حمد

پھول تیرے، یہ شجر اور ثمر، سب تیرے

ان پہ پڑتے ہیں جو شبنم کے گہر، سب تیرے

کوہ و دریا ہوں کہ ہو راہ گزر، سب تیرے

انجم و کاہکشاں، شمس و قمر، سب تیرے

سانس میرے ہے مگر اس پہ حکومت تیری

میرا یہ جسم، مری جان، یہ سر، سب تیرے

سطحِ دریا کی خموشی کا بھی مالک تو ہے

اور سمندر میں جو اٹھتے ہیں بھنور، سب تیرے

وقت تیرا ہے، زماں تیرا، زمیں بھی تیری

روز جو آتے ہیں یہ شام و سحر، سب تیرے

تیر صناعی کا مظہر ہے زمیں کی ہر شے

ان میں پنہاں جو نظر آئیں ہنر، سب تیرے

ٹمٹماتے ہوئے وہ کچے مکانوں میں چراغ

روشنی میں جو یہ ڈوبے ہیں نگر، سب تیرے

چشمِ بینا و دلِ زندہ جو حاصل ہیں مجھے

ہیں تو کہنے کو مرے، ہیں یہ مگر، سب تیرے

شیئر کیجیے
Default image
تنویر آفاقی

Leave a Reply