زرخیز زمین

سنو! کیا ہے؟ ایک ناراض سی آواز ابھری۔ یار ! ہم کب تک یہاں پڑے رہیں گے۔ افففف… ایک تو تم بھی نا… پتا ہے باہر کتنی سردی ہے۔ ہاں۔ یہ تو پتا چل ہی رہا ہے۔ تو پھر ؟ اس وقت باہر نکل کر اپنی قلفی جمانی ہے کیا؟ پڑے رہو چپ چاپ۔ اس نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔ پڑے رہ کر کیا کروں؟ مجھے نیند نہیں آ رہی۔ تو ملکی حالات پر غور و فکر شروع کر دو۔ لیکن خدا کے لیے مجھے تو سونے دو۔ اکتائی ہوئی آواز آئی۔ اور وہ کروٹ بدل کر سو گیا۔

مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ تو کروٹ بدل کر گزرے ہوئے دنوں پر غور شروع کر دیا۔ ہمیں یہاں آئے دو ہفتے ہونے کو تھے۔ یہاں آنے کی وجہ وہی ناسمجھ بچہ اور اس کے بوڑھے دادا جی تھے جو آج کل بار بار میری نیند خراب کرنے کا باعث بن رہے تھے۔ مجھے حیرت تھی کہ میرے دوست یا تو ان کی آواز سن نہیں پاتے تھے یا سننا نہیں چاہتے تھے لیکن مجھے ان کا ہر ایک لفظ بخوبی سنائی دیتا تھا۔ وہ دونوں ہم سے ملنا چاہتے تھے اور خواہشمند تو میں بھی تھا۔ لیکن انہیں کون سمجھاتا کہ ابھی موسم ہماری ملاقات کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ ہماری نازک جان اس قابل نہیں تھی کہ ٹھنڈی بے رحم ہوا کے تھپیڑے برداشت کر پاتی۔ ہمارے نرم پیر سنگ ریزوں کی چبھن نہیں سہہ سکتے تھے۔ اس موسم اور ان حالات میں باہر نکلنے کا ایک ہی مطلب ہو سکتا تھا… یقینی موت۔ اور یہ انجام میرے سب دوستوں اور مجھے بھی تھوڑا سا خوفزدہ کر دینے کے لیے کافی تھا۔

یہی وجہ تھی کہ یہاں آ کر حالات کا جائزہ لیتے ہی میرے سب دوست لمبی تان کر سو چکے تھے۔ گوشہ نشینی موت سے تو ہزار درجہ بہتر تھی نا۔ لیکن کیا کرتا اس بچے کا جو روزانہ دادا کو کھینچتا ہوا ہمارے دروازے کے سامنے آ کھڑا ہوتا۔امید کا ایک سمندر آواز میں سموئے دادا کو کہتا۔ دادا جی! خوب غور سے دیکھیں آج وہ ضرور باہر نکلے ہوں گے۔مجھے پورا یقین ہے۔ میں اس کو دیکھ تو نہیں پاتا تھا لیکن اس کی آوازمیں ہلکورے لیتا جوش اور یقین مجھے افسردہ سا کر دیا کرتا۔ میرے تصور میں اس کی چمکدار آنکھیں آ جاتیں جو امید کی جوت جگائے ہمیں تلاشتی رہتی تھیں۔دادا جی بچے کا دل رکھنے کو چند لمحے یہاں وہاں دیکھتے اور پھر کہتے۔رازی بچے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا نا۔ یہ زمین ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں یہ جگہ پسند نہیں آئے گی۔ ہر طرف تو پتھر او ر جھاڑ جھنکار بکھرا ہوا ہے۔اوپر سے موسم دیکھو۔ ایسے میں وہ کیونکر باہر آئیں گے۔اس پر بچہ تھوڑی دیر خاموش رہتا لیکن اس کا معصوم دل ہار ماننے کو تیار نہ ہوتا۔

نہیں دادا جی۔ آپ دیکھ لینا وہ ایک دن ضرور باہر آئیں گے۔ لیکن اس کی آواز میں کمزوری کی ہلکی سی جھلک مجھے افسردہ کر دیا کرتی۔ اس کے قدموں کی چاپ کے ساتھ ساتھ میرا دل بھی تھوڑا ڈوب سا جاتا۔ یہ سب پچھلے دو ہفتوں سے تواتر سے دہرایا جا رہا تھا۔ لیکن آج کچھ ہوا تھا۔ آج جب بچہ اور دادا جی حسب معمول جائزہ لینے آئے تو وہی پرانے حالات دیکھ کر دادا جی نے ایک بار پھر زمین اور حالات کی خرابی کو الزام دیا۔ میری سماعتیں منتظر تھیں کہ آج پھر بچہ امید کا دیا روشن کرے گا۔ لیکن یہ انتظار انتظار ہی رہا۔دونوں اسی اداس خاموشی کا حصہ بن کر لوٹ گئے۔

وہ تو چلے گئے تھے لیکن میں تب سے سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ صبح سے شام ہونے کو تھی لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ میں نے اپنا اضطراب اپنے دوستوں سے بھی بیان کیا تھا۔ لیکن ان سب نے یک زبان ہو کر باہر نکلنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔زندگی سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔ بھلا وہ کیوں ایک ناسمجھ بچے کے لیے اسے داؤ پر لگاتے۔ سب کا فیصلہ مجھے بھی ماننا ہی پڑا تھا۔اس کے بعد وہ سب نیند کی حسین وادیوں میں کھو گئے تھے لیکن میں جاگ رہا تھا۔ بہت کوشش کرنے کے باوجود نیند نہیں آ سکی تھی۔ میں سوچوں کے سیلاب کے سامنے بند باندھنے کی کوئی تدبیر سوچ ہی رہا تھا کہ باہر کسی کے قدموں کی چاپ ابھری۔

اس وقت کون آ گیا؟ میں نے خود سے سوال کیا۔ کیا وہی بچہ اور دادا جی؟ لیکن نہیں۔ یہ جو کوئی بھی تھا اکیلا تھا۔ قدموں کی نرم سی آواز ہمارے قریب آ کر رک گئی۔ سنو !تم سن رہے ہونا؟ یہ تو وہی بچہ تھا لیکن یہ آج اکیلا کیوں تھا وہ بھی اتنی شام کو۔ شاید سن ہی رہے ہوں گے۔ اس کی آواز پھر سے ابھری، میں سن رہا تھا۔ میں نے اسے آواز دے کر بتانا چاہا لیکن شاید وہ مجھے سن نہیں سکتا تھا۔ شوں شوں،یہ کیا؟ و ہ رو رہا تھا کیا؟ لیکن کیوں؟ میں پریشان سا ہو اٹھا۔ دادا جی نے آج مجھے ڈانٹا۔ اوہ… اچھا…تو یہ بات تھی۔ میں نے اپنے پورے مہینے کی پاکٹ منی تم لوگوں پر خرچ کر دی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے اپنے پیسے ضائع کر دئیے۔ میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز نہ نکلی اور کہنے کے لیے میرے پاس تھا ہی کیا۔ بچہ سسکیوں کے بیچ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا۔

میرا بہت دل کرتا تھا کہ یہاں بھی رونق ہو۔ میرے سب دوستوں کے گھر کے آس پاس اتنی خوبصورتی ہوتی ہے۔ میرا بھی دل چاہتا تھا کہ یہاں بھی ویسے ہی رنگ بکھریں۔ تو دادا جی سے ضد کر کے میں تم لوگوں کو یہاں لے آیا۔ لیکن دادا جی کہہ رہے ہیں کہ میں نے اپنے پیسے ضائع کر دئیے۔ وہ تھوڑا سا رکا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ یہ جگہ ٹھیک نہیں۔ یہاں کوئی خوبصورت اور اچھی چیز پیدا ہی نہیں ہو سکتی اور وہ اب مجھے یہاں ضائع کرنے کو اور پیسے نہیں دیں گے۔ اگر مجھے یہی کرنا ہے تو پھوپھو کے گھر میں کوشش کرنی چاہیے، وہاں مٹی اچھی ہے۔

اس کی آواز ایک بار پھر سسکیوں میں ڈوب گئی۔ میں دم سادھے سن رہا تھا۔ لیکن میں تو اپنے گھر کو خوبصورت بنانا چاہتا تھا۔ مجھے کسی اور کے گھر سے کیا لینا۔ اس سے آگے اس کی آواز ڈوب گئی اور چند لمحوں کے بعد اس کے واپس جاتے قدموں کی آوازیں میری سماعت پر دستک دے رہی تھیں۔

میں نے ایک لمبی سانس لے کر تازہ ہوا کو پھیپھڑوں میں بھرنے کی کوشش کی۔ چہرے پر ہوا کا لمس بہت بھلا معلوم ہو رہا تھا۔ موسم کافی ٹھنڈاہو رہا تھا لیکن اندر کے جوش اور عزم کے سامنے یہ ٹھنڈ کچھ نہ تھی۔ مشرق کی جانب دور افق پر سپیدہ سحر آہستہ آہستہ نمودار ہو رہا تھا۔ کچھ لمحوں بعد سورج نے انگڑائی لے کر اندھیرے کی چادر سے باہر جھانکا اور میرے نومولود وجود کو دیکھ کر سراپا اشتیاق بن گیا۔ اس کی روشن کرنیں مجھے چھو کر میرے وجود کا یقین کرنے لگیں۔ اوس کے جمے ہوئے قطرے سورج کی حرارت پا کر جھرجھری لے کر بیدار ہوئے اور آنکھوں کے کٹورے میں حیرت بھر کر مجھے دیکھنے لگے۔ شاید انہیں بھی دادا جی کی طرح اس زمین کے بانجھ پن کا یقین ہو چکا تھا۔

باہر روشنی اپنا تسلط جما رہی تھی لیکن اندھیرے کی فوج کے بچے کھچے سپاہی ابھی گھر کی چاردیواری میں قید خود کو محفوظ سمجھ رہے تھے۔ میں اس نظارے میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک گھر کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔وہی چھوٹا سا بچہ ایک چادر لپیٹے سر پر سرخ پھندنے والی ٹوپی پہنے آ رہا تھا۔ قریب آ کر وہ رک گیا۔ اس کی ناک کی نوک خنکی کے باعث سرخ سی ہو رہی تھی اور آنکھوں میں ابھی کچی نیند کا خمار باقی تھا۔ وہ یہاں وہاں دیکھتا رہا۔ میں خاموش کھڑا تھا۔اچانک اس کی نگاہ مجھ پر پڑی اور جم کر رہ گئی۔ تحیر اور بے یقینی سے بے پناہ مسرت تک کا سفر اس کے چہرے نے ایک ہی لمحے میں طے کر لیا۔

دادا جی ی ی ی ی ی ی ی۔ اس کے ٹھٹھرے ہوئے ہونٹوں سے ایک چیخ کی سی صور ت میں برآمد ہوا۔ اس نے پلٹ کر واپس گھر کی جانب دوڑ لگا دی۔ افراتفری میں چادر اور ٹوپی وہیں گر گئے لیکن ان کی پروا کسے تھی۔دادا جی۔۔۔جلدی اٹھیے! اس نے گھر میں گھستے ہی ٹچ سے لائٹ کا سوئچ آن کر دیا۔اندھیرے کی آخری فصیل بھی گر چکی تھی۔

چلیے میرے ساتھ باہر۔ آپ یوں ہی کہتے تھے کہ یہ زمین بنجر ہے۔ یہاں جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں اگ سکتا۔ اب اٹھیں نا۔ چل کر خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ ایک بیج اگ آیا۔ باقی بھی اگیں گے۔دادا جی کی خوابیدہ سی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ بچے کی آواز خوشی سے کانپ رہی تھی۔اب دیکھتا ہوں آپ مجھے کیسے اور پیسے نہیں دیتے۔ میں یہاں گلاب، موتیا، پینزی اور ڈھیر سارے دوسرے پھول بھی لگاؤں گا۔پورا باغ بنے گا یہاں۔ہوا کے کاندھوں پر سوار ہو کر اس کی چہکتی آواز مجھ تک بخوبی پہنچ رہی تھی۔میں نے مسکرا کر سوچا۔آگے سفر مشکل سہی ناممکن تو نہیں تھا نا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صبیح الحسن

Leave a Reply