محبت

مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے تم میں کوئی 70 سالہ بوڑھی روح سماگئی ہے…‘‘ زارا بُرا سا منہ بناتے ہوئے میگزین بیگ میں ٹھوسنے لگی تو عبل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑگئی جسے اُس نے بڑی مہارت سے چھپاتے ہوئے زارا کو گھورا…

’’کیا مطلب؟‘‘ عبل نے ابرو اچکاتے ہوئے سوال کیا…

’’اِس طرح کی کہانیاں‘ آرٹیکلس کوئی اِس عمر میں لکھتا ہے کیا بھلا…؟‘‘ زارا نے مُنہ بناکر کہا تو اس بار عبل ہنس ہی پڑی… جبکہ فرح کو اِن دونوں کی گفتگو میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی… وہ تو بس چند ایک رسالے ہی پڑھتی تھی جنکی کہانیوں کا رنگ و آہنگ‘ آئیڈلزم‘ اور انوکھی دنیا ہوتی تھی اور باقی وقت ٹی وی کے ڈرامے …

’’اچھا تو پھر تم ہی کوئی آئیڈیا دو کہ کسطرح کی کہانی لکھوں؟‘‘ عبل نے آنکھیں گھماتے ہوئے پوچھا۔

’’کوئی لو اسٹوری لکھا کرو…کبھی تو محبت کی بات کیا کرو…ایسی کہانیاں پڑھنے میں بڑا مزہ آتا ہے…‘‘ زارا مزہ لے لے کر کہہ رہی تھی۔ اِس بار اسائنمنٹ مکمل کرتی فرح بھی متوجہ ہوگئی…

’’تمہارا مطلب وہ ویسی والی کہانیاں جو ’ایسی ویسی‘ میگزین میں آتی ہے‘‘ عبل کو تو جیسے صدمہ پہنچا ہو…

’’ویسی والی کہانیاں اور یہ ’ایسی ویسی‘ میگزین سے کیا مطلب تمہارا‘‘ فرح نے تیکھے لہجہ میں پوچھا… وہی چور کی داڑھی میں تنکا والی مثال…!

’’جس میں ہیرو اور ہیروئین دونوں ہی کمال کے خوبصورت ہوتے ہیں…. ہیرو ہالی وڈ کے کسی ہیرو کی طرح بے حد ڈیشنگ‘ اسمارٹ اور ہینڈسم ہوتا ہے‘ ساتھ ہی بڑا educated اور کوئی بڑے سے ’وِلا‘ (گھر) کا مالک یا اکلوتا وارث ہوتا ہے…

اچھا خاصہ سوبر ڈیسنٹ بندہ ہوتا ہے جو ہیروئن صاحبہ کو دیکھ کر سب کچھ بھول جاتا ہے…..

اور سب سے زیادہ جان تو میری ہیروئن والے Charater پر جلتی ہے….

ناول نگار اُسکی خوبصورتی کا وہ منظر کھنچتی ہے کہ بیچارہ پڑھنے والا یا تو احساسِ کمتری میں چلا جائے یا پھر اُس ہیروئن کے تخیلاتی کردار سے ہی حسد کرنے لگے۔

رنگ یوں جس میں گلابیاں جھلک رہی ہوں، جھیل جیسی گہری آنکھیں جن پر گھنی لمبی پلکیں لرزتی رہتی ہوں‘ ہونٹوں کے لیے بھی کچھ اچھی ہی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جواب یاد نہیں آرہی…‘ اورہاں وہ کالی ناگن کی طرح بل کھاتی بالوں کی چوٹی بھی‘ اور جبب ہنستی ہے تو چاروں طرف گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں…

یہی بہ مشکل ہضم کرکے آگے بڑھو تو میڈم کالج میں بھی نہ صرف پڑھائی میں بلکہ ہر ایکٹویٹی میں آگے ہوتی ہیں… گھر پر آتے ہی گھر کا سارا کام کرتی ہیں، غیر متوقع مہمان آجائے تو بھی بھرپور خاطر تواضع بریانی‘ کباب‘ قورمہ‘ فرنی وغیرہ۔

اور سب سے زیادہ دھچکا اُس وقت لگتا ہے کہ اِن سب کے بعد ہیرو سے باتیں کرنے کا بھی وقت مِل جاتا ہے… ‘‘

عبل کا اندازِ بیاں ہی کچھ اسطرح کا تھا کہ فرح اور زارا ہنسے جارہی تھیں…

’’نہیں تم ہی بتائو نا ایسا ہوتا ہے یا نہیں!….. وہ ہیروئن میڈم گرمی میں بس کے انتظار میں کھڑی ہیں‘ پسینے کے قطرے جو اُنکی پیشانی پر آجاتے ہیں تو وہ بھی شبنم کے قطروں جیسے لگتے ہیں اور اُنکا حسن اور بڑھ جاتا ہے جب کہ ہم بیچاری عام لڑکیوں کا پسینے اور گرمی سے جو حشر ہمارا ہوتا ہے وہ ناقابلِ تحریر ہے…جب ہماری ہیروئن کھانا بناتی ہے تو چولہے کی حدت سے اُسکا سُرخ ہوتا چہرہ‘چہرہ کے کناروں پر چپکے بال‘ آہ حسن دو بالا…. یہاں بڑی محنت کے بعد اپنی شکلیں نظر آتی ہیں اور چولہے کے پاس وہ حال ہوتا ہے کہ ماسی خیراں لگے… ‘‘ عبل منہ بنائے کہے جارہی تھی…

’’اب بس بھی کرو …. ٹھیک ہے ایسا ہی ہوتا ہے مگر اس میں بُرا کیا ہے؟

بندہ تھوڑا تفریح کے لیے پڑھتا ہے…… ‘‘ فرح نے اعتراض کیا۔

’’ہاں جی! تفریح کے لے یہ آپ کے پاکستانی اور انڈین سیرئیل کم ہے نا جوان جیسی خرافات رسالوں میںبھی پڑھی جائے …‘‘ عبل کی تو جان جل گئی…

خیر یہ سب چھوڑو … تم صرف ایک بات بتائو مجھے ….. تمہیں محبت پر یقین نہیں ہے کیا …. ؟ زارا نے مسکراتے ہوئے سوال پوچھا ۔

’’محبت پر یقین… کم آن…. محبت پر کسے یقین نہیں ہوتا ! مجھے تو ہے…میراتو ایمان ہے محبت پر …. بلکہ مجھے لگتا ہے مجھ سے بڑھ کر کوئی محبت پر اتنا یقین نہیں کرتا ہوگا…‘‘ عبل نے اپنی بکھری چیزیں بیگ میں ڈالتے ہوئے مصروف انداز میں کہا۔

’’اوہو! میں ’اُس‘ محبت کی بات کررہی ہوں… ویسی والی‘ محبت .‘‘ زارا نے اُسکے جواب میںبد مزہ ہوتے ہوئے کہا … اک تو نا یہ عبل اور اُسکا دماغ …. ’’ہیں! … یہ ’ویسی والی‘ محبت کیا ہوتی ہے… ‘‘ عبل نے انجان بنتے ہوئے سوال داغا تو فرح چڑگئی…

’’وہی ہوتی ہے جو ’ایسی ویسی‘ میگزین میں ’ویسی والی‘ کہانیوں میں ہوتی ہے… ‘‘ فرح کے انداز پر زارا تو زارا عبل بھی ہنس پڑی…

’’نہیں میں نے اکثر دیکھا ہے کہ تم اِس ذکر پر بڑے سرد تاثرات دیتی ہو!….

ایک دم بورنگ سی‘ روکھی‘ سخت لڑکی لگتی ہو اُس وقت تم مجھے۔ مجھے تو لگتا ہے تمہیں محبت سے نفرت ہے‘ یا سخت چِڑ ہے۔ کیسے عجیب تاثرات ہوجاتے ہیں تمہارے کوئی اگر اِس قسم کی بات کرے تو… ‘‘ زارا نہ جانے کب سے اُسے نوٹ کررہی تھی …

اُس کی بات پر عبل کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئی …. نیچے دیکھتے ہوئے ہاتھ کی انگلی سے زمین پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچتی رہی جبکہ فرح اور زارا منتظر بیٹھی رہیں۔

