فتویٰ

شادی ہال میں بچوں کی بھاگ دوڑنے خوب ہنگامہ مچا رکھا تھا۔ دلہن ابھی تک ہال میں نہ پہنچی تھی۔ البتہ دلہن کے گھر والے برات کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ کھیلتے ہوئے بچوں میں ریان بھی شامل تھا۔ اپنے خول میں سمٹا رہنے والا ریان آج قدرے خوش گوار موڈ میں تھا۔ بھئی بیگانی شادی میں عبد اللہ دیوانہ تو سنا تھا مگر ماں کی شادی میں عبد اللہ کو ناچتے آج ہی دیکھا ہے۔ دلہن کی چچی کی آواز پر میں چونکی اس کے حسد کا جذبہ اس طنز میں آخری حدود کو چھو رہا تھا۔ میں نے انھیں کوئی جواب نہ دیا۔ جہاں ریان کا مستقبل ہمارے لیے سوالیہ نشان تھا، وہاں رانیہ کی نئی زندگی کی شروعات پر ہم دعا گو تھے کہ اس نے اپنی زندگی کا بہت ناخوشگوار وقت گزارا تھا۔

خدا کرے کہ اب اس کے جیون میں اچھا وقت آجائے! رانیہ میری عزیز اور بچپن کی دوست تھی۔ بچپن اور تعلیم کا دور ہمارا اکٹھے گزرا تھا اس لیے میرے رشتے دار اور عزیز بھی اسے جانتے تھے۔ میری ممانی کو رانیہ اپنے بیٹے کے لیے پسند آگئی تھی۔ ہم دونوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی تھی اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کی راہیں خود بخود ہموار ہوتی جاتی ہیں۔

دینی تعلیم کا رانیہ پر بہت زیادہ اثر ہوا۔ وہ قرآن کی تفسیر پڑھتی، اپنے دل پر گہرا اثر لیتی اور اس پر عمل کرتی۔ بے پردگی کی جگہ حجاب نے لے لی تھی۔ کوشش تو میں بھی کرتی تھی مگر رانیہ عمل میں مجھ سے بڑھ کر تھی۔ اس کی یہی خوبیاں میری ممانی کو بھاگئیں۔ میں نے اپنی امی سے ذکر بھی کیا کہ ممانی کے گھر کا ماحول رانیہ کے لیے نامناسب ہے اور رانیہ کے لیے بہت مشکل ہوگی کیوں کہ اب تو رانیہ نے شرعی پردہ بھی شروع کر دیا تھا اور ممانی کے گھر پردے کا رواج نہ تھا۔

رانیہ پر مجھے بھروسا ہے بیٹا سمجھ دار بچی ہے۔ یہ سب کے لیے مشعل راہ بن جائے گی تم فکر نہ کرو اور اب میں کیا جواب دیتی۔ یوں رانیہ ممانی کی بہو بن کے ان کے آنگن میں آگئی۔

دلہن آگئی دلہن آگئی کے شور پر میں خیالوں کی دنیا سے لوٹ آئی۔ بڑی سی چادر سے پورا جسم ڈھانپے رانیہ تیار ہوکے آچکی تھی۔ دونوں بھابھیاں اس کے ساتھ تھیں۔ شرعی پردے کی وجہ سے مردوں کا داخلہ ہال میں ممنوع تھا۔

میری نظروں نے ریان کو ڈھونڈا وہ بچوں سے کھیل میں مصروف تھا۔ دلہن آئی کے شور پر تمام بچے کھیل چھوڑ کے دلہن کی طرف بھاگے۔ ان میں ریان بھی شامل تھا۔ میں دیکھ رہی تھی دلہن پر نظر پڑتے ہی وہ ساکت کھڑا تھا۔ میں جلدی سے اٹھی اور اس کی طرف بھاگی۔ میں نے سنا ایک بچہ ریان سے کہہ رہا تھا۔ دیکھو تمہاری مما دلہن بنی ہوئی ہیں اب وہ تمہیں چھوڑ کے چلی جائیں گی۔ ریان کی نگاہیں ماں سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔ میں آگے بڑھی اور لپک کے ریان کو اپنے قریب کرلیا۔

