نوزائیدہ بچوں میں یرقان

یرقان جلد اورآنکھوں کے سفید حصے میں پیلاہٹ کا نام ہے۔ تمام نارمل نوزائیدہ بچوں میں سے تقریباً نصف میں یرقان دیکھا جاتا ہے۔ بالعموم اس کی وجہ سے کوئی مسائل نہیں ہوتے اور عام طور پر یہ پیدائش کے بعد پہلے ہفتے کے اختتام تک کم ہو جاتا ہے۔ اگر یرقان پیدائش کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر ظاہر ہویا دو ہفتے بعد بھی موجود رہے تو ڈاکٹر یا مقامی ہسپتال سے رابطہ کریں۔
پیلاہٹ کی وجہ کیا ہے؟
انسانی جسم میں ہر وقت نیا خون بنتا رہتا ہے اور پرانا خون ختم ہوتا رہتا ہے۔ ختم ہونے والے خون کے سرخ خلیات سے بننے والی چیزوں میں سے ایک سرخ صفرا (Bilirubin) کہلاتا ہے۔ سرخ صفرا جگر میں جاکر ایک عمل سے گزرتا ہے جسے گھل جانا کہتے ہیں اور پھر یہ پاخانے کے ساتھ جسم سے نکل جاتا ہے۔ پیدائش کے بعد پہلے چند دنوں میں آپ کے بچے کا جگر اتنی اچھی طرح کام نہیں کرتا جتنی اچھی طرح یہ بعد میں کام کرتا ہے لہٰذا خون میں Bilirubin کے اکٹھا ہوجانے کا رجحان ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے جلد اور آنکھوں کے سفید حصے میں پیلاہٹ پیدا ہوتی ہے۔
کیا یرقان نقصان دہ ہے؟
بیشتر ننھے بچوں کے لیے یرقان نقصان دہ نہیں ہوتا۔ جگر میں گھلنے کے عمل سے نہ گزرنے Bilirubin کی بہت بلند سطح کی وجہ سے سماعت کے مسائل ہوسکتے ہیں اور دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہسپتال میں یہ یقینی بنانے کے لیے احتیاط کی جاتی ہے کہ Bilirubin کی سطح زیادہ نہ بڑھائے۔ اگر یہ سطح زیادہ ہو تو کچھ بچوں کو علاج کی ضرورت ہوگی۔ اس صورت حال میں عام علاج یہ ہے کہ بچے کو خاص روشنیوں کے نیچے رکھا جاتا ہے جسے فوٹو تھراپی کہتے ہیں۔ تادیر یرقان لاحق رہنے کی وجہ جگر کی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ اگر یرقان زیادہ عرصے یعنی دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ جگر کی بیماری کی ایک علامت یہ ہے کہ آپ کے بچے کا پاخانہ بہت ہلکی رنگت کا ہوگا بجائے اس کے کہ اس کی رنگت پیلی، سبز یا بھوری ہو۔ خون کے ٹسٹ کے ذریعے Bilinubinکی سطح چیک کرنا (کل مقدار بھی اور گھلی ہوئی مقدار بھی) جگر کے مسئلے کی موجودگی کے دریافت کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جگر کی بیماری کی وجہ سے ہونے والے یرقان کی فوری چھان بین ضروری ہوتی ہے تاکہ درست علاج شروع کیا جاسکے۔
زیادہ مکان
جن بچوں کو یرقان ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، ان میں یہ شامل ہیں:
٭ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے۔
٭ کسی انفیکشن جیسے پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں مبتلا بچے۔
٭ Rhesus ریسس یا Rhبچے: جس بچے کے خون کا گروپ اپنی ماں سے مختلف ہو، اس کے خون کے خلیات زیادہ تیزی سے ٹوٹ پھوٹ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں یرقان ہو جاتا ہے۔
٭ جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہوں: انہیں بھی چار ہفتے یا اس سے زیادہ دیر تک یرقان رہ سکتا ہے۔ اس کی وجوہ مکمل طور پر معلوم نہیں ہیں تاہم یہ ایک ایسی تشخیص ہے جو دوسرے امکانات رد ہوجانے کے بعد ہی کی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ بچے کو زیادہ عرصے تک یرقان رہنے کی وجہ ماں کا دودھ ہے۔
٭ جگر کی بیماری میں مبتلا بچے: ابتدائی مراحل میں یہ بچے دوسرے لحاظ سے صحت مند دکھائی دے سکتے ہیں۔ بچے کے پاخانے کا رنگ دیکھنا بہت اہم ہے۔ اگر اس کا رنگ ہلکا ہو تو بچے کے خون کے ٹسٹ کے ذریعے Bilirubin کی سطح چیک کی جانی چاہیے۔ اگر یہ سطح بلند ہو تو بچے کو جلد از جلد ایک اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے جسے بچوں کے نظام انہضام اور جگر کا اسپیشلسٹ کہتے ہیں۔
