لفافہ

حجاب کے نام

صنفی تفریق

اگست کے حجاب اسلامی میں صنفی تفریق پر ایک مضمون تھا۔ یہ مضمون دراصل ایک رپورٹ پر مبنی تھاجس میں عالمی سطح کے حقائق پیش کیے گئے تھے۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ مغربی دنیا کیا کچھ کر رہی ہے اور وہاں خواتین کی کیا صورت حال ہے ہم اس پر زیادہ بحث کرتے ہیں۔ اس بحث کا سبب شاید مغرب کی مسلم معاشروں کے لیے کی جانے والی تنقید ہو۔ لیکن اک اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلم معاشروں کو دیکھ لیں، عرب معاشروں کو دیکھ لیں جہاں کے بارے میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ اسلامی معاشرے ہیں۔ وہاں پر خواتین کے سماجی، معاشرتی اور سیاسی رول کو بہ غور دیکھئے! معاشی رول کو نظر اندا زکیجیے کہ عورت کی معاشی کفالت مرد کی ذمہ داری ہے۔ کیا اآپ کو عورت کا کوئی رول کہیں نظر آتا ہے؟

اب خود اپنے اس ہندوستانی معاشرے پر نظر ڈالیے اور یہاں کی خواتین کی حالت دیکھیے، پرھ علما کی باتیں اور تقریرں پڑھئے اور سنیے! عہد رسالت کا ذکر ہوگا تو عورت میدان جہاد میں نظر آئے گی اور اپنے سماج کا ذکر ہوگا تو اس کا مسجد میں نماز کے لیے جانا تک ناجائز، مکروہ اور غیر ضروری ہوجائے گا۔

میرے اس تفصیلی کلام کا مطلب ہے کہ آپ غیر مسلم او رمغربی سماج پر تنقید کرتے ہیں، اس کی خامیوں اور خرابیوں کو لے اڑنے لگتے ہیں مگر خود ہم اور ہمارا سماج؟

معاف کیجیے گا، شاید باتیں سخت ہوں، مگر اس لیے کہیں کہ آپ خواتین کا معروف رسالہ نکالتے ہیں۔

اللہ کی بندی

(نام و پتہ درج نہیں)

[اللہ کی بندی! آپ کا خط پڑھ کر خوشی ہوئی۔ خوشی ایک تو اس بات کی کہ آپ حجاب کو شوق سے اور پابندی سے پڑھتی ہیں اور خوشی اس بات کی بھی کہ آپ حالات پر اچھی نظر اور مثبت و تعمیری سوچ رکھتی ہیں۔

مغرب کے حالات و واقعات پر ہماری تنقید کے لیے ہوتی ہے کہ مسلم سماج کی خواتین اور مردوں کا ایک حصہ اسے مثالی تصور کرتا ہے حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ مسلم سماج کے ان حالات پر بھی ہم تنقید کرتے اور تبدیلی کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض لوگ تو ہمیں ’’ماڈرن‘‘ کے لفظ کی مہذب گالی بھی دیتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ تبدیلی آسان نہیں ہوتی، اس کے لیے محنت اور لگن درکار ہے۔ ہم مسلم سمامیں دینی بنیادوں پر تبدیلی کے خواہاں اور جدوجہد کے قائل ہیں۔ آپ بھی حصہ لیجیے۔]

اچھے مضامین

اگست کے حجاب اسلامی میں کئی مضامین اچھے لگے۔ نئی دلہن کا استقبال اچھے خاندان کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس مضمون کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

اسلم عبد الحئی شیخ

ڈونگری ممبئی

بذریعہ واٹسپ

معاشرہ میں مہم کی ضرورت

ماہ جولائی ۲۰۱۸ کا حجاب اسلامی سامنے ہے۔ ٹائٹل نہایت سادہ اور غیر جاذب نظر ہے۔ اس کے برخلاف مضامین اچھے اور تنوع لیے ہوئے ہیں۔ بچوں میں مال نیوٹریشن سے متعلق مضمون معلوماتی بھی ہے اور رہنما بھی۔ تعلیمی کیریئر سے متعلق رہ نما مضمون کافی دنوں کے بعد نظر آیا ہے مگر درست وقت پر دیا گیا ہے۔ اگر یہ مضمون مئی یا جون کے شمارے میں ہوتا تو بچیوں کو زیادہ فائدہ دے سکتا تھا۔ لیکن اچھا مضمون ہے۔

نماز کو سمجھ کر پڑھنے کی طرف متوجہ کرنے والا مضمون اچھا لگا۔ ڈاکٹر ابن فرید مرحوم کا مضمون اگرچہ پندرہ سال سے زیادہ پرانا ہے۔ مگر آج کے حالات پر بھی فٹ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں جزوی بیداری کے باوجود حالات میں اس پہلو سے کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ یہی معاملہ سماج میں جہیز اور شادیوں میں دکھاوے سے متعلق ہے۔ سماج کے اہل فکر و نظر کو ان تمام پہلوؤں کی اصلاح کے لیے معاشرے میں ایسی مہم چلانے کی ضرورت ہے جس مہم کے ذریعے تمام گھروں تک پہنچنے کہ پیغام دیا جاسکے۔آپ تو اپنے رسالہ میں مہم چلا ہی رہے ہیں اور زیادہ مرکوز ہوکر لکھئے۔

بشری تسنیم (لکھنؤ)

(بذریعہ واٹسپ)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply