کاش

کل اور آج کا فرق دیکھئے، پہلے آج کا واقعہ سنیے! گزشتہ دنوں ایک انیس سالہ صومالیہ نژاد حسینہ حلیمہ عون نے امریکی شہر نیویارک میں رنگا رنگ فیشن ویک کی رعنائیوں میں حجاب پہن کر ریمپ پر واک کیا تو سبھی اسکو دیکھتے رہ گئے۔ جہاں دیگر لڑکیوں نے تیراکی کا لباس پہن کر حصہ لیا وہیں حلیمہ باحجاب خواتین کے لیے تیراکی کا مخصوص لباس پہن کر جلوہ گر ہوئی جس میں اس کے بال اور جسم مکمل طور پر ڈھکا ہوا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ منتظمین اس پر راضی ہوگئے۔ (ملاحظہ ہو روز نامہ منصف بروز چہار شنبہ گھر آنگن صفحہ اول مورخہ آٹھ نومبر ۲۰۱۷)

دنیا جانتی ہے کہ ایسے فیشن شوز میں شرکت کنندگان کے جسم کا ہر زاویہ سے فوٹو شوٹ لیا جاتا ہے اور انہیں ریمپ پر واک میں تتلیوں کی طرح تھرکتے اور مٹکتے چلنا پڑتا ہے۔

اب آئیے کل کی جانب تاریخ شاہد ہے شہنشاہ اونگ زیب کی بہو دارا شکوہ کی دختر شہزادی جہاں زیب بانو، جو شہزادہ محمد اعظم کی شریک حیات تھیں۔ شجاعت و دلیری میں بہت آگے اور تلوار کی دھنی بھی تھیں۔ جب صوبہ دکن کا علاقہ بیجا پور میں تھا وہاں کے سرداروں نے بغاوت کی، کئی ہزار لشکر لے کر شاہی لشکر کا محاصرہ کرلیا جب شکست یقینی نظر آرہی تھی تو شہزادہ اعظم نے بیگم کو خفیہ راستے سے دار السلطنت بھیجنا چاہا اور ساتھ ہی جذباتی انداز میں یہ بھی بیگم سے کہا کہ میں لڑتے ہوئے شہید ہوگیا تو ٹھیک ہے لیکن اگر فتح ہوگئی تو تلوار کسی کے قدموں میں نہ ڈالوں گا۔ شاہی خون کھول اٹھا، زیب جہاں ہاتھی پر سوار میدان جنگ میں کود پڑیں اور دشمنوں کے لشکر پر بے جگری سے تیر اندازی شروع کردی۔ شہزادی کے اس عمل کو دیکھ کر مایوس فوج میں جان آگئی اور وہ دشمن پر ٹوٹ پڑی اور شام تک متوقع شکست فتح میں بدل گئی۔

چند دنوں بعد حیدر آباد میں سیاحت کے دوران شہزادی زیب جہاں کے سینہ میں داہنی جانب ایک پھوڑا نکل آیا۔ شاہی طبیب اور ڈاکٹر کے علاج سے افاقہ نہ ہوا۔ ڈاکٹر کے مشورہ پر دار السلطنت سے لیڈی ڈاکٹر بلائی گئی، مریضہ انگریز خاتون کا نام سن کر چونک پڑی۔ خادمہ سے معلوم ہوا کہ اس کی عمر چالیس برس ہے ارو وہ شراب کا ذوق رکھتی ہے۔ شہزادہ اعظم کے لاکھ منانے کے باوجود علاج نہ کروایا اور یہ کہتے ہوئے جان آفرین کردی کہ مجھے موت منظور ہے پر میرے جسم کو ایک مشرکہ اور فاسقہ کا ہاتھ نہ چھوئے ۔ (ملاحظہ ہو صفحات ۳۶ تا ۶۵، دین و دنیا ، مئی ۲۰۱۷)۔

ایک کا حجاب غیروں کے سامنے تھرکنے پر فخر کرتا ہے تو دوجے نے موت گوارا کی پر مشرکہ فاسقہ کو اپنے جسم کو چھونے نہ دیا۔

کاش! امت کے وہ روشن خیال خواتین اس ناداں کو بتلائیں کہ تو کس کے عمل سے خاتونِ جنت کی روح تڑپی ہوگی اور کس عمل سے روح خوش ہوئی ہوگی؟

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری

Leave a Reply