پیاس بجھاتے چلو! (قسط-16)

حیدر مرتضیٰ فضا آپو کی طرف دیکھ کر بولے : ’’مجھے ان دنوں راتوں کو نیند نہیں آتی تھی کہ اگر رفیق چچا یا دواؤد چچا نے ابا کو میری اس حرکت کے بارے میں بتا دیا تو کیا ہوگا۔ اور تب میں صرف اور صرف رفیق چچا کو دکھانے کے لیے پابندی سے مسجد میں نماز کے لیے حاضری دیتا۔ اسی وقت سے مجھے نماز کی عادت پڑی۔ میں رفیق چچا کا یہ احسان کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ وہ تو محلے کے ایک معمولی سے رکشا چلانے والے تھے۔ وہ رکشا بھی ان کا اپنا نہ تھا بلکہ کرایے کا ہوتا تھا۔ انھوںنے تو میری تربیت کرتے وقت نہیں سوچا تھا اماں کہ حیدر دوسرے کا بچہ ہے۔ چور بنتا ہے تو بنے مجھے کیا۔ اور نہ ہی انھوں نے مجھ پر سختی کرتے وقت اور مجھ سے وعدہ لیتے وقت یہ خیال کیا کہ اس کے والدین کو اعتراض ہوسکتا ہے۔ رفیق چچا اور اکبر دادا نے اپنا اپنا رول بخوبی نبھایا۔ اسی لیے ہم لوگ ذمہ دار شہری اور اچھے مسلمان بن سکے… لیکن افسوس ان کے بعد کی نسل نے یعنی ہم نے اپنا کردار ادا کرنے میں سخت کوتاہی برتی۔ پہلے معاشرہ کا ہر بچہ ہمارا بچہ ہوا کرتا تھا مگر آج وہ دوسرے کا بچہ ہے… جس کا بھلا برا چاہنے کا حق صرف اس کے ماں باپ کو ہے… جسے غلط باتوں پر صرف اس کے والدین ٹوک سکتے ہیں جیسے صحیح راستہ صرف اس کے والدین دکھا سکتے ہیں اور جسے درست بات اور درست عمل کی طرف رہنمائی صرف اس کے ماں باپ کرسکتے ہیں۔

حیدر مرتضیٰ کے لہجے میں معاشرے کی بے حسی کا درد بول رہا تھا۔

’’اماں بھی ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں۔‘‘ آمنہ نے جھجکتے ہوئے ساس کی تائید کی اور دبے لہجے میں بولیں… ’’اگر اس کے والدین اعتراض کر یں گے تو…‘‘

’’تو کیا…؟‘‘ اگر ان کو اپنے بچے کو کسی کا صحیح بات سکھانا برا لگتا ہے تو یہ ان کی کم عقلی ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری اولاد کو کوئی اچھی سیکھ دے رہا ہو تو ہمیں تو خوش ہونا چاہیے۔بہرحال مجھے واقعی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میری کس بات پر کس کو اعتراض ہے… مجھے جو درست لگتا ہے وہ میں کر کے رہوں گا۔ چاہے کوئی مخالفت کرے یا تائید، اعتراض کرے یا اتفاق۔‘‘

حیدر مرتضیٰ مضبوط لہجے میں کہہ کر انہیں کی طرف دیکھنے لگے جو نیچے کار پیٹ پر بیٹھا تھا اور بڑوں کی باتوں سے بے نیاز مختلف قسم کے اشاروں سے یاسر کو ہنسانے کی کامیاب کوشش کر رہا تھا۔ انس کے دیدے گھمانے اور اور ہاتھوں کی انگلیوں کو نچانے پر یاسر کھلکھلا رہا تھا۔ اس کی کلکاریاں سب کے کانوں کوبھلی لگ رہی تھیں۔ حیدر مرتضیٰ کو ادھر دیکھنے پر باقی سب بھی یاسر کی طرف متوجہ ہوگئے تھے، جس کی ہنسی کی آواز سارے کمرے میں گونجنے لگی تھی…

گھر کے بچوں کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر دل میں کتنا سکون اتر آتا ہے۔ حیدر مرتضیٰ کے چہرے پر اس وقت ایک نرمی بھرا نور پھیلا تھا۔ فضا آپو ان کی ساری باتوں سے اتفاق رکھتی تھیں۔ یونہی تو نہیں وہ اپنے چاچو کی مداح تھیں۔ چاچو ان لوگوں میں سے نہیں تھے جن پر کسی نے تنقید کردی یا مخالفت کی تو وہ بڑوں کے احترام میں اپنے صحیح عمل سے رک گئے بلکہ وہ مضبوط قوت ارادی کے حامل اپنے فیصلوں پر ڈٹے اور جمے رہنے والے انسان تھے۔ فضا آپو نے اپنے چاچو سے بہت کچھ سیکھا تھا اور شاید ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی تھا۔

فضا کو اچھی طرح پتہ تھا کہ امی (تائی جان) کو ان کا انس پر توجہ دینا اور ساتھ لانا برا لگتا ہے لیکن فضا بھی انس میں اسی طرح انویسٹ کرنا چاہتی تھیں جس طرح بقول چاچو اکبر دادا اور رفیق چچا نے حیدر مرتضیٰ میں کیا تھا اور حیدر مرتضیٰ نے فضا میں کیا تھا۔ تاکہ انس بڑا ہوکر ان کے لیے صدقہ جاریہ بن سکے کہ جو بھی اچھی باتیں وہ انس کو سکھائیں ان پر عمل کر کے انس ان کے لیے صدقہ جاریہ بن سکے۔

حالاں کہ تائی جان انس کی وجہ سے فضا کو ڈانٹتی رہتی تھیں کہ اب تمہارا بھی بچہ ہے کیوں دو دو کو ساتھ لیے پھرتی ہو۔ لیکن چاچو نے انہیں اسی بات پر بارہا شاباشی دی تھی۔ فضا، حیدر مرتضیٰ کو کبھی کبھار ویڈیو کال کرلیتی تھیں اور حیدر مرتضیٰ ہمیشہ انس کو ان کے آس پاس پاتے۔ فضا آپو اکثر اوقات انس کی بھی چاچو سے بات کراتی تھیں۔ اس لیے انس کو ’’حیدر نانو‘‘ سے اچھی جان پہچان ہوگئی تھی۔ اور انسیت بھی۔

’’مجھے اتفاق ہے حید ربھائی سے۔‘‘ نانی جان اس ساری گفتگو میں پہلی بار شامل ہوئی تھیں۔ ’’اماں بچوں کو تھوڑا بہت بہادر ہونا ہی چاہیے، اب کل رات کی ہی بات لے لیں۔‘‘ پھر وہ فائزہ کے ڈر کر چیخنے کا واقعہ پوری تفصیل سے سنانے لگیں۔ جس میں اپنی نیند خراب ہونے کا اور صبا کی بے آرامی کا خاص طور پر ذکر تھا۔

’’فائزہ کے چلانے سے تو ہم گھبراہی گئے تھے۔ بے چاری بچی چھپکلی سے ڈر گئی تھی۔‘‘ تائی جان کے لہجے میں افسوس اور ترحم تھا۔

’’اچھا تو یہ بات ہے رات کو اس کی نیند پوری نہیں ہوئی اسی لیے وہ گھر آکر دوبارہ سوگئی تھی۔‘‘

آمنہ تو نارمل انداز میں کہہ کر فضا سے گفتگو میں مشغول ہوگئی لیکن تائی جان کی بات پر حیدر مرتضیٰ قدرے ٹھٹھک گئے تھے۔ یقینا بات کچھ اور تھی۔ وہ اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتے تھے۔ فائزہ چھپکلی سے نہیں ڈرتی تھی۔ اسے چڑیے اور چوہے کا فوبیا تھا جسے باوجود کوشش کے وہ اب تک ختم نہیں کرپائی تھی۔ چھپکلی کو تو وہ خود ہی جھاڑو سے مار کر ختم کردیتی اور اس کو خود ہی پھینک بھی آتی تھی۔ پھر کل رات ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ ڈر کر چیخ پڑی اور وہ بھی ایسے چلائی کہ سارا گھر جاگ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گئے۔