لالہ کیا مما مجھے چھوڑ کے چلی جائیں گی؟ وہ مجھے لالہ کہتا تھا۔ میں اس کے لیے لالہ تب سے تھی جب وہ خالہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ مگر مجھے اس کے منہ سے لالہ سننا بہت اچھا لگتا۔ سو اب تک میں لالہ ہی تھی۔

لالہ کیا ردا باجی کی طرح مما بھی اس گھر سے چلی جائیں گی؟ وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کیوں کہ اس کے ماموں کی بیٹی ردا شادی کے بعد امریکہ چلی گئی تھی اور اب تک واپس نہیں آئی تھی۔ میں نے ریان کو گلے سے لگا لیا۔ میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ گرم گرم آنسو میری آنکھوں سے بہ نکلے۔ رخصتی قریب تھی۔ میں نے نومی بھائی کو پکارا نومی رانیہ کا بھائی تھا۔ اب نومی ریان کو ہال سے باہر لے جاچکا تھا۔

٭٭

نومی ماموں کے ساتھ رات گئے جب وہ گھر میں داخل ہوا، تو عجیب سے سناٹے نے نومی اور ریان کا استقبال کیا۔ ریان بھاگتا ہوا اپنے کمرے کی طرف گیا۔ شاید مما میرا انتظار کر رہی ہوں۔ ریان نے سوچا۔ کمرے میں نانو جاگ رہی تھی۔ نانو مما اب کبھی نہیں آئیں گی؟ وہ مجھے چھوڑ کے چلی گئی ہیں ناں؟

انھوں نے بھی بنا کوئی جواب دیے ریان کو گلے لگا لیا۔ میں ہوں ناں تمہاری نانو اور مما بھی۔ نانو نے اس کے بہتے آنسو صاف کیے۔ مما آتی جاتی رہیں گی بیٹا آؤ تم سوجاؤ! وہ چپ چاپ اپنے آنسو چھپاتا نانو کے ساتھ لیٹ گیا۔ نانو کے موبائل کی گھنٹی بج رہی تھی، جانے کون تھی نانو کہہ رہی تھیں۔

مبارک ہو آپا دعا کرنا اب میری رانیہ کو کوئی دکھ نہ ملے۔ تب ریان کو اپنی مما کے دکھ یاد آگئے۔ اسے اپنی پیاری سی مما سے بہت پیار تھا۔ مگر جانے کیوں وہ روتی زیادہ اور ہنستی کم تھیں۔ کبھی دادی کی ڈانٹ اور کبھی بابا کی ڈانٹ اور مار سے وہ چھپ چھپ کے روتی تھیں۔ مجھے اپنی پھوپھو اور اس کا موٹا شوہر بہت برے لگتے تھے۔ جب بھی وہ ہمارے گھر آتے اس دن مما کو ضرور دادی اور بابا سے ڈانٹ پڑتی اور کبھی مار، تب میں بھی مما سے چھپ کے روتا۔ مما کے سامنے اس لیے نہیں روتا تھا کہ پھر مما اور زیادہ روتی اور کہتی مت رویا کرو ریان مجھے تمہیں روتا دیکھ کے بہت دکھ ہوتا ہے۔ پھر ایک دن وہی پھوپھو اور پھوپھا آئے۔ شام کو بابا دفتر سے آئے تو جسب معمول لڑائی شروع ہوچکی تھی۔ تب مما کو مارتے مارتے بابا بولے جا رہے تھے طلاق طلاق طلاق۔ جانے یہ الفاظ سن کے مما کو کیا ہوا کہ وہ اپنے بستر پر گر گئی تھیں اور سب کمرے سے باہر نکل گئے۔

شاید میری مما مرگئی ہیں، میں نے سوچا۔ میں ڈر گیا۔ میں نے مما کا موبائل اٹھایا اور نومی ماموں کو فون کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد عالیہ لالہ نانا ابو اور نومی ماموں آگئے۔ نومی ماموں مجھے نانو کے گھر لے آئے تھے۔ صبح جب میں سوکر اٹھا تو مما میرے ساتھ لیٹی تھیں۔ شکر ہے میری مما زندہ ہیں۔ میں نے سوچا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ مگر اب تو ردا آپی کی طرح مما دلہن بن کے چلی گئی ہیں۔ شاید اب میں کبھی ان کو نہ دیکھ سکوں۔

