عید الاضحی

ذی الحجہ کا مہینہ آنے والا ہے اور اسی کے ساتھ عید الاضحی بھی آنے والی ہے۔ عید الاضحی یا عید قرباں وہ اسلامی تہوار ہے جسے مسلمان اپنے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں مناتے ہیں اور یہ یاد ایک عظیم قربانی کی یاد ہے جسے اللہ نے قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا۔ اس میں ایک عمل نماز عید کی ادائیگی ہے اور دوسرا عمل قربانی کا عمل ہے۔

عید کی نماز کا وقت سورج نکل جانے کے بعد سے دوپہر سے کچھ پہلے تک کا ہے او رعید الاضحی کی نماز دس ذی الحجہ کو جسے یوم النحر کہتے ہیں پڑھی جاتی ہے۔ عید کی نماز دو رکعت واجب ہے اور اسے ہر رکعت میں تین زائد تکبیروں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ امام کے پیچھے دو رکعت نماز کی نیت کرلی جائے اور ثنا دھیرے سے پڑھنے کے بعد امام اللہ اکبر کہہ کر دونوں ہاتھ کانوں تک لے جائے اور چھوڑ دے اور مقتدی بھی اسی طرح کرین اور تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں اور عام طریقہ سے ایک رکعت پوری کریں۔ پھر دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورہ پڑھی جائے اس کے بعد تکبیر کہی جائے تیسری تکبیر کے بعد رکوع میں چلے جائیں اور دوسری رکعت بھی پوری کرلیں۔ عورتوں کو نماز گھر ہی میں ادا کرنی چاہیے۔

عید کے دن ان کاموں کو کرنا اچھا ہے

غسل اور مسواک کرنا، اپنے پاس جو سب سے بہترین لباس ہو اسے پہننے اور خوشبو لگانا۔ نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا اور نماز کے بعد ہوسکے تو قربانی کا گوشت کھانا۔ عید گاہ میں نماز پڑھنا اور عید گاہ جاتے وقت ایک راستے سے جاکر دوسرے راستے سے آنا اور راستے میں تکبیر تشریق کہنا۔

عید الاضحی کے دن سب سے اہم کام ہے قربانی دینا۔ قربانی ان تمام لوگوں پر واجب ہے جن پر صدقہ فطر واجب ہے مگر صرف اپنی طرف سے۔ قربانی ہم اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے دیتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کے اشارے پر اپنا بیٹا تک قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ مگر اللہ نے بس آپ کا امتحان لیا تھا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلامک کے بدلے ایک مینڈھا قربان کرنے کا حکم دیا۔ اور قربانی اللہ نے اسی لیے مقرر کی ہے کہ ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہو کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم بھی اپنی محبوب سے محبوب چیز اللہ پر قربان کرنے کے لیے تیار رہیں۔

حضوؐرکا ارشاد ہے کہ اللہ کو عید الاضحی کے دن کوئی کام قربانی دینے سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی دینے والے کو جانور کے جسم کے ہر بال پر ایک نیکی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کے پاس نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ہی ان کا خون بلکہ اللہ کے پاس تو تقویٰ اور پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اور اسی لیے ہمیں خلوص نیت کے ساتھ قربانی دینی چاہیے۔

قربانی کے لیے بھیڑ، بکری، دنبہ یا میمنا، گائے، بھینس، اونٹ یا بیل دے سکتے ہیں۔ ان جانوروں کا عیب سے پاک ہونا ضروری ہے اور جانور کی عمر کم از کم ایک سال ہو۔ چھوٹے جانوروں میں ایک جانور کی قربانی ایک آدمی کی طرف سے اور بڑے جانوروں میں ایک جانور میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ قربانی کرتے وقت صرف اللہ کا نام لینا چاہیے، جس جانور پر کسی اور کا نام لیا جائے وہ ہم پر حرام ہوجائے گا۔ اسے کھانا جائز نہیں ہے۔

حضورؐ نے اس بات کی خاص تاکید کی ہے کہ قربانی دیتے وقت جانور پر ظلم نہ کیا جائے تیز چھری کا استعمال کیا جائے تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔ جانور کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے او رنہ ہی دوسرے جانوروں کے سامنے ذبح کیا جائے۔

قربانی کی دعا یہ ہے

ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ و بذالک امرت و انا من المسلمین اللھم منک و لک۔

اس کے بعد بسم اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرنا چاہیے۔ قربانی کے جانور کے گوشت کا تین حصہ کرناچاہیے اور تینوں برابر ہوں۔ ایک اپنے لیے، ایک رشتہ داروں کے لیے اور ایک غریبوں کے لیے۔ اور بڑے جانور کے حصہ داروں کو چاہیے کہ وہ تول کر اپنے حصے بانٹ لیں۔

قربانی کا مقصد جانوروں پر ظلم و زیادتی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو ہمارے استعمال کے لیے بنایا ہے اور اسلام نے اس کا سب سے بہتر طریقہ اپنایا ہے جس سے کہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ اسلام کے تمام احکام کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھیں اور ان پر پوری طرح عمل کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
انجم فاطمہ ہاسن

Leave a Reply