تبھی فائزہ سب کو سلام کرتی اندر آئی۔ فضا آپو نے خیر مقدمی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی۔

’’گھر کا دروازہ ٹھیک سے بند کر دیا تھا نا کیوں کہ سب لوگ ادھر ہی ہیں۔‘‘

آمنہ نے اپنی تشفی چاہی۔

’’جی امی! مین گیٹ تو لاک ہے میں درمیانی دروازے سے ہی آئی ہوں اور اسے بھی اچھی طرح بند کیا ہے۔‘‘

آمنہ کو مطمئن کر کے وہ یاسر اور انس کے ساتھ کار پیٹ پر ہی بیٹھ گئی۔ لیکن خلاف معمول آج والہانہ انداز میں یاسر کو گود میں اٹھا کر پیار نہیں کیا تھا۔ دیر تک سونے کی وجہ سے چہرے اور آنکھوں پرہلکی سی سوجن تھی۔

تایا جان شاید غسل کر کے فارغ ہوچکے تھے۔ ان کی پکار پر تائی جان انہیں ناشتہ دینے اٹھ گئیں۔

’’تم چائے پیوگی فائزہ بیٹا؟‘‘ تائی جان نے شہد آگیں لہجے میں اس سے پوچھا۔ حید رمرتضیٰ کے سامنے فائزہ کے ساتھ ان کا لہجہ یونہی مٹھاس والا ہو جایا کرتا تھا۔

’’بیٹھو تم میں تمہارے لیے چائے لے آتی ہوں۔‘‘ اس کے منع کرنے سے پہلے ہی وہ آگے چل دی تھیں۔

حیدر مرتضیٰ متفکر نظروں سے فائزہ کو دیکھ رہے تھے جس کی رنگت نچڑ کر رہ گئی تھی اور دس بجے تک سونے کے بعد بھی وہ فریش نہیں لگ رہی تھی بلکہ بجھی بجھی اور اَپ سیٹ سی تھی۔

’’پھر کل رات تو دونوں بہنوں پلس سہیلیوں نے خوب باتیں کی ہوں گی۔ مزے کیے ہوں گے۔‘‘

انھوںنے شگفتگی سے فائزہ سے پوچھا۔

’’صبا تو کل بہت جلدی سوگئی تھی۔‘‘ فائزہ کی بجائے آمنہ نے شوہر کو جواب دیا۔ ’’اوہ پھر تو تم بہت بور ہوئی ہوؤگی۔ کیا کیا تم نے تب؟؟‘‘

وہ بغور اس کی صورت جانچ رہے تھے۔ جہاں اس کے چہرے کے رنگ تبدیل ہو رہے تھے۔

’’بس ایسے ہی میگزین دیکھ رہی تھی… پھر مطالعہ کرتے کرتے آنکھ لگ گئی…‘‘ اس نے مختصر لفظوں میں جواب دیا۔

’’میں جب سے آیا ہوں کوئی کتاب دیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ ذرا لانا تو بیٹے کیا پڑھ رہی تھیں…‘‘ میں بھی تھوڑا مطالعہ کرلوں۔‘‘

فائزہ کے چہرے پر سایہ لہرایا پھر وہ تیزی سے اٹھ کر وہاں سے میگزین لینے صبا کے کمرے میں چلی گئی۔ اس کی بے چینی حیدر مرتضیٰ سے پوشیدہ نہیں تھی۔

مرتضیٰ اپنے کمرے میں بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے ہوئے کہنی پیشانی پر رکھے آنکھیں موندے نیم دراز تھے۔ ان کا آج کا دن اچھا گزرا تھا۔ قیصر مرتضیٰ آج انہیں جہاں انٹرویو کے لیے لے گئے تھے وہاں ایک قابل سول انجینئر کی اشد ضرورت تھی۔ وہ کمپنی قیصر مرتضیٰ کے ایک کلیگ کے برادر نسبتی کی تھی۔ قیصر مرتضیٰ سے حید رمرتضیٰ کی قابلیت کے بارے میں جان کر ان کے کلیگ قریشی صاحب نے ہی انہیں اپنے برادرِ نسبتی کی کمپنی کو جوائن کرنے کا مشورہ دیا تھا اور اپنے سالے سے بھی نجات کرلی تھی۔ حیدر مرتضیٰ ایک قابل سول انجینئر تھے اور کمپنی کا مالک ان کی صلاحیتوں اور اتنے سالوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اس نے پہلے انٹریو ہی میں حیدر مرتضیٰ کو اوکے کر دیا تھا۔ حیدر مرتضیٰ بھی مطمئن تھے۔

تنخواہ گو اتنی پرکشش نہیں تھی لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے تو انہیں اپنی تنخواہ تک نہیں ملی تھی۔ تو اب اس جاب سے انہیں کم از کم ہر مہینے قلیل ہی سہی لیکن رقم تو ملے گی۔ وہ اس بات سے بھی بہت پرامید تھے کہ اگر وہ اپنی سعودی کمپنی پر دائر کیے گئے کیس کو جیت لیتے ہیں تو ان شاء اللہ ان کی سال بھر کی محنت کا معاوضہ اور پورے پچیس سال کی گریجویٹی کی رقم انہیں ضرور مل جائے گی۔

وہ بظاہر آرام دہ حالت میں نظر آرہے تھے اور فی الحال ان کے دماغ میں اپنی جاب کو لے کر کوئی بات نہیں تھی بلکہ وہ کسی اور چیز کے متعلق سوچ رہے تھے۔

روز نامہ ’’نوید ہندوستان‘‘ کا وہ خصوصی شمارہ (میگزین) ان کے پہلو میں پڑا تھا۔ وہ اسپیشل ایشو انھوں نے پڑھ لیا اور فائزہ کے اضطراب کی وجہ اچھی طرح سمجھ میں آگئی تھی۔

پہلے تو انھوں نے اس شمارے کی سرسری ورق گردانی کی۔ پھر مشمولات دیکھ کر عین اسی مضمون پر ٹھہر گئے جو شاید فائزہ نے گزشتہ رات کو پڑھاتھا۔ انہیں معلوم تھا کہ عبد الباری وسیم صاحب کے آرٹیکل وہ دلچسپی سے پڑھتی ہے کیوں کہ اکثر و بیشتر وہ فون پر بھی ان سے اس بارے میں گفتگو کرتی تھی اور بہت اچھا تبصرہ کرتی تھی۔ حیدر مرتضیٰ نے بہت سنجیدگی سے ان مضمون کا مطالعہ کیا پھر اگلا مضمون شروع کیا۔ پلٹانے کے لیے انھوں نے صفحہ کا کونہ پکڑ ا تو الٹتے ہوئے وہ کاغذ کا ٹکڑا پھٹ کر ان کے ہاتھ میں رہ گیا۔ انھوں نے اس پھٹے ہوئے بوسیدہ ٹکڑے کو حیرت سے دیکھا۔ وہ تو نیا میگزین تھا پھر یہ کونہ اتنا سکشتہ کیسے ہوگیا تھا۔ یقینا یہ فائزہ کی اضطراری حرکت تھی۔ وہ پریشان کے عالم میں کبھی ہونٹ کاٹتی کبھی دو پٹے کا کونہ مسلتی رہتی تھی۔ جب وہ مضطرب ہوتی تب بے اختیار ایسے ہی کرنے لگتی تھی۔ لیکن یہ کونہ وہ کیوں رگڑ رہی تھی؟! یہ رمضان بخاری کا مضمون تھا ’’باطل تحریکات: ایک جائزہ‘‘ میگزین کا چکنا اور رنگین صفحہ تھا۔ وہ بغور پڑھنے لگے۔

RSS کا تفصیلی تعارف اور ان کے ٹریننگ کیمپس کے مناظر۔ اچھا خاصا خوف زدہ کرنے والا مضمون تھا۔ مضمون نگار نے اپنی معلومات اور قابلیت کے خوب جھنڈے گاڑے تھے۔ مضمون پڑھنے کے بعد فوری طور پر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ قاری پر Rss کی دھاک اور رعب بٹھانے کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ اور تصاویر بھی ایسی منتخب کی گئی تھیں جن کو دیکھ کر بندہ اتنا ڈر جائے کہ آج کے حالات کو لے کر ’’فکر مند ہونے‘‘ اور کچھ کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ بس دہشت زدہ ہوکر اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دے۔تحریر کے اختتام پر بھی کوئی تسلی والی یا حوصلہ افزا بات نہیں تھی اور نہ ہی کسی لائحہ عمل کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ ان حالات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ مضمون عبد الباری صاحب کے مضمون سے یکسر الگ تھا۔گو کہ سب ایڈیٹر جناب عبد الباری نے بھی آج کے حالات کی عکاسی کی تھی جسے پڑھ کر قاری فکر مند تو ہو لیکن خوف زدہ نہیں، اور فائزہ تو ایک ٹین ایجر بچی تھی۔ایسی تحریر پڑھ کر وہ یقینا بے چین ہوگئی تھی۔ اور یہی مطالعہ کرتے کرتے سوگئی ہوگی اور کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ کر چیخ پڑی ہوگی۔

صبح تو حیدر مرتضیٰ نے سوچا تھا کہ وہ خود فائزہ سے بات کریں گے کہ کل رات وہ کیوں چلائی تھی لیکن اب انہیں کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ صبح کے نکلے شام کو گھر پہنچے تھے۔ فائزہ اور آمنہ قیصر مرتضیٰ کی طرف تھے۔ اس لیے صبح کے بعد سے ان کی فائزہ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ وہ سعودی سے جب بھی ہندوستان آتے ان کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ زیادہ سے زیادہ قت بیوی اور بیٹی کو دیں۔ لیکن اکثر ایسا کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ چالیس دن پلک جھپکتے بیت جاتے اور وہ دل میں حسرت لیے واپس لوٹ جاتے۔

لیکن اب چوں کہ وہ ہمیشہ کے لیے وطن واپس آگئے تھے تو وہیں سے یہ ارادہ کر کے نکلے تھے کہ فائزہ اور آمنہ کو ان کے حصے کا پیار، تربیت اور بھرپور وقت ضرور دیں گے۔

انہیں ہر وقت یہ احساس جرم رہتا تھا کہ وہ فائزہ کی تربیت کا حق نہیں ادا کرسکے۔ اپنی اس کوتاہی پر وہ ملول اور شرمندہ رہتے تھے۔

فائزہ ان کی لاڈلی بیٹی ڈری اور گھبرائی ہوئی تھی تو کیا ان کی شہزادی میں ’’وہن‘‘ آگیا تھا۔ اس کی تربیت کی ذمہ داری تو ان پر ہی تھی پھر کیوں انھوں نے اس سے پہلو تہی کی؟

اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا تھا کہ باپ جو تحفہ اپنی اولاد کو دیتا ہے ان میں سب سے بہترین تحفہ اچھی تربیت ہے۔ تو کیا وہ اپنی بچی کو یہ گفٹ نہیں دے سکے تھے۔ اسے ایک بہادر اور نڈر مسلمان نہیں بنا سکے تھے؟ اسے دعوت کے کام کی اہمیت نہیں سمجھا سکے تھے۔ ان کی بیٹی ان سے بالکل مختلف زندگی گزار رہی تھی۔ حیدر مرتضیٰ اپنی ٹین ایج میں ایسے نہیں تھے۔ وہ تو بہت متحرک اور اتھل پتھل مچا دینے والے نوجوان تھے۔ جذباتی اور جوشیلے نوجوان!!نڈر، بے باک اور بہادر …کسی سے بھی نہ ڈرنے والے نہ دبنے والے مضبوط انسان… جن کا دل جذبہ جہاد اور شوقِ شہادت سے لبریز تھا۔ حیدر مرتضیٰ کی بیٹی کو ڈرپوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بزدل اور کمزور نہیں ہونا چاہیے تھا ہرگز نہیں۔

’’آپ سوگئے ہیں؟بیوی کی آواز سے خیالات کا سلسلہ یک لخت ٹوٹا تھا۔ انھوں نے کہنی آنکھوں سے ہٹائی۔ آمنہ سامنے سوالیہ نشان بنی کھڑی تھیں۔

’’ٹھیک سے لیٹ جائیں اس طرح تو گردن دکھے گی؟‘‘

آمنہ نے نرمی سے کہتے ہوئے ان کا تکیہ درست کیا۔ حید رمرتضی تھکاوٹ سے اٹھے واقعی گردن اکڑنے لگی تھی۔’’آپ آرام سے سوجائیں۔‘‘ انھوں نے لحاف شوہر کے پیروں پر ڈالا۔ حید رمرتضیٰ نے دیوار گیر گھڑی دیکھی رات کے دس بج رہے تھے۔

’’فائزہ کہاں ہے وہ سوگئی؟‘‘

’’وہ آج بھی صبا کے ساتھ سوئے گی۔ البتہ اماں آگئی ہیں اور اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہیں۔‘‘

’’فائزہ نے کھانا ٹھیک سے کھایا۔ کہاں ہے وہ؟‘‘

’’فائزہ یا صبا؟‘‘ آمنہ نے تصحیح چاہی… فائزہ تو ٹھیک تھی بیمار تو صبا تھی ناں۔

’’ہاں دونوں۔‘‘ انھوں نے سرخ آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

’’دونوں ٹھیک ہیں کھانا بھی کھالیا اور اپنے کمرے میں سونے بھی چلی گئیں۔ سب کام نمٹا کر ہی آئی ہوں ادھر۔‘‘ آمنہ نے اپنا سرہانہ صحیح کیا ا وران کے پہلو میں لیٹتے ہوئے تفصیلی جواب دیا۔

’’فضا چلی گئی؟‘‘ حید رمرتضیٰ کے سوالات جاری تھے۔

’’نہیں فضا آج رکے گی۔ بھائی صاحب ابھی گھر واپس نہیں آئے، بھابھی نماز عشا پڑھ رہی ہیں اور مہران اسٹڈی میں مشغول ہے۔ صبا اورفائزہ سوگئی ہیں فضا یاسر کو سلانے کی کوشش کر رہی ہے آپ مجھ سے سوالات کر رہے ہیں اور میں جوابات دے رہی ہوں اور کسی کے متعلق جاننا ہے جناب کو…‘‘

انھوں نے سب کا احوال سناتے ہوئے اپنی بیزاری کو شوخی میں بدلتے ہوئے سوال کیا… حیدر مرتضیٰ ہنستے ہوئے اٹھے۔‘‘ ’’جی نہیں بس اتنا ہی جاننا تھا معلومات دینے کے لیے شکریہ۔‘‘

’’آلویز ویلکم سر! پانی یہیں رکھا ہے پی لیں اور سوجائیں۔‘‘ وہ انہیں باہر کی طرف جاتا دیکھ کر بولیں۔

’’اچھا ٹھیک ہے سوجائیں آپ بھی۔ تھکی ہوئی ہوں گی۔‘‘ انھوں نے لائٹ آف کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔ اور اندھیرے میں آمنہ زیر لب مسکرا دیں۔ جس کا شوہر بیوی کی تھکاوٹ کا احساس کرنے والا ہو ایسی عورت کبھی تھک سکتی ہے کیا۔ وہ تو ایسے جملے سن کر تازہ دم ہوجاتی ہے۔ انھوں نے سکون سے آنکھیں موند لیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ

Leave a Reply