فالج کا مقابلہ کیجیے!

فالج ایسا مرض ہے جو صرف جسم کے کسی حصے کو مفلوج نہیں کرتا بلکہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ فالج کا حملہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کو خون پہنچانے والی کسی شریان میں خون اور آکسیجن کی روانی رک جائے۔ فالج کسی بھی عمر کے فرد کو ہدف بنا سکتا ہے۔ وجہ آج کا طرزِ زندگی ہے جو فشار خون یعنی بلڈ پریشر بڑھا کر اس جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

فالج کی علامات میں شدید سردرد، سر چکرانا، بینائی میں تبدیلی یا دھندلاہٹ، بولنے میں مشکلات، جسم میں سنسنی کی لہر درڑنا وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم چلتے چلتے اچانک گر جانا یا گردن میں درد بھی اس کی علامات ہوسکتے ہیں۔

یہ علامات جنم لیں تو طبی ماہرین سے رجوع کیجیے۔ نیز اپنے طرزِ زندگی میں کچھ تبدیلیاں لاکر آپ فالج کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔

ڈپریشن

ڈپریشن فالج کے چمٹنے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ مایوسی کے شکار عام طور پر تمباکو نوشی زیادہ کرنے لگتے ہیں۔ ناقص غذا کا استعمال کرتے اور جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔ لہٰذا اپنے آپ پر ڈپریشن طاری نہ ہونے دیں۔

پسینہ بہانا

ورزش کرنا فالج سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ معتدل سے سخت ورزش جیسے جاگنگ یا سائیکلنگ سے خاموش فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی جیسے تمباکو نوشی سے گریز، روزانہ ورزش، جسمانی وزن معمول پر رکھنا اور الکحل سے دوری فالج کا خطرہ اسّی فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

نمک کم

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ روزانہ آدھی چمچی نمک استعمال کیجیے مگر بیشتر افراد اس سے کافی زیادہ مقدار میں نمک کا استعمال کرتے ہیں۔ نمک بلڈ پریشر بڑھاتا ہے جو فالج کا خطرہ بڑھانے والا اہم ترین عنصر ہے۔ لہٰذا اس سے پرہیز لازم ہے۔

بجو لوگ سفید رنگ کے پھل اور سبزیوں کا روزانہ استعمال کریں (۱۷۱ گرام سے زیادہ) ان میں فالج کا خطرہ باون فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ سیب اور ناشپاتی فائبر اور سوجن سے لڑنے والے اینٹی اکسائیڈنٹ رکھتے ہیں۔ کیلے، گوبھی، کھیرے، لہسن اور پیاز وغیرہ بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہیں۔

چاکلیٹ

اس کا کوکا فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو خون کی شریانوں کو ہونے والے نقصان سے بچاتے اور خون کے لوتھڑے بننے کی روک تھام کرتے ہیں جو فالج کا باعث بن سکتے ہیں۔

ادویات کا استعمال

کچھ عام ادویات بھی فالج کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔ جوڑوں کے درد میں کمی لانے والی کچھ ادویات فالج کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اسی طرح جو خواتین تمباکو نوشی اور مانع حمل ادویات کا استعمال کریں، ان میں خون کی روانی میں رکاوٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

دانتوں کی صحت

صحت مند دانت دل اور دماغ کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دانتوں کے امراض اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ خیال ہے کہ خراب مسوڑھے بیکٹریا کی تعداد بڑھنے کا باعث بنتے ہیں جو دل کی شریانوں پر حملہ کر کے خون کی روانی روک سکتے ہیں۔

ٹماٹر کھانا

لائیکوپین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ ٹماٹر کو سرخ رنگ دیتا ہے۔ ایک حالیہ طبی تحقیق کے مطابق جن افراد کے خون میں لائیکوپین کی مقدار زیادہ ہو ان میں کسی بھی قسم کے فالج کا خطرہ پچپن فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس اینٹی آکسائیڈنٹ کی زیادہ مقدار ٹماٹر میں ہی پائی جاتی ہے جب کہ تربوز اور امرود بھی اس کے حصول کے لیے بہترین ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اختر علی

Leave a Reply