اصل دین سے دوری

ہوا میں، اڑنے، پانی پر مصلی بچھا کر نماز پڑھنے، سوتے میں جاگنے اور ایک وقت میں دو جگہ نظر آنے کراماتی واقعات عوام الناس کے سامنے بیان کرکے انھیں اپنا گرویدہ بنانا عالم تصوف کا پرانا مشغلہ ہے۔ تاہم ہر معقولیت پسند مسلمان کے نزدیک یہ تمام کرامات جو عقل عام اور فہم انسانی سے ماورا ہوں کو نہ تو عام لوگوں کے لئے بیان کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی انھیں قبول کرنے کی۔ اس سے اصلاح امت کے تعلق سے فوائد صفر اور نقصانات بے شمار ہوتے ہیں، جہاں شریعت کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ کیا جاتا ہے وہاں دھیرے ایسا ماحول پنپ اٹھتا ہے کہ انسانی دل و دماغ خشیت الٰہی و تزکیہ نفس کے سنجیدہ اصول و قوانین پر عمل پیرا ہوکر دنیوی و اخروی نجات پر مرکوز رہنے کی بجائے رندی چمتکار کی مدد سے یکلخت ولایت کے اعلی درجات اور جنت میں پہنچنے کا خواب دیکھنے لگتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کے واقعات سے نہ تو ہمارے جمعہ کے خطبے محفوظ ہیں اور نہ عام اجتمات کی تقریریں۔ دینی مجالس کے خطبات اور تقریروں کا مقصد عوم الناس کی اصلاح و رہنمائی ہوتا ہے لیکن میں برسوں سے مشاہدہ کرتا آرہا ہوں کہ ہمارا خطیب کھڑا ہوتا ہے اور سامعین کو کلام الٰہی و سنت نبوی کی تجلیات سے منور کرنے کی بجائے وہ معجزات نبوی اور اولیاء کی کرامات بیان کانا شروع کر دیتا ہے، اب پتہ نہیں وہ انسانوں کو اس دین کی باریکیوں سے آشنا کرنا چاہتا ہے جو ایک زندہ و تابندہ دین ہے، یا پھر وہ انھیں آسمانی و خلائی دنیا کی سیر کرا کر قصداً اس دین سے دور رکھنا چاہتا ہے جو ادنی و اعلی ہر ایک کو خود احتسابی کی تعلیم دیتا ہے؟

اسی مذہبی رجحان کی وجہ سے دھیرے دھیرے حقیقت روایات میں اور شریعت عرسی و پیری خرافات میں گم ہوجاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روح دین تو کہیں پیچھے چھوٹ جاتی ہے اور دین و تہذیب کے بوسیدہ و خستہ حال کھنڈرات پر لال ہری علامتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ اس طرح کہیں دین کے نام پر دیوار گریہ اور کہیں عقیدہ کے نام پر عرس اور کہیں اصلاحی و دعوتی اسوہ کے نام پر گزری ہوئی شخصیات سے منسوب جناتی اعمال اور بزرگوں کے کارناموں کے نام پر فوق البشری کرامات باقی رہ جاتی ہیں۔دین اللہ وہی ہے جو اسلام ہے اور جس کی مکمل تصویر قرآن کریم میں موجود ہے،اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ غیر اسلام ہے اور اسی کو چھوڑ کر اہل کتاب انحراف و بغاوت کی راہ پر لگ گئے۔

قرآن کہتا ہے:

’’اللہ کے نزدیک دین تو صرف اسلام ہے۔ اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کیے جنہیں کتاب دی گئی تھی، ان کے اس طرزِ عمل کی اس کے علاوہ کوئی وجہ نہ تھی کہ انھوں نے علم آجانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کی غرض سے ایسا کیا… ‘‘(آل عمران:۱۹)

میرے نزدیک یہ کراماتی و اولیائی دین بھی در اصل بغی اور دین حق سے انحراف کی ہی ایک شکل ہے۔اسی لئے اسلام کے ساتھ غیر اسلام کو بھی قرآن نے پوری طرح واضح کردیا ہے تا کہ دین میں کسی اشتباہ و آمیزش کی گنجائش ہی باقی نہ رہ جائے، اسی کے ساتھ غیر اسلام کو دین بنانے والوں کے لئے سخت وعید بھی ہے:

فرمایا گیا:

’’اس دین کے علاوہ جو شخص کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے تو اس کا وہ دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔‘‘ (آل عمران:۸۵)

یعنی جوعمل یا دعوی شریعت و مزاج شریعت کے علی الرغم ہوگا وہ اسلام نہیں بلکہ غیر اسلام قرار پائے گا، علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے حدیث صحیح کے حوالے سے اس آیت کے منشا و مراد کو درج ذیل الفاظ میں بہت جامع طریقے سے بیان کیا ہے:

اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت کے علاوہ جو عمل یا دعوائے عمل بھی پیش ہوگا وہ ناقابل قبول ہوگا۔مگر افسوس کہ پیر و صوفی کی غیر بشری دنیا میں چاہے۔ ایسے اعمال اور دعووں کی بھر مار ہے جن کا اسلامی شریعت کے مزاج سے دور کا بھی رشتہ نہیں ہے۔ اور تعجب یہ ہے دور جدید میں جدید و قدیم کا سنگم ہونے کا دعوی کرنے والے اداروں سے جڑی شخصیات کی سوانح حیات پر مشتمل کتابیں بھی ایسی خرافات اور ما فوق البشری واقعات سے خالی نہیں ہیں جن کی کوئی تاویل انسانی ذہن کرنے سے عاجز ہے۔یہ شخصیات بیک وقت دو جگہوں پر ظاہر بھی ہو سکتی اور دو مقامات پر اپنے مریدوں کی رہنمائی و امامت بھی کر سکتی ہیں۔ عقل حیران ہے ایسی سوانحی کتابوں پر اور ان کے لکھنے والوں پر۔ طرفہ تماشہ یہ کہ آج بھی بڑی بے باکی سے معجزاتی واقعات کو سوشل میڈیا پر وائرل کر کے بزرگوں کو انوکھی خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔

اسلام دین حنیف و دین قیم کی شکل میں اتارا گیا ہے تا کہ کوئی اس میں من مانی کرنے کی ہمت نہ کرے؛ فرمایا گیا:

اشہر حرم کے تذکرہ کے ذیل میں دین قیم کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ اس میں کسی کو بھی شریعت کے احکام و مطالب سے الگ ہٹ کر کچھ بھی ظاہری یا معنوی کمی و بیشی کی اجازت نہیں ہے، مثال کے طور پر امامت کرنے کے لئے جسمانی وجود عام و خاص ہر ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے، نہ تو یہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہو سکتی ہے اور نہ کسی ولی کے چمتکاری روحانی وجود کے ذریعہ، اس قسم کی کسی شعبدہ بازی اور ما فوق الفطرت مظاہروں کی دوسرے بابائی ادیان میں تو گنجائش ہو سکتی لیکن اسلام میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں، جو بھی اس طرح کی شعبدہ بازی دکھا کر خلق خدا کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ گویا انھیں غیر اسلام کی طرف بلا رہا ہے۔ چنانچہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں امام رازی نے ’’دین قیم‘‘ کے مفہوم میں حسن رح کے حوالے سے یہ پہلو بھی شامل کیا ہے کہ دین قیم سے مراد وہ دین ہے جو ناقابل تغیر ہو اور جو انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہو:

یہ چند آیات ہی اس بات کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ قرآن نے تو دین و احکام دین میں کسی بھی قسم کے تغیر و انحراف کا امکان ہی باقی نہیں رکھا ہے۔ لیکن ہمارے اہل تصوف و طریقت نے قرآن سمیت ہر اس شئی کو درمیان سے ایک رکاوٹ کی طرح ہٹا کر کنارے کردیا ہے جو ان کے خودساختہ دین و مذہب کی بزم کو آباد ہونے میں رخنہ بن رہا ہو۔ابن جوزی نے ایک صوفی و صاحب طریقت کا یہ قول نقل کرکے ہمیں بتانے کی کوشش کی ہے شعبدہ بازوں کا ایک مخصوص گروہ کس طرح شریعت و مصدر شریعت کو اپنے لئے سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتا ہے، وہ کہتا ہے:

قرآن حجاب ہے، رسول حجاب ہے، بجز عبد و رب کے کچھ نہیں۔ ( تلبیس ابلیس: 324) اور یہ چیز اب راز نہیں ہے کہ یہ چمتکاری حضرات جو ایک وضو سے 40 سال تک نمازیں پڑھنے کا کمال دکھاتے ہیں، یہ آخری حجاب بھی جب چاہتے ہیں اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔

ابن تیمیہ نے ایسے تمام پیروں اور ولیوں کو یہود و نصاری سے مشابہ قرار دیا جو یہ کہتے ہیں کہ وہ علم ظاہر میں تو شریعت و سنت نبوی کے محتاج ہیں لیکن اپنی باطنی دنیا میں وہ اس کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کے بقول یہ سوچ ان یہودیوں کی سوچ سے بہت مشابہ ہے جو یہ کہتے تھے محمدصلی اللہ علیہ وسلم امی عربوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں نہ کہ ان کے لئے جو پہلے سے اہل کتاب ہیں۔ (مجموع فتاوی: 11/225)

اب ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ ہم اس دین پر ایک ایسے دین مبین کے طور سے عمل کرنا چاہتے ہیں جس کا ہر حکم راہ راست کے مصداق اور جس کا ہر امر شریعت، انسانی فطرت اور اس کے تقاضوں کے پوری طرح مطابق ہو، یا پھر ہم اسے شعبدہ بازی اور چمتکار کا ایسا ملغوبہ بنانا چاہتے ہیں جس پر تالیاں پیٹنے اور واہ واہ کرنے والے تو بہت ہوں لیکن اسے اصول حیات کے طور سے اپنانے والے نہیں کے برابر ہوں؟lll

شیئر کیجیے
Default image
ایاز احمد اصلاحی

Leave a Reply