٭٭

وہ نانو کے کمرے میں بیٹھا اپنا ہوم ورک کر رہا تھا تبھی اسے باہر سے مما کے بولنے کی آواز آئی۔ وہ کمرے سے بھاگا اور مما مما کہتا ان کے قریب پہنچا، مگر مما کے ساتھ ایک انکل کو دیکھ کر وہ ڈر گیا۔ مما قریب آئیں، اس کا منہ چوما اور گلے لگا لیا، ان سے ملو ریان یہ آپ کے بابا ہیں۔

بابا، اس نے ڈرتے ڈرتے ان کی طرف دیکھا۔ وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔ اسے وہ ذرا بھی اچھے نہ لگے۔ وہی تو تھے جو اس کی مما کو چھین کر لے گئے تھے۔ جتنی دیر رانیہ بیٹھی رہی وہ اسے اپنے ساتھ لگائے رہی۔ اسی طرح کئی دن گزر گئے۔ ایک دن مما کا فون آیا۔ وہ اسے اپنے پاس بلا رہی تھیں۔ انکل کا گھر بہت بڑا اور بہت پیارا تھا۔ مما اور وہ ساتھ بیٹھے تھے کبھی وہ کوئی گیم کھیلتا اور کبھی کارٹون دیکھتا۔ ماسی باورچی خانے میں اس کی پسند کی چیزیں بنا رہی تھی۔ آج وہ بہت خوش تھا۔ مما اپنے ہاتھوں سے اس کے منہ میں نوالے ڈال رہی تھیں۔ دادی کے گھر تو اس کی مما سارا دن کاموں میں مصروف رہتی، ریان کے پاس بیٹھنے کا وقت نہ ملتا تھا۔ اور وہ دو دن یہاں رہا۔ پھر انکل شہر سے آگئے اسے دیکھ کے بہت خوش ہوئے۔ وہ اس کی مما کے لیے بہت ساری چیزیں لائے تھے۔ وہ ہر چیز رانیہ کو خوش ہوہو کے دکھا رہے تھے۔ وہ اس کے لیے بھی تحفے لائے تھے۔ آج انکل اسے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ انھوں نے ایک بار بھی اس کی مما کو نہیں ڈانتا تھا۔ جب سے انکل آئے تھے مما بہت خوش تھیں اور ہنستے ہوئے بہت اچھی لگ رہی تھیں۔

آج اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ انکل کو بابا کہہ دے۔

ریان کچھ دن بعد واپس چلا گیا، تو رانیہ اکیلی بیٹھی سوچ رہی تھی۔آج میرا بیٹا میری جان میرے پاس سے ہو کے گیا ہے۔ میں نے اپنے آنسو چھپا کے اسے خوشی خوشی روانہ کیا ہے۔ میں آج اپنے گھر میں بہت خوش ہوں مگر میرا دل ریان میں اٹکا ہوا ہے۔ میں رانیہ اپنی والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں جس میں میری ماں نے اپنے تمام ہنر سما دیے تھے۔ اپنی دوست عالیہ کی ممانی کو اپنے بیٹے کے لیے پسند آگئی تھی۔ مگر یہاں میری تعلیم اور میرا سلیقہ تو ایک طرف رہ ہی گیا میرا اخلاق اور میری خدمت گزاری بھی میری زندگی میں کوئی رنگ نہ بھر سکی۔

میرا جرم میرا سچ بولنا اور شرعی پردہ تھا۔ حالاں کہ شادی سے پہلے میرے سسرالیوں کو میرے شرعی پردے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ میری شادی کو کچھ دن ہی ہوئے تھے، جب میری نند اپنے شوہر جمال کے ساتھ آئی۔ میں نے خوش دلی سے ان کا استقبال کیا۔

