نفسیاتی امراض اسباب اور علاج

ہمارے ہاں لوگ نفسیاتی مسائل اور ذہنی امراض پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں چھپایا جاتا ہے۔ کسی کو بھی اگر ذہنی یا نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو گھروالے اس بات کو جھٹلاتے رہتے ہیں کہ کوئی مسئلہ ہے۔ کوئی اسے نظر قرار دیتا ہے، کوئی جادو تو کوئی اسے ڈرامہ بازی قرار دیتا ہے۔ مریض اندر ہی اندر گھلتا رہتا ہے، اس کے مسائل بڑھتے رہتے ہیں اور گھروالے اس کو اس بات پر مجبور کرتے رہتے ہیں کہ وہ نارمل رویہ رکھے۔ کسی کو پتہ نہیں چلے کہ وہ کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہے۔

ذہنی امراض میں مبتلا شخص کو اس بات کا بھی بار بار احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ کتنا ناشکرا ہے۔ ہاتھ پیر سلامت ہونے کے باوجود، دنیا کی تمام نعمتیں ہونے کے باوجود وہ خوش کیوں نہیں ہے، افسردہ کیوں ہے۔ اس کو بار بار طعنے دے کر احساس جرم میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔

دماغی امراض کے پیچھے بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ واقعات حادثات اور بعض اوقات دماغی چوٹ اور کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی انسان ان کا شکار ہو جاتا ہے۔

ذہنی بیماریاں اصل میں رویے، سوچ اور طرزِ زندگی میں تبدیلی اور بگاڑ پیدا کرتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ذہنی بیماروں کی دو سو سے زائد اقسام موجود ہیں جن میں عام ڈپریشن، اینگزایٹی، اوسی ڈی، فوبیا، شیفزہ فرنیا، ہائی پولر اورڈیمنشیا شامل ہیں۔

اس کی وجوہات بہت سی ہیں۔ کیمیائی تبدیلیاں، واقعات وسانحات، جسمانی بیماریاں، جینیاتی عوامل، دماغی چوٹ، بچپن میں کسی بچے کو ہراساں یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جانا اور خواتین میں گھریلو تشدد کے باعث یہ بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ دہشت گردی، خود کش حملے، امن و امان کی خراب صورتحال بھی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

ان بیماریوں کی علامات کچھ یوں ہیں۔ کوئی شخص اچانک لوگوں سے کترانے لگے، تنہائی پسند ہوجائے، کنفیوزن کا شکار رہے، کبھی بہت خوش تو کبھی بہت غمگین نظر آئے۔ خاموشی اختیار کر لے، اپنی صحت اور صفائی کا خیال نہ کرے، یا کھانا بالکل کم کردے یا کھانا بہت زیادہ کردے، نیند کے اوقات بھی تبدیل ہوجائیں۔

جراثیموں کا خوف، سانس لینے میں دشواری، بہت غصہ آنا، ایسی چیزیں دیکھنا جو موجود نہیں، کاکردگی متاثر ہونا، تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونا، بے ہنگم خیالات، گھبراہٹ اور رشتوں میں تناؤ، خود کشی کے خیالات آنا، کچھ کیسز میں لوگ ڈر کر بھی رہنا شروع کر دیتے ہیں اور سر یا جسم میں درد کی شکایت یہ کچھ عام علامات ہیں، جو ذہنی امراض میں مبتلا مریض کو ہوسکتی ہیں لیکن یہ بات یاد رہے کہ ہر بیماری کی علامات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

