرح کی سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی نہیں ہے۔ البتہ اسلام نہ صرف سیاسی بلکہ کسی بھی ایسی معاشی یا معاشرتی سرگرمیوں کو پسند نہیں کرتا کہ جہاں اختلاط ہو یا عورتوں کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہو۔

اسلامی تاریخ سے مثالیں

اسلامی تاریخ میں ایسی روشن مثالیں موجود ہیں کہ اگر عورت نے سبقت لے جانا چاہی تو اسے روکا نہیں گیا، مثلاً :

٭حضرت ام حبیبہؓ نے اپنے والد ابوسفیان کے ایمان لانے کا انتظار نہ کیا اور اپنے مسلمان ہونے کے لیے ان کی اجازت کو ضروری نہ سمجھا۔ وہ نہ صرف والد سے قبل ایمان لائیں بلکہ ہجرتِ حبشہ کرنے والوں میں شریک تھیں۔

٭تاریخ کی روشن مثال ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی بہن فاطمہؓ کی تلاوت سن کر اسلام لائے۔ عمر بن الخطابؓ کا جاہ وجلال کسی سے مخفی نہ تھا، مگر بہن نے نہ ان سے اجازت لی اور نہ ان کے ہاتھوں زخمی ہونے کے باوجود کلمہ سے منکر ہوئیں، بلکہ ان کی ایمانی استقامت حضرت عمرؓ کے دل کی نرمی کا سبب بنی۔

٭حضرت سمیہؓ جو غلام تھیں، مگر جب ان کو اسلام کی دعوت پہنچی تو انھوں نے اپنے آقا کے ردِ عمل کی پروا تک نہ کی اور پورے شرح صدر سے دائرئہ اسلام میں داخل ہوئیں اور ہر طرح کے ستم برداشت کیے۔

٭اْمِ کلثومؓ بنت عقبہ بن ابی معیط بھی اسلامی تاریخ کی جگمگاتی شخصیت ہیں۔ ابھی کنواری تھیں کہ اسلام کی محبت دل میں گھر کرلیتی ہے۔ ہجرت کر کے مدینہ آجاتی ہیں۔ گھر والے آکر رسول اللہؐ سے مطالبہ کرتے ہیں، چوںکہ بن پوچھے یہ قدم اٹھایا ہے، اس لیے انھیں خاندان کے حوالے کردیا جائے۔ آپؐ یہ مطالبہ مسترد کر کے نئے تشکیل پانے والے مسلم معاشرے کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ عورت مرد کی تابع مہمل مخلوق نہیں ہے۔ اس کو معاشرے میں وہی حقوق حاصل ہیں کہ جو اپنے فیصلوں کے ضمن میں مرد کو حاصل ہیں۔ اسی لیے آپؐ جس طرح مردوں سے بیعت لیتے تھے تو اسی طرح عورتوں سے بھی بیعت لیتے تھے۔ تاہم، طریق کار مختلف تھا۔ خواتین، مردوں کی طرح آپؐ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت نہیں کرتی تھیں۔

عورتوں کی ہجرت

آغازِ اسلام میں جب ہجرت کی گئی تو وہ شدید مشکل حالات تھے۔ سرزمین کفر سے جس طرح مردوں کو ہجرت کا حکم دیا گیا، اس طرح عورتوں پر بھی ہجرت واجب تھی۔ جب مسلمانوں نے مکہ کے مظالم سے تنگ آکر ہجرت حبشہ کی تو اگرچہ قافلہ مختصر تھا، مگر اس قافلے میں خواتین بھی شامل تھیں۔ (متفق علیہ)

اسی طرح ہجرتِ مدینہ کے موقعے پر خواتین، مردوں کے شانہ بشانہ تمام مشکلات کے باوجود ہجرت کرتی ہیں۔ حضرت اسماءؓ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن زبیرؓ اس وقت میرے حمل میں تھے اور حمل کی مدت پوری ہوچکی تھی تو میں مدینہ آئی، قبا کے مقام پر ٹھیری اور وہیں ولادت ہوئی۔ (بخاری ، مسلم)

قرآن پاک میں اللہ کریم نے عورتوں کے سیاسی حقوق سے متعلق بڑی واضح ہدایت دی ، فرمایا: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کر لو، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمھیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال۔‘‘ (الممتحنہ:۱۰)

گویا مسلمان عورت اپنے حقوق سے آشنا ہستی ہے۔ اگر وہ اپنے آبائی دین، یعنی کفر سے بغاوت کرتے ہوئے نہ صرف گھر بلکہ معاشرہ بھی چھوڑ دے تو معاشرہ اس فعل پر لعن طعن نہیں کرسکتا، بلکہ اسلام اس کو پورا تحفظ فراہم کرتا اور اسلامی سوسائٹی میں اس کی عزت وحرمت کا پاس ولحاظ کرکے باوقار مقام دیتا ہے۔ اس لیے کہ اب کفار سے ان کے تعلقات منقطع ہوچکے ہیں، لہٰذا ان کی ذمہ داری مسلم معاشرے کو اٹھانا ہوگی۔

اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے۔ جو مسلمان یہ کام کرتا ہے وہ ریاست کے ادارے کو مضبوط کرتا ہے۔ اس حوالے سے قرونِ اولیٰ کی مسلمان عورتوں نے بھرپور اور بااعتماد کردار ادا کیا۔

عورت کا فعال کردار

ابن سعد نے طبقات میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوطلحہ نے اْم سلیمؓ کو نکاح کا پیغام دیا۔ وہ بولیں: ’’اے ابوطلحہ! کیا تم نہیں جانتے کہ تم اپنے جس معبود کی پرستش کرتے ہو وہ زمین سے اْگنے والا ایک درخت ہے جس کو فلاں حبشی نے کاٹا ہے؟ ابوطلحہ! کیا تمھیں نہیں معلوم کہ جن خدائوں کی تم لوگ پوجا کرتے ہو، اگر تم ان میں آگ لگادو تو وہ جل جائیں گے؟ جس پتھر کی تم عبادت کرتے ہو وہ تمھارا نہ نقصان کرسکتا ہے، نہ نفع پہنچا سکتاہے۔‘‘ نسائی کی روایت میں ہے، پھر ابوطلحہؓ نے اسلام قبول کرلیا اور ان کا اسلام لانا ہی اْمِ سلیمؓ سے شادی کے لیے مہر قرار پایا۔ (نسائی، کتاب النکاح)

اْم سلیمؓ کے اس واقعے پر ہمیں ٹھیر کر اس معاشرے کا جائزہ لینا چاہیے جس نے عورت کو اتنی دلیری عطا کی کہ وہ نکاح کے پیغام دینے والے کو دلائل کی بنا پر مسترد کرتی ہے کہ میرے اور تمھارے درمیان تو معبودوں کا فرق ہے۔ یہ فرق ایک خاندان کی کیسے بنیاد رکھ سکتا ہے؟ اس مثال میں انھوں نے نکاح کے لیے دلیل دین کی بنیاد پر دی ہے اور بین السطور میںحق کا پیغام دیا تھا۔ ان کی دانائی اور بینائی کو چیلنج کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا: ’عقل وشعور رکھتے ہوئے یہ تم نے کون سے معبود بنارکھے ہیں؟‘ یہاں آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام والا داعیانہ انداز نظر آتا ہے کہ جب انھوں نے نمرود کو آثار کائنات سے نشانیاں دے کر چیلنج کیا تھا۔ نمرود تو عقل کا اندھا تھا مگر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اللہ نے قلب ِسلیم عطا فرمایا تھا۔ رشتہ جو ٹھکرایا گیا تو ان کی عقل روشن ہوگئی کہ واقعی ایک عورت کا ایمان اس کے قلب کو کتنا منور کردیتا ہے کہ نہ انھوں نے مال ودولت اور خاندانی پس منظر دیکھا اور نہ ذرائع معاش پر بات کی، بلکہ ایمان کی کسوٹی پر انھیں مسترد کردیا، سو وہ ایمان کی دولت سے سرفراز ہوئے۔

عورتوں کی مساوات کی دہائی دینے والے تاریخ اسلام کی ان روشن مثالوں سے کیوں صرفِ نظر کرتے ہیں؟ اس وقت کی عورت نبویؐ معاشرے میں تھی اور یہ سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہورہا تھا اور قیامت تک کے لیے مثالیں سامنے آرہی تھیں۔

بخاری اور مسلم میں ایک اور خاتون کا ذکر حضرت عمران بن حسینؓ کی روایت کے ذریعے سامنے آتا ہے کہ ایک سفر میں پانی کی سخت قلت تھی۔ ایک عورت جو سفر میں تھی اس کے دونوں پائوں دو مشکیزوں کے درمیان تھے۔ انھوںنے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں ہے تو اس نے بتایا کہ پانی بہت دور ایک رات اور ایک دن کی مسافت پر ہے۔ ہم اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپؐ نے حکم دیا کہ: اپنے برتن بھرلو۔ ہم نے چھوٹے بڑے برتن بھرلیے۔ آپؐ نے فرمایا: تم لوگوں کے پاس جو کچھ ہے معاوضے میں اس عورت کو پیش کرو۔ ہم نے کھجوریں وغیرہ جمع کرکے اسے دے دیں، جن کو لے کر وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئی اور بولی: میں جس آدمی کے پاس سے آئی ہوں، وہ جادوگر ہے یا نبی۔ پھر اس عورت نے اسلام قبول کرلیا۔ مسلمان آس پاس کی مشرک آبادیوں سے لڑتے تھے، مگر اس عورت کی وجہ سے اس کی قوم پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ اس عورت نے اپنی قوم کو توجہ دلائی کہ مسلمان تم پر جان بوجھ کر ہاتھ نہیں اٹھاتے، کیا اچھا ہو کہ تم سب اسلام قبول کرلو؟ روایات میں ہے کہ لوگ اس کی بات مان کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔ (بخاری ، مسلم)

یہ ہے ایک مسلمان عورت کا قائدانہ کردارکہ اس نے خود کو امور خانہ داری تک محدود تصور نہیں کیا۔ جہاں داعیانہ کردار کی ضرورت تھی، اس نے واضح طور پر وہ کردار ادا کیا۔ مردوں نے اس کی تقلید کی اور کسی نے چیلنج نہیں کیا کہ ہم کیوں ایک عورت کی بات پر کان دھریں؟ یا یہ نہیں کہا:

’اب عورتیں مردوں کو عقل کے درس دیں گی؟‘

وہ ایک انتہائی متمدن اور دانش مند معاشرہ تھا، جس میں صنفی تعصب نہیں تھا، حق اور صرف حق کی پہچان بنیاد تھی۔ عورتوں اور مردوں کے انھی شائستہ رویوں پر مبنی پاکیزہ معاشرے کی کرنوں نے ایک زمانے کو منور کردیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
افشاں نوید

Leave a Reply