پیمائش یرقان
خون کے ایک ٹسٹ کے ذریعے Bilirubin کی سطح چیک کی جاتی ہے۔ کچھ ہسپتال بچے کی جلد پر ایک آلہ لگا کر بھی ایک سکریننگ ٹسٹ کرتے ہیں جس سے یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آیا خون کے ٹسٹ کی ضرورت ہے۔ یہ طے کرنے کے لیے خون کا ایک ٹسٹ ضروری ہوتا ہے کہ آیا یرقان کی وجہ جگر کی بیماری ہے۔ اس کے لیے جگر کے فعل کے ٹیسٹوں کے ذریعے پیمائش ضروری ہوتی ہے نیز Bilirubinکی کل مقدار اور گھلی ہوئی مقدار کی پیمائش بھی ضروری ہے۔
ہوسکتا ہے کئی لیبارٹریاں صرف کل Bilirubin کی پیمائش کریں سوائے اس کے کہ ڈاکٹر نے گھلی ہوئی سطح کی پیمائش کے لیے خاص ہدایت کی ہو۔اس صورت میں ہسپتال کا عملہ خون کا ٹیسٹ کرے گا کہ:
٭ خطرے کے عوال موجود ہوں مثلاً وقت سے پہلے پیدائش۔
٭ یرقان زندگی کے پہلے دن کے دوران پایا جائے۔ ٭ یرقان بہت زیادہ ہو۔
٭ دو ہفتے کی عمر کے بعد یرقان برقرار رہے۔
علاج
پہلے ہفتے میں ہلکے یرقان کے لیے مائع پلانے کے علاوہ کوئی علاج ضروری نہیں ہوتا۔ نوزائیدہ بچوں کے جسم میں پانی کی مناسب مقدار جاتے رہنا نہایت ضروری ہے کہ پانی کی تھوڑی کمی کیوجہ سے اکثر یرقان بہت بڑھ جاتا ہے۔ درمیانی حد کے یرقان کا علاج اس طرح کیا جاتا ہے کہ بچے کو ننگے بدن آنکھوں پر حفاظتی ماسک لگا کر ایک تیز روشنی یا نیلاہٹ مائل روشنی کے نیچے رکھا جاتا ہے۔ اسے فوٹو تھراپی کہتے ہیں اور یہ علاج کئی طریقوں سے محفوظ طور پر کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو تھراپی کی روشنی جلد میں موجود Bilirubinکو توڑ پھوڑ کر یرقان کو ہلکا کردیتی ہے۔ اس علاج سے بچے کا پاخانہ پتلا ہوسکتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بچے کو زیادہ مائع پلایا جاتا ہے۔ نگرانی کے بغیر بچے کو دھوپ میں براہ راست رکھنے کا مشورہ نہیں دیا جاتا کیوں کہ یہ نقصان دہ ہوسکتا ہے اور بچے کی جلد جھلس سکتی ہے۔ شدید یرقان میں بچے کو خون لگانے کے خاص عمل کی ضرورت ہوسکتی ہے جس میں بچے کو نیا خون چڑھا کر اس کے جسم سے Bilirubin نکالا جاتا ہے۔ اگر جگر کی بیماری کے شواہد موجود ہوں (ہلکے رنگ کا پاخانہ، گہرے رنگ کا پیشاب، گھلی ہوئی Bilirubin کی بلند سطح، جگر کے فعل کے ٹیسٹوں کے ابنارمل نتائج) تو بچے کو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر کے پاس لے جانا ضروری ہوتا ہے۔
ننھے بچوں کو یرقان ہونے کے نتیجے میں بالعموم کوئی دیرینہ مسائل پیش نہیں آتے۔ جن بچوں کے یرقان کی سطح بلند ہو، ان کی سماعت کا باقاعدہ وقفوں سے چیک اپ کروانا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ اس بارے میں آپ اپنے ڈاکٹر یا چھوٹے بچوں کی نرس سے مشورہ کرلیں۔ یرقان کی بہت بلند سطح کی وجہ سے دماغ کو نقصان پہنچنا اب نہایت شاذ و نادر ہے کیوں کہ زندگی کے ابتدائی چند دنوں میں ہسپتال میں یا جلد ہسپتال چھوڑ دینے کی صورت میں گھر پر ایک پروگرام کے تحت یرقان کی سطح پر محتاط نظر رکھی جاتی ہے۔
یاد رکھیں:
٭اگر یرقان دو ہفتے سے زیادہ دیر رہے تو اپنے ڈاکٹر یا مقامی ہسپتال سے رابطہ کریں۔
٭ اگرچہ ماں کا دودھ دیر تک یرقان رہنے کی ایک عام وجہ ہے، آپ کے ڈاکٹر یا ہسپتال کو دوسری وجوہ ذہن میں رکھنی چاہیں مثلاً جگر کی بیماری۔
٭ ہلکے رنگ کا پاخانہ اور گہرے رنگ کا پیشاب جگر کی بیماری کی علامت ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں یہ اہم ہے کہ خون کے ٹسٹ کے ذریعے Bilirubin کی کل مقدار اور گھلی ہوئی مقدار چیک کی جائے اور جگر کے فعل کے ٹسٹ کیے جائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حارث ندیم

Leave a Reply