غزل

نفرتوں کی وہ آتش ہے پھیلی ہوئی، عشرتیں مٹ گئیں، سسکیاں رہ گئیں

وہ فضا بن گئی گلشنِ ہند کی، آشیاں جل گئے، بجلیاں رہ گئیں

ہر طرف شور ہے ظلم و عدوان کا، ہر مسلماں ہے دہشت سے سہما ہوا

کچھ نہ پوچھو مری بزم کی حالتیں، مشعلیں بجھ گئیں، آندھیاں رہ گئیں

سرپرستی قیادت کی ایسی ملی،جو ممولے تھے شہباز بننے لگے

عدل و انصاف کا چاند گہنا گیا، ملزموں کے لیے پیشیاں رہ گئیں

وہ جسارت میں ہر روز بڑھتے گئے، بزدلی نے ہمیں کاٹ کر رکھ دیا

منزلوں نے انہیں بڑھ کے بوسے دیے، اپنے حصے میں ناکامیاں رہ گئیں

اب تو آئیں بھی دہشت کے نرغے میں ہے،آدمیت ہوئی ملک میں در بدر

آہ مرنے کو ہے اپنی جمہوریت،ایک دو آخری ہچکیاں رہ گئیں

یہ صحافت، یہ جمہوریت کا ستوں،چند سکّوں کے بدلے میں بکنے لگی

حق بیانی لٹی، صاف گوئی پٹی،ایک لے دے کے بے شرمیاں رہ گئیں

کون جیتا ہے اسلام کے واسطے، جس کو دیکھو وہی مغربی ہوگیا

دین داری کا نقشِ کہن مٹ گیا، داڑھیاں کٹ گئیں، ٹائیاں رہ گئیں

جب سے ہم نے سیاست کو دھکے دیے، ہم کو یاروں نے رومال باور کیا

جاں گسل ہو گیا زندگی کا سفر، کٹ گئے پاؤں، بیساکھیاں رہ گئیں

ہوش کل تھا، نہ اب ہے مسلمان کو،جس کو دیکھو کھلونا ہے اغیار کا

جرأتیں سن ہوئیں، غیرتیں مرگئیں، رہ گئیں کچھ تو شہنائیاں رہ گئیں

شیئر کیجیے
Default image
فضیل ناصری

Leave a Reply