سوشل میڈیا کے خواتین اور بچوں پر اثرات

دورِ حاضر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ویب سائٹ کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے آج فاصلے سمٹ کر گم ہوگئے ہیں، ہزاروں میل دور سے انسان اپنے سارے مسائل گھر بیٹھ کر حل کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت آج دنیا گلوبل ولیج میں بدل چکی ہے۔ فیس بک، ٹوئیٹر، موبائل ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور وائبر وغیرہ فوری طور پر ملنے والی عوامی رابطہ ویب سائٹس ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا کے صارفین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھ رہا ہے مگر جس طرح ہر چیز کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی، یہی کچھ حال سوشل میڈیا کا بھی ہے جہاں سوشل ویب سائٹس انفرادی اور گروہی سطح پر باہمی رابطوں کا ذریعہ اور اطلاعات اور خبروں کی ترسیل کا مؤثر ترین سیلہ بن کر سامنے آئی ہے، وہیں ان کی وجہ سے معاشروں میں بہت سی اخلاقی اور سماجی خرابیوں نے بھی فروغ پایا ہے۔ ایسے ہی معاشروں میں ہمارا معاشرہ بھی ہے جہاں ہر ٹیکنا لوجی کے منفی اثرات، مثبت اثرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک اس صورتحال کی اہم مثال ہے جو کچھ وقت پہلے تک اطلاعات کے پھیلاؤ، تفریح اور علم کے حصول کا موثر ترین ذریعہ تھی مگر آج ہمارے معاشرے کے مختلف افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے، بے بنیاد اور من گھڑت خبریں پھیلانے اور تصاویر، خاکوں اور ویڈیوز میں من مانی رد و بدل کر کے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جہاں سوشل میڈیا ویب سائٹ نے دوسروں کے ساتھ مربوط ہونے اور باہمی رابطے بڑھانے کا ایک اضافی طریقہ فراہم کیا ہے وہیں یہ ممکنہ طور پر سائبر غنڈہ گردی، سماجی رقابت اور تنہائی کا بھی ذریعہ بن رہا ہے۔ کیلفورنیا یونیورسٹی کے محقق اور ماہر نفسیات لیری روزن کی تحقیقات کے مطابق فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کے زیادہ استعمال سے انسان میں خود پرستی، نفسیاتی مشکلات، سماج دشمن رویے اور پرتشدد جذبات میں ضافہ ہو رہا ہے۔ لیری روزن کے مطابق ان کے استعمال کرنے والے بچے اور بڑے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ فیس بک کے اعداد و شمار کے مطابق ہرروز تقریباً دو لاکھ افراد اس سائٹ کے ممبر بنتے ہیں۔ جن میں ایک اندازے کے مطابق اس میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور نوجوانوں کی ہے۔

سوشل میڈیانے جہاں مردوں کو اپنا گرویدہ بنایا وہیں خواتین بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو رہی ہیں۔ ایک وقت تھا جب صرف مرد حضرات ان ویب صائٹس کا زیادہ استعمال کرتے نظر آتے تھے، مگر آج یہ صورتحال ہے کہ خواتین بھی اس دوڑ میں پوری طرح شامل ہوچکی ہیں۔ وہ خواتین جو کاروباری شعبے میں اپنا مقام بنا رہی ہیں اور اپنی محنت اور کوشش سے کاروبار کی دنیا میں آگے بڑھ رہی ہیں، وہ بھی اس کا استعمال کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ خواتین جو بیوٹی پارلر چلاتی ہیں یا بوتیک چلا رہی ہیں، اب وہ اپنے پالر اور بوتیک کی پبلسٹی کے لیے اپنے فیس بک پیجز بنا رہی ہیں جس سے ان کے گاہکوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے کیوں کہ فیس بک کی بدولت رسائی آسان بن گئی ہے۔ یوں سوشل میڈیا کی بدولت بزنس کی پروموشن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ مگر کچھ فوائد کے ساتھ ساتھ انہیں ویب سائٹس نے خواتین کو ذہنی مریض بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج نہ صرف وہ خواتین جو گھریلو ہیں بلکہ ورکنگ وومین بھی اس کی وجہ سے بہت سے مسائل کا شکار ہو رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر خواتین کو اپنے شوہروں سے یہ شکایت ہے کہ ان کی شوہروں کے پاس ان کے لیے کوئی ٹائم نہیں کیوں کہ وہ اپنا سارا وقت میڈیا ویب سائٹس پہ گزار رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ خانگی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ مردوں کی سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اس حد تک دلچسپی پر ان کی بیویوں نے اعلانیہ اپنے غم اور غصے کا اظہار شروع کر دیا ہے، ان میں سے بعض یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کے خاوند اس طرح سوشل میڈیا پر دوسری عورتوں کے ساتھ دل لبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اپنے شوہروں سے نالاں خواتین نے طلاقیں لینا شروع کر دی ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ آج ۸۰ فیصد گھروں کے ٹوٹنے میں سب سے اہم کردار اس سوشل میڈیا کا ہے جس نے میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا کردی ہیں اور جس کی وجہ سے خاندان کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں اور خانگی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور ان میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ زندگی میں ذہنی تناؤ بڑھ رہاہے۔

