ایک شمع جلانی ہے! (قسط ــ 17)

خلوص دل کی جھلک جب سخن میں آئی ہے

تو زندگی سی نظر انجمن میں آئی ہے

پچھلے کئی دنوں سے وہ دیکھ رہا تھا کہ غافرہ مسلسل موبائل یا لیپ ٹاپ میں مصروف رہ رہی تھی… جب بھی وقت ملتا، ماویہ سوئی ہوئی رہتی یا وہ ماویہ کے ساتھ ہوتا تو غافرہ یا تو موبائل پر ٹک ٹک کرتی نظر آتی یا پھر لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر انگلیاں پھیرتی۔

ایک شام جب غافرہ دو کپ چائے لے کر اس کے پاس آبیٹھی تو وہ طنز کیے بنا نہ رہ سکا۔

’’کیا بات ہے!! آج شوہر بیچارے کی تو قسمت ہی کھل گئی ہے۔ مسز ابتسام کو آج موبائل لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا سے ہٹ کر شوہر نظر آہی گیا۔‘‘ وہ طنز کرتے وقت غافرہ کے بجائے مسز ابتسام کہا کرتا تھا۔

’’اور نہیں تو کیا… اب جب شوہر بے چارے کے پاس مسز ابتسام کے لیے وقت ہی نہ ہو… آفس سے آنے کے بعد بیٹی لگتی ہے آپ کو یا موبائل۔ زیادہ وقت Whats app پر آئے میسج اور ویڈیو دیکھنے میں اور خبریں پڑھنے میں چلا جائے تو بیوی نے بھی موبائل میں ہی پناہ ڈھونڈلی۔‘‘ غافرہ نے بھی جواباً چوٹ کی۔

جان گیا ہوں کہ تم کتنا Irritateہوتی ہوگی اس سے کیوں کہ میں خود پچھلے آٹھ دس دنوں سے جی جان سے Irritate ہو رہا ہوں۔ ابتسام نے برا سا منہ بنا کر کہا تو غافرہ بے ساختہ ہنس پڑی۔

’’ہز بینڈ ڈیر! ادھر آئے!!

بتاتی ہوں آپ کوکہ کیا کرتی رہی میں اتنے دقت۔‘‘

غافرہ نے ایک نظر آرام سے سوئی ماویہ پر ڈالی اور Bed side سے لیپ ٹاپ اٹھا لائی۔

ابتسام حیران رہ گیا۔ اسے لگا تھا کہ غافرہ سوشل میڈیا میں مصروف رہی تھی شاید! اسے اب تجسس ہوا کہ آخر وہ کرتی کیا تھی… غافرہ نے لیپ ٹاپ آن کیا اور ’’بچپن‘‘ نام سے بنا Folderکو کلک کیا اور پھر بے شمار فولڈر کھل گئے۔

lNursury Ryms

lAbdul Bari cartoon

lMera Naam Abdullah Cartoon series

lAnimated movies

lselected cartoons

ltravelling

lanimal documentory

lkid’s art & craft

’’یہ سب کیا ہے…؟‘‘ ابتسام نے حیران ہوکر پوچھا۔‘‘

’’ہم بچوں کو ان کے شوق سے دور نہیں کرسکتے! ماویہ کے ساتھ جو بچے رہتے ہیں وہ سارا وقت موبائل میں بے کار کے کارٹون دیکھتے رہتے ہیں۔ بچے اپنے دوستوں کے ساتھ یہ سب Shareکرتے ہیں۔ ابھی تو وہ ہمارے سمجھانے پر بہل جاتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب اس کا دل چاہے گا تو وہ یہ کام چھپ کر کرے گی۔

اور اگر اس میں اتنی سمجھ اور شعور نہ پیدا ہوا تو وہ اچھے اور برے میں تمیز نہیں کرپائے گی۔ تو میں نے یہ سب کچھ اس کے لیے جمع کیا ہے۔ ہر Cartoon اور Movie میں نے خود یکھی ہے۔ چند ایک کے علاوہ وکوئی نازیبا ڈائیلاگ نہیں اور وہ چند ایک بھی اسی لیے رہنے دیے تاکہ ان چند ایک پر ہمیں ایسے Reactکرنا ہے کہ یہ بہت غلط چیز ہے یہ اور پھر اسے ہلکے پھلکے انداز میں بتانا ہے کہ اس طرح کی باتیں غلط ہوتی ہیں۔

