5

لوگ کہتے ہیں

سماج میں ایک رویہ یہ عام ہے کہ سنی سنائی بات کو پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے اور جب دریافت کیا جاتا ہے کہ یہ بات کہاں سے معلوم ہویی تو آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے : ’لوگ کہتے ہیں‘ پھیلانے سے پہلے یہ بھی تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی کہ واقعی وہ بات معتبر ہے یا نہیں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس رویّہ کی سخت الفاظ میں مذمّت کی ہے اور اس پر نکیر فرمائی ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ آپ ص نے ارشاد فرمایا :

بئس مطیۃ الرجل زعموا (ابوداؤد:۴۹۷۲)

’’آدمی کی بدترین سواری اس کا یہ قول ہے :لوگ کہتے ہیں۔‘‘

عربی زبان میں مطیۃ سواری کو کہتے ہیں۔ اس ارشادِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی ایک بری عادت یہ ہے کہ وہ ’لوگ کہتے ہیں‘کو اپنا کوئی مقصد حاصل کرنے کے لیے سواری بنا لے ۔ وہ بغیر تحقیق کے کوئی بات کہہ دے۔ بعد میں وہ بات غلط ثابت ہوجائے اور وہ شخص جھوٹا قرار پائے۔ اس بنا پر شک اور ظن و تخمین پر مبنی کسی خبر کو عام کرنا بہت ناپسندیدہ ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ جب تک کسی بات کا پختہ ثبوت نہ ہو ، آدمی اسے زبان پر نہ لایے۔ عربی مثل ہے:زعموا مطیّۃ الکذب (’لوگ کہتے ہیں‘ جھوٹ کی سواری ہے)۔

علّامہ خطابی نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے : ’’آدمی کہیں جانا چاہتا ہے تو وہ کوئی سواری لیتا ہے اور اس کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کوئی بات کہنا چاہتا ہے ، تو اس سے پہلے بغیر ثبوت کے دوسروں کی باتیں نقل کرتا ہے ، تاکہ اس کی بات مدلّل ہوجائے۔ اس چیز کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ’سواری‘ سے تشبیہ دی ہے اور اس کی مذمّت کی ہے ۔قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جو :

٭ افواہیں نہیں پھیلاتے۔٭بے پَر کی نہیں اڑاتے۔٭ بغیر ثبوت اور تحقیق کے کوئی بات نہیں کہتے۔سوچ سمجھ کر بولتے ہیں۔٭پہلے تولتے ہیں ، پھر بولتے ہیں۔ ذرا دیر رک کر سوچئے۔

کیا ہم بھی ایسے لوگوں میں سے ہیں ؟ اگر نہیں تو ،اپنی اصلاح کریں ۔اور ان لوگوں میں شامل ہوجائیں،جو ہمیشہ درست بات بولتے ہیں اور بری سواری پر سوار نہیں ہوتے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

تبصرہ کیجیے