’’پتہ ہے زارا…… جب لوگ مجھ سے محبت کی بات کرتے ہیں‘ اسکے ہونے یا نہ ہونے کے دلائل دیتے ہیں تو میں اِنکے چہروں اور آنکھوں کے تاثرات دیکھتی ہوں اور مجھے وہاں ’محبت‘ دکھائی نہیں دیتی اور پھر مجھے محبت کا یقین نہیں آتا۔ اُن کے آنکھوں اور چہروں کی چمک ’محبت‘ کی دین نہیں ہوتی بلکہ ایک نیا جہاں‘ ایک نیا راستہ کھوج لینے کا ایکسائیٹمنٹ ہوتا ہے۔ ‘‘ عبل سوچتی نگاہوں سے دھیرے دھیرے کہہ رہی تھی۔

’’پلیز عبل …. تم اتنی جج مینٹل (اندازہ لگانے والی) کس طرح ہوسکتی ہو تمہیں کسی کی feelings (احساسات) کو یوں انلائز (تجزیہ) کرنے کا کیا حق؟ اور پلیزبُرا مت ماننا مگر جب تمہیں اسکا تجربہ نہیں تو تم اس بارے میں کوئی جملہ کیسے کہہ سکتی ہوں کوئی Statement کیسے دے سکتی ہو؟‘‘

’’سچ کہتی ہو تم کہ مجھے تجربہ نہیں…. مگر یونو واٹ (تمہیں پتہ ہے کیا؟)….. یہ ہماری اپنی اصطلاح ہے ’ایسی ‘ محبت اور ’ویسی‘ محبت والی….. ورنہ جذبہ‘ انسانی feelingsکائناتی‘ یونیورسل (universal) طور پر ایک جیسے ہی ہے….. نفرت‘ حسد‘ جیسے جذبے یکساں ہیں چاہے تم کسی سے بھی کر، ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا‘ اِن feelings کے ساتھ رہنے والا انسان اک ہی ردِّ عمل دیتا ہے تو پھر محبت کا بھی یہی اصول ہے۔ محبت ہے یا نہیں اِسکے لیے بھی کسوٹی ہوتی ہے۔‘‘

عبل نے اک ہلکی سی گہری سانس لیتے ہوئے انھیں دیکھا۔

’’دیکھو… تم دونوں مجھ سے میرا نظریہ پوچھنا چاہ رہی ہونا تو میں بتا دیتی ہوں !

مجھے کوئی لیکچر نہیں دینا بس اپنے احساسات بتارہی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ سچی‘ پاکیزہ محبت کبھی انسان کو غلط راستوں پر نہیں ڈالتی‘ کبھی اِسکا نقصان نہیں کرتی …. کبھی رسوا نہیں کرتی……

انسان کا سب سے پہلا سچی محبت کا رشتہ اللہ الودود سے ہونا چاہیے…تو کیا کوئی بندہ‘ یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ سے بے انتہاء محبت کرتا ہے اور اِسی محبت کی وجہ سے وہ غلط راستے پر چل پڑے ہرگز نہیں… ایسا ممکن ہی نہیں بلکہ اللہ کی محبت ‘ سچی عملی محبت بندہ کو غلط راستوں کی جانب رہنمائی نہیں کرتی۔

اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ پیارے نبی حضرت محمدؐ سے بے حد محبت کرتا ہے اور اِسی محبت کے لیے اُس نے چند ایک گناہ کیے ہیں تو ایک عام فہم کا انسان بھی اُسکے دعوے کو سرے سے غلط کہے گا کہ یہ محبت تو گناہوں سے بچاتی ہے۔

میں نے کہا نا کہ جذبے universal ہوتے ہیں اور اُن میں انسان کا ردِّ عمل بھی ایک سا ہوتا ہے تو میں نے تجزیہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ حقیقی اور سچی محبت وہی ہوتی ہے جو بندہ کو کمزور ہونے سے بچاتی ہے‘ غلط راستوں سے بچاتی اور غلط قدم اٹھانے سے روکتی ہے۔

دھیمی دھیمی بہتی ندی کے سُراور تال کی طرح وہ الفاظ ادا کررہی تھی جبکہ فرح اور زارا دم سادھے اُسے سُن رہی تھیں۔ وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی ۔

’’یہ بات نہیں ہے کہ میرا محبت پر ایمان نہیں… محبت ہی سے تو اس کائنات کا وجود قائم ہے …

