لفافہ

حجاب کے نام

؟؟

اخبارات کے ذریعہ یہ بات معلوم ہوئی کہ اورنگ آباد میں نیٹ کے امتحان کے موقعہ پر زاعفرانی ذھنیت کی ممتحن خاتون نے با حیاء و با پردہ مسلم طالبات کو اچھی طرح چیک کرنے کے باوجود یہ مطالبہ کیا کہ آپ لوگ نقاب اتار کر رکھیں۔ لیکن کچھ طالبات اس کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔ بلکہ انھوں نے یہ کہا کہ آپ نے اچھی طرح چیک کر لیا ہے کسی بھی طرح کی کوئی ممنوعہ چیز ہمارے پاس نہیں ہے، تب آپ اس کلاس میں جہاں مرد حضرات بھی موجود ہیں، کیوں اصرار کر رہی ہیں کہ نقاب اتار کر ہی بیٹھیں۔ کیا یو جی سی کا ایسا کوئی اصول ہے؟ تب دہلی سے آئی ہوئی یوجی کی نمائندہ خاتون نے انھیں دھمکی دی کہ امتحان میں شریک نہیں ہونے دیا جائے گا، تب مسلم طالبات نے کہا ٹھیک ہے آپ لکھ کر دیں کہ ہمیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے، اس پر مجبور ہو کر اس نے ایک الگ کمرے میں بیٹھا کر اپنی موجود گی میں ان کا پرچہ لیا۔ اور کہا میں تو عورت ہوں اب تو نقاب نکالو۔ حالاںکہ کسی قسم کی کوئی نقل ان طالبات کے پاس نہ تھی۔ اس طرح امتحان میں شریک طالبات کوذہنی طور پر پریشان کیا گیا۔ لیکن حجاب میں قائم رہنے والی طالبات کا کہنا ہے کہ ہمیں اطمینان قلب حاصل ہوا کہ ہم نے اپنی شریعت کا دامن نہیں چھوڑا۔

سلام ہے اس ایمانی جذبہ پر قائم رہنے والی طالبات کو۔ اللہ کرے زور ایمان اور زیادہ۔

فخر ہے قوم مسلم کو ان حیاء کی پاسبان،دختران ملت پر ! اور خدا توفیق دے ہماری وطنی بہنوں کو کہ وہ کھلے دل سے سچائی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور ملت اسلامیہ کو بھی توفیق دے کہ وہ اپنے فرض منصبی کو سمجھ کر برادران وطن تک پیغام حق پہنچائیں۔

ابو عمارہ

انوکھا انداز

جون کا حجاب اسلامی ہمارے مطالعہ میں ہے۔ پورا پڑھ لیا ہے۔ آپ نے کونسلنگ کا سلسلہ جو شروع کیا ہے وہ اچھا ہے۔ اسی شمارے میں معلوم ہوا کہ کونسلر صاحبہ سے براہ راست ای میل کے ذریعے اپنے مسائل معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ جان کر خوشی ہوئی مگر کونسلر صاحبہ کا ای میل نہ تو مضمون کے ساتھ درج ہے اور نہ آپ نے خط کے جواب میں لکھا ہے۔ براہِ کرم ان کا ای میل درج کردیں۔ میرا خیال ہے کہ ان سے واٹسپ کے ذریعے بھی رابطہ کی شکل نکالی جانی چاہیے۔ آپ نے درست کہا کہ ان کو ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ مگر پھر بھی اگر ان کا واٹسپ نمبر دے دیا جائے تو قارئین کے لیے آسانی ہوگی۔

اسی شمارے میں شائع مضمون ’’خدمت خلق کا نیا انداز‘‘ بے حد پسند آیا۔ انوکھا انداز ہے یہ انسانوں کو عزت و تکریم دینے کا۔ دل میں خیال آیا کہ ایسے لوگ کہاں ملتے ہیں۔ خوف، اندیشے اور بے اعتباری نے سماج کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے مگر اس طرح کے طرزِ عمل سے ہم نہ صرف سماج پر اس گرفت کو توڑ سکتے ہیں بلکہ دعوتی نظریے سے برادرانِ وطن کو دل چھولینے والے انداز میں اچھا پیغام دے سکتے ہیں۔

سعدیہ ملک

احمد آباد (گجرات)

مضامین اچھے لگے!

جولائی کا شمارہ میں لکھے گئے سارے مضامین اچھے اور مفید لگے۔

بچوں میں ’’نقص تغذیہ]] والی رپورٹ اچھی ہے۔ یہ ماؤں کو متوجہ کرنے والی بھی ہے اور کارآمد بھی۔ اس کے علاوہ خوشگوار ازدواجی زندگی، تعلیم و کیریئر کے علاوہ ڈاکٹر ابن فرید صاحب مرحوم کا مضمون اچھا لگا۔ مضمون جہاں حقیقت کا آئینہ ہے وہیں مسلم سماج کو خاص طور پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ میں خود حیران ہوتا ہوں جب اچھے اچھے دین دار لوگوں کو اس تفریقی ذہنیت کا شکار دیکھتا ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ دین کو اور رسول کی تعلیمات کو نہ جاننا ہے۔

’’مشورہ حاضر ہے!‘‘ دوبارہ شروع ہونے پر خوشی ہے۔ یہ بڑا کارآمد ہے اور خواتین کے لیے مفید بھی۔ اللہ کرے حجاب اسلامی خوب ترقی کرے۔

زائد فاروق

علی گڑھ (یوپی)

نماز سمجھ کر پڑھیں!

جولائی کے حجاب میں ڈاکٹر محی الدین غازی کا مضمون اچھا لگا۔ نماز کو سمجھ کر پڑھنے کی طرف متوہ ہونا ہی دراصل نماز کی لذت اور اس کے اچھے اثرات کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مشورے عملی معلوم ہوتے ہیں پر عمل کر کے ہم اپنی نمازیں کارگر بنا سکتے ہیں۔

جائشہ جلیل

بھوپال

(بذریعہ واٹسپ

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply