قابل بیوی

اُف۔۔۔ میں کیا کروں؟ عذرا نے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھ کر آنکھیں بند کرلیں۔ بارہ گھنٹے کے بخار نے اسے بالکل نڈھال کر دیا تھا۔ گھر میں چہل پہل ہو رہی تھیں قہقہے لگائے جا رہے تھے۔ اس کی سہیلیاں اور خاندان والے اسے مبارک باد دینے آرہے تھے۔ وہ ایک عرصے سے دفتر میں معمولی پوسٹ پر ملازم تھی، پھر اچانک اسے آفیسری کا پروانہ مل گیا اور اس کی تنخواہ بائیس ہزار سے پینتیس ہزار روپے ہوگئی۔ اس کے شوہر نے اس خوشی میں اپنے قریبی دوستوں اور خاندان والوں کے لیے ایک شاندار دعوت کا اہتمام کیا تھا… سہ پہر تک سو لوگ جمع ہوگئے تھے۔ مگر وہ بخار میں تپ رہی تھی۔ اس کا دماغ ماؤف ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔ ’’ہائے اللہ! یہ شدت احساس بھی کیا چیز ہے۔‘‘ اس نے اپنی جلتی ہوئی آنکھوں پر سے دونوں ہاتھ ہٹالیے۔

’’واللہ ارشاد بھائی بڑی قابل بیوی ملی ہے آپ کو۔‘‘ برابر کے کمرے سے گفتگو کی آواز آرہی تھی ۔ ہونھ! یہ قابلیت تو مجھے جان سے مار ڈالے گی … میرے بچے میری صورت کو ترس گئے ہیں اور اناّ ہی ان کی ماں بن گئی ہے۔ اور میں…

عذرا… لو یہ گرم گرم چائے پی لو… طبیعت سنبھل جائے گی‘‘ اس کی ماں نے جائے پیالی میز پر لاکر رکھ دی۔ عذرا نے پلکیں اٹھا کر غور سے ماں کے چہرے کو دیکھا۔ خوشی سے ماں کا چہرہ گلنار ہو رہا تھا۔ اس نے ایک طویل سانس اور دوسری طرف کروٹ بدل لی۔ ماں تم بھی میرے دکھ کو نہیں جانتیں؟

برابر کے کمرے سے پھر شور اٹھا… ’’نہیں جناب آپ نے پتے دیکھ لیے ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا… دوبارہ بانٹئے… اس کا بھائی حسب عادت زور زور سے بول رہا تھا۔‘‘

’’افوہ… کوئی اس دروازے کو بند کردے۔ میرا دماغ پھٹا جا رہا ہے… یہ کیا شور ہے۔ جو گھوڑے کی ٹاپوں کے مانند مجھے روندے ڈال رہا ہے …… میرے دماغ پر ہتوڑے چلا رہا ہے… ہائے میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔‘‘

’’ارے عذرا، تم نے ابھی تک چائے بھی نہیں پی؟ لو یہ تو ٹھنڈی ہوئی جا رہی ہے۔ اٹھونا …‘‘ اس نے گردن اٹھا کر دیکھا۔ اس کی بہن سرہانے کھڑی تھی۔ افوہ … وہ تکیہ کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ ’’رضیہ بیٹھ جاؤ…‘‘ اس نے ہاتھ پکڑ کر رضیہ کو بھی بٹھا لیا۔ تم اچھی تو ہونا؟ کب آئی ہو؟ میرا دل تم سے ملنے کو بہت چاہتا ہے۔ مگر … وقت نہیں ملتا… ’’رضیہ مجھے ملازم ہوئے دس سال تو ہوگئے ہوں گے نا؟‘‘

ہاں! اس کی بہن نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ لیکن تم اتنی اداس کیوں ہو؟ وہ پھیکی سی ہنسی ہنس پڑی … بخار ہے نا…

’’نجم تمہارا ستارہ گردش میں ہے آج، اب تک پانچ ہزار روپے ہار چکے ہو۔‘‘

’’افوہ… یہ شور تو مجھے مار ڈالے گا… ہائے میرا سر…‘‘ اس نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔ ’’امی جان آپ صبح تک بالکل اچھی ہوجائیں گی۔ میں نے ابھی نماز پڑھ کر آپ کے لیے دعا مانگی ہے۔‘‘ اس کے لڑکے عامر نے سر سے رومال اتار کر اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ عذرا، جی چاہا کہ وہ عامر کو اپنے سینے میں چھپالے… بھلا میں اپنے ہی بچوں سے باتیں کرنے کو ترس گئی ہوں اور یہ چھ ماہ کی ننھی جان میری آغوش کو کیا جانے؟ بس ملازمت دفتر … دفتر … ہونھ… اس نے پلنگ سے اٹھ کر جھولے میں پڑی ہوئی بچی کو گود میں اٹھا لیا۔

ابھی تک بخار نہیں اترا عذرا۔ کمال ہے بھئی انجکشن کا بھی کوئی اثر نہیں… اس کا شوہر پردہ کھسکا کر کمرے میں آکر صوفے پر بیٹھ گیا… تم نے کچھ کھایا پیا بھی ہے کہ نہیں…؟ اس نے جھک کر محبت سے اس کی پیشانی کو چھوا۔ عذرا نے کوئی جواب دیے بنا بازوؤں میں منہ چھپا لیا… پھر اس کا بہنوئی، بھائی اور دوسرے لوگ بھی آگئے اور اس کی ترقی اور قابلیت کی باتیں کرنے لگے۔ اس کا شوہر ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔ قہقہے، مسکراہٹیں اور سگریٹوں کا دھواں … عجیب سا ماحول ہوگیا۔ وہ تکیے کی ٹیک لگائے خالی خالی نگاہوں سے سب کو دیکھتی رہی۔ جیسے یہ گفتگو کسی اور کے بارے میں ہو رہی ہو۔

شام کے وقت سب لوگ چلے گئے۔ اور اس کی گردن پھولوں کے ہاروں سے بھر گئی… اس کی بھاوج نے اس کے گلے میں روپیوں کی مالا ڈالی تھی۔ تنائی میں اس نے مالا کو اتار پھینکا… یہ روپے کتنا ذلیل کراتے ہیں … دولت انگارے بن جاتی ہے۔ پھر وہ اٹھی اور آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا عکس دیکھنے لگی۔ ایک لمحے کے لیے اس کویوں محسوس ہوا جیسے وہ پتھر کا بے جان مجسمہ ہو۔ احساسات اور جذبات سے عاری…‘‘

عذرا … دوا پی لو… خدا کرے صبح تک تمہاری طبیعت ٹھیک ہو جائے… کل تمہیں اپنا عہدہ سنبھالنا ہے نا۔ اس کی ماں نے جھک کر گلاس میں دوا انڈیلی۔ عذرا گلاس ہاتھ میں لیے دیر تک جانے کیا سوچتی رہی۔ پھر وہ دوا پیے بنا ہی مسہری پر جاکر لیٹ گئی۔ جانے آج صبح سے ہی وہ کیا سوچ رہی تھی اور بس سوچے ہی جا رہی تھی… مگر کچھ خیالات پورے ہوجاتے ہیں اور کچھ ادھورے ہی رہتے ہیں… وہ ایسی ہی بے ربط سوچوں میں الجھی ہوئی تھی۔ خیالات کے بھنور میں دماغ ڈوبا جا رہا تھا اور اس کو اپنا وجود معدوم سا ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ ہر چیز بے وقعت سے لگ رہی تھی کہ اتنے میں اس کا چھوٹا دیور آگیا۔ عذرا نے بایاں بازو آنکھوں پر سے ہٹا کر غور سے دیکھا۔ اس کے قدموں میں لغزش تھی۔ وہ دھم سے کرسی پر بیٹھ گیا۔ ’’بھابی مبارک ہو بھئی۔ اب تو آپ آفیسر ہوگئیں۔‘‘ وہ دھیرے سے ہنس پڑی … مگر تم اب تک کہاں تھے؟…

’’ارے ایسے ہی آوارہ گردی کر رہا تھا… پھر ریس کورس چلا گیا۔ مگر آج اپنا ستارہ گردش میں تھا۔ بیس ہزار ہار گیا…‘‘

وہ دھک سے رہ گئی۔ جانے کتنی ہی بار وہ اس کے منہ سے ایسی ہی گفتگو سن چکی تھی مگر آج یہ گفتگو اسے کچھ عجیب سی لگی۔

اچھا بھابی! …خدا حافظ… اب میں سوؤں گا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے سے باہر نکل گیا دیر تک اس کے ذہن میں دیور قدموں کی چاپ گونجتی رہی، جیسے کوئی آہستہ آہستہ اس کے سینے پر چل رہا ہو۔ اس نے اٹھ کر بتی گل کی۔ اور خیالات جھٹک کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔

صبح اس کی ماں نے کمرے میں آکر آہستہ سے اس کی پیشانی کو چھوا۔ اب تو تمہیں بخار نہیں ہے نا؟ مگر اس نے کوئی جواب دیے بنا اپنی آنکھیں بند کرلیں… کچھ دیر بعد نوکر نے ناشتے کی ٹرے میز پر لاکر رکھی تو وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی ہائے اتنا وقت ہوگیا؟‘‘ اس نے طویل انگڑائی لی۔ ’’امی صبح بخیر۔ عامر اپنا بستہ سنبھالتا ہوا آیا… صبح بخیر بیٹے… ٹھیرو ذرا… تم نے ناشتہ تو ڈھنگ سے کرلیا ہے نا؟

’’جی ہاں… آپ بھی ناشتہ کیجیے نا… اچھا خدا حافظ۔وہ دوڑتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔

ناشتے کے بعد وہ مضمحل قدموں سے اٹھی۔ اور ماں کے کمرے میں چلی گئی۔ اس کی ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ وہ اتفاق سے ہی کبھی اس کے کمرے میں جاتی تھی۔ اس کا جی چاہا کہ کہہ دے۔ ’’ماں میں نوکری میں نہیں جانا چاہتی… مجھے گھر میں بیٹھنے دو… میں بہت تھک گئی ہوں… اتنا بوجھ کیسے اٹھاؤں گی؟‘‘ مگر الفاظ اس کے حلق میں ہی پھنس کر رہ گئے اور وہ چپکے سے برآمدے میں نکل آئی۔ اس کا شوہر دھوپ میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ وہ اس کے قریب ہی جاکھڑی ہوئی۔ اس کے شوہر نے اخبار ایک طرف ڈال دیا۔ ’’تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟ آج پہلا دن ہے دیر کرنا مناسب نہیں… اور سنو تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس نے ایک لمحے کے لیے اپنے شوہر کو دیکھا اور پھر بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے… وہ منہ پھیر کر جلدی سے اپنے کمرے کی طرف مڑ گئی… برآمدے میں اس کا دیور کھڑا ہوا پائپ پی رہا تھا۔ کیا بات ہے بھابی… اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ وہ ایک دم سنبھل گئی… کچھ نہیں بھیا… آفس کو دیر ہو رہی ہے نا…lll

شیئر کیجیے
Default image
صالحہ صبوحی

Leave a Reply