کچھ خواتین کے خیال میں ان کے شوہر سوشل میڈیا نیٹ ورک کے نشے میں مبتلا ہوچکے ہیں اور وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ان کا کوئی خاندان بھی ہے۔ وہ اپنا سارا وقت، پوری پوری رات موبائل نیٹ ورک اور چیٹ روم اور مختلف گروپس میں گفتگو کرتے ہوئے گزارتے ہیں اور بیوی بچوں کو نظر انداز کرتے ہیں کیوں کہ انہیں نت نئی لڑکیوں کے ساتھ چیٹ کرنے اور دل لگی کرنے میں زیادہ مزہ آنے لگا ہے اور وہ اپنی بیویوں سے بے زار رہتے ہیں۔ چناں چہ ایسی خواتین مسلسل تکلیف دہ صورتِ حالسے گزر کر ڈپریشن اور مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو رہی ہیں اور بے خوابی اور عدم تحفظ کا شکار ہوکر چڑچڑی ہوتی جا رہی ہیں۔ شک و شبہے کا شکار ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑا گھر کا سکون بھی برباد کر رہاہے اور بہت سی خواتین تو اس صورتِ حال میں ہر وقت اپنے شوہروں کی جاسوسی میں لگی رہتی ہیں جس کی وجہ سے گھر اور بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں اور یہ چیز معاشرے کے لیے بہت نقصان کا باعث ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے جہاں فاصلوں کو کم کیا ہے وہیں اس کے وسیع منفی اثرات سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے والے بچوں کی جذباتی اور سماجی نشو نما میں تاخیر ہوسکتی ہے کیوں کہ وہ زیادہ وقت مجازی دنیا میں گزارتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ہر روز اپنا زیادہ وقت سوشل ویب سائٹس پر گزارنے والے بچوں میں جذباتی مسائل، ہائپر ایکٹیویٹی او رخراب رویہ پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور میں بچوں نے اپنی تعلیم اور کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا میں دلچسپی لے لی ہے۔ ایک دور تھا جب بچے اسکول جاتے اور پھر گھر آکر اپنی پڑھائی پر توجہ دیتے تھے اور کچھ وقت کھیل کود کو دیا کرتے تھے جس سے وہ ذہنی اور جسمانی طو رپر تندرست رہتے تھے۔ مگر جب سے انٹرنیٹ، موبائل کے ذریعے سوشل ویب سائٹس کا عفریت ہماری جڑوں میں آبسا ہے تو اس کے بعد نہ پڑھنے میں ان کی توجہ ہے اور نہ کھیل کود میں دلچسپی۔ جس کی وجہ سے ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جسمانی صحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ نوجوان فیک آئی ڈیز بنا کر کالج اور اسکول کی لڑکیوں کی تصاویر لگا کر معصوم لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور اپنے تھوڑی سی انجوائمنٹ کے لیے اپنا اور دوسروں کا وقت بھی ضائع کر رہے ہیں اور دوسروں کے جذبات اور احساسات سے کھیل کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ دوسری طرف زیادہ تر لڑکیاں فلمی اداکارا ؤں اور ماڈلز کی خوب صورت اور ہیجان انگیز تصاویر لگا کر لڑکوں کو متاثر کرنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہیں اور پھر کسی کے ساتھ محبت کا تعلق بنا کر بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کیوں کہ ۹۰ فیصد لڑکے صرف دل لگی کر رہے ہوتے ہیں۔ دوستی کے نتیجے میں ملاقات کے بہانے بہت سی لڑکیاں اغوا برائے تاوان اور جنسی زیادتی کا بھی شکار ہو رہی ہیں۔ آج کیوں کہ سوشل میڈیا کی بدولت جنسی ویب سائٹس تک رسائی آسان ہوچکی ہے لہٰذانو عمر بچے خاص طور پر لڑکے ان ویب سائٹس کو دیکھ کر اخلاقی اور جنسی بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ اپنا سارا سارا وقت ان ویب پیجز پر گزارتے ہیں جس کی وجہ سے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت خراب کر بیٹھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بعض نوجوان سیکسی پروفائل پکس اور غیر اخلاقی اور بے پردہ تصاویر لگا کر بے حیائی پیدا کر رہے ہیں جس سے مسلمان اور باپردہ خواتین کی عزت نفس بھی مجروح ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان ویب سائٹس پر ہر قسم کی معلومات شیئر کرنے کے بھی بہت خراب نتائج سامنے آرہے ہیں۔ لوگوں میں عداوت، حسد اور جلن جیسے منفی اثرات پیدا ہو رہے ہیں، وقت کا ضیاع بچوں کا مستقبل تاریک کر رہا ہے۔ بچوں کے سلسلے میں کوتاہی کے ذمے دار وہ والدین ہیں جو اپنے بچوں کو موبائل اور کمپیوٹر کے زیادہ استعمال سے منع نہیں کرتے اور ان کا کوئی ٹائم شیڈول نہیں بناتے نہ ان پر نظر رکھتے ہیں کہ بچے سارا وقت ان پر کیوں ضائع کرتے ہیں اور کیا کیا دیکھتے ہیں۔ اور ان کی تعلیم اور رزلٹ کیوں متاثر ہو رہا ہے۔

غرض سوشل میڈیا ویب سائٹس کا استعمال لوگوں کا جہاں کچھ فائدے پہنچا رہا ہے وہیں بہت سی اخلاقی اور معاشرتی برائیوں میں بھی مبتلا کر رہا ہے۔ لوگوں کی زندگی سے سکون ختم کرنے کا اہم سبب بن رہا ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ہر شخص اس کا استعمال اعتدال میں کرنا سیکھے اور خود کو ان چیزوں کا عادی بنانے کے بجائے صرف ضرورت کے تحت ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کریں، تو ہر قسم کی پریشانی اور مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
علینہ ملک

Leave a Reply