روس کی حیرت انگیز بچی

پہلی نظر میں چار سالہ بیلا دیوریا تکن عام سی کھلندری بچی دکھائی دیتی ہے۔ مگر آپ اس وقت حیران رہ جائیں گے جب وہ روسی، انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، جرمن، چینی اور عربی زبان میں پوچھے گئے سوال کا بڑی روانی سے اسی زبان میں جواب دے گی۔ چھوٹی سے عمر میں اس بچی کو سات زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ ان میں چینی اور عربی جیسی مشکل ترین زبانیں بھی شامل ہیں۔

ایک ٹیلنٹ شو میں شرکت کے بعد بیلا کی اس حیرت انگیز صلاحیت کے چرچے ملک بھر میں ہونے لگے تھے۔ روسی تو خیر اس کی مادری زبان ہے، مگر دیگر زبانوں میں روانی سے گفتگو کر کے اس نے ٹیلنٹ شو کے ججوں سمیت، حاضرین اور لاکھوں ناظرین کو حیران کر دیا۔ پھر جب اس پروگرام میں بیلا کی شرکت کی ویڈیو یو ٹیوب کی زینت بنی تو یہ ننھی پری انٹرنیٹ ورلڈ میں مقبول ہوگئی۔ بیلا کی شہرت اور حیران کن صلاحیت کے پیش نظر اسے مختلف ٹیلی ویژن چینلز نے اپنے پروگراموں میں مدعو کیا۔ ہر پروگرام میں میزبان اور مہمان اس سے مختلف زبانوں میں کلام کرتے تھے اور وہ اسی زبان میں ان کی باتوں کا جواب دے کر انہیں حیران کردیتی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ صرف چار سال کی عمر میں اس بچی کو اتنی زبانوںپر کیسے عبور حاصل ہوگیا جب کہ بہت سے لوگوں کو صرف ایک غیر ملکی زبان سیکھنے میں کئی برس لگ جاتے ہیں؟ اس بارے میں بیلا کی والدہ یولیا بتاتی ہیں کہ بیلا کے باپ اور انھوں نے اپنی بیٹی کو اس وقت انگریزی سکھانی شروع کی جب وہ صرف دو برس کی تھی۔ اس دوران انہیں اندازہ ہوا کہ بیلا کی یاد داشت غیر معمولی ہے اور وہ بہت جلد ہر بات کو ذہن نشین کرلیتی ہے۔ یہ دیکھ کر انھوں نے اسے مزید زبانیں سکھانے کا فیصلہ کیا۔ یولیا اور ان کے شوہر نے بیلا کو مختلف زبانیں سکھانے کے لیے ٹیوٹرز کی خدمات حاصل کیں۔ غیر معمولی یادداشت کی بدولت ساڑھے تین سال کی عمر میں وہ تین غیر ملکی زبانیں روانی سے بولنے لگی تھی۔ اگلے چھے ماہ میں اس نے مزید دو زبانیں سیکھ لیں۔

بیلا کی والدہ نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو انٹریو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بیٹی روزانہ چھے گھنٹے تک غیر ملکی زبانیں پڑھتی ہے، اور جلد ہی اسے کئی اور زبانوں پر بھی عبور حاصل ہوجائے گا۔

نیورو سائیکلوجسٹ بیلا کو غیر معمولی یاد داشت کی حامل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنا یہ شوق برقرار رکھتی ہے تو بیس سال کی عمر کو پہنچتے تک درجنوں زبانیں سیکھ چکی ہوگی مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی یہ صلاحیت برقرار رہے، کیوں کہ بعض بچوں کی دماغی صلاحیتیں عمر بڑھنے کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
غ،ع

Leave a Reply