اب روزانہ ایک وقت طے کرکے ہم اس کے ساتھ یہ دیکھا کریں گے۔‘‘

ابتسام خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

’’ان سب کے دوران ہمیں اسے بتانا اور سمجھانا ہے کہ یہ TVموبائل، کارٹون وغیرہ بذاتِ خود برے نہیں ہوتے لیکن ہمیں کیا دیکھنا ہے، کتنا دیکھنا ہے یہ ہمیں طے کرنا ہوتا ہے اور ہمیں یہ Rulesاس کے اندر پکے کردینے ہیں۔

Rulesاس لیے کہ ٹی وی پر، انٹرنیٹ پر، فلموں میں کیا دیکھنا چاہیے اور کیا نہیں اس کی کوئی عمر اور حد نہیں ہوتی۔ اکثر یہ غلط فہمی ہے کہ بڑے ہونے پر جیسے ہمیں سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے سب دیکھنے کا نہیں۔ یہ سب سے غلط بات ہے۔ بات عمر کی نہیں حیا کی ہوتی ہے اور حیا رکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو…اسی لیے ہمیں اگر اسے کچھ دیکھنے سے منع کرنا ہے تو یہ نہیں کہنا ہے کہ بیٹے تم چھوٹی ہو بلکہ یہ کہ بیٹا یہ غلط ہے۔ بے حیائی ہے، اللہ کے ناپسند ہے تو یہ تمہیں کبھی نہیں دیکھنا…‘‘

غافرہ تو اپنی دھن میں کہہ رہی تھی لیکن ابتسام! ابتسام کے دل میں عجیب پکڑ دھکڑ ہو رہی تھی۔

’’بچوں کو ان چیزوں سے مکمل طور پر دور کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد وہ اپنے یہ شوق چھپ کر پورا کرتے ہیں اور یہی سارے مسائل کا اہم حصہ ہے۔

بچوں کو متبادل دینا چاہیے، بہترین متبادل۔ غافرہ اپنی ساری معلومات اور تجربہ کا تجزیہ کر کے اسے بتا رہی تھی۔

’’یہ سب ہم اسے ڈائریکٹ موبائل میں بھی تو بتا سکتے تھے نا، اتنا سب ڈاؤن لوڈ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ ابتسام نے ذہن میں ابھرتے سوال کو پوچھا تو غافرہ مسکرا دی۔

’’ہاں… میں نے بھی یہی سوچا تھا لیکن موبائل سے نکلنے والی برقی لہریں نقصان دہ تو بڑوں کے لیے بھی ہوتی ہیں لیکن اس سے کئی گنا زیادہ نقصان دہ بچوں کے لیے ہوتی ہیں کیوں کہ بچوں کی جلد ہمارے مقابلے زیادہ باریک ہوتی ہے اور ہمارے مقابلے میں ساٹھ فیصد زیادہ اِن لہروں کو جذب کرتی ہے۔ یہ سب پڑھنے کے بعد میں نے یہ سب ڈاؤن لوڈ کر کے محفوظ کرلیا۔ اب ہم لیپ ٹاپ پر دکھا سکتے ہیں اسے یا پھر پین ڈرائیو میں ڈال کر TVپر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔‘‘

او رابتسام!؟؟ ان سب کے بعد ابتسام کو یقین نہیں آرہاتھا یہ غافرہ ہے!! وہ کبھی کبھی غافرہ کو مکمل ہاؤس وائف کے روپ میں دیکھ کر بور ہوجاتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس میں ورکنگ وومن جیسی اسمارٹنس اور شارپنس نہیں ہے لیکن اب اسے یہ احساس ہو رہا تھا کہ وہ غلط تھا۔

اور وہ حقیقت میں تھا بھی غلط فہمی میں! مرد کو کبھی عورت کو ہاؤس وائف کے روپ میں انڈر اسٹیمپٹ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ جان لینا چاہیے کہ وہ اس کے گھر اور بچوں کے لیے اپنے وقت کو اور اپنے ۲۴ گھنٹوں کو قربان کر رہی ہے، ورنہ وہ وقت پڑنے پر ہر روپ دھار سکتی ہے اور اگر باشعور ہو تو پھر تبدیلی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply