4

رشتے

انسانی خاکے کی تصویر کشی میں سب سے گہرا رنگ رشتوں کا ہوتا ہے ،جو نہ صرف اس تصویر کو دلکش بناتا ہے بلکہ اس میں روح بھی ڈالتا ہے۔بغیر رشتوں کے انسان ایسا ہے جیسے کوئی انسان بغیر انسانیت کے۔رشتے کشتی کی طرح ہوتے ہیں اگر کشتی کی سارے خدوخال قائم رہیں تو منزل مقصود کے پیرہن سے آراستہ کرتی ہے اور اگر اس کے عناصر بے اعتدالی کا شکار ہو جائیں تو زندگی کو آنچل سے برہنہ کر دیتی ہے۔

رشتے روح سے بنتے اور جسم سے ٹوٹتے ہیں۔ رشتے کچی مٹی کے گھڑے کی طرح ہوتے ہیں جو خشک رہے تو ٹوٹ جاتا ہے اور پانی سے بھرا رہے تو زندگی پاتا ہے۔ رشتے احساس کے کپڑے سے بنتے ہیں پہنا جائے تو جمال جاں اور اتارا جائے تو وبال جاں۔انسان اور رشتوں کا تعلق ایسے ہے ،جیسے بلبل اور گلاب کا، اگر بلبل گلاب کے لیے نغمہ سنج ہو تو بہار ہے اور اگر گلاب بلبل کے لیے کپکپائے تو خزاں۔زندگی کے اداس ساغر میں رشتے تلاطم کی طرح ہوتے ہیں جب موجیں ٹکراتی ہیں تو ساغر کے وجود کو آشکار کرتی ہیں-

رشتے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو ہم بناتے ہیں اور دوسرے وہ جوہمیں ملتے ہیں۔یہ دونوں رشتے احساس کی ڈور سے بندھے ہوتے ہیں جو اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ہر آنے والے نئے رشتے کو اپنے اندر پرولیتی ہے اور اتنی کمزور ہوتی ہے کہ جب ٹوٹتی ہے تو رشتوں سمیت بکھر جاتی ہے۔بعض اوقات خونی رشتے خون آلودہ کر دیتے ہیں اور بناوٹی رشتے بنا دیتے ہیں۔ خونی رشتے خاردار جھاڑی کی طرح ہوتے ہیں جو سائے کے ساتھ ساتھ زخم بھی دیتے ہیں اور بناوٹی رشتے موسم کی طرح ہوتے ہیں جووقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔رشتے انسانی زندگی میں کبھی غموں کا بادل تو کبھی خوشیوں کا ساون لے کر آتے ہیں۔

گلوں میں رنگت ہے،بلبل کی نغمگی ہے، آبشاروں کا ترنم ہے، ہوا کی سرسراہٹ ہے،پرندوں کی چہچہاہٹ ہے،کوئل کی کو کو ہے،تاروں کی جھلملاہٹ ہے، چاند کی لوری ہے، رات کا سکوں اور دن کا ہنگامہ ہے یہ سب کچھ نہ ہوتا اگر رشتے نہ ہوتے۔

دائرے

زندگی کتنی لمبی اور ٹیڑھی میڑھی ہے ،ہمیشہ وہ یہی سوچا کرتی۔شائدیہی وجہ تھی کہ اسے دائرے ہمیشہ اچھے لگتے۔ جب بھی، جہاں بھی موقع ملتا وہ دائرے بنایا کرتی تھی۔ اْسے لگتا کہ زندگی کو بھی اگر ایک دائرے میں سمیٹ لیں تو جینا آسان ہوجائے گا۔ زندگی کے مقصد کوپانے میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہوگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوچ اْس کے دماغ میں دائرے بناتی گئی اورپھر، اْس نے اپنی زندگی کوبھی ایک دائرے تک محدودکرلیا۔

کچھ وقت کے لئے تواْسے لگا کہ جیسے اْس نے اپنی زندگی کوسجالیا ہے۔ لیکن اب اْسے لگ رہاتھا کہ اْس نے اپنی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں سے قید کرلیا۔ زندگی میں ٹیڑھا پن کتنا پرکشش ہوتا ہے، اس بات کا احساس اپنے گرد دائرہ بنانے کے بعد اْسے ہواتھا۔ اب لاکھ چاہے، وہ اس دائرے کو توڑنہیں پاتی تھی۔ اوریہی گول دائرہ اْسے اب ٹیڑھا لگنے لگاتھا۔

زندگی

انسان مٹی کا بنا ہوا ایک بت ہے، جس کے اندر روح پھونک کر اسے مختلف ادوار اور مختلف تجربات سے گزارا جاتا ہے۔ سب سے پہلے بچپن جو زندگی کا سب سے پاکیزہ اور معصوم دور ہے۔ ماں باپ کے لاڈ پیار اور محبت سے لبریز دور ،جہاں نہ کوئی فکر، نہ پریشانی، نہ سوچیں جو زندگی کا گھیرا تنگ کر دیتی ہیں، نہ مادہ پرستی، جو سکھ اور سکون کے آڑے آ جاتی ہے، مگر یہ مختصر سا وقت آنکھ مچولی کھیلتے گزر جاتا ہے۔ بہت جلد بچپن ہم سے جدا ہو کر جوانی کا روپ دھار لیتا ہے۔ اپنی طاقت، حسن اور جوانی کے بل بوتے پر دنیا پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے۔انسان اپنی خواہشات اور خوابوں کی تکمیل کے پیچھے دوڑ لگا دیتا ہے۔

جوانی دبے پاؤں جا رہی ہوتی ہے۔ حسن دھیرے دھیرے رنگ بدل لیتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے حسن خواب تھا جو آنکھ کھلنے پر ختم ہوگیا۔ ہر گزرتا دن جو ماضی بن جاتا ہے وہ ایسا خواب ہے، جس کی تکمیل نہیں ہوتی لیکن ماضی ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں پناہ گزیں رہتا ہے اور گاہے بہ گاہے پرانی باتیں یاد دلا کر ہمیں بے قرار کر جاتا ہے۔ وہ ساری یادیں ایک ایک کرکے پردہ ا سکرین پر ابھرتی ہیں تو دل دکھی ہوجاتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عرفان عالم

تبصرہ کیجیے