غزل

اب گناہ و ثواب بکتے ہیں

مان لیجے جناب بکتے ہیں

میری آنکھوں سے آکے لے جاؤ

ان دکانوں پہ خواب بکتے ہیں

پہلے پہلے غریب بکتے تھے

اب تو عزت مآب بکتے ہیں

بے ضمیروں کی راج نیتی میں

جاہ و منصب، خطاب بکتے ہیں

شیخ، واعظ، وزیر اور شاعر

سب یہاں پر جناب بکتے ہیں

دور تھا انقلاب آئے تھے

آج کل انقلاب بکتے ہیں

دل کی باتیں حبیب چھوٹی ہیں

دل بھی خانہ خراب بکتے ہیں

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

Leave a Reply