نکاح حلالہ : رحمت سے لعنت تک

موجودہ حکومت کے بیک وقت تین طلاق پر پابندی کے بعد اس کا اگلا ہدف ایک سے زیادہ شادی اور نکاح حلالہ کا خاتمہ ہے۔ اگرچہ حکومت کا رویہ اور اس کی نیت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے، مگر اس کے باوجود اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ مسلم سماج کے لیے یہ معاشرتی احتساب اور جائزہ کا وقت ہے۔ یہ وقت ہے کہ پورا مسلم سماج اور علماء ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور و فکر کریں کہ کون سی رسمیں اور روایات برائی کی صورت میں ہمارے سماج میں داخل ہوگئی ہیں اور انھوں نے شریعت کی جگہ لے لی ہے حالاں کہ وہ شریعت نہیں۔ یہی نہیں اس سے آگے بڑھ کر وہ شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ بھی ہیں۔ ان میں سے بعض باتوں کو لے کر اسلام مخالف طاقتیں سیدھے اسلام کو ہدف تنقید بناتی ہیں جب کہ اسلام سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کی بے وزن تنقیدوں کو اس وقت وزن حاصل ہو جاتا ہے جب نام نہاد علماء ان کی تائید میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور انہیں شریعت سے جوڑ دیتے ہیں۔ ایسے میں مخالف طاقتوں کو خوب بغلیں بجانے کا موقع ملتا ہے اور بدنامی اسلام کی ہوتی ہے۔

طلاق پر تو ہم گفتگو نہیں کرتے کہ اس بارے میں حجاب اسلامی کے صفحات میں ہم نے کافی لکھا ہے کہ لوگوں میں صحیح سوچ کا فروغ ہو، اس موضوع پر ہم نے اس سال دسمبر میں ’’اسلامی عائلی زندگی اور طلاق و پرسنل لاء کے مسائل‘‘ پر ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کیا ہے جو اس موضوع پر وافر معلومات فراہم کرتا ہے۔

ہم نے بہت غور کیا کہ حلالہ کے موضوع پر لکھیں! بہت غور و فکر کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلم سماج کو اس مسئلہ سے بھی آگاہ کیا جانا چاہیے۔ اس کی ایک وجہ تو حکومت کی طرف سے اسے ہدف تنقید بنایا جانا ہے اور دوسری وجہ مسلم سماج میں اس مسئلہ پر واقفیت کا فقدان ہے جس کے سبب روایتی اور مفاد پرست علما لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ واضح کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نظام طلاق کو شریعت کی روح کے ساتھ نافذ کرنا اگر مسلم سماج میں رائج ہوجائے تو رائج الوقت حلالہ کی لعنت خود بہ خود ختم ہوجائے گی۔

حلالہ کیا ہے؟

سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۹ میں فرمایا گیا؛

ترجمہ: ’’طلاق دوبار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اسے رخصت کر دیا جائے۔‘‘

پھر آگے علیحدگی کے سلسلے کے مزید احکامات دینے کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا:

ترجمہ: پھر اگر (دوبار طلاق دینے کے بعد تیسری بار) طلاق دے دی تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔ اور اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو پھر ان دونوں کے لیے کوئی حرج نہیں کہ وہ ازدواجی رشتہ کی طرف لوٹ آئیں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں قائم رہیں گے۔‘‘

ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح طلاق کسی بھی سماج کے لیے رحمت ہے اسی طرح یہ بات بھی اللہ کی طرف سے زبردست رحمت ہے کہ تین بار علیحدگی ہونے کے باوجود علیحدگی دائمی نہیں بلکہ ایک صورت اور باقی ہے کہ وہ پھر مل جائیں اگر وہ اللہ کی فرماں برداری کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

کسی بھی عورت کے لیے طلاق کے بعد دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک صورت یہ کہ وہ طلاق کے بعد زندگی بھر بغیر شادی کے تنہا رہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلے۔ اگروہ شادی کے بغیر بقیہ زندگی تنہا گزارتی ہے تو پھر طلاق دینے والے شوہر سے نکاح کی کوئی صورت نہیں لیکن اگر وہ دوسرا نکاح کرتی ہے اور پھر اس کا دوسرا شوہر اس کو طلاق دے دیتا ہے یا انتقال کر جاتا ہے تو اس پر قرآن کا یہ حکم نافذ ہوگا کہ فلاتحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ (تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے)۔

قرآن کریم کا یہ حکم بالکل معاشرتی و سماجی عمل (Convertion) ہے اور یہی وہ اصطلاح ہے جسے حلالہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اب اگر ہم کہیں کہ حلالہ جائز ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ عین شرعی اجازت کے مطابق ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک رحمت بھی۔ اللہ کے رسولؐ سے ملنے والی ایک حدیث اس راہ کے چور دروازوں کو بھی بند کرتی نظر آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا؛

لاتحل للاول حتی تذوق عسیلۃ الآخر

(اور وہ پہلے کیلیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے کا بھرپور مزہ نہ چکھ لے)۔

اس حدیث کے بعد اس بات میں کوئی بھی شبہ باقی نہیں رہ جاتا ہے کہ قرآن کریم نے جس حلالہ کی بات کہی ہے وہ بالکل معاشرتی حالات کے مطابق ہے۔

حلالہ کی لعنت

اب ہمارے سماج میں جب حلالہ کی بات آتی ہے تو ذہن میں کیا تصور ابھرتا ہے آپ خود سوچیے ! اب ہمارے سماج میں اس رحمت نے لعنت کی صورت اختیار کرلی ہے اور وہ اس طرح کہ کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور ایک دو نہیں بیک وقت تین طلاقیں دے دیں۔ اب ہمارے علماء کا کہنا ہے کہ اس کی تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور وہ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوگئے اور شوہر بیوی نہیں رہ سکتے۔ اب شوہر کو پچھتاوا ہوا اور سوچا کہ واپسی کی کوئی صورت نکل آئے۔ علماء نے قرآن کی اس آیت کو پکڑا جس کا ہم نے ذکر کیا کہ ’’وہ شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں! اس کا نکاح کسی معتبر آدمی سے پڑھا دیا جائے جو نکاح کے بعد اسے طلاق دے دے۔ اب ایسا ہی ہوا کہ شوہر کے کسی دوست، بھائی یا معتبر آدمی سے نکاح اس شرط پر باہمی مفاہمت پر کرا دیا کہ وہ ایک رات کے بعد اس کو طلاق دے دے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا اور وہ پچھلے شوہر کی طرف لوٹ آئی۔

غور کیجیے! کتنا گھناؤنا اور رسوا کن ہے یہ عمل خود شوہر کے لیے اور اس فرد کے لیے بھی جس نے اس قسم کا نکاح کیا اور کرایا جب کہ اس سلسلے میں وہ لوگ رسول پاکؐ کا ایک قول بھی نقل کرتے ہیں کہ

لعَنَ اللّٰہ المحلِّل و المُحَلَّلَ لہ

’’اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے اس شخص پر جو حلالہ کرتا ہے اور س پر جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے۔‘‘

یہی نہیں ایک اور قول رسولؐ نقل کیا جاتا ہے کہ حلالہ کرنے والا کرائے کے سانڈ کی طرح ہے؛ یہ دونوں قول رسول پاکؐ کے ہیں تو اندازہ لگائیں کہ ان دونوں پر کس قدر لعنت ہے اور وہ کس منزلت لعنت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

ہم نے حدیث اور روایات کی کتابوں میں بہت تلاش کیا اور کئی اہل علم سے دریافت بھی کیا کہ کیا عہد رسالت میں کوئی ایک واقعہ بھی ایساملتا ہے جس میں شوہر اول کے لیے مطلقہ کو اس انداز میں حلال کرایا گیا ہو کہ طے شدہ پروگرام اور مقصد کے حصول کے لیے دوسرے مرد سے نکاح کرا دیا گیا ہو اور پھر اس نے حسب منصوبہ اور حسب خواہش شوہر ثانی نے طلاق دے دی ہو اور پھر بیوی پہلے شوہر کے لیے حلال کرادی گئی ہو۔ تاریخ اسلام یعنی عہد رسالت میں یا عہد خلافت راشدہ میں کوئی ایک واقعہ بھی مذکور نہیں۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ ایام جاہلیت میں عرب کے لوگ ایسا کیا کرتے تھے۔ اللہ کے رسولؐ نے ایام جاہلیت کی انہی روایات کی مذمت اور مسلم معاشرے کو آگاہ کرنے کے لیے یہ باتیں فرمائیں۔

اس کے برخلاف رفاعہ قرظی کی بیوی تمیمہ کا واقعہ ملتا ہے جنہیں ان کے شوہر نے تین مرتبہ طلاق دے دی تھی۔ پھر انھوں نے عبد الرحمن بن الزبیرؓ سے نکاح کرلیا۔ نکاح کے بعد انھوں نے ابن الزبیرؓ پر مردانہ کمزوری کا الزام لگایا۔ حضرت بن الزبیرؓ نے اس الزام سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ رفاعہ کے پاس پھر سے جانا چاہتی ہے۔ اس پر آپؐ نے پوچھا تو اس نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے جواب پر رسولؐ نے کہہ دیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ واقعہ کی مزید تفصیل بھی ملتی ہے کہ وفات رسولؐ کے بعد وہ حضرت ابو بکرؓ کی خدمت میں آئیں اور وہی بات کہی جو رسول اللہﷺ سے کہی تھی۔ صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ میں اس وقت رسولؐ کے پاس موجود تھا جب تو اپنا معاملہ بتا رہی تھی۔ پھر وہ مایوس ہوکر واپس چلی گئی۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی وفات کے بعد وہ حضرت عمر فاروقؓ کے پاس آئی۔ انھوں نے بہت سختی سے ڈانٹا کہ تجھے حضور پاکؐ اور صدیق اکبرؓ کا قول کافی نہ ہوا کہ تو اپنا فریب میرے پاس لائی ہے۔ خبردار اگر تونے دوبارہ ایسی حرکت کی تو میں تیرا سر پتھروں سے کچل دوں گا۔ (صحاح ستہ میں صرف نبیؐ تک واقعہ مذکور ہے)

مذکورہ وضاحتوں سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ حلالہ جو آج کے سماج میں رائج ہے کسی بھی طریقے قرآنی الفاظ کی روح کا ساتھ نہیں دیتا۔ اس کے برخلاف یہ قرآنی احکامات اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور جو لوگ ایسا کرتے یا کراتے ہیں وہ رسول پاکؐ کی بیان کردہ حدیث کے مطابق اللہ کی لعنت کے سزاوار ہیں۔

چند قابل غور باتیں

٭ قرآن کریم فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ اپنے معنی و مفہوم اور اپنے زمانے کے تعامل اور سماجی و معاشرتی روایت کے تناظر میں واضح ہے۔ اللہ کے رسول کی وہ احادیث اور دوسری روایات عہد جاہلیت کے تناظر میں اس حلالہ کی شناعت کو خوب اچھی طرح بیان کرتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر موجودہ زمانے کے رائج الوقت حلالہ کے جواز کی صورت قرآن کریم کے قول اور حدیث پاک کی صریح خلاف ورزی معلوم ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک ہے شریعت کی اسپرٹ اور روح اور دوسری چیز ہے قرآن و حدیث کے الفاظ کو پکڑ کر قانونی گفتگو۔

نکاح اور طلاق دونوں ہی مسئلوں میں ہمارے علماء الفاظ کو دانتوں سے پکڑتے اور روح کو پیروں سے کچلتے نظر آتے ہیں۔ اس کی مثال طلاق ہے۔ لفظ طلاق کے معنی عربی زبان میں علیحدگی کے ہیں اور شریعت اور قرآن کی رو سے طلاق شوہر و بیوی کے درمیان علیحدگی کے عمل کا نام ہے۔ اس کے لیے لفظ طلاق کا بھی استعمال ہوسکتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہونے والے دیگر الفاظ کا بھی۔ لیکن الطلاق مرتان (طلاق دو مرتبہ ہے) کو لوگوں نے علیحدگی کے عمل کے بجائے محض لفظ طلاق کو دو مرتبہ بولنے کو دو مرتبہ طلاق سمجھ لیا۔ یہی معاملہ حتی تنکح زوجا غیرہ کے ساتھ ہوا۔

نکاح ایک سماجی و معاشرتی عمل کا نام جو ایک مرد و خاتون کے درمیان دائمی رشتہ الفت و محبت اور تعلق کو استوار کرتا ہے۔ ہم اپنے سماج میںنکاح کی مجلس میں لفظ طلاق یا علیحدگی کی بات کرنے کو غیر مانوس اور غلط تصور کرتے ہیں کیوں کہ ہم بھی سمجھتے ہیں اور اللہ نے بھی اس رشتے کو دائمی بنایا ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حتی تنکح زوجا غیرہ کی اس تعبیر پر غور کیجیے جو حلالہ کی صورت میں پیش آتی ہے۔

نکاح حلالہ در اصل نکاح نہیں بلکہ طلاق کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔ ایسے میں اس نکاح کو جائز نکاح ماننا خود اپنے آپ میں قابل غور ہے۔ یہی رائے امام ابو یوسف کی ہے کہ ایسا نکاح جو محض پہلے شوہر پر اس کی مطلقہ بیوی کو حلال کرنے کی غرض سے کیا جائے وہ باطل ہے کیوں کہ یہ وقتی نکاح کے حکم میں آتا ہے اور نکاح تو عفت اور مداومت و ہمیشگی کے لیے ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں مطلقہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی۔ امام ابو حنیفہ نے ہدایہ میں لکھا ہے:

و اذا تزوجھا لشرط التحلیل فالنکاح مکروہ

’’اگر کسی مطلقہ عورت کو اس شرط پر نکاح میں لیا گیا کہ اس کو شوہر اول کے لیے حلال کردے تو یہ ناپسندیدہ ہے کیوں کہ آں حضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:

لعن اللہ المحلل و المحلل لہ

ایک خاص بات اور ہے جو اس پورے معاملے میں اہم رول ادا کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری فقہ میں ایک بحث کتابُ الحِیَل کی ہے۔ حِیَل سے مراد یہ ہے کہ ایک کام ناجائز اور حرام تھا اور اس کی مختلف حیلوں اور بہانوں کے ذریعے حلال کرلیا گیا۔ قارئین کو یہ بات عجیب و غریب لگے گی مگر کیا کیجیے فقہ کی کتابوں میں خصوصاً فقہ حنفی میں اس پر لمبی بحثیں ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے! عورت کو تین طلاقیں دیں اور حلالہ فرض ہوا۔ پھر شوہر اول نے چاہا کہ بعد حلالہ کے اس کے ساتھ نکاح کرے اور عورت بھی راضی ہے لیکن ڈرتی ہے کہ جس شوہر سے نکاح کرے شاید وہ طلاق نہ دے تو ایسے شخص سے نکاح کرے جو نکاح سے پہلے کہے کہ جب میں نے تجھ سے نکاح کیا اور ایک بار وطی کرلی تو تجھے تین طلاق یا ایک طلاق بائن ہو۔ پس وطی کے بعد اس پر ایک طلاق بائنہ ہوگی۔ (ہدایہ کتاب الحیل)

امام خصافؒ نے اس ضمن میں ایک اور حیلہ بیان کیا ہے ملاحظہ ہو:

عورت اپنے معتمد علیہ کو مال ہبہ کرے جس سے وہ ایک غلام جو بلوغ کے قریب ہو اور جماع پر قار ہو خرید لے۔ اب یہ اس معتمد علیہ کا غلام قرار پائے گا۔ پھر عورت غلام کے مالک کی اجازت سے دو گواہوں کی موجودگی میں غلام سے نکاح کرلے، اور بعد جماع کے مولی یہ غلام اسی عورت کو ہبہ کردے تو قبضہ ہوتے ہی نکاح ٹوٹ جائے گا۔ پھر شوہر اول سے نکاح کرلے۔ (کتاب الحیل)

نکاح متعہ کے بارے میں اہل سنت علماء کا اتفاق ہے کہ وہ ناجائز ہے۔ نکاح متعہ اہل تشیع کے یہاں کی روایت جس میںایک مرد اور عورت مہر کے بدلے ایک دن، دو دن، مہینہ یا متعینہ مدت کے لیے نکاح کرتے ہیں۔ اس میں عدم جواز کا سبب نکاح کا موقت اور غیر دائمی ہونا ہے۔ اس لیے ناجائز ہے لیکن حیرت ہوتی ہے کہ یہاں نکاح حلالہ میں اسے جائز قرار دے دیا گیا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply