فرشتہ؟؟

صبح کے وقت آٹا گوندھنے کے لیے انیلا نے ڈبہ کھولا تو اس میں تھوڑا سا آٹا تھا۔ ’’ابا۔۔۔۔‘‘ اس نے آہستہ سے اپنے سسر کو آواز دی۔

’’جی بیٹا۔۔۔‘‘ وہ جائے نماز تہہ کرتے ہوئے بولے۔

’’آٹا بھی ختم ہوگیا ہے… بس ابھی جتنا ہے۔ آپ کہہ رہے تھے ناں کہ آج کچھ انتظام ہوجائے گا…‘‘

’’ہاں بیٹا! امید تو ہے، ابھی جاکر لائن میں لگ جاؤں گا، کل میں پہنچا تو بہت لمبی لائن تھی۔ میری باری آنے سے پہلے ہی راشن ختم ہوگیا تھا۔‘‘

’’جی ابا! جلدی جائیں گے تو ان شاء اللہ نمبر آہی جائے گا۔‘‘ انیلا کے چہرے پر امید کی خوشی نظر آرہی تھی۔‘‘

’’اللہ کرے آٹے کے ساتھ چینی، پتی، دالیں بھی مل جائیں‘‘۔ اس نے جلدی سے آٹا گوندھ کر روٹیاں بنا لیں اور اپنے سسر کو چائے کے ساتھ دیں اور خود بھی ناشتا کرلیا۔ اتنے میں اذان ہوگئی۔ شاہد جو انیلا کا سسر تھا، جلدی سے گھر میں ہی نماز پڑھ کر اپنے مقصد کے حصول کے لیے چل پڑا۔

وہ گھر کا واحد کفیل تھا، کچھ سال پہلے 12 مئی کو شہر کے حالات خراب تھے، اس دن ان ا کا اکلوتا بیٹا عابد کام پر جاتے ہوئے کسی اندھی گولی کا شکار ہوکر موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔ شاہد کی تو دنیا اندھیر ہوگئی تھی۔ بیوی کا ایک سال پہلے انتقال ہوچکا تھا۔ دو ہی بچے تھے، ایک بیٹی جو شادی کے بعد سسرال چلی گئی تھی، اور دوسرا یہ بیٹا تھا جس کی جوان بیوی اور دو بیٹیاں تھیں۔ بیٹا، عابد کے انتقال کے دو ماہ بعد پیدا ہوا تھا۔ وہ لوگ شہرکے ایک علاقے میں کرائے کے گھر میں رہتے تھے۔

بیٹے کے انتقال کے بعد شاہد کو کمر کسنی پڑی۔ لیکن 65 سال سے اوپر عمر اور اس لاغر سے وجود والے شاہد کو دمہ کا مرض بھی تھا جو سردیوں میں زیادہ پریشان کرتا تھا۔ اس کمزور جان کو نوکری ملنا بہت مشکل تھی۔ ایک پرائیویٹ فرم میں زندگی بھر قاصد کی نوکری کی تھی اس لیے کوئی ہنر بھی نہیں آتا تھا۔

اس نے سبزی بیچنے کا کام شروع کیا جس سے جیسے تیسے گزارا ہوجاتا۔ بچی ہوئی سبزی گھر میں کام آجاتی۔ لیکن یہ ناکافی تھا۔ گھر کا کرایہ، بڑی بچی کی اسکول فیس، دوائیں، کھانا، کپڑے، بل۔۔۔ سب کچھ کرنے کے لیے مزید آمدنی کی ضرورت تھی۔ جوان بہو کو کام پر نہیں بھیج سکتا تھا، اس کے بچے بھی چھوٹے تھے۔ پھر کسی نے گھر پر کچھ کام لاکر دیا۔ ریگزین اور چمڑے کی پتلی سی پٹیاں ہوتی تھیں، اس کی صاف سی چوٹی بنانا ہوتی تھی۔ یہ لیڈیز پرس کے ہینڈل کے کام آتے تھے۔

آہستہ آہستہ گھر کی تمام قیمتی چیزیں بکتی چلی گئیں، بس ضرورت کا سامان رہ گیا تھا اور زندگی کی گاڑی کسی طرح گھسیٹ رہے تھے۔ پرسوں کسی نے شاہد کو راشن کے بارے میں بتایا تھا کہ کوئی غریبوں کی مدد کرنے والی تنظیم راشن دے رہی ہے۔ کل جب وہ پہنچا تو سب ختم ہوچکا تھا، اس لیے وہ آج جلدی وہاں پہنچا تھا۔ آج بھی بہت لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے اتنی جلدی کیسے اتنی لمبی لائن لگا لی! ابھی تو فجر کی جماعت بھی ختم نہیں ہوئی۔‘‘ خیر اللہ کا نام لے کر وہ لائن میں شامل ہوگیا، لیکن دل کی کیفیت عجیب ہورہی تھی۔ آج سے پہلے کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہیں آئی، لیکن آج حالات سے مجبور ہوکر یہاں آیا تھا۔ کبھی وہ اپنی ہتھیلیاں مسلتا تو کبھی انگلیاں مروڑنے لگتا۔ زبان پر استغفار جاری تھا۔ اللہ اللہ کرکے آٹھ بجے انہوں نے راشن دینا شروع کیا۔ شاہد اللہ سے گڑگڑا کر دعا کررہا تھا کہ ’’میری باری آنے تک راشن بچ جائے‘‘۔ اللہ کے فضل سے اس کو باری آنے پر راشن مل گیا۔ اْس کے بعد پھر دو چار ہی لوگوں کو ملا اور دروازہ بند ہوگیا۔ اس نے تھیلا پکڑ کر بہت شکر ادا کیا۔ اچھا خاصا سامان تھا۔۔۔ آٹا، چاول، شکر، پتی، دالیں، چنے، کھجور، شربت، بیسن سبھی کچھ تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے اور انیلا کا چہرہ آنکھوں میں گھوم گیا۔ ’’وہ کتنی خوش ہوگی ناں۔۔۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔

اس نے تھیلا اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ بہت بھاری تھا، پھر کسی کی مدد لے کر اپنے سر پر رکھوایا اور آہستہ آہستہ اسٹاپ کی طرف قدم بڑھائے۔ بھاری تھیلے کی وجہ سے چلنا مشکل ہورہا تھا۔ تبھی ایک نوجوان فرشتہ بن کر آگیا۔ ’’بابا جی لاؤ میں اٹھوا دوں۔۔۔ کدھر جانا ہے؟ اپنے وزن سے زیادہ سامان اٹھا رکھا ہے تم نے۔‘‘

’’ہاں بیٹا! ذرا اسٹاپ تک چھوڑ دے، وہاں سے گاڑی لے لوں گا۔‘‘

’’اچھا اچھا لاؤ مجھے دو۔‘‘

اس نے بہت آسانی سے سارا سامان شاہد کے سر سے اپنے سر پر رکھ لیا اور ایک ہاتھ سے شاہد کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔ ’’اللہ تجھے خوش رکھے بیٹا۔۔۔ بالکل ٹھیک وقت پر آگیا ہے تْو۔‘‘

’’ہاں بابا میں ٹھیک وقت پر ہی آتا ہوں، لوگوں کا بوجھ ہلکا کرنا مجھے اچھا لگتا ہے‘‘۔ پندرہ،، بیس قدم چل کر اس نے شاہد کا ہاتھ چھوڑ دیا اور دوسرا ہاتھ بھی تھیلے کو لگا لیا۔ شاید ایک ہاتھ سے سنبھل نہیں رہا ہوگا۔ شاہد اس کے پیچھے چل تو رہا تھا مگر لڑکا جوان تھا، تیز چل رہا تھا اور شاہد کو مشکل ہورہی تھی۔ اس کا سانس پھولنے لگا تھا، اب قدم آہستہ ہورہے تھے۔ لڑکا اب پندرہ بیس قدم آگے ہوگیا تھا۔ اب شاہد تیز نہیں چل سکتا تھا، اس کا سینہ دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ وہ دھپ سے زمین پر بیٹھ گیا۔ اس لڑکے نے پلٹ کر دیکھا… شاہد کو زمین پر بیٹھا دیکھ کر مسکرایا اور مزید تیز قدموں سے بس اسٹاپ تک جا پہنچا۔ شاہد نے دیکھا اس نے تھیلا گاڑی میں رکھ دیا تھا۔ شاہد نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو رکنے کو کہا۔ جواب میں اس لڑکے نے بھی ہاتھ ہلایا، مگر یہ اشارہ الوداعی تھا۔ پھر وہ لڑکا بھی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور گاڑی چل پڑی تھی…شاہد نے چیخنے کی کوشش کی مگر آواز اس کے حلق میں پھنس کر رہ گئی تھی۔ وہ پتھرائی آنکھوں سے گاڑی کو دور تک جاتا دیکھتا رہا۔ اس کو انیلا کا چہرہ یاد آیا، راشن کے نام پر اس کا چہرہ کیسے کھل گیا تھا…وہ انتظار کررہی ہوگی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ٹانگوں نے جواب دے دیا تھا۔ کسی بھلے آدمی نے سہارا دے کر کھڑا کیا ’’کیا ہوا بابا…! گر گئے تھے کیا…؟‘‘

’’وہ۔۔۔ را۔۔۔شن۔۔۔‘‘ بمشکل الفاظ نکلے۔

’’اب تو راشن ختم ہوگیا بابا! آج آخری دن تھا ناں۔۔۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
ذیشان اختر

Leave a Reply