اپنے بھائی صاحب کو سلام نہیں کروگی؟ وہ بھی میرے ساتھ آئے ہیں۔ نند مجھ سے مخاطب تھی۔ کیوں نہیں باجی میں آتی ہوں۔ میں اٹھی اور الماری سے اسکارف اور چادر نکالنے لگی۔ نند حیرت سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ رانیہ کیا میرا شوہر خدانخواستہ لچا لفنگا ہے جو تم یوں چادر اوڑھ کر جا رہی ہو؟ باجی ناگواری سے پوچھ رہی تھیں۔ میں ہڑبڑا گئی۔ باجی آپ جانتی تو ہیں میں پردہ کرتی ہوں۔ بھائی صاحب میرے لیے نامحرم ہیں۔

مگر باجی غصے سے پھنکارتی کمرے سے جاچکی تھیں۔ ابھی میں حیران و پریشان اپنے کمرے میں کھڑی ہی تھی کہ ساس کی آمد ہوئی۔ یہ کیا سن رہی ہوں میں۔ رانیہ ہم نے کب تمہارے پردے پر کوئی اعتراض کیا ہے اور پھر پردہ تو غیروں کے لیے ہوتا ہے۔ گھر کے بندوں سے کیا پردہ؟ وہ اس گھر کا داماد ہے۔ اسی لیے میں نے سلام کرنے سے تو منع نہیں کیا مگر یہ حقیقت اور ہمارے مذہب میں عورتوں کے لیے حکم ہے کہ نامحرم سے پردہ کرو بھائی صاحب میرے لیے نامحرم ہیں۔ میں سلام کرنے جا رہی ہوں مگر پردے کے بغیر نہیں جاؤں گی۔

مت جاؤ تم ادھر ہی بیٹھی رہو، ہماری کوئی عزت ہے تمہاری نظر میں؟ آج تم نے میرے داماد کی عزت دو ٹکے کی کر کے رکھ دی ہے۔ آنے والے وقت میں خاندان میں بھی رسوا کرنا۔ کیا دین ہمیں سکھاتا ہے کہ گھر آئے مہمان کی بے عزتی کرو۔ ساس چیخ رہی تھی۔ امی میں نے کب کسی کی بے عزتی کی ہے یا مہمان نوازی سے منہ موڑا ہے جو آپ ناراض ہو رہی ہیں۔ مگر ساس بھی کمرے سے جاچکی تھی۔ اس رات شوہر نے خوب ہنگامہ کھڑا کیا میری تما م رات روتے گزر گئی اور پھر ایسا اکثر ہونے لگا۔ مگر اللہ کا حکم میرے لیے پہلا درجہ رکھتا تھا میری ساس طنزیہ کہتی۔

’’شوہر تیرا مجازی خدا ہے۔ خدا کے بعد سجدے کی اجازت ہوتی تو صرف شوہر کو ہوتی۔‘‘

جی امی مگر جب فرض کا معاملہ آجائے اور اللہ کا حکم فرض بن جائے تو وہاں شوہر کا حکم بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ پھر ریان میری زندگی میں بہار بن کے آگیا۔ مگر زندگی میری اسی طرح گزر رہی تھی۔ میری خدمت گزاریوں کے بدلے لڑائی فساد اور طنز کے تیر۔ دس سال بعد میری نند کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز کیا تھا۔ میرے لیے حکم نامہ جاری ہوگیا کہ نند کا گھر سنبھالوں جب تک نند کام کے قابل نہیں ہوجاتی۔ میرے نندوئی جمال بھائی مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ مگر ریحان میرے لیے باجی کے گھر پردہ کا مسئلہ ہوگا۔ جمال بھائی کی وجہ سے میں نے ڈرتے ڈرتے جواز پیش کیا۔ ایک تو تم پردے کی آڑ میں ہر کام سے چھٹکارا پالیا کرو! ریحان چڑ کے بولا۔میں نے کب او رکون سا کام نہیں کیا یہاں؟ میں حیرت سے پوچھ رہی تھی۔ کیا تم نہ جاکر کام سے چھٹکارا حاصل نہ کروگی۔ کیا یہ بہانہ نہیں ہے؟ ریحان مجھے گھو ررہا تھا۔ مین یہاں سے ہر چیز تیار کر کے بھجوا دیا کرں گی میرے لیے آسانی رہے گی۔ تمہیں جانا ہے کہ نہیں؟ ہاں یا ناں؟ ریحان دھاڑا!

نہیں! میں نے بالآخر کہہ ہی دیا اور میری نگاہوں میں وہ منظر گھوم گیا۔ جب میں گھر میں اکیلی تھی باہر کا دروازہ کھلا تھا۔ میں بغیر دو پٹے کے تھی اور باورچی خانے میں ان میاں بیوی کے آنے کا احساس تک نہ ہوا۔ میں اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔ مگر جمال بھائی کی وہ نگاہ میں ہرگز نہ بھول پائی جو مجھے گہری نظروں سے تک رہے تھے۔ گویا کہہ رہے ہوں کہ کب تک چھپاؤگی خود کو۔ لو بھئی بیگم صاحبہ آج تمہاری بھابی کا بھی دیدار آخر ہو ہی گیا۔ وہ میری نند سے مخاطب تھے۔ میرے اندر تک بجلی دوڑ گئی۔

سوچ لو رانیہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ ریحان کی آواز پر میں چونکی… میں جو کہہ رہی ہوں درست ہے۔ میرے بولنے پر جواب تھپڑ کی صورت میں ملا۔ ریحان کے لفظوں کو گونج طلاق طلاق طلاق نے میرا پورا وجود سن کر دیا تھا۔

کوڑے برساتا طلاق کا لفظ مجھے لہولہان کر گیا تھا۔ ریحان کمرے سے جا چکا تھا۔

جب میں اپنے حواسوں میں آئی تو کمرے میں میری ساس عالیہ اور ابوکھڑے تھے۔

’’آپ اپنی بیٹی کو لے جاسکتے ہیں بھائی صاحب۔‘‘ ساس میرے ابو سے کہہ رہی تھیں۔ ’’میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔‘‘ میں نے سرد اور ٹھنڈے لہجے میں انھیں کہا۔ ابو اپنے آنسو صاف کر رہے تھے اور میری ساس مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ اے بی بی ہوش میں آؤ میرا بیٹا تمہیں طلاق دے چکا ہے کیسی ضدی عورت ہے ایک ہی رٹ لگائے بیٹھی ہے۔

ذرا بے غیرتی دیکھیں اپنی بیٹی کی بھائی صاحب نامحرم کہتے کہتے گھر اجاڑ دیا۔ کیا اب ریحان تیرے لیے نامحرم نہیں ہے؟ ابو نے تڑپ کے ساس کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف مڑے۔ ’’اٹھو بیٹا ابھی چلو پھر دیکھا جائے گا اللہ بہترین سبب بنانے والا ہے۔‘‘ پھر میرا سسرال سے کوئی رابطہ نہ رہا، مگر ایک دن ریحان کا فون آگیا وہ مجھے کہہ رہا تھا۔

رانیہ تمہاری ضد اور جلد بازی سے جو کچھ ہوا اچھا نہیں ہوا۔ اس کا اثر ریان پر پڑے گا اور ریحان کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ ہاں بولو میں بے دلی سے سن رہی تھی۔ وہ آج جمال بھائی میرے دفتر آئے تھے وہ ہمارا گھر آباد دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ریان ماں باپ کی محبت سے محروم نہ رہ جائے وہ تمہارے ساتھ نکاح کے لیے تیار ہیں۔ ریحان! میں دھاڑی اور فون بند کر دیا۔ کم علم اور ناقص دین پھیلانے والوں نے کیا بھونڈا طریقہ ڈھونڈا ہے۔ نکاح کے مقدس بندھن کو مذاق بنا کے رکھ دیا ہے اور حلالہ کے لیے غلط طریقہ بنا رکھا ہے۔ میں نے دکھ سے سوچا۔ میری دوست عالیہ کی والدہ نے میرا رشتہ کرایا تھا۔ وہ ہم سب سے شرمندہ تھیں مگر اس میں ان کا کیا قصور؟ میرا مقدر میرا نصیب۔ پھر عالیہ کے شوہر کے دفتر ان کے نئے آفیسر آئے۔

خوب صورت اعلیٰ تعلیم یافتہ مگر ابھی تک غیر شادی شدہ۔ انھیں میری جیسی عورت کی تلاش تھی۔ شاید اللہ کو میرا امتحان لینا تھا۔ الحمد للہ میں کامیاب ٹھہری۔ میں نے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکایا تھا۔ رب نے میرا راستہ آسان اور خوب صورت منزل عطا کردی۔

فراز کے ساتھ اپنی زندگی کی تمام ناکامیوں کو بھول چکی ہوں مگر ریان کی کمی اور محبت کو ہمیشہ ترستی ہوں۔ اس نئے گھر میں مجھے محبت اور سکون ملا، مگر اولاد سے جدائی بھی۔ فراز نے ریان کو اپنے پاس رکھنے پر اعتراض نہیں کیا، مگر ریان کا باپ کبھی نہ کبھی اسے لینے آہی جائے گا۔ مجھے معلوم ہے وہ کس خصلت کا انسان ہے۔ وہ بھلا ریان کو مجھے سونپ کے میری خوشیاں برداشت کرے گا؟ ہرگز نہیں۔ میں ریان کو اپنی دوری کی عادت ڈالنا چاہ رہی ہوں۔

دین سے دوری اور لاعلمی نے ہر دور میں کیسے کیسے فتنے پیدا کیے ہیں۔ فرقہ بندی نے ہم سب کو کھوکھلا اور ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ جہاں میں تمام عمر اپنے دل میں درد محسوس کرتی رہوں گی، وہاں میرا ریان بھی ماں کی کمی ہمیشہ محسوس کرتا رہے گا۔ کوئی اور جتنی بھی محبت دے مگر ماں کی محبت کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔

میری اور روانیہ کی استاد اآپا جی نے ہم دونوں کو یاد کیا تھا۔ وہ ہم دونوں کو بہت عزیز رکھتی ہیں۔ رانیہ اپنے شوہر کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں گھومنے گئی ہیں۔ فراز بھائی کے بے حد اصرار پر ریان بھی ان کے ساتھ ہے۔ اس لیے آج اکیلے ہی مجھے آپا جی کے ہاں جانا ہوگا۔

آپا جی کی رہائش جامعہ الفوزان کے اندر تھی۔ عالیہ حیرت سے آپا جی کے کمرے سے نکلتی اپنی ممانی کو دیکھ رہی تھی۔ اس جامعہ میں ان کا کیا کام۔ وہ اپنے اپنے مسلک کے نام سے جیتی تھیں اور یہ جامعہ ان کے مسلک کا نہ تھا۔ ممانی نے عالیہ کو نہ دیکھا تھا۔ آپا جی یہ جو خاتون ابھی یہاں سے نکلی ہیں خیریت سے آئی تھیں۔ ہاں بیٹا اس مظلوم عورت کی بیٹی کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہے۔ کیا؟ میں حیرت سے منہ کھولے آپا جی کو دیکھ رہی تھی۔ اور حیران میں اس لیے ہو رہی تھی کہ اس طلاق کی خاندان میں کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی تھی۔ بے چاری اپنے ہنستے بستے چمن سے اجڑ کے ماں کے گھر آبیٹھی ہے۔ آپا جی کی آواز میں درد اور دکھ تھا وہ مجھ سے مخاطب تھیں۔

اور یہ خاتون اپنی بیٹی کا گھر بسانا چاہتی ہیں۔ دس سال بعد اللہ نے اس کی بیٹی کو اولاد کی نعمت سے نوازا تھا۔ بڑی پیاری اور خوب صورت بچی ہے۔ مگر اب ڈاکٹروں نے مزید اولاد نہ ہونے کی خبر دی ہے اور بیٹے کی خواہش میں خاتون کا داماد دوسری شادی کرنا چاہ رہا ہے۔آپا جی مجھے معلومات فراہم کر رہی تھیں۔ یہ خاتون یہاں مفتی صاحب سے فتویٰ لینے آئی تھی کہ ابھی س کا شوہر بیوی سے رجوع کر سکتا ہے کیوں کہ تین طلاقیں ایک ہی کہلاتی ہیں۔

میں حیرت، دکھ، رنج اور صدمے سے سن ہوکر رہ گئی۔ بہو (رانیہ) کو بے غیرت اور مسلک کی باتیں سنانے والی ماں آج اسی جگہ ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی جہاں سے اس کی بہو نے تعلیم لی تھی اور اس کو اس جرم کے پاداش میں دیس نکالا ملا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نائلہ بلیغ الدین

Leave a Reply