فاطمہ بنت قیسؓ

یہ جلیل القدر صحابیہؓ ان خواتین میں سے ہیں جو ذہانت اور حافظہ کے اعتبار سے ضرب المثل بنیں۔ یہ حدیث روایت کرنے والی خواتین میں سے وہ ہیں جس سے سنن اخذ کی گئیں۔

ابن اثیرؒ نے یہ ذکر کیا ہے کہ فاطمہ بنت قیس بن خالد الاکبر بن وہب القرشیۃ الفہریہ ضحاک بن قیس کی ہمشیرہ تھیں۔ انہیں اسلام قبول کرنے اور ہجرت کرنے میں سبقت لے جانے کا شرف حاصل ہوا۔ وہ بڑی عقلمند اور صاحب جمال و کمال خاتون تھیں اور صحابہ کرام کی خواتین میں بڑا بلند مقام و مرتبہ حاصل تھا۔

اس کے بارے میں زبیر بن بکارؒ فرماتے ہیں۔ یہ بڑی دانشمند اور شریف خاتون تھیں۔ ان کی دو بہنیں مسلمان ہوئیں۔ ایک کا نام حزمۃ بنت قیس اور دوسری کا نام خیرۃ بنت قیس تھا۔

فاطمہ اور نبی کریمؐ کی نصیحت

ذاتی کمالات کے ساتھ ساتھ انہیں یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ نبی کریمﷺ نے انہیں ابو حفص عمرو بن حفص بن مغیرہ المخزومی سے طلاق کے بعد اپنے محبوب صحابی اسامہ بن زید کی زوجیت کے لیے راضی کیا۔ فاطمہ نے طلاق رہائش اور نان و نفقہ سے متعلق حدیث روایت کی ہیں۔

ابو داؤدؒ نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے اور انھوں نے فاطمہ بنت قیسؓ سے روایت نقل کی کہ ابو عمرو بن حفص نے اسے طلاق قطعی دے دی جب کہ وہ گھر سے غیر حاضر تھا اور اس نے اس کو جو دے کر اپنا نمائندہ بھیجا جس سے وہ ناراض ہوئی۔ اس نے کہا تیری اب کوئی ذمے داری مجھ پر نہیں۔

وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اس صورتِ حال کا تذکرہ کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

لیس لک علیہ نفقۃاس کے ذمے اب تیرا نان و نفقہ نہیں۔

اور یہ حکم دیا کہ ام شریک کے گھر عدت گزاریں۔

کہتی ہیں کہ جب میں نے عدت گزار لی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی، معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ابو جہم بڑا غصیلا ہے ہر وقت لاٹھی اس کے کندھے پر ہوتی ہے اور معاویہ بن ابی سفیان کی مالی حالت کمزو رہے۔ آپ اسامہ بن زیدؓ سے شادی کر لیں۔ کہتی ہیں کہ میں نے اسے ناپسند کیا۔

پھر انھوں نے اسامہ بن زیدؓ سے نکاح کرلیا۔ اللہ عالیٰ نے بہت برکت عطا فرمائی اور وہ اس پر رشک کرنے لگیں۔

اس طرح فاطمہ کو دو فضیلتیں میسر آئیں۔ ایک فضیلت یہ کہ نبی کریمﷺ نے اس کے لیے اچھے خاوند کا انتخاب کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

والطیبت للطیبین والطیبون للطیبات (النور:۲۶)

اور دوسری یہ فضیلت کہ نبی کریمﷺ نے کفو کے اعتبار کا فیصلہ دین کے لحاظ کیا گیا کہ کفو میں اصل اور کمال کا تعین دین کے لحاظ سے ہوگا۔

حضرت فاطمہؓ کی حضرت اسامہؓ سے شادی اس دینی قاعدے کی بنیادی مثال ہے اور رسول اللہﷺ کے عمل سے یہ بات واضح ہوئی کہ اگر کوئی مسلمان کسی معاملے میں کسی دوسرے مسلمان سے مشورہ کرے تو وہ اسے پورے اخلاص اور ہمدردی سے مشورہ دے۔

در حقیقت فاطمہ بنت قیس کی محبوب رسول اسامہ بن زیدؓ کے ساتھ شادی قابل رشک تھی، اور اس مبارک شادی کے نتیجے میں زید، جبیر اور عائشہ پیدا ہوئے۔ ان کو محبوب رسول کے بیٹے کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ یہ نام ان کے لیے کتنا عزت کا نام تھا۔

فاطمہ اور نبی کریمؐ کا گھر

فاطمہؓ نبی کریمﷺ کے گھر کے قریب رہائش پذیر تھیں۔ آپ ہی کے صاف شفاف علمی چشمے سے سیراب ہوئیں۔ جب رسول اللہﷺ اپنی زندگی کی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے تو اس کا خاوند شام کی طرف روانہ ہونے والے لشکر کا امیر تھا۔ رسول اللہﷺ بیماری کی حالت میں یہ فرمانے لگے: ’’اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو، اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو۔‘‘

لشکر اسامہ روانہ ہوا اور جرف بستی تک پہنچا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پیغام بھیجا جلدی نہ کریں رسول زیادہ بیمار ہیں ابھی اس کا خاوند اسامہ وہاں سے چلنے نہ پایا تھا کہ رسول اللہؐ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

نبی کریمﷺ دنیائے فانی سے کوچ کر گئے اور آپ فاطمہ اور اس کے خاوند سے راضی تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خلفائے راشدین کے دور میں بھی زندہ رہیں۔ لوگ اس کے فضل و شرف اور مقام و مرتبہ کو جانتے تھے۔

اس خاتون کے بڑے مناقب ہیں۔ حضرت عمر بن خطابؓ کے قتل کے وقت انہی کے گھر مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا تھا۔ جس میں اصحاب شوریٰ نے بڑے مدلل خطابات کیے۔

فاطمہؓ کی ذہانت اور حفظ

حضرت فاطمہؓ عالم، فاضل اور فقیہہ صحابیات میں سے تھیں اور انہیں حدیث روایت کرنے والی صحابیات میں حفظ کے اعتبار سے بڑا مقام حاصل تھا۔ حافظہ میں انہیں اللہ تعالیٰ نے بڑا عجیب و غریب ملکہ عطا کیا تھا۔

جب ہم ان کے حافظے کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو دجال کے بارے میں وہ طویل حدیث جس میں اس کے خروج کی تفصیلات ہیں یعنی حدیث جساسہ ہماری نظر سے گزرتی ہے، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیان کیا۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سنتے ہی اسے زبانی یاد کرلیا اور پھر جس طرح یہ حدیث سنی تھی اسی طرح جلیل القدر تابعی عامر بن شرحبیل کو سنا دی جو الشعبی کے نام سے مشہور ہیں۔

حضرت فاطمہؓ نے نبی کریمﷺ سے ۱۳۴ احادیث روایت کیں۔ جن میں سے ایک حدیث متفق علیہ ہے اور تین احادیث مسلم شریف میں ہیں اور اس کی مرویات تمام کتب حدیث میں مذکور ہیں۔ اس سے کبار تابعینؓ کی جماعت نے حدیث روایت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ جن میںسے شعبی سعید بن مسیب، سلیمان بن یسار اور ابراہیم النخعی قابل ذکر ہیں۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خلفائے راشدین کا تمام دور دیکھا اور یہ پچاس ہجری کے بعد تک زندہ رہیں اور امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ اللہ ان سے راضی ہو ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
احمد خلیل جمعہ

Leave a Reply