کبھی کچھ سانحات کی وجہ سے بھی انسان میں یہ علامات آجاتی ہیں لیکن کچھ عرصے تک ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ اگر یہ علامات کچھ عرصے تک ٹھیک نہ ہوں۔ ڈاکٹر کو دکھانا لازمی ہو جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے ارد گرد، گھر، رشتے داروں، تعلیمی اداروں یا دفاتر میں کسی ایسے شخص کو دیکھیں جس کے رویے میں یکدم تبدیلی آگئی ہو تو اس کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔ ذہنی امراض میں مبتلاافراد اندر ہی اندر اس خوف کا شکار ہوتے ہیں کہ کسی کو معلوم ہوگیا تو سب کیا کہیں گے۔ ان کا اعتماد بحال کریں اور یقین دلائیں کہ جس طرح دیگر جسمانی بیماریاں ہوتی ہیں اور علاج کے بعد ٹھیک ہوجاتی ہیں، اسی طرح نفسیاتی امراض میں علاج ، کونسلنگ، توجہ اور پیار محبت سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

سب سے پہلے مریض کو بہت آرام سے اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ ڈاکٹر سے ملے اور اپنا مسئلہ بیان کرے اور دوا کھائے۔ دوا کے دو ہفتے کے بعد کونسلنگ شروع کی جائے اور ساتھ میں ہلکی واک، دوستوں سے گپ شب بھی مریض پر خوشگوار اثر ڈالتی ہے۔ دوا سے پہلے ہی ماہ میں کافی فرق نظر آتا ہے لیکن اس کو ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر نہ چھوڑیں۔

ذہنی امراض کے کورس دو سے چھ ماہ کے دورانیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کچھ بیماریوں میں صحت یابی اتنی جلدی نہیں ہوتی اس کے لیے مریضوں کو ہسپتالوں میں بھی رکھنا پڑتا ہے۔

یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی تک پسماندہ خیالات اور جہالت کا شکار ہے اور غربت اس پر مستزاد۔ اس لیے اکثر معاملات میں لوگ غربت و توہمات کی وجہ سے ڈاکٹرز کے پاس بھی نہیں جاتے۔ کچھ فیس نہیں دے سکتے تو کچھ ان بیماریوں کو جادو ٹونا اور نظر اور ڈرامہ قرار دے دیتے ہیں۔ اس لیے ان مسائل پربات کرنا بہت ضروری ہے۔ عالمی ادارے کی تحقیق کے مطابق آدھے سے زائد ذہنی امراض چودہ سال کی عمر سے اور باقی چوبیس سال کی عمر سے شروع ہوتے ہیں۔

یہ بات حقیقت کے طور پر تسلیم کرلی گئی ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں نفسیاتی و ذہنی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں اور ہر پانچواں آدمی کسی نہ کسی صورت میں ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ ایسے میں جہاں یہ ذمے داری حکومت، محکمہ صحت اور ڈاکٹرز کی ہے کہ وہ ذہنی مسائل میں مبتلا افراد کی مدد کریں اور اس سلسلے میں سماجی بے داری لائیں۔ وہیں ریض کے گھر والوں اور دوستوں کا رویہ بھی بہت اہم ہے۔ خدارا ذہنی امراض میں مبتلا افراد کو پاگل کہہ کر مت پکاریں۔ انہیں اپنے مرض کے ساتھ لڑنے کی ہمت دیں۔ انہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ بھی کارآمد شہری ہیں۔ ذرا سی توجہ، محبت، علاج اور کونسلنگ کے بعد وہ دو بارہ اپنی زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے۔

ہم مسلمان ہیں ہم طبی علاج کے ساتھ ساتھ نماز، قرآن پاک اور صدقہ خیرات کر کے بھی بہتر محسوس کرسکتے ہیں۔ پانچ بار وضو بھی انسان کو ہشاش و بشاش رکھنے میں معاون رہتا ہے۔ روزانہ نہایت متوازن غذا کھائیں۔ مکمل نیند بھی ہمیں ذہنی امراض سے بچاتی ہے۔

کسی بھی شخص میں ذہنی امراض کی علامات دیکھیں تو اس کو پیار اور پوری سپورٹ دیں اور جعلی عاملوں کے پاس جانے سے گریز کریں۔ ایسے عامل صرف زندگی نہیں آخرت بھی خراب کردیتے ہیں۔ اس لیے ذہنی بیماروں کا علاج پیار محبت طبی علاج اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
جویریہ اقبال

One comment

Leave a Reply