مسلم سماج کی تعلیمی صورتِ حال

جون کے اس مہینے میں جب کہ ملک بھر کا تعلیمی نظام طلبہ کے داخلے کی کاروائی میں مصروف ہے اس بات کا تذکرہ افسوس ناک حقیقت کے طور پر کرنا ضروری ہے کہ اسکولی سطح پر تعلیم چھوڑنے والے طبقات میں مسلم طلبہ کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ملک میں ڈراپ آؤٹ (ہائی اسکول کی سطح پر) کا اوسط جہاں 4.13 فیصد ہے وہیں مسلم بچوں کے ڈراپ آؤٹ کا تناسب 6.54فیصد ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ تناسب ملک کے ایس سی اور ایس ٹی طبقہ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح ہائر سکنڈری کی سطح پر جہاں ڈراپ آؤٹ کا اوسط تناسب 4.03 فیصد ہے وہیں مسلم بچوں کا تناسب 9.49 فیصد ہے جب کہ یہاں شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کا تناسب بالترتیب 5.51 اور 8.59 فیصد ہے۔

مذکورہ اعداد و شمار ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی وزارت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں تحریری طور پر جاری کیے۔

مذکورہ اعداد و شمار تازہ ترین صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے مسلمانوں کے سلسلے میں کسی نئی کیفیت کا انکشاف نہیں کرتے۔ پورا ملک بھی اس حقیقت سے واقف ہے اور مسلمان بھی یہ بات خوب جانتے ہیں کہ وہ کئی پہلوؤں سے ہندوستان میں دلتوں اور پسماندہ طبقات سے بھی پیچھے ہیں، کیوں کہ اب سے کوئی دس سال قبل وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دور میں سچر کمیٹی قائم کی تھی جس نے مسلمانوں کی صورت حال پر ایک بڑی تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی۔ اس کمیٹی کی تحقیقات نے جہاں ملک کے مسلمانوں اور حکومت کو حقیقت حال سے آگاہ کیا تھا وہیں ان جہوں اور شعبوں کی ب ھی نشان دہی کی تھی جن میں مسلمان دلتوں اور پسماندہ طبقات سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان ہی جہتوں میں ایک جہت مسلم بچوں کی اسکولی تعلیم کی صورتِ حال بھی تھی جو ابھی تک اپنے سابقہ ٹرینڈ پر قائم ہے۔ اس حیثیت سے یہ بات اگرچہ نئی نہیں لیکن تکلیف دہ زیادہ ہے کہ تقریباً ایک دہائی کی مدت گزر جانے کے بعد بھی مسلم سماج کی جانب سے ایسی کوئی جدوجہد نہیں شروع کی جاسکی جو اس کیفیت کو کم کرے یا ختم کرنے کی کوش کرے۔ یہ اپنے آپ میں ایک بڑا حادثہ ہے امت مسلمہ کے ساتھ اور شرم ناک حقیقت کہ اس کا موازنہ دلتوں اور ہندوستان کے پسماندہ طبقات سے کیے جانے کا مقام آن پہنچا جب کہ دلت و پسماندہ طبقہ کو انسانی درجہ دینے اور دلانے میں اسلام اور مسلمانوں کا کردار بڑا نمایاں اور روشن ہے بلکہ یہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے اثرات ہیں جنھوں نے ہندوستانی سماج میں انہیں ان کا وقار دلایا ورنہ قدیم ہندوستان میں تو اعلیٰ طبقہ نے ان سے بنیادی انسانی حقوق تک چھین رکھے تھے اور اس کیفیت کی مثالیں آج بھی ہندوستانی سماج میں بہ کثرت دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ سیاست زدہ تھی یا مسلمانوں کو سیاسی طور پر رجھانے اور سادھنے کی کوشش تھی اس پر گفتگو ہوسکتی ہے اور اس وقت کی حکومت نے سچر کمیٹی رپورٹ آجانے کے بعد بھی مسلمانوں کے حالات مین بہتری کے لیے کیا کوششیں کیں یہ سوال بھی اپنی جگہ کچھ معنویت رکھتا ہے۔ مگر اس سے کہیں زیادہ اہم او ربڑا سوال یہ ہے کہ خود مسلمانوں نے سچر کمیٹی رپورٹ آجانے کے بعد اپنے لیے کیا کیا؟

حقیقت یہ ہے کہ تمام سیاسی باتوں سے اوپر اٹھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس رپورٹ نے مسلمانوں کو آئینہ دکھایا تھا اور حقیقی صورتِ حال سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔ ایسے میں مسلم عوام اور مسلم لیڈر شپ کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ اس رپورٹ کو لے کر سیاسی واویلا کرنے کے بجائے اصلاح حال اور تعمیر ملت کی ایسی سنجیدہ کوششوں کی منصوبہ بندی کرتی جو اس کی صورتِ حال کو مقررہ مدت کے اندر اندر تبدیل کرنے کی ضامن بن جاتی مگر افسوس کہ ایسی کوئی جدوجہد نہ ہوسکی اور ایسا اس وجہ سے شاید نہ ہوسکا کہ مسلم لیڈر شپ ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تو مسلم عوام کو متحد کرنے کے لیے میدان میں آسکتی ہے مگر کسی دیرپا، تعمیری اور انقلابی جدوجہد شروع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ایسا شاید اس وجہ سے بھی ہے کہ قیادت کے اندر جو اخلاص، ایثار اور سوز جگر مطلوب ہے وہ یہاں کم ہی میسر ہے۔ دوسرے مسلم قیادت کے مزاج میں یہ عنصر بھی پایا جاتا ہے کہ وہ کسی خطرہ کو دکھا کر یا دیکھ کر ہی فعال اور متحرک ہوتی ہے اور عوام کو منظم کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر کسی دیرپا، مسلسل اور طویل المیعاد تعمیری کوشش کا نہ تو اس کو شعور ہے اور نہ وہ اسے آگے لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دین کو خطرہ میں بتا کر تو وہ لوگوں کو جمع کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے، جیسے سنگھ کے لوگ ہندوؤں کو خطرے میں بتاکر ووٹ بٹورنے کی کوشش میں ہیں، مگر خود کار انداز میں ذہن و فکر کی تبدیلی اور حالات کو بدلنے کا تو اس کے پاس کوئی منصوبہ ہے اور نہ سوچ۔ ایسا ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ دیرپا اور مستقل انقلابی کوششیں تو قربانی مانگتی ہیں اور ہماری قیادت کی ضرورت منفعت ہوتی ہے۔ ہم اب بھی اپنے سوال پر قائم ہیں کہ سچر کمیٹی پر بھرپور بحث و مباحثہ اور تنقید و تاویل کے باوجود مسلم قیادت نے کوئی ایسی منصوبہ بندی کی جس کے ذریعے اس صورت حال کو تبدیل کیا جاسکے یا کوئی ایسی اسٹریٹجی بنانے کے لیے کوئی اجلاس، کوئی سمینار یا کوئی ملی پلیٹ فارم تشکیل دینے کی فکر کی جو اس سلسلے میں کام کرسکتا۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کا موازنہ دلتوں اور پسماندہ طبقات سے کیا جانے کی نوبت آن پہنچی ہے اس لیے یہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان طبقات میں سماجی اور معاشرتی تبدیلی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو نگاہِ عبرت سے دیکھا جائے اور سبق حاصل کیا جائے۔ کیا آج ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پا رہے ہیں کہ دلت سماج نے خود کو ایک ہمہ جہت تحریک میں تبدیل کرنے کی شروعات کر ڈالی ہے۔ دلت سماج کے تعلیم یافتہ افراد اپنے آپ میں تعلیم و ترقی کا ایک ادارہ بن گئے ہیں، چھوٹی چھوٹی اور مقامی سطح کی طویل المیعاد مگر نتیجہ خیز کوششوں نے تعلیم کے میدان میں دلتوں اور پسماندہ طبقات محض تین دہائی سے بھی کم مدت میں کہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے۔ جنگلی جانوروں کے شکار پر منحصر زندگی رکھنے والے انسانوں کو تہذیب و تعلیم سے آراستہ کر دیا جا رہا ہے۔ کیا ہمیں ان طبقات کے درمیان چلنے والی تحریکات مثلاً ’’فروم مائس ٹوماؤس‘‘ نظر نہیں آتیں جنھوں نے غیر مہذب اور جاہل سمجھے جانے والے طبقات کے ہاتھ میں کمپیوٹر کا ماؤس پکڑا دیا۔ کیا ہماری آنکھیں ابھی تک دلتوں کے اندر آرہی سیاسی، سماجی اور تعلیمی بیداری کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم سماج اپنے حالات سے عبرت حاصل کرے اور اپنے حالات کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کرے۔ ان میں سرفہرست تعلیم کے میدان کی منصوبہ بندی ہے جو عظیم تبدیلی کی شاہِ کلید ہے۔ اس منصوبہ بندی کی ضرورت دونوں سطحوں پر ہے۔ ایک سطح اجتماعی منصوبہ بندی ہے جو مسلم قیادت اور ارباب فکر و نظر کی سنجیدہ کوششوں کی طلب گار ہے۔ دوسری ہماری ذاتی اور فیملی کی منصوبہ بندی ۔ اس منصوبہ بندی میں سرفہرست ہمارے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی منصوبہ بندی ہے۔ اس میدان میں لازم ہے کہ ہم ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ مگر اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم سے مصالحت نہ کریں خواہ اس کے لیے ہمیں ایک وقت بھوکا رہنا ہو یا اپنا پیٹ کاٹنا پڑے۔ اسی سے جڑی ذمہ داری پاس پڑوس کے ان خاندانوں کی بھی ہے جو ہمارے آس پاس رہتے ہیں مگر اپنی جہالت و ناخواندگی، یا غربت و افلاس اور درماندگی کے سبب اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہ مسلم سماج کے افراد اور اداروں، دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے تعلیم و تربیت کا انتظام کریں۔ اجتماعی ذمہ داری کے سلسلے میں ہم خود اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے جب کہ دوسرے لوگوں کے بارے میں ہم سے سوال نہ کیا جائے گا۔وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ مسلم ملت تعلیمی صورتِ حال میں تبدیلی کے لیے زبردست جدوجہد شروع کرے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم انفرادی حیثیت میں بھی اس جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے خود کو تیار کرلیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply