شرمیلا پن اور اس کا علاج

خود اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر بہت سے لوگوں کو یہ بخوبی معلوم ہوگا کہ محض شرمیلے پن کی بدولت انہیں کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔ پھر بھی چوں کہ یہ مرض اتنا عام ہے کہ لوگ اس کے آگے سر تسلیم خم کرلیتے ہیں اور نہایت سادگی سے یہ اعتراف کرلیے ہیں کہ بھئی کیا کروں میں تو ہمیشہ کا شرمیلا واقع ہوا ہوں۔ حالاں کہ دراصل ہونا یہ چاہیے کہ اس منفی رویے کی بجائے ایسے مثبت اقدامات اختیار کیے جائیں جو شرمیلے پن کی بیڑیوں کو اتار کر پھینک دیں اور جس خوشگوار زندگی کا حق ہر انسان کو حاصل ہے وہ نصیب ہوسکے۔ اس طرزِ عمل سے کسی قسم کا نقصان نہیں بلکہ ہر طرح کا فائدہ ممکن ہے۔

شرمیلے لوگ جسمانی خطرات کا تو مقابلہ کرسکتے ہیں مگر جہاں انہیں کسی اجنبی سے گفتگو کرنے کی ضرورت ہوجاتی ہے تو وہ جان چراتے ہیں۔ راستے میں اگر اتفاق سے کسی نے ان سے سڑک کا نام ہی پوچھ لیا تو وہ گھبرا جاتے ہیں اور اگر کہیں کسی مجمع سے خطاب کرنے کی ضرورت پڑ گئی تو اس خیال ہی سے انہیں شدید روحانی اور ذہنی اذیت ہونے لگتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس بیماری کا سبب کیا ہے؟

بات دراصل یہ ہے کہ بچپن میں ہر شخص بے حد حساس ہوتا ہے، چناں چہ اس زمانے میں اگر کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے یا گھبراہٹ اور پریشانی ہوتی ہے تو پھر اس کا نہایت گہرا اثر قائم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انسان اپنے آپ کو اس کوفت سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ کوشش کرنے لگتا ہے کہ وہ واقعہ فراموش ہوجائے، لیکن فی الحقیقت ہوتا یہ ہے کہ بھولنے کی بجائے اس واقعے کی یاد لاشعور میں پیوست ہوجاتی ہے۔ چناں چہ بعد میں اگر شعوری طور پر کسی ایسی بات سے دو چار ہوجاتا پڑتا ہے جس سے اس پرانے واقعے کی یاد تازہ ہوتی ہے تو پھر انسان کے احساسات مجروح ہونے لگتے ہیں۔

بعض اوقات کسی جسمانی معذوری یا بدصورتی کی وجہ سے آدمی احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ لوگوں سے ملاقات کے مواقع میسر نہ آنے کی بنا پر انسان اپنے آپ کو دوسروں سے حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کا شرمیلا پن کسی لاشعوری سبب کی وجہ سے ہے تو پھر اس کے بارے میں تفتیش کیجیے اور اس کا پتا چلائیے۔ اپنے بچپن کے واقعات کو یاد کیجیے۔ کیا کبھی آپ کو کسی ظالم استاد سے سابقہ پڑ چکا ہے؟ آپ کے تعلقات اپنے والدین کے ساتھ کیسے رہے اور اپنے بہن بھائیوں سے کیسی گزرتی رہی!

کوشش کر کے اپنی تمام یادوں کی کڑیاں ملائیے۔ اس میں خوش گوار اور ناخوشگوار سب ہی باتیں شامل ہونی چاہئیں۔ پھر ان سب کو لکھ ڈالیے اور ان اثرات کا تجزیہ کر ڈالیے۔ ایک بار جہاں آپ نے یہ معلوم کرلیا کہ آخر وہ کون سی بات ہے جس کا خوف آپ کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے تو پھر اس کا اثر زائل ہونے لگے گا۔ یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش کیجیے کہ مجموعی طور سے آپ کی زندگی سے اس کی کیا مناسبت ہے۔ اب آپ خواہ اس پر ہنسیں یا روئیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تاوقتیکہ آپ اس کا ڈٹ کر سامنا کرتے ہیں اور اس نے جو بھیانک شکل بنا رکھی ہے اس کی د ھجیاں اڑا دیں۔

اگر اپنے آپ کو جسمانی طور پر غیر دلکش تصور کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے لوگوں سے ملنے جلنے میں آپ کو قطعی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، لوگ اس وقت تک آپ کی کمزوری یا خامی کی طرف دھیان نہ دیں گے جب تک آپ خود ہی اپنی بے تکی حرکتوں سے ان کی توجہ ادھر مبذول نہ کرائیں۔ ممکن ہے کہ آپ کو لوگوں سے ملنے جلنے کے مواقع میسر نہ آئے ہوں۔ اگر یہ صورت ہے تو پھر کوشش کیجئے کہ لوگوں سے ملاقات ہوتی رہے۔ شروع شروع میں یہ بڑی تکلیف دہ صورت معلوم ہوگی مگر سماجی تعلقات پیدا کرنے کی مشق کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے لیے مختلف قسم کے ادارے موجود ہیں۔ کھیل کود کا میدان ہے۔ مذہبی جماعتیں ہیں اور اسی طرح کی دوسری صورتیں ہیں جہاں پر لوگوں سے آپ ملاقات کرسکتے ہیں۔ اگر آپ نے مستقل مزاجی سے اپنا رویہ اسی طرح کا رکھا تو پھر دوسروں کی صحبت میں آپ کو الجھن اور جھجک محسوس نہ ہوگی اور آہستہ آہستہ آپ بھی اور لوگوں کی طرح محفل کی زینت بن سکیں گی۔

شرمیلے پن پر قابو پانے کے لیے صحت مندانہ ذہنی رویہ نہایت مفید ہے۔ قطعی کامل ہونے کی کوشش ہر گز نہ کیجیے۔ بعض لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ہر شخص کی توجہ کا مرکز بن جائیں ار جب اپنی اس بچکانہ خواہش میں ناکام ہوتے ہیں تو بے حد دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا بہترین طریقہ یہ ہے کہ محفل کی شرکت ہی پر قناعت کریں اور اس پرمطمئن رہیں کہ ہم بھی اور لوگوں کی طرح موجود ہیں۔

کچھ لوگ کسی سے ملاقات کرنے سے پیشتر اس قسم کی تیاریاں کرنے لگتے ہیں کہ گویا وہ محاذِ جنگ پر جا رہے ہیں۔ چناں چہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تمام حرکات غیر فطری ہونے لگتی ہیں۔ زبان میں لکنت آجاتی ہے۔ قدم ڈگمگانے لگتے ہیں اور ہاتھ پیروں کی جنبش میں بھی تصنع آجاتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر ان کے اعصاب میں اتنا شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں نڈھال ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں شرمیلے انسان کو چاہیے کہ وہ قطعی بھول جائے کہ دوسرے اس کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور اعتراض کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے اتنی گہری دلچسپی نہیں لیتے بلکہ آدمی خود ہی اپنی ایک ایک حرکت کو دیکھتا رہتا ہے کہ میں نے صحیح بات کہی یا نہیں۔ فلاں بات میں نے کہیں غلط تو نہیں کردی۔ ذرا سوچئے تو کہ دوسروں کو اپنے معاملات سے بھلا فرصت کہاں جو کسی کی نوک پلک پر غور کریں۔

انتہائی شرمیلے پن کی سب سے پریشان کن علامت یہ ہے کہ انسان کو چکر آنے لگتے ہیں اور یہ صورت اتنی دیر تک قائم رہتی ہے کہ انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ اب گرے اور اب گرے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کیفیت میں کوئی بے ہوش نہیں ہوتا۔ شاذ و نادر ہی کبھی کوئی بے ہوش ہوکر گر پڑا ہو۔ بہرحال یہ احساس اپنی جگہ پر نہایت تکلیف دہ ہے۔

عام طور پر اس خوف کی کوئی جسمانی وجہ نہیں ہوتی۔ یہ دراصل صرف ذہنی پریشانی کا اثر ہوتا ہے۔ ایک طرف لوگوں سے ملنے کا ڈر غالب ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ کوشش رہتی ہے کہ اس خوف پر قابو حاصل ہوجائے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان خود اپنے بارے میں بھی بے حد غور و فکر کرتا رہتا ہے۔ مثلاً سڑک پر موٹر کے نیچے دب جانا، سنیما میں کسی کا قتل ہونا یا کسی بیماری کا خیال آجانا وغیرہ۔

اس قسم کی کیفیات کا علاج یہ ہے کہ ان واقعات کی طرف قطعی توجہ نہ کیجیے کہ ان ناخوش گوار باتوں کی طرف سے قطعی بے تعلقی پیدا ہوجائے، گویا کہ آپ کے شعور اور آپ کے جسم سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔

شرمیلے لوگوں کے لیے فطری طور پر دوستی کرنا بڑا دشوار ہوتا ہے لیکن یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ دوستی ہی سے نجات کی امید کی جاسکتی ہے۔ اگر ایک اچھا دوست قسمت سے نصیب ہوجائے تو پھر شرمیلے آدمی کو اس کی صحبت میں بڑا سکون حاصل ہوتا ہے اور قابل اعتماد دوست سے آدمی اپنے خوف کے بارے میں بھی گفت گو کرسکتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں اس بات کا بھی امکان رہتا ہے کہ یہ حقیقت آشکارا ہوجائے کہ جن باتوں سے ڈر معلوم ہو رہا تھا وہ محض وہم ہی تھیں۔ یہاں پر یہ بات بھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ پائیدار دوستی تب ہی ہوسکتی ہے جب دونوں دوستوں کی تفریحات اور دلچسپیاں ایک ہی قسم کی ہوں۔

اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی موجودگی میں کوفت اور الجھن ہوتی ہے۔ ممکن ہے اس کا سبب انھی لوگوں کی کمزوری ہو لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود اپنی غلطی کی بنا پر یہ احساس ہو رہا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جن کے طور طریقے ایسے ہیں کہ دیکھ کر غصہ آتا ہے۔ یہ لوگ جان بوجھ کر ایسی ہی حرکتیں کرتے ہیں کہ جی چاہتا ہے کہ ان کا منہ نہ دیکھیں لیکن یہ بات بھی یاد رکھیے کہ انسان جب لاشعوری طور سے کسی پر شک کرتا ہے تو اس کی صحبت میں ضرورت سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ یہ بات عموماً ان لوگوں کے ساتھ در پیش ہوتی ہے جن کے بارے میں اپنے دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ ہوشیار اور چالاک ہیں یا ہم سے زیادہ لائق ہیں۔ چناں چہ انسان یہ سوچنے لگتا ہے کہ فلاں شخص جان بوجھ کر ہمیں نیچا دکھانے کے لیے یہ سب حرکتیں کر رہا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص ہمارے ساتھ کوئی خصوصی برتاؤ نہیں کرتا۔ وہ جیسے دوسروں کے ساتھ پیش آرہا ہے ویسے ہی ہمارے ساتھ بھی پیش آرہا ہے۔

بدسلیقہ اور پھوہڑ لوگوں سے بھی بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ اس کے لیے خوش مزاجی بہترین ہتھیار ہے۔ یہ نوبت ہی نہ آنے دیجیے کہ دوسرا آپ کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرے یا آپ کو تاؤ دلائے۔ اگر دل شکنی کی بات کو آپ ہنسی میں ٹال دیں تو وار خالی جائے گا۔

اجنبی لوگوں کے ساتھ اکثر اوقات سرد مہری سے پیش آنا ناگزیز ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنے بارے میں غلط رائے رکھتا ہے او راپنے کو دوسروں سے بہت زیادہ افضل اور برتر تصور کرتا رہتا ہے۔ چناں چہ اس خوف سے کہ کہیں دوسرے کی نظروں میں ہماری قدر و قیمت گر نہ جائے ہم اپنے آپ کو شکنجے میں جکڑے رہتے ہیں یعنی کھل کر کبھی نہیں ملتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے پر اچھا اثر تو کیا، قطعی کوئی اثر نہیں ڈال پاتے۔ لہٰذا بہترین اصول یہ ہے کہ خود اپنے بارے میں غور و فکر کرنا چھوڑ دیں اور جس سے ملاقات ہوئی ہے اس کی شخصیت، اس کی دلچسپیوں اور اس کے نظریۂ حیات کے بارے میں سوچیں۔

ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہیے کہ دوسرے کی طرف سے اپنے دل میں عذر پیش کرسکیں۔ اس کا ہمیشہ خیال رکھیے کہ جس شخص کو آپ اکڑا ہوا دیکھ رہے ہیں وہ بھی شاید آپ ہی کی طرح شرمیلے پن کے مرض میں مبتلا ہو۔ دوسرے کی طرف سے پیش قدمی کا انتظار نہ کیجیے۔ اگر آپ دوسرے کے اندازِ عمل کے لیے کوئی عذر پیش کر سکیں گے تو پھر آپ کو اس کی طرف بڑھتے ہوئے دشواری نہ ہوگی۔ آپ اگر صدق دل سے دوسروں میں دلچسپی لینے لگیں اور دنیا کی نیرنگینیوں میں اتنے محو ہوجائیں کہ خود اپنی ذات کی آپ کو اس قدر پریشانی باقی نہ رہے گی تو پھر آپ کے شرمیلے پن کا قطعی خاتمہ ہوجائے گی۔

یاد رکھیے یہ خوش گوار کیفیت یک بارگی حاصل نہ ہوسکے گی۔ ایسے مواقع بھی آئیں گے کہ آپ نے جو کچھ حاصل کیا تھا وہ سب رائیگاں ہوتا نظر آئے گا۔ لیکن آپ بددل نہ ہوں، اپنی کوشش برابر جاری رکھیے گا تاوقتیکہ آپ کامیاب ہوجائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سیّد مجاہد محمود

Leave a Reply