وقت کا رونا

کل پڑوس والی آنٹی سے آمنا سامنا ہوگیا۔ مہینہ بھر کے لیے ضروری سامان کی خریداری کر کے گھر لوٹ رہے تھے۔ میاں تو گھر میں گھس گئے، میں پکڑی گئی۔ شکوہ کرنے لگیں کہ ’’تم تو ہمارے ہاں آتی ہی نہیں۔‘‘

’’کیا کروں آنٹی‘‘ میں نے عذر پیش کیا ’’وقت ہی نہیں ہوتا۔‘‘

’’ہاں…‘‘ ٹھنڈی آہ بھر کر بولیں۔ ’’یہ وقت کا ہی تو مسئلہ ہے جو آج کل کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اب ہماری سنو… ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے اوپر تلے کے بچے تھے، صبح سویرے اٹھتی تھی، گھر کے سب کام خود کرتی تھی، کوئی ماسی نہیں تھی، اور دس بجے تک سارے گھر کا کام پورا ہو جاتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے…‘‘ ان کی نگاہیں خلا میں کسی اَن دیکھی چیز کو تک رہی تھیں۔ گزرا ہوا وقت ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔

’’جس وقت میرے شوہر کے انتقال کی خبر آئی وہ صبح کام کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ ۱۰ بج رہے تھے، بس اسٹاپ پر ہی چکرا کر گرے، ان کا ہارٹ فیل ہوگیا تھا۔ اس وقت میں گھر کا سارا کام کرچکی تھی، حالاں کہ چھوٹا بچہ دو سال کا اور سب سے بڑا بچہ دس سال کا تھا، کُل چار بچے تھے۔‘‘

’’اوہ…‘‘ میرے منہ سے تاسف کے ساتھ نکلا۔

’’خیر وہ تو الگ بات تھی…‘‘ وہ اپنی آواز میں بشاشت بھر کر بولی تھیں ’’میں تو یہ بتا رہی تھی کہ ہرکام خود کرنے کے باوجود ہمارے پاس وقت ہوتا تھا، ہر جگہ آتی جاتی تھی میل ملاقات کے لیے، تعزیت، عبادت، دروس میں شرکت کے لیے، حالاں کہ روازانہ بچوں کو نہلاتی تھی، روزانہ کپڑے بدلوانا اور روز ہی کپڑے دھونا… کوئی واشنگ مشین نہیں تھی، نہ ہی سرف، بلکہ ہاتھ سے صابن کے ساتھ رگڑ رگڑ کر کپڑے دھوئے جاتے تھے۔آج کل کی عورتوں کو تو نہ جانے کیا ہوگیا ہے، ہر چیز کی مشین موجود ہے، ماسی بھی کام کے لیے آتی ہے پھر بھی ان کے کام ختم نہیں ہوتے۔ کہیں آنے جانے اور ملنے ملانے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔‘‘ آنٹی ناراض ہوکر بولیں۔ میں خاموشی سے سن رہی تھی۔

’’ارے بھئی رات کو سونے سے پہلے باورچی خانہ صاف کر کے، آٹا چھان کر ڈھک کر رکھ دیتی، چائے کی پتیلی میںپانی ڈال کر رکھتی کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، صبح کسی کام میں دیر نہ ہوجائے۔ صبح اٹھ کر پہلے ہنڈیا چڑھاتی، ساتھ ساتھ برتن دھوتی جاتی، منصوبہ بندی اور سلیقہ مندی کے ساتھ شام تک ہر کام ہوچکا ہوتا۔ روٹی ایک دفعہ بیٹھ کر دونوں وقت کی پکالی تاکہ شام کو پکانی نہ پڑے۔ پھر کپڑے گھر میں سلتے، طرح طرح کی دیدہ زیب کڑھائیاں ہوتیں۔ آج کل تو درزی کے پاس چکر لگالگا کر ہی خواتین بے دم ہو جاتی ہیں۔‘‘ وہ طنزیہ انداز میں کہہ رہی تھیں۔

’’آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔‘‘ میں نے تائید کی۔ ’’میری نانی جان بتایا کرتی تھیں کہ صبح سویرے اٹھ کر نانا جان گوشت، ترکاری، اس کے ساتھ ہرا دھنیا، پودینہ جو بھی درکار ہوتا، لایا کرتے۔ اس وقت تازہ گوشت آتا، اسی وقت کھانا پکتا، پھر نانی جان چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی محلے کے بچوں کو قرآن پڑھایا کرتیں۔ فجر سے ہی کاموں کا آغاز ہوجاتا، اسی وجہ سے وقت میں ایسی برکت تھی کہ دس، گیارہ بجے تک فراغت ہوجاتی۔

سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رات کو جلدی سونے کی وجہ سے صبح سویرے اٹھا جاتا اور پورا دن اچھا گزرتا، لیکن آج کل تو نہ جانے کیا رواج ہوگیا ہے کہ رات کو دو، دو بجے تک جاگا جاتا ہے، پھر دن چڑھے کاموں کا آغاز ہوتا ہے او رفارغ ہوتے ہوتے شام ہوجاتی ہے۔

میں سوچنے لگی کہ کاش پرانے دن واپس لوٹ آئیں کہ جب نہ تو موبائل تھا اور نہ ہی نیٹ کی آفت، نہ ٹی وی کی تباہ کاریاں اور نہ میڈیا کی گلکاریاں۔ لیکن زمانہ تو ہمیشہ آگے کی طرف سفر کرتا ہے۔ ایجادات تو آتی رہتی ہیں جن سے آسانیاں بھی ہوتی ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی ہمارے لیے ہوتی ہے، ہم ٹیکنا لوجی اور ایجادات کے لیے نہیں ہوتے کہ ان کے ہاتھوں یرغمال بن جائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
طوبیٰ احسن

Leave a Reply