میرے لیے محبت وہ ہے جو ہم اپنے والدین سے کرتے ہیں۔ یہ محبت ہی تو ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے سب کچھ قربان کرنے تیار رہتے ہیں‘ یہ محبت ہی تو ہے جو بچوں کی تکلیف پر ماں کی آنکھوں سے بہہ نکلتی اور باپ کے چہرے سے چھلک پڑتی ہے۔یہ محبت Sacrifice (قربانی)کرنا سکھاتی ہے۔

میرے لیے محبت وہ احساس ہے جو میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ محسوس کرتی ہوں‘ یہ محبت ہی تو ہے کہ بہن‘ بھائیوں اور انکی محبتوں کے بیچ انسان اپنی پریشانی بھول جاتا ہے۔

محبت ایک خوشبو ہے جو اپنوں کے بیچ رہ کر محسوس کی جاتی ہے… محبت کے اور بھی بہت سے روپ ہیںبہت سے عنوان ہیں۔ محبت کا اپنا ایک حصار ہوتا ہے۔ مضبوط حصار۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ’’سچی اور خالص محبت وہ ہے جو ہمیں اللہ سے قریب کرتی ہے اور جو محبت اللہ سے دور کرے وہ محبت نہیں ہوتی۔ ‘‘

عبل کی آوازکے سفر میں وہ الفاظ تھے یا جگنو تھے جو اُڑ اُڑ کر روشنی پھیلانے کے لیے بے تاب تھے۔وہ اب بھی مگن سی زمین پر انگلی سے نہ جانے کیا بنارہی تھی اور اُسی دھیمے لہجے میں کہے جارہی تھی یوں جیسے وہ وہاں اکیلی بیٹھی ہو۔

’’میں اُس جذبے کو کئی نام نہیں دے پاتی جس کے پیچھے یہ لوگ دوڑے جارہے ہیںاور احمق اسے محبت کا نام دیتے ہیں۔ یہ سطحی ناولوں‘ سطحی عشق پر مبنی ڈراموں اور فلموں نے محبت کا تصور ہی بدل دیا ہے۔

محبت کبھی دھوکا دینا نہیں سکھاتی۔پھر یہ کیسی محبت ہے کہ انسان اُن لوگوں کو دھوکا دے جنکی محبتوں میں آج تک جیتا آرہا ہے۔

محبت میں خوف نہیں ہوتا،اس میں گمان نہیں ہوتے۔

محبت میں تو صرف یقین ہوتا ہے‘ سکون ہوتا ہے۔ پھر یہ کیسی محبت ہے جو انھیں خوف میں مبتلا رکھتی ہے‘ بے سکون رکھتی ہے، اورہزارہا خدشوں سے جوڑے رکھتی ہے۔

میرے نزدیک محبت ایک یقین اعتماد اور ایک مضبوطی بخشنے والا ناقابل بیاں احساس ہے…پھر یہ لوگ اُس چیز کو محبت کا نام کیسے دیتے ہیں جو انھیں کمزور بناتی ہے… جو ان کے لیے رسوائی کا کام کرتی ہے… بے چینی‘ بے سکونی‘ درد‘ کرب یہ سب بندے کو اُس وقت گھیرتے ہیں جب وہ غلط کام کرتا ہے…‘‘

’’ تو کیا محبت گناہ ہے…؟‘‘ زارا نے دھیمے لہجے میں پوچھا تو عبل ہلکا سا مسکرادی…

’’نہیں!… ‘‘ اُس نے حتمی لہجے میں کہا… ’’محبت گناہ کیسے ہوسکتی ہے…!

انسان اللہ کی بنائی ہوئی حدود کو پار کرتا ہے اور اِسے محبت کا نام دیتا ہے۔….. اللہ کی حدود توڑ کر‘ اللہ کی نافرمانی کرکے‘ اُسے ناراض کرتے ہیں اور اِسے محبت کا نام دیتے ہیں……. اور جو محبت بندہ کو اللہ کی حدود توڑنے لگائے‘ جو محبت بندہ کو اللہ سے‘ اسکے احکام سے‘ اسکے حدود سے بے نیاز کردیتی ہے وہ محبت کے علاوہ سب کچھ ہوسکتی ہے۔ ‘‘

وہ اب بھی حتمی لہجے میں ہی کہہ رہی تھی…. مٹی پر بیل بوٹے بنانے کا شغل اب ختم ہوگیا تھا۔

’’ہیں…!محبت گناہ نہیں… مطلب کرسکتے ہیں اور محبت کی جائے تو حدود نہ پار کیے جائیں یہ کیا بات ہوئی…. سمجھ سے باہر… ‘‘ فرح کا اعتراض‘ زارا کے بھی ذہن میں تھا۔

’’ہاں….. کیونکہ محبت اور وقت گزاری میں فرق ہوتا ہے…. اگر کوئی لڑکا کسی کو پسند کرے تو وہ باعزت طریقے سے گھر پر رشتہ بھجوادے…… اور میں بطور خاص لڑکوں کا ذکر اس لیے کررہی ہوں کیونکہ ہم جس معاشرہ میں رہتے ہیں اس میں لڑکیاں پہل نہیں کیا کرتیں۔ چاہے وہ کتنی ہی بولڈ‘ براڈ مائنڈڈ اور ایجوکیٹڈ ہوں تو اگر کوئی لڑکا directly کسی لڑکی کو اپروچ کرلے تو محبت کی حدود یہ کہتی ہیں کہ اُسے گھر کا راستہ بتایا جائے رشتہ بھجوانے کے لیے…. اور اگر انکار ہوجائے تو بات ختم۔ لیکن جب اللہ کی حدود ٹوٹ جاتی ہیں تبھی یہ دوستیاں پروان چڑھتی ہیں۔

آخر لوگ محبت اور وقت گزاری میں فرق کیوں نہیں سمجھتے؟ لڑکیاں خود کو اتنا بے مول کیوں کردیتی ہیں ؟ اور یہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ محبت کے قرینوں میں سب سے بڑا قرینہ عزت ہے۔ جو شخص آپکی عزت کا خیال نہیں رکھ سکتاوہ محبت کیا خاک کرے گا؟! جو چار لوگوں کے درمیان آپکی عزت کا خیال نہ کرے‘ جو آپ سے دوستی اور بے تکلفی کی حدود پار کرتے ہوئے یہ نہ سوچے کہ یہ باتیں آپ کے لیے رسوائی کی وجہ بنیں گی، لوگ آپکے کردار اور عزت پر انگلیاں اٹھائیں گے تو کیا تم اِسے محبت کہوگی… ؟؟

یہ محبت کی کونسی قسم ہے جو شاہرائوں‘ پارکوں‘ ہوٹلوں اور کالج کیمپس میں پروان چڑھتی ہے؟ یہ کونسی محبت ہے کہ انسان اپنے کردار‘ اپنی عزت‘ اپنی عزتِ نفس کو پرے کردے‘ تم ہی بتائو کیا یہ ہے محبت… !؟‘‘ عبل نے اپنی بات کے اختتام پر سوال اٹھایا تو… فرح اور زارا دونوں ہی نے نفی میں سر ہلایا…بات ہی کچھ ایسی تھی جو جذبات کو بھی اپیل کررہی تھی اور دماغ کو بھی…

’’محبت زندگی کا محور ہوتی ہے اور محبت وہی ہوتی ہے جو آپ کو اپنے اصل سے جوڑے رکھے….. تم دونوں میری اچھی اور بہت پیاری دوست ہو…. ممکن ہے میری باتیں تمہیں پسند نہ آئیں، تمہارا نظریہ الگ ہو مگر ایمانداری اور غیر جانب داری سے غور کرو تو شاید تمہیں سمجھ آئے اور اگر میں کہیں غلط ہوں تو مجھے بتائو…..‘‘

’’دراصل اِن سطحی فلموں‘ ڈراموں نے لڑکے لڑکی کی آپسی دوستی‘ بے تکلفی‘ گھر والوں کو دھوکہ میں رکھ کر غلط کام کرنا‘ گھومنا پھرنا‘ عشق و عاشقی آج کے دور کے لیے لازم و ملزوم چیز بناکر رکھ دیا ہے اور اسکا غلط ہونا ذہنوں سے نکل گیا ہے۔ علم اور ڈرامے دیکھتے ہوئے سب کی ہمدردی ہیرو‘ ہیروئن کے ساتھ لگی رہتی ہے، وہ گھر سے بھاگنے کی تیاری کرتے ہیں excitment ہمیں ہوتی ہے‘ پکڑے وہ لوگ جاتے ہیں۔ دماغ ہمارے خراب ہوتے ہیں جو کردار اُنھیں عین وقت پر پکڑتا ہے وہ ہمارے لیے ویلن ہوتا ہے اللہ توبہ… کیسی پسند ہوتی جارہی ہے… کیسا اخلاقی معیار ہے؟ شرم و حیاء بھی تو کوئی چیز ہے؟

اب تم کہو گی کہ ہم تو تفریح کے لیے دیکھتے ہیں اور بس… ہم کو تھوڑی نا اسطرح کچھ کرنا ہے یا کوئی ایسے کام کرے تو انھیں support کرنا ہے…. تو پتہ ہے میرے ابّو نے مجھے ایک بار بتایا تھا کہ وہ آیت ’’نہیں بنائے اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل۔‘‘تو اس کا ایک مفہوم یہ بھی نکلتاہے کہ انسان کہے کہ وہ چاہے کچھ بھی دیکھ لے‘ کسی بھی قسم کے لوگوں میں اور کسی بھی قسم کے ماحول میں رہ لے لیکن اگر دل صاف ہے تو کچھ اثر نہیں ہوگا تو یہ غلط ہے…ایک سینے میں دو دل نہیں تو آپ مواد سارا تفریح کے نام پر خرافات والا فراہم کریں گے، انہی چیزوں کو appriciate (سراہے) کریں گے اور پھر یہ امید بھی کریں گے کہ دل و دماغ میں تعمیری‘ اور صالح افکار پروان چڑھیں تو یہ ھماری بھول ہوتی ہے….. یہ جو لڑکے‘ لڑکیوں‘ کے نجانے کیسے کیسے خیالی آئیڈیل بن چکے ہیں۔ ان کی توقعات، معیارِ زندگی، اونچے اور اونچے ہوگئے تو یہ انھیں تفریح کے نام پر دیکھے گئے ڈراموں اور فلموں کو دیکھ دیکھ کر ہوئے ہیں!

اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی کرنا چاہتا ہے۔ کبھی سختی نہیں کرنا چاہتا، جو نعمتیں اور جو رحمتیں ہمیں حاصل ہیں وہ اللہ کے رحم و کرم سے ہیں اور جو دُکھ اور مصیبتیں ہم پر آتی ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال کے سبب ہیں۔اُس نے غض بصرکا حکم دیا۔ نگاہیں نیچی رکھو کہا ہے اُس نے غیر محرم سے نرم لہجے کی بات نہ کرنے کا حکم دیا ہے، اُس نے پردہ کا حکم دیا‘ اپنے بنائو سنگھار کو چھپانے کا حکم دیاکیوںکہ وہ ہمارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، کیوں کہ وہ چاہتا ہے کہ کوئی دل کا مریض غلط نہ سمجھ بیٹھے‘ کوئی مرضِ دل میں مبتلا نہ ہوجائے‘ کوئی فتنہ جنم نہ لے۔

اور ہم ہزار تاویلیں دے دے کر حدود توڑتے ہیںاور اِسے محبت کہتے ہیں! اور اب تم خود سوچو کہ محبت کے اِس فلسفے میں کہاں تک حقیقت ہے؟ ….. اور تم سوچو گے تو پھر تم جانوگے کہ یہ فلسفہ تو محبت کے لیے قاتل ہے،زہر ہے،اور تقدس کو پامال کرنے والا ہے۔ ‘‘ عبل اب بیگ اُٹھائے کھڑی ہوچکی تھی۔الفاظ کے جگنو آواز کا سفر ختم کر چکے تھے مگر روشنی پھیلا رہے تھے۔ وہ جو بیل بوٹے اپنے ہاتھ کی انگلی سے مٹی پر بنارہی تھی وہ اب بڑی خوبصورت شکل اختیار کرچکے تھے۔ فرح اور زارا دل سے قائل ہورہی تھیں،مکمل طور پر تو نہیں مگر ہوتو رہی تھیں عبل ہلکی سی آواز میں ایک نظم گنگناتے لائبریری کی جانب بڑھ گئی۔ اور اگر تم دیکھو تو وہ جو دو لڑکیاں محبت کی بحث میں پڑی تھیں جان رہی تھیں سمجھ رہی تھیں….. اور آپ؟ آپ کا کیا خیال ہے؟!! lll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ سمیہ تحریم

Leave a Reply