خواتین کی معاشی سرگرمیاں اور کارپوریٹ کلچر

آزادی اور مساوات کے نام پر اس وقت دنیا بھر میں خواتین کو گھروں سے نکال کر کارخانوں اور دفتروں میں لانے کی مہم جاری ہے۔ دنیا کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ نصف آبادی کا گھروں میں ’’بے کار‘‘ بیٹھنا قوموں کے معاشی ارتقاء کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اعداد و شمار کے ذریعے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر ملک کی اتنی فیصد خواتین نوکریوں میں آجائیں تو ملکی ترقی کی رفتار میں اتنے فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ معاشی خوش حالی آسکتی ہے اور دنیا کے پسماندہ معاشروں اور ملکوں کی پسماندگی دور ہوکر خوش حالی میں بدل سکتی ہے۔ یہ لبھاؤنے اعداد و شمار دلچسپ حقائق پیش کرتے ہیں لیکن دوسری طرف جن معاشروں میں عورتیں کام کاجی ہیں یا معاشی زندگی کا حصہ ہیں ان کی معاشرتی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

عام تصور یہ ہے کہ یوروپ اور امریکہ میں خواتین بڑی تعداد میں برسر روزگار ہیں اور یہی ان کے معاشی ارتقاء کا اہم سبب ہے۔ لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ مغربی دنیا میں عورتوں کا بڑا حصہ معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور شاید مغربی دنیا باقی دنیا کو بھی اپنے نقش قدم پر چلانا چاہتی ہے اور اسی لیے عالمی ادارے پسماندہ ملکوں کو اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اپنے معاشروں کو خواتین کو گھر میں ’’بیکار بیٹھنے‘‘ سے روکتے ہوئے ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کریں۔ لیکن حقیقت اس کے خلاف ہے۔ جنوبی ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک میں قدیم زمانے سے ہی عورتیں گھروں سے نکل کر معاشی سرگرمیوں کا مضبوط حصہ رہی ہیں اور آج بھی ہیں لیکن معاشی ترقی کے گراف پر وہ آج بھی مغربی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر ہم برطانیہ اور دیگر مغربی ملکوں بہ شمول امریکہ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ محض نصف یا اس سے بھی کم خواتین معاشی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ چائنا جس کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ وہاں ہر آدمی معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور ہر عمر کے افراد کے لیے حسب حال کام میسر آجاتا ہے وہاں بھی خواتین کا نوکریوں میں تناسب نصف سے بھی کم ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے ذریعے فراہم کردہ اعداد و شمار کو دیکھئے اور اندازہ کیجیے کہ تیسری دنیا کو خواتین کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے والا مغرب خود اپنے یہاں خواتین کو روزگار فراہم کرنے کی اہمیت کو کس قدر سمجھتا ہے۔

ملک/ خطہ 1990 2014

سنٹرل یوروپ اور بالٹکس 53 49

یوروپین یونین 42 50

یورو خطہ 46 51

مشرقی خطہ اور پیسک 67 51

ورجن آئلینڈ (امریکہ) 51 54

سوئٹزر لینڈ 56 62

برطانیہ 0 46

یوگانڈا (افریقہ) 82 76

عالم عرب 21 24

پوری دنیا 52 50

ان اعداد و شمار کے علاوہ ILO ہی کے ذریعے جاری کردہ وہ اعداد و شمار بھی دیکھئے جن میں پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی معلومات ہیں اور مردوں کے مقابلے میں خواتین کی حصہ داری کو پیش کیا گیا ہے۔

خواتین کا معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینا کبھی بھی اور کسی بھی سماج میں ممنوع اور غیر سماجی تصور نہیں کیا گیا۔ قدیم زمانے سے لے کر آج تک عورتیں مختلف معاشروں میں مختلف قسم کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ افریقی ممالک سے لے کر قدیم ہندوستان تک اور عرب کے اسلامی عہد سے لے کر آج تک حسبِ حال اور ضرورت عورتیں معاشی جدوجہد کا حصہ رہی ہیں۔ اس میں خاص بات یہ ہے کہ جو معاشرے تہذیبی اور معاشی اعتبار سے جس قدر بچھڑے ہوئے رہے ہیں خواتین کی حصہ داری کا تناسب وہاں اتنا ہی زیادہ ہے۔ اور جب ہم اس نظر سے اعداد و شمار کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی قیادت کرنے والا یوروپ خود اس میدان میں کس قدر پسماندہ ہے۔

اس سے ایک اور بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ مغربی صنعتی سامراج کا عورتوں کے لیے روزگار فراہمی کے مواقع پیدا کرنے کا ایک خاص نظریہ ہے اور وہ نظریہ ہے کہ خواتین روایتی معاشی سرگرمیوں کے بجائے ان کی صنعت اور ان کے کارپوریٹ کلچر میں کام کریں۔ اس کی تربیت دی جائے اور وہیں انہیں روزگار دلایا جائے۔ اس کے علاوہ اگر وہ روایتی معاشی سرگرمیوں میں شریک ہیں، جیسا کہ تمام ہی معاشروں میں دیکھا جاتا ہے، تو وہ روزگار تصور نہ ہوگا۔

مغرب کے کارپوریٹ کلچر کی اپنی خصوصیات ہیں اور انہی خصوصیات کے لیے وہ جانا بھی جاتا ہے، چناں چہ جب ہم اس کلچر کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے خواتین کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور جہاں جہاں اور جن جن معاشروں میں یہ فروغ پا رہا ہے وہاں وہاں اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ ذیل میں اس سلسلہ کی چند باتیں پیش ہیں:

(۱) جیسا کہ مغرب میں کھلا معاشرہ ہے اسی طرح دنیا کے ہر حصہ میں ان کا کارپوریٹ سیکٹر بھی اسی کھلے پن، جسے ہم مشرق کے لوگ عریانیت تصور کرتے ہیں، کا مظہر ہوتا ہے۔ یہاں ہر لڑکے اور لڑکی کو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے اور باہمی رضامندی سے وہ ’’کچھ بھی‘‘ کرسکتے ہیں۔ اس کھلے پن نے عام سماج میں بھی عریانیت اور فحاشی کو فروغ دے کر ہوس جنس کی آگ کو بھڑکایا ہے اور اس کے نتیجے میں خواتین کے خلاف جرائم کا زبردست سیلاب دنیا کے ہر خطے میں امڈا پڑتا ہے۔ اس کے لیے کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار گواہ ہیں۔

اسی طرح اس کھلے پن کا ایک اور نتیجہ یہ ہوا کہ خواتین کے ساتھ کام کے مقامات پر بھی جنسی حراسانی عام ہونے لگی اور معاملہ باہمی رضامندی سے آگے پڑھ کر تشدد تک پہنچ گیا۔ اس کی دلیل کے طور پر برطانیہ کی ٹریڈ یونین کانگریس اور حقوق خواتین کے میدان میں کام کرنے والی تنظیم ایوری ڈلے سیکسزم کے ذریعہ کرایا گیا سروے ہے۔ مذکورہ تنظیم کے ۱۸-۶۵ سال کی عمر کی خواتین کے درمیان کیے گئے اس سروے کے مطابق ۲۴-۱۸ کی عمر کی لڑکیوں کو سخت قسم کی جنسی حراسانی کا سامنا ہے۔ اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ نوکری کے خوف ، بدنامی کے ڈر اور کسی مناسب کاروائی سے ناامیدی کے سبب شکایت کو بھی تیار نہیں ہوتیں۔

خود ہمارے ملک ہندوستان میں صورتِ حال بہت اچھی نہیں ہے۔ ہمارے یہاں بھی کام کے مقامات پر خواتین کو جنسی حراسانی کا سامنا ہوتا ہے۔ چناں چہ اس کیفیت کا مقابلہ کرنے کے لیے سرکار نے کام کے مقام پر خواتین کی جنسی حراسانی کے تخفظ کا قانون ۲۰۱۳ بنایا۔

۲- ازدواجی اور گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس کا پہلا اثر تو یہ ہوتا ہے کہ لڑکیوں کی شادی میں کافی تاخیر ہونے لگتی ہے۔ خود ہمارے ملک میں نوکری پیشہ لڑکیاں اپنی عمر کی ۳۰ دہائیاں گزارنے کے بعد شادی کا سوچتی ہیں۔ اس کے علاوہ لیو اِن ریلشن شپ جیسی لعنتیں وجود میں آرہی ہیں۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی ملکوں خصوصاً برطانیہ میں شادی کی عمر کا اوسط بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جہاں 1990 میں 27 سال ہوا کرتا تھا 2014 میں 30.2 سال ہوگیا اور اب2016میں اور بڑھ کر 32سال کے پار ہوگیا ہے۔

اس کے علاوہ شادی کے بنا ایک ساتھ رہنا ایک الگ روایت بنتا جا رہا ہے اور جہاں شادیاں ہو رہی ہیں وہاں طلاق کا تناسب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دیکھئے گراف:

خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت کے اس نظریے نے گھر اور خاندانی نظام پر نہایت خراب اثرات مرتب کیے ہیں۔ اور اس وقت مغربی دنیا میں خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر گیا ہے، جس پر وہاں کے ماہرین سماجیات کافی پریشان ہیں۔ وہ اس کلچر اور خواتین کے نوکریوں کے اس نئے تصور کے سخت مخالف ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خواتین کا معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینا اپنے آپ میں برائی کی جڑ نہیں۔ برائی کی جڑ وہ خاص کارپوریٹ کلچر ہے، جس کی بنیاد بلا حدود آزادی اور ہوس و عریانیت پر رکھی گئی ہے۔

اعداد و شمار دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ خود مغربی ملکوں میں یا تو خواتین کے اندر نوکری کا رجحان کم ہوا ہے یا اس قدر نہیں بڑھا، جس قدر مشرق اور تیسری دنیا کے ممالک میں بڑھا ہے۔ جو سماج اور معاشرہ اس کارپوریٹ کلچر سے جتنا دور ہے وہ ثقافتی و تہذیبی اعتبار سے اتنا ہی محفوظ بھی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